تحریر: مولانا سید علی بنیامین نقوی
حوزہ نیوز ایجنسی | مذہب تشیع کا محور علم اور منبہ علوم و معارف آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بلا واسطہ اہلبیت اطہار علیہم السلام ہے۔ تشیع کو کسی کے مقابلے میں لانے کی ضرورت نہیں، یہ واحد مکتب ہے جو کسی مذہب و مسلک کے مقابلے میں نہیں بنا لہذا جو بھی اس مکتب کو کسی کے مقابلے میں لائے گا وہ خائن کہلائے گا۔
تشیع میں اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے تا وقتیکہ بارہویں امام معصوم عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف قیام نہ فرمائیں۔
راوی کی پہچان و شرائط
مذہب تشیع میں راویوں کے پرکھنے کا بہت ہی دقیق اور عمیق معاملہ ہے ہر راوی قابل قبول نہیں ہر راوی مؤثق نہیں راوی کا صدیق ہونا راوی کا مؤثق ہونا راوی کا حلال زادہ ہونا راوی کا ناصبی نہ ہونا راوی کا متعصب نہ ہونا راوی کا کامل مغز اور بیدار مغز ہونا راوی کی عقل کا سالم ہونا دیوانہ نہ ہونا راوی کا حافظہ درست ہونا شرائط میں شامل ہے۔
راوی کا اہلبیت اطہار علیہم السلام اور کبار صحابہ جو اہلبیت علیہم السلام سے ارادت رکھتے تھے روایت کا نقل کرنا اور روایت تسلسل کے ساتھ ہونا ثابت ہو شرط ہے۔
تشیع میں ایک راوی اگر روایت بیان کررہا ہے وہ جامع الشرائط ہے اسکے بعد والا بھی ایسا ہی ہے لیکن درمیان میں کوئی ایسا راوی آتا ہے جس میں نقص ہے تو یہ روایت قبول نہیں کی جاتی۔
تشیع میں تمام تر روایات امام صادق آل محمد علیہ السلام کے شاگردوں سے نے امام صادق علیہ السلام سے اخذ و نقل کی گئی ہیں۔
نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔









آپ کا تبصرہ