حوزہ/مدینہ سے طوس تک کا یہ سفر صرف فاصلے کا سفر نہیں؛ یہ نبوت سے امامت تک، مدینے سے خراسان تک اور خاموش صبر سے زندہ مزاحمت تک ایک فکری سفر ہے۔