جمعہ 24 جولائی 2026 - 10:59
احساسات کی قدر؛ رشتوں کا استحکام

حوزہ/انسان صرف عقل کا نام نہیں، بلکہ وہ احساسات اور تعلقات کا ایک مجموعہ ہے۔ نفسیات کے مطابق، ہماری شخصیت، پڑھائی، کارکردگی اور ذہنی سکون کا زیادہ تر انحصار اس پر ہے کہ ہمارے رشتے کیسے ہیں۔

تحریر: ثمن رباب رضوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

محبت، عزت، اعتماد، تحفظ اور قبولیت ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ جب یہ ملتی ہیں تو انسان پراعتماد اور کامیاب بنتا ہے۔ جب نہیں ملتیں تو بےچینی، تنہائی اور مایوسی جنم لیتی ہے۔

1. قرآن اور نفسیات کا پیغام

قرآن نے رشتوں کی بنیاد ہی "مودت اور رحمت" رکھی ہے:

وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَوَدَّةً وَرَحْمَةً. اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ (سورہ روم: 21)

یہ اصول صرف گھر تک محدود نہیں۔ دوست، استاد، شاگرد، کلاس فیلو — ہر رشتے میں محبت اور نرمی سے ہی استحکام آتا ہے۔

2. مرد اور عورت: فطرت کا فرق، برتری نہیں

کلاس، یونیورسٹی اور معاشرے میں مرد اور عورت دونوں ساتھ پڑھتے اور کام کرتے ہیں۔ نفسیات کے مطابق، ان کے جذبات کے اظہار کا انداز مختلف ہو سکتا ہے۔

اکثر لڑکیاں بات چیت، شیئرنگ اور توجہ سے خود کو ہلکا محسوس کرتی ہیں۔

اکثر لڑکے مدد، ذمہ داری اور عملی اقدامات سے اپنی اہمیت ظاہر کرتے ہیں۔

یہ فرق کمزوری نہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم ایک دوسرے کے انداز کو سمجھے بغیر غلط مطلب نکال لیتے ہیں۔

3. شکایت کرنا = بےعزتی نہیں، اعتماد ہے

آج کل سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ لوگ دل میں بغض رکھ لیتے ہیں اور سامنے کچھ نہیں کہتے۔

لیکن اگر کوئی شخص آپ سے آ کر اپنی شکایت کرے، اپنا دکھ بتائے، تو یہ آپ کی بےعزتی نہیں ہے۔

یہ دراصل اس کا آپ پر اعتماد ہے۔ اس نے یہ سوچ کر بات کی کہ "یہ میری بات سمجھے گا، مجھ پر غصہ نہیں کرے گا"۔ اسی لیے اس نے شکایت کرنے کی جرأت کی۔

کبھی کبھی کسی کا شکوہ کرنا اس لیے بھی ہوتا ہے کہ زندگی کے کسی بڑے حادثے یا تلخ تجربے کی وجہ سے اس کے دل میں عدم اعتماد پیدا ہو گیا ہو۔ وہ چاہتا ہے کوئی اسے سنے اور سمجھے۔

4. اعتماد: ہر رشتے کی بنیاد

امیرالمؤمنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں: «لا أمانةَ لِمَن لا وَفاءَ له» "جس میں وفا نہیں، اس میں امانت بھی نہیں"_

دوستی ہو، گروپ ورک ہو یا کلاس — جہاں اعتماد ہوگا وہاں انسان کھل کر کام کرے گا۔ جہاں بےاعتمادی ہوگی وہاں ہر کوئی خود کو بچانے میں لگ جائے گا۔

5. آج کا مسئلہ

آج ہم موبائل پر 100 لوگوں سے جُڑے ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں 2 لوگوں سے دل کی بات نہیں کر پاتے۔

ہم سنتے کم ہیں، جج زیادہ کرتے ہیں۔

سمجھتے کم ہیں، رائے فوراً دے دیتے ہیں۔

اسی وجہ سے رشتے کمزور ہو رہے ہیں۔

6. حل: احساسات کی قدر کریں

نفسیات کے مطابق اسے Emotional Validation کہتے ہیں؛ یعنی دوسرے کے جذبات کو چھوٹا نہ سمجھیں۔

اگر کوئی غم کا اظہار کرے تو کہیں "فضول بات ہے" کے بجائے کہیں "میں سمجھتا ہوں تمہیں تکلیف ہوئی"۔

اگر کوئی کامیابی بتائے تو دل سے "شاباش" کہیں۔

اور اگر کوئی شکایت کرے تو اسے موقع دیں، غصہ نہ کریں۔

اہلِ بیتؑ نے بھی یہی سکھایا: دوسروں کے دل کا خیال رکھو۔ جو دوسروں کی عزت کرتا ہے، وہ دراصل ایک صحت مند معاشرہ بناتا ہے۔

نتیجہ

احساسات کمزوری نہیں، طاقت ہیں۔

جہاں احساس کی قدر ہوگی، وہاں اعتماد ہوگا۔

جہاں اعتماد ہوگا، وہاں رشتے مضبوط ہوں گے۔

اور جہاں مضبوط رشتے ہوں گے، وہاں کامیاب طلبہ اور پُرامن معاشرہ بنے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha