۳ فروردین ۱۴۰۲ |۱ رمضان ۱۴۴۴ | Mar 23, 2023
News Code: 374031
6 نومبر 2021 - 20:21
ڈاکٹر پیام اعظمی

 حوزہ نیوز ایجنسی 

دست علی میں آ کے سنبھلتی تھی ذوالفقار
 شعلے ستم گروں پہ اگلتی تھی ذوالفقار
 دشت وغا میں رنگ بدلتی تھی ذوالفقار
 نسلوں کو دیکھ دیکھ کے چلتی تھی ذوالفقار
 عنوان تھی جو اہل وفا کے سکون کا
دھبہ نہیں تھا اس پہ غریبوں کے خون کا

بزم نبیؐ میں آئی تھی ایمان کی طرح
دشمن پہ تھی نگاہ نگہبان کی طرح
شامل تھی اہل بیت میں سلمان کی طرح
اتری تھی آسمان سے قرآن کی طرح
عصمت کی بارگاہ میں لب کھولنے لگی
فولاد کی زباں تھی مگر بولنے لگی

دن کو علی کے ہاتھوں میں رہتی تھی شعلہ رو
بنت نبیؐ سے کرتی تھیں راتوں کو گفتگو
دامن سے اسکے دھوتی تھیں جب فاطمہ لہو
کرتی تھی واقعات بیاں ہو کے با وضو
تھی رازدار جنگ اکیلی بتول کی
تلوار تھی علی کی سہیلی بتول کی

سرمایہ نجات تھی حیدر کی ذوالفقار
صورت گرِحیات تھی حیدر کی ذوالفقار
 وجہ سکون ذات تھی حیدر کی ذوالفقار
قراں کے ساتھ ساتھ تھی حیدر کی ذوالفقار
ارباب مکر و فن کے جگر کاٹتی تھی یہ
قرآن دل جھکاتا تھا سر کاٹتی تھی یہ

مظلوم کے لئے جو نویدِ بہار تھی
ظالم کے واسطے غضب کردگار تھی
میداں میں مثل برق تپاں شعلہ بار تھی
اور گھر میں اہل بیت کے خدمت گزار تھی 
حربہ تھی دست فاتح بدر و حنین کا
تفریح تھی حسن کی کھلونا حسین کا

از قلم: نباض ادب ڈاکٹر پیام اعظمی

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 3 =