تحریر: ثمن رباب رضوی
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمہید
مدینہ صرف ایک شہر کا نام نہیں؛ یہ وہ سرزمین ہے جہاں رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ (ص) نے توحید کی صدا بلند کی، جہاں قرآن کی آیات نے انسانی معاشرے کو نئی روح عطا کی، جہاں اہلِ بیتؑ کے گھرانے نے علم، عصمت، قربانی اور ہدایت کی تاریخ رقم کی۔ لیکن اسی مدینہ نے وہ دن بھی دیکھا جب رسولِ خدا (ص) اس دنیا سے رخصت ہوئے اور پھر اسی شہر نے نواسۂ رسول امام حسن مجتبیٰؑ کی خاموش مظلومیت دیکھی۔
صدیوں بعد اسی سلسلۂ مظلومیت کا ایک اور باب طوس میں رقم ہوا، جہاں امام علی بن موسیٰ الرضاؑ، جو مدینۂ رسول (ص) سے خراسان تک لے جائے گئے تھے، عباسی اقتدار کی سیاسی بساط کے درمیان شہید ہوئے۔
مدینہ سے طوس تک کا یہ سفر صرف فاصلے کا سفر نہیں؛ یہ نبوت سے امامت تک، مدینے سے خراسان تک، اور خاموش صبر سے زندہ مزاحمت تک ایک فکری سفر ہے۔
رسولِ خدا (ص) نے دین کی بنیاد رکھی، امام حسنؑ نے اس دین کے حقیقی مفاد کے لیے صلح کی تلخی برداشت کی، اور امام رضاؑ نے اقتدار کے مرکز میں رہتے ہوئے بھی اپنی روح کو اقتدار کے سامنے فروخت نہ ہونے دیا۔
یہ تینوں ہستیاں ایک ہی نورانی سلسلے کی کڑیاں ہیں؛ اور ان کی شہادتیں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ حق کی حفاظت ہمیشہ تلوار سے نہیں ہوتی۔ کبھی حق صبر سے محفوظ ہوتا ہے، کبھی حکمت سے، کبھی علم سے، اور کبھی اپنی جان قربان کرکے۔
مدینہ: جہاں سے سفر شروع ہوا
رسولِ خدا (ص) کی بعثت نے عرب کے منتشر معاشرے کو ایک توحیدی امت میں تبدیل کیا۔ آپ (ص) نے انسان کو اس کے رب سے جوڑا، عدل و اخلاق کو اجتماعی زندگی کی بنیاد بنایا اور اہلِ بیتؑ کو امت کے لیے ہدایت کا مرکز قرار دیا۔
شیعہ مکتبِ فکر کے نزدیک رسولِ خدا (ص) کے بعد دین کی حفاظت کا سلسلہ امامت کے ذریعے جاری رہنا تھا۔ شیخ مفید کی الارشاد میں ائمہؑ کے منصب کو دین کی حفاظت، احکامِ الٰہی کی تعلیم اور انسانیت کی رہنمائی سے مربوط کیا گیا ہے۔
اسی لیے رسولِ خدا (ص) کی وفات کو صرف ایک عظیم شخصیت کی دنیا سے رخصتی سمجھنا کافی نہیں۔ یہ امت کے لیے ایک عظیم امتحان کا آغاز بھی تھا۔
رسول (ص) نے جو دین قائم کیا تھا، اس کی حفاظت اب ان کے اہلِ بیتؑ کے ذریعے ہونی تھی۔
اور تاریخ نے جلد ہی دکھا دیا کہ اہلِ بیتؑ کے لیے یہ راستہ آسان نہیں ہوگا۔
رسولِ خدا (ص): نبوت کا آخری باب
رسولِ خدا (ص) کی زندگی کا آخری مرحلہ بیماری، امت کی فکر اور مستقبل کی ذمہ داریوں سے عبارت تھا۔
شیعہ روایات میں آپ (ص) کی وفات کو شہادت کے عنوان سے بھی بیان کیا گیا ہے۔ شیخ صدوق کی الاعتقادات میں یہ عقیدہ نقل ہوا ہے کہ رسولِ خدا (ص) کو خیبر میں دیے گئے زہر کے اثرات نے بالآخر شہادت تک پہنچایا۔
بعض دیگر شیعہ مصادر میں بھی رسولِ خدا (ص) کے زہر کے ذریعے شہید ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم اس موضوع کی روایات اور ان کی تاریخی تفصیلات میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے تحقیقی تحریر میں اس مسئلے کو احتیاط کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔
لیکن رسولِ خدا (ص) کی آخری بیماری کا سب سے بڑا درد صرف جسمانی تکلیف نہیں تھا۔
آپ (ص) کی فکر اپنی امت تھی۔
آپ (ص) نے ایک ایسا دین چھوڑا تھا جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کے لیے آیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ آپ (ص) کے بعد اس دین کی روح کون محفوظ رکھے گا؟
یہاں سے تاریخِ اہلِ بیتؑ کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔
حسنؑ: رسول (ص) کے وہ نواسے جنھوں نے صبر کو ہتھیار بنایا
رسولِ خدا (ص) کے بعد حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے گھر میں پرورش پانے والے امام حسن مجتبیٰؑ نے امت کی سیاسی اور اخلاقی تاریخ کے انتہائی پیچیدہ دور کا سامنا کیا۔
امام حسنؑ کی شخصیت میں رسولِ خدا (ص) کی شفقت، حضرت علیؑ کی شجاعت اور حضرت فاطمہؑ کی پاکیزگی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
لیکن ان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ انہیں ایسے دور میں امامت ملی جب اسلامی معاشرہ شدید سیاسی انتشار کا شکار ہو چکا تھا۔
امام حسنؑ نے معاویہ کے مقابلے میں قیام کیا، لیکن حالات ایسے پیدا ہوئے کہ جنگ جاری رکھنا مسلمانوں کے وسیع پیمانے پر خون بہانے کا سبب بن سکتا تھا۔
چنانچہ امام حسنؑ نے صلح قبول کی۔
یہ صلح بظاہر سیاسی پسپائی تھی، مگر حقیقت میں امام کی عظیم بصیرت کا اظہار تھی۔
امام نے اقتدار نہیں بچایا؛ اسلام کی اصل روح بچائی۔
شیخ مفید کی الارشاد میں امام حسنؑ کے حالات، صلح اور اس کے بعد کے واقعات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔
صلحِ امام حسنؑ: شکست یا فتح؟
تاریخ میں بعض اوقات خاموشی کو شکست سمجھ لیا جاتا ہے۔
لیکن ہر خاموشی شکست نہیں ہوتی۔
امام حسنؑ نے جب دیکھا کہ ان کے لشکر کے اندر ہی وفاداری متزلزل ہو چکی ہے اور جنگ کا تسلسل مسلمانوں کے خون کو مزید بہا سکتا ہے تو انہوں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے صرف سیاسی نظر کافی نہیں، بلکہ امامت کی بصیرت درکار ہے۔
امام نے صلح کے ذریعے معاویہ کو اس کے وعدوں کا پابند کیا اور امت کے سامنے یہ واضح کردیا کہ اقتدار اور خلافت کے دعوے کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔
صلح کے بعد امام حسنؑ مدینہ واپس آگئے۔
یہ واپسی شکست خوردہ سپہ سالار کی واپسی نہیں تھی۔
یہ اس امام کی واپسی تھی جس نے اپنے وقت کے خونریز ترین سیاسی بحران میں امت کے مفاد کو اپنی ذاتی فتح پر ترجیح دی تھی۔
امام حسنؑ کی خاموش مظلومیت
امام حسنؑ کی زندگی کا آخری حصہ انتہائی مظلومیت میں گزرا۔
شیعہ تاریخی مصادر میں امام حسنؑ کو زہر دیے جانے کا واقعہ تفصیل سے نقل ہوا ہے۔ شیخ مفید کی الارشاد میں منقول روایت کے مطابق معاویہ نے جعدہ بنت اشعث کے ذریعے امام حسنؑ کو زہر دینے کی سازش کی، اور امام حسنؑ طویل علالت کے بعد شہید ہوئے۔
شیخ صدوق کی روایات میں بھی رسولِ خدا (ص) اور امام حسنؑ کی شہادت کے درمیان زہر کا تعلق بیان ہوا ہے۔
امام حسنؑ نے اپنی زندگی میں صرف ایک دشمن کا سامنا نہیں کیا۔
انہوں نے سیاسی دھوکے، بے وفائی، پروپیگنڈے، تنہائی اور زہر سب کا سامنا کیا۔
لیکن ان کی زبان سے حق کی حفاظت کا عہد کبھی ختم نہیں ہوا۔
مدینہ سے خراسان: امام رضاؑ کا سفر
وقت گزرتا گیا۔
امام حسنؑ کے بعد امام حسینؑ نے کربلا میں دین کی حفاظت کے لیے عظیم قربانی دی، اور پھر امامت کا سلسلہ آگے بڑھتے ہوئے امام علی بن موسیٰ الرضاؑ تک پہنچا۔
امام رضاؑ کی زندگی کا سب سے اہم سیاسی مرحلہ عباسی خلیفہ مأمون کے دور میں آیا۔
مأمون نے امام رضاؑ کو مدینہ سے خراسان کی طرف بلایا۔
ظاہری طور پر یہ احترام تھا۔
لیکن اقتدار کی دنیا میں ہر احترام محبت نہیں ہوتا۔
مأمون جانتا تھا کہ امام رضاؑ کی علمی اور روحانی عظمت ایسی ہے جسے صرف قید یا خاموشی سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اس نے امام کو اپنے سیاسی مرکز کے قریب رکھنے کی کوشش کی۔
امام رضاؑ کو ولایتِ عہدی پیش کی گئی۔
لیکن امام نے اس منصب کو اپنی مرضی سے قبول نہیں کیا۔
یہاں امام رضاؑ کی بصیرت سامنے آتی ہے۔
انہوں نے اقتدار کو اپنی منزل نہیں بنایا؛ بلکہ اقتدار کے اندر رہ کر بھی اقتدار کی حقیقت کو بے نقاب کیا۔
ولایتِ عہدی: اقتدار کے درمیان ایک آزاد امام
مأمون کی سیاست کا ایک پہلو یہ تھا کہ امام رضاؑ کو ولایتِ عہدی دے کر ان کی مقبولیت کو عباسی حکومت کے حق میں استعمال کیا جائے۔
لیکن امام رضاؑ نے اس سیاسی منصوبے کو اپنے علم اور کردار کے ذریعے ایک علمی میدان میں تبدیل کردیا۔
مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کے علماء کے ساتھ مناظرے ہوئے۔
امام رضاؑ نے ثابت کیا کہ اہلِ بیتؑ کی امامت صرف سیاسی قیادت کا دعویٰ نہیں بلکہ علم، حکمت اور الٰہی ہدایت کا تسلسل ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امام رضاؑ کی شخصیت عباسی دربار کے لیے بھی ایک سوال بن گئی۔
اقتدار امام کو اپنے قریب لایا تھا، لیکن امام کی موجودگی نے اقتدار کے سامنے ہی ایک متبادل اخلاقی مرکز قائم کردیا۔
نیشاپور: مدینہ کا پیغام خراسان پہنچا
امام رضاؑ کے سفر کا ایک یادگار مرحلہ نیشاپور تھا۔
یہاں علماء اور عوام نے امام کا استقبال کیا اور حدیث سنانے کی درخواست کی۔
امام رضاؑ نے توحید کے بارے میں ایک معروف حدیث بیان فرمائی جسے اہلِ علم نے حدیثِ سلسلۃ الذہب کے نام سے یاد کیا۔
اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ توحید صرف ایک نظریہ نہیں؛ بلکہ اس کی حقیقی حفاظت الٰہی ولایت کے ذریعے ہوتی ہے۔
یوں امام رضاؑ کا مدینہ سے خراسان تک سفر صرف جغرافیائی سفر نہیں رہا۔
وہ مدینہ کے علم کا خراسان تک پہنچنے والا سفر بن گیا۔
طوس: جہاں اقتدار بے بس ہوگیا
آخرکار وہ سفر طوس تک پہنچا۔
یہاں وہ امام موجود تھے جن کی زبان پر علم تھا، جن کے کردار میں تقویٰ تھا، اور جن کی موجودگی عباسی اقتدار کے لیے ایک مستقل اخلاقی چیلنج تھی۔
امام رضاؑ کی شہادت کے بارے میں شیخ صدوق کی عیون اخبار الرضا میں متعدد روایات موجود ہیں۔
ایک مستقل باب میں امام رضاؑ کے مأمون کے ہاتھوں زہر کے ذریعے شہید کیے جانے کی روایت نقل ہوئی ہے۔
اسی کتاب کی ایک اور روایت میں زہریلے انار اور انگور کے ذریعے امام رضاؑ کو شہید کرنے کا واقعہ منقول ہے۔
ان روایات کی تفصیلات میں فرق موجود ہے، لیکن شیعہ روایتی مصادر میں امام رضاؑ کی شہادت کو مأمون کے دور سے مربوط کیا گیا ہے۔
عیون اخبار الرضا کے مطابق امام رضاؑ نے اپنی شہادت کے بارے میں پہلے سے خبر بھی دی تھی اور فرمایا تھا کہ انہیں ظلم کے ساتھ زہر دے کر شہید کیا جائے گا۔
امام رضاؑ کا آخری لمحہ
شہادت کے آخری مرحلے میں امام رضاؑ نے صبر، رضا اور توکل کا وہ نمونہ پیش کیا جو ان کے نام ہی میں پوشیدہ ہے۔
امام رضاؑ
یعنی وہ شخصیت جس کی زندگی کا ہر مرحلہ رضائے الٰہی کے ساتھ وابستہ تھا۔
عیون اخبار الرضا کی ایک روایت کے مطابق امام رضاؑ کی آخری گفتگو میں قرآنِ مجید کی یہ آیت بیان ہوئی:﴿قُلْ لَوْ كُنتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ﴾
یعنی: اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کے لیے قتل لکھ دیا گیا تھا وہ اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے۔
یہ الفاظ ایک امام کے آخری لمحات کا خلاصہ بن گئے۔
جسم زہر سے شکستہ ہوسکتا ہے۔
لیکن جس انسان نے اپنی زندگی خدا کے لیے وقف کردی ہو، اسے شکست نہیں دی جاسکتی۔
مدینہ سے طوس: فاصلے بدل گئے، مظلومیت نہیں
رسولِ خدا (ص)مدینہ میں شہید ہوئے۔
امام حسنؑ بھی مدینہ ہی میں مظلومیت کا شکار ہوئے۔
اور امام رضاؑ، مدینہ سے ہزاروں میل دور، طوس میں شہید کیے گئے۔
مقامات بدل گئے۔
حکومتیں بدل گئیں۔
امویوں کی جگہ عباسی آگئے۔
لیکن اہلِ بیتؑ کے ساتھ اقتدار کا رویہ بہت زیادہ نہیں بدلا۔
رسولِ خدا (ص) کے بعد اہلِ بیتؑ کے حقِ قیادت کا سوال پیدا ہوا۔
امام حسنؑ کو سیاسی تنہائی اور زہر کا سامنا کرنا پڑا۔
امام رضاؑ کو اقتدار کے مرکز میں لا کر سیاسی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ تینوں واقعات ایک گہری حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
حق کی مخالفت صرف تلوار سے نہیں ہوتی؛ کبھی اسے سیاست کے ذریعے گھیرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی خاموش کرنے کی، کبھی بدنام کرنے کی اور کبھی اقتدار میں شامل کرکے اس کی تاثیر ختم کرنے کی۔
لیکن اہلِ بیتؑ نے ہر دور میں اس کا جواب اپنے کردار سے دیا۔
تین شہادتیں، ایک پیغام
رسولِ خدا (ص)امام حسنؑ اور امام رضاؑ کی زندگیوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو تین عظیم اصول سامنے آتے ہیں:
1۔ حق کے لیے استقامت
رسولِ خدا (ص) نے مکہ کی سختیوں کے باوجود دعوتِ توحید ترک نہیں کی۔
امام حسنؑ نے سیاسی تنہائی کے باوجود حق کا راستہ نہیں چھوڑا۔
امام رضاؑ نے عباسی دربار میں رہتے ہوئے بھی اقتدار کے مفاد کے مطابق اپنے اصول تبدیل نہیں کیے۔
2۔ حالات کے مطابق حکمت
رسولِ خدا (ص)نے کبھی دعوت، کبھی ہجرت، کبھی صلح اور کبھی جہاد کے ذریعے اسلام کی حفاظت کی۔
امام حسنؑ نے صلح کو اختیار کیا۔
امام رضاؑ نے علمی مناظروں اور فکری جدوجہد کے ذریعے امامت کی حقیقت کو واضح کیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استقامت کا مطلب ایک ہی طریقے پر اصرار کرنا نہیں؛ بلکہ مقصد پر ثابت قدم رہتے ہوئے حالات کے مطابق صحیح حکمت اختیار کرنا ہے۔
3۔ قربانی
نبوت کی تکمیل کے بعد رسولِ خدا (ص) نے امت کو دین کی امانت دے کر رخصت اختیار کی۔
امام حسنؑ نے اپنی سیاسی قوت کو امت کے خون کی حفاظت کے لیے قربان کیا۔
امام رضاؑ نے اپنی جان قربان کی، لیکن اپنی علمی و روحانی آزادی کو اقتدار کے ہاتھوں فروخت نہیں کیا۔
اہلِ بیتؑ کی مظلومیت: شکست نہیں، بقا
اگر شہادت کو صرف موت سمجھا جائے تو دشمن کامیاب دکھائی دیتا ہے۔
لیکن اگر شہادت کو پیغام کی بقا سمجھا جائے تو تصویر بدل جاتی ہے۔
رسولِ خدا (ص) دنیا سے تشریف لے گئے، مگر اسلام آج بھی زندہ ہے۔
امام حسنؑ کو زہر دیا گیا، مگر ان کی صلح آج بھی سیاسی بصیرت کی مثال ہے۔
امام رضاؑ کو طوس میں شہید کیا گیا، مگر آج وہی طوس دنیا بھر سے آنے والے عاشقانِ اہلِ بیتؑ کا مرکز ہے۔
یہی شہادت کی سب سے بڑی فتح ہے۔
قاتل جسم کو ختم کرسکتا ہے؛ پیغام کو نہیں۔
طوس آج بھی سوال کرتا ہے
طوس کا مزار آج ایک خاموش سوال کی طرح کھڑا ہے:
اگر اقتدار اتنا طاقتور تھا تو امام رضاؑ کا نام صدیوں بعد بھی کیوں زندہ ہے؟
اور اگر امام رضاؑ شکست خوردہ تھے تو دنیا کے مختلف خطوں سے لوگ ان کی بارگاہ میں کیوں آتے ہیں؟
جواب واضح ہے۔
اقتدار وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے۔
محل ویران ہوجاتے ہیں۔
تخت ختم ہوجاتے ہیں۔
بادشاہوں کے نام تاریخ کی کتابوں میں محدود ہوجاتے ہیں۔
لیکن علم، تقویٰ، حق اور قربانی نسلوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
مأمون کا اقتدار ختم ہوگیا۔
مگر امام رضاؑ کا نام باقی ہے۔
آج کے انسان کے لیے مدینہ سے طوس کا پیغام
مدینہ سے طوس کا سفر صرف ماضی کی داستان نہیں۔
یہ آج کے انسان کے لیے ایک آئینہ ہے۔
جب حق بولنا مشکل ہو تو رسولِ خدا (ص) کی استقامت یاد کرو۔
جب حالات ایسے ہوجائیں کہ ہر فیصلہ نقصان دہ دکھائی دے تو امام حسنؑ کی بصیرت یاد کرو۔
جب طاقتور نظام اپنے مفاد کے لیے تمہیں استعمال کرنا چاہے تو امام رضاؑ کی حکمت یاد کرو۔
اور جب قربانی کا وقت آئے تو یہ یاد رکھو کہ اہلِ بیتؑ نے حق کو صرف زبان سے نہیں، اپنی پوری زندگی سے ثابت کیا۔
آج ہمیں شاید تلوار نہ اٹھانی پڑے۔
لیکن ہمیں جھوٹ کے مقابلے میں سچ بولنا ہوگا۔
شاید ہمیں میدانِ جنگ میں نہ جانا پڑے۔
لیکن ہمیں اپنے کردار کو آلودہ ہونے سے بچانا ہوگا۔
شاید ہمیں تخت و تاج کی آزمائش نہ ہو۔
لیکن ہمیں اپنے اصولوں کو معمولی مفاد کے عوض فروخت نہیں کرنا ہوگا۔
یہی مدینہ سے طوس تک کا اصل پیغام ہے۔
اختتامیہ: سفر ابھی جاری ہے
مدینہ سے طوس تک کا فاصلہ ہزاروں میل ہے۔
لیکن اہلِ بیتؑ کی تاریخ میں یہ فاصلے بہت مختصر ہوجاتے ہیں۔
مدینہ میں رسولِ خدا (ص) کی آخری سانسیں ہیں۔
اسی مدینہ میں امام حسنؑ کی خاموش مظلومیت ہے۔
اور طوس میں امام رضاؑ کی شہادت ہے۔
ایک طرف نبوت کا اختتام ہے، دوسری طرف امامت کا تسلسل۔
ایک طرف مدینہ کی گلیاں ہیں، دوسری طرف خراسان کی سرزمین۔
ایک طرف رسولِ خدا (ص) کا غم ہے، دوسری طرف نواسۂ رسول امام حسنؑ کی شہادت، اور پھر برسوں بعد اسی خاندان کے چشم و چراغ امام رضاؑ کا زہر سے شہید ہونا۔
مگر ان تمام واقعات کے درمیان ایک چیز مسلسل ہے:
وہ ہے حق
حالات بدلتے رہے، مگر حق نہ بدلا۔
حکمران بدلتے رہے، مگر اہلِ بیتؑ کا راستہ نہ بدلا۔
شہر بدلتے رہے، مگر خدا کی طرف سفر نہ رکا۔
اسی لیے مدینہ سے طوس تک صرف ایک تاریخی سفر کا نام نہیں۔
یہ اس حقیقت کی داستان ہے کہ
حق کو قید کیا جاسکتا ہے، مگر ختم نہیں کیا جاسکتا۔
اہلِ حق کو شہید کیا جاسکتا ہے، مگر ان کے پیغام کو نہیں۔
جسم مٹی میں اتر سکتا ہے، مگر کردار تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔
رسولِ خدا (ص) سے امام حسنؑ تک،
امام حسنؑ سے امام حسینؑ تک،
اور امام حسینؑ سے امام رضاؑ تک—
یہ سفر دراصل اسلام کی روح کی حفاظت کا سفر ہے۔
مدینہ سے طوس تک راستے بدلتے رہے،
مگر منزل ایک رہی:
خدا، حق اور ہدایت۔
اور یہی وہ سفر ہے جو آج بھی ختم نہیں ہوا۔
یہ سفر ہر اس دل میں جاری ہے جو ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے،
ہر اس زبان میں جاری ہے جو حق کہنے کی جرأت رکھتی ہے،
اور ہر اس انسان میں جاری ہے جو اہلِ بیتؑ کی سیرت کو صرف تاریخ نہیں بلکہ زندگی کا راستہ سمجھتا ہے۔









آپ کا تبصرہ