امام حسنؑ کے نام وصیت نامہ
-
امیرالمومنین حضرت علی (ع) کا وصیت نامہ قرآن سے تمسک کی بہترین تحریر ہے، آیت اللہ حافظ ریاض نجفی
حوزہ/ رئیس الوفاق المدارس الشیعہ پاکستان: وصیت نامے میں حضرت علی ؑنے اسلام کو تمام ادیان پر غلبے کا مذہب قرار دیا، مولائے کائنات نے اپنے صاحبزادے امام حسن ؑکو تفرقے سے پرہیز ،قرآن پر عمل میں سبقت کی وصیت کی، حضرت علی علیہ السلام نے ایمان اور خداشناسی کی بنیاد پرمتحد رہنے کی وصیت کی۔
-
منظوم ترجمۂ نہج البلاغہ؛مکتوب نمبر ۳۱
قسط پنجم/امیرالمؤمنینؑ کا امام حسنؑ کے نام وصیت نامہ
حوزہ/اردو ادب کی خوش قسمتی کہیئے کہ اس وصیت نامے کے منظوم ترجمے کے لیے اور صرف اسی خط کے لیے ہی نہیں بلکہ مکمل نہج البلاغہ کے منظوم ترجمے کے لیے ادیب عصر، محقق دوراں، خطیب بے بدل، دبیر دہر، انیس عصر، فرزدق دوراں شاعر شیریں بیاں، حجۃ الاسلام والمسلمین عالیجناب مولانا سلمان عابدی زید عزہ کی ذات کو صنّاع ازل نے چن لیا ورنہ یہ شعبہ ھل من مبارز کی صدائے بازگشت کو ہی سنتا رہتا۔
-
منظوم ترجمۂ نہج البلاغہ؛مکتوب نمبر ۳۱
قسط چہارم/امیرالمؤمنینؑ کا امام حسنؑ کے نام وصیت نامہ
حوزہ/اردو ادب کی خوش قسمتی کہیئے کہ اس وصیت نامے کے منظوم ترجمے کے لیے اور صرف اسی خط کے لیے ہی نہیں بلکہ مکمل نہج البلاغہ کے منظوم ترجمے کے لیے ادیب عصر، محقق دوراں، خطیب بے بدل، دبیر دہر، انیس عصر، فرزدق دوراں شاعر شیریں بیاں، حجۃ الاسلام والمسلمین عالیجناب مولانا سلمان عابدی زید عزہ کی ذات کو صنّاع ازل نے چن لیا ورنہ یہ شعبہ ھل من مبارز کی صدائے بازگشت کو ہی سنتا رہتا۔
-
منظوم ترجمۂ نہج البلاغہ؛مکتوب نمبر ۳۱
قسط سوم/امیرالمؤمنینؑ کا امام حسنؑ کے نام وصیت نامہ
حوزہ/اردو ادب کی خوش قسمتی کہیئے کہ اس وصیت نامے کے منظوم ترجمے کے لیے اور صرف اسی خط کے لیے ہی نہیں بلکہ مکمل نہج البلاغہ کے منظوم ترجمے کے لیے ادیب عصر، محقق دوراں، خطیب بے بدل، دبیر دہر، انیس عصر، فرزدق دوراں شاعر شیریں بیاں، حجۃ الاسلام والمسلمین عالیجناب مولانا سلمان عابدی زید عزہ کی ذات کو صنّاع ازل نے چن لیا ورنہ یہ شعبہ ھل من مبارز کی صدائے بازگشت کو ہی سنتا رہتا۔