حوزہ نیوز ایجنسی: ان دنوں ایران کے باوقار اور غیرت مند عوام اپنے شہید امام و رہبر کے جسدِ اطہر سے وداع کی مختلف تقریبات میں ایک منفرد کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ وہ غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے ضرور ہیں، مگر یہ ایسا غم ہے جس سے دنیا تک حماسہ، استقامت اور انتقامِ خونِ شہداء کا پیغام پہنچ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شہید آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ایؒ ایسی عظیم شخصیت تھے جنہوں نے زندگی بھر مصائب، طعن و تشنیع اور ملامتوں کا سامنا کیا، مگر ایک لمحے کے لیے بھی اپنے الٰہی اور ایمانی فریضے کی ادائیگی سے پیچھے نہ ہٹے۔ وہ اپنے ان بلند مقاصد سے آخری سانس تک وفادار رہے جو خالقِ متعال کی بندگی اور اس کی مخلوق کی خدمت کا عملی مظہر تھے، یہاں تک کہ آخرکار اپنے عقیدے کی راہ میں جان نچھاور کر دی اور اپنے متعدد عزیز ساتھیوں کے ہمراہ ایران کے بدترین دشمنوں کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش کیا۔
اس بنا پر، اگرچہ امام خامنہ ایؒ کی شہادت نے ملتِ ایران اور پوری امتِ مسلمہ کو ایک عظیم اور ناقابلِ تلافی غم سے دوچار کیا ہے، تاہم یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ تاریخ عظیم رہنماؤں کو صرف ان کے دورِ حکمرانی سے یاد نہیں رکھتی، بلکہ ان کی فکر، نظریے، بلند آرمانوں، تہذیبی و فکری ورثے اور ان انسانوں کے ذریعے پہچانتی ہے جن کی انہوں نے تربیت کی ہوتی ہے۔
امام خامنہ ایؒ کے مکتبہ فکری کی نمایاں خصوصیات
یہ بات بلاوجہ نہیں کہ کہا جاتا ہے: تاریخ کے عظیم رہنما اور غیر معمولی شخصیات اپنے پیچھے جو سب سے قیمتی ورثہ چھوڑ جاتی ہیں، وہ بلند و بالا عمارتیں، مادی ڈھانچے یا ظاہری تعمیرات نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا اصل سرمایہ ان کا مکتبِ فکر ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں ہمارے شہید رہبر کا حقیقی ورثہ، ثقافتِ مقاومت، آزادی و خودمختاری کے جذبے، استکبار دشمنی، نظامِ توحید سے جنم لینے والے عوام پر اعتماد، گہری معنویت، اور ایسی مؤمن، باخبر اور شجاع نسل کی تربیت میں جلوہ گر ہے، جو اس راہ کو جاری رکھنے اور سامنے موجود بلند منزلوں تک پہنچنے کے لیے پوری آمادگی، عزم اور اشتیاق رکھتی ہے۔
علمی اقتدار؛ ترقی و پیش رفت کا محرک
انسانی علوم کی محقق اور مصنفہ زینب صفائی اس حوالے سے کہتی ہیں کہ شہید رہبرِ انقلاب کے فکری و عملی نظام، جسے بجا طور پر ایک مکتبِ فکر کہا جا سکتا ہے، میں دینی وابستگی، علمی عقلانیت اور سیاسی بصیرت کے درمیان ایک مضبوط اور گہرا ربط پایا جاتا ہے۔ یہ مکتب محض چند نظریاتی مؤقفوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ جدید دنیا کے چیلنجز اور پیچیدگیوں کے مقابلے میں ایک تہذیب کی ارتقا و سربلندی کے لیے ایک جامع اسٹریٹجک نقشۂ راہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مکتب کی درخشاں ترین کامیابیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے اسلامی جمہوریہ ایران کی ریاستی پالیسیوں کو مقامی صلاحیتوں، خود انحصاری اور سائنسی ترقی کی سمت موڑ دیا۔ امام خامنہ ایؒ، جو خود ایک محقق عالم اور بلند پایہ ادیب تھے، ہمیشہ اس حقیقت پر زور دیتے رہے کہ جدید دنیا میں اقوام کی نجات کا واحد راستہ علم ہے، اور وہ واضح طور پر فرمایا کرتے تھے کہ ملک کا علمی اقتدار ہماری ترقی اور پیش رفت کا اصل محرک ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں ایران کی اسٹریٹجک علوم میں حیرت انگیز ترقی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حقیقتاً حساس شعبوں میں بے مثال علمی جستیں دیکھنے میں آئیں۔ جوہری طب اور نینو ٹیکنالوجی میں علاقائی مرکز بننے سے لے کر دفاعی صنعتوں کی شاندار ترقی اور پیچیدہ نظاموں میں خود کفالت تک، یہ تمام کامیابیاں ایک ایسے قومی عزم کا نتیجہ ہیں جو شہید رہبرِ انقلاب کی فکر سے جنم لیا۔ وہ علم سے دوری اور سائنسی پسماندگی کو استعماری قوتوں کی ایک منظم سازش قرار دیتے تھے۔
ملکی خودمختاری کے تحفظ اور استحکام کی ضرورت
اس صحافی نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی میں "عزت، حکمت اور مصلحت" کی حکمتِ عملی کی تدوین اور دفاعی بازدارندگی کو مضبوط بنانا صرف عسکری دفاع کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس کا بنیادی مقصد آج کی کثیر قطبی دنیا میں ملک کی آزادانہ فیصلہ سازی اور قومی خودمختاری کا تحفظ تھا، تاکہ ہمارا ملک اپنی آزادی برقرار رکھتے ہوئے مزید عزت، خود کفالت اور وقار کی منزلیں طے کرے اور موجودہ عالمی نظام میں ایک قابلِ تقلید نمونہ بن کر ابھرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مکتبِ فکر کے نظریات اور نعروں کا مرکزی نکتہ وحدت ہے۔ شہید رہبر کی سیرت اور نورانی تعلیمات میں ہر قسم کی سماجی اور سیاسی دو قطبیت سے اجتناب ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہی طرزِ فکر زیادہ سے زیادہ افراد کو ساتھ لے کر چلنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ ایرانِ اسلامی کی مشترکہ قومی شناخت پر زور دینا اور تمام اقوام، مذاہب اور معاشرتی طبقات کے احترام کو فروغ دینا ایک متحد، ہم آہنگ اور مضبوط ایران کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک ہر قسم کا اختلاف اور تفرقہ بیرونی دشمن کے مقابلے میں نظام کو کمزور کرتا ہے، لہٰذا اس سے ہر صورت اجتناب کرنا چاہیے۔
قومی اتحاد و یکجہتی کے سائے میں دینی عقلانیت
زینب صفائی نے مزید کہا کہ شہید امام خامنہ ایؒ کے مکتبِ فکر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دینی عقلانیت، قومی عزم اور اتحادِ امت پر اعتماد کرتے ہوئے دنیا کے پیچیدہ ترین بین الاقوامی چیلنجز کا نہ صرف کامیابی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے بلکہ ملک کی ترقی و پیش رفت کے سفر کو مزید تیز بھی کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس عظیم اور گراں قدر ورثے کی حفاظت اور اس کی مزید ترقی کے لیے ضروری ہے کہ نئی نسل اس مکتبِ فکر کو گہرائی سے سمجھے اور اس کی وحدت پسند، علم دوست اور عدل پر مبنی روح کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے، کیونکہ ہمارے شہید امام و رہبر کی ہدایات کی روشنی میں ایک مضبوط ایران کا مستقبل اسی راستے کے تسلسل اور اسی فکری میراث کی حفاظت سے وابستہ ہے۔
ایرانی و اسلامی تشخص کے تحفظ پر زور
امام صادقؑ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے رکنِ علمی بورڈ ڈاکٹر مہدی اسلامی نے کہا کہ شہید رہبر کی فکری میراث سیاسی، سماجی، دینی اور بین الاقوامی میدانوں میں پیش کیے گئے نظریات، افکار اور عملی حکمتِ عملیوں کا ایک وسیع مجموعہ ہے۔ یہ میراث ان کی تقاریر، مقالات، کتابوں، ریاستی پالیسیوں اور انتظامی رہنما اصولوں کی صورت میں نمایاں ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملتِ ایران کے لیے اس فکری میراث کا ایک بنیادی ستون ایرانی اور اسلامی تشخص کا تحفظ اور استحکام ہے۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ ملک کی تمام پالیسیاں اور منصوبہ بندی اسی مقصد کے گرد استوار ہوں، کیونکہ ہماری قومی عزت و وقار اسی شناخت کے تحفظ سے وابستہ ہے۔
جامعہ کے اس استاد نے مزید کہا کہ جیسا کہ متعدد بار بیان کیا جا چکا ہے، شہید رہبر کی فکری میراث کا ایک اور بنیادی رکن ثقافتِ مقاومت کا فروغ ہے۔ اس تصور میں اقتصادی پابندیوں کے مقابلے میں ثابت قدمی، اسٹریٹجک صنعتوں میں خود کفالت، اور مختلف محاذوں پر دشمن کے دباؤ کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کرنا شامل ہے۔ بیگانہ طاقتوں کے مقابلے میں آزادی، خودمختاری اور حریت کا یہ جذبہ
درحقیقت امام خمینیؒ کی فکری بنیادوں سے پھوٹتا ہے اور شہید امام خامنہ ایؒ نے اس فکری و انقلابی راستے کو بہترین انداز میں تسلسل عطا کیا۔
امتِ مسلمہ کے اتحاد کے فروغ کے لیے مسلسل جدوجہد
انہوں نے کہا کہ عالمِ اسلام کے تناظر میں شہید امام خامنہ ایؒ کی فکر ایران کی جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ پوری امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی، دشمن کے مقابلے میں مشترکہ استقامت، اور اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں اور فتنوں کے بارے میں دائمی بیداری پر مرکوز تھی۔
جامعہ کے اس استاد نے مزید کہا کہ ہمارے شہید امام و رہبر کے مکتبِ فکر کے مطابق، نظامِ استکبار کا مؤثر مقابلہ اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان باہمی اتحاد کے ساتھ، بصیرت اور حکمت کے ذریعے کفر و طاغوت کی قوتوں کا سامنا کریں۔ وہ بارہا اس بات پر زور دیتے تھے کہ عالمِ اسلام کو ان بین الاقوامی نظاموں سے فاصلہ اختیار کرنا چاہیے جو استکباری طاقتوں کے زیرِ اثر ہیں، اور عدل و انصاف پر مبنی ایک نئے عالمی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ اسی بنا پر وہ ہمیشہ فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت اور مسئلۂ قدسِ شریف کو امتِ مسلمہ کی اولین ترجیح قرار دینے پر مسلسل زور دیتے رہے۔
ترجمہ و ترتیب: سیدہ ثمن رباب رضوی









آپ کا تبصرہ