حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی چیئرمین شعبۂ دینیات شیعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سنی معروف عالم دین سید سلمان ندوی کی رحلت پر لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض شخصیات زمانے کے صفحات پر صرف روشنائی سے نہیں، بلکہ اپنے خونِ جگر، سوزِ فکر اور نورِ قلم سے لکھی جاتی ہیں۔ وہ محض افراد نہیں ہوتیں بلکہ ایک عہد، ایک دبستان، ایک تحریک اور ایک زندہ تاریخ ہوتی ہیں۔ جب ایسی ہستیاں رخصت ہوتی ہیں تو صرف ایک دل نہیں روتا، صرف ایک شہر نہیں اجڑتا، بلکہ علم کی بستی ویران، ادب کی محفل سوگوار، تحقیق کا چراغ لرزاں اور امت کا افق غبار آلود ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سید سلمان حسینی ندوی کی رحلت بھی ایسا ہی سانحۂ جاں گداز ہے۔ یہ صرف ایک عالمِ دین کی وفات نہیں، بلکہ فکر کے ایک مینار کا انہدام، تحقیق کے ایک سمندر کا سکون، ادب کے ایک گلستان کا خزاں رسیدہ ہونا اور دعوت و دعوتِ فکر کے ایک آفتاب کا غروب ہے۔ ان کی وفات سے امتِ اسلامیہ ایک ایسے گوہرِ نایاب سے محروم ہوئی ہے جس کا نعم البدل بآسانی میسر نہیں۔
مولانا اعجاز قائمی نے کہا کہ وہ علم کے امین، قلم کے پاسبان، فکر کے نگہبان، ادب کے شہسوار، تحقیق کے معمار اور تاریخ کے رازداں تھے۔ ان کے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ دلیل کا چراغ، ہر جملہ حکمت کا در، ہر سطر بصیرت کا منظر اور ہر کتاب علم و آگہی کا مینار محسوس ہوتی تھی۔ انہوں نے صرف کتابیں نہیں لکھیں بلکہ نسلوں کے اذہان کو جلا بخشی، قلوب کو بیدار کیا اور فکروں کو سمت عطا کی۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم سیکڑوں کتابوں کے مصنف تھے، مگر ان کی اصل عظمت صرف تصنیف کی کثرت نہیں، بلکہ تحقیق کی گہرائی، استدلال کی مضبوطی، اسلوب کی شگفتگی اور فکر کی وسعت تھی۔ ان کا قلم جب تاریخ لکھتا تو ماضی بول اٹھتا، جب سیرت رقم کرتا تو کردار جگمگا اٹھتے، جب تہذیب پر گفتگو کرتا تو تمدن کے دریچے کھل جاتے اور جب امت کے مسائل پر اظہارِ خیال کرتا تو دل و دماغ دونوں کو روشنی ملتی۔
سید سلمان ندوی کا ادبی مقام بھی بے مثال تھا۔ وہ لفظوں کے معمار، تعبیر کے شہکار، بیان کے جادوگر اور اسلوب کے شہسوار تھے۔ ان کی عبارتوں میں فصاحت کی خوشبو، بلاغت کی چاشنی، شائستگی کی لطافت اور معنویت کی گہرائی یکجا ہو جاتی تھی۔ ان کے قلم کی روانی گویا چشمۂ کوثر کی سی پاکیزگی رکھتی تھی اور ان کی تحریروں میں ایسا حسنِ ترتیب ہوتا کہ قاری بے اختیار ابتدا سے انتہا تک سفر کرتا چلا جاتا۔
وہ محقق بھی تھے اور مفکر بھی، مؤرخ بھی تھے اور مصلح بھی، مقرر بھی تھے اور مدبر بھی۔ ان کی شخصیت علم و ادب، تحقیق و دعوت، فکر و تدبر اور روایت و بصیرت کا حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے قدیم ذخیرۂ علم کو جدید ذہنوں تک پہنچانے کا ایسا کارنامہ انجام دیا جس پر آنے والی نسلیں ہمیشہ انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی رہیں گی۔
انہوں نے مرحوم کی اہل بیت سے محبت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے ان کی محبت بھی ان کی شخصیت کا درخشاں پہلو تھی۔ اختلافات کے گرد و غبار میں بھی انہوں نے احترامِ اہلِ بیت کا چراغ بجھنے نہ دیا۔ وہ محبت کو وحدت کا پل، مودّت کو امت کا سرمایہ اور آلِ رسولؐ سے وابستگی کو ایمان کی لطافت سمجھتے تھے۔ ان کی تحریروں اور گفتگو میں اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کا ذکر ہمیشہ ادب، عقیدت، توقیر اور اخلاص کے ساتھ جلوہ گر رہتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا ان کی زندگی گویا ایک ایسا شجرِ سایہ دار تھی جس کے سائے میں علم نے آسودگی پائی، تحقیق نے توانائی حاصل کی، ادب نے تازگی پائی اور فکر نے وسعت اختیار کی۔ اب وہ شجر اپنی ظاہری موجودگی سے محروم ہے، مگر اس کے ثمرات آج بھی تشنگانِ علم کی پیاس بجھا رہے ہیں۔ ایسے لوگ مر کر بھی نہیں مرتے؛ ان کی کتابیں ان کی سانسیں بن جاتی ہیں، ان کے افکار ان کی آواز بن جاتے ہیں، ان کے شاگرد ان کی یادگار بن جاتے ہیں اور ان کے علمی آثار ان کی دائمی زندگی کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ جسم مٹی کے سپرد ہو جاتا ہے مگر علم زمانے کی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے۔
مولانا اعجاز قائمی نے کہا کہ آج جب ہم سید سلمان حسینی ندوی کی رحلت پر اشک بار ہیں تو درحقیقت ہم ایک ایسے عہد کے اختتام پر سوگوار ہیں جس میں قلم عبادت تھا، تحقیق امانت تھی، ادب شرافت تھا اور اختلاف بھی اخلاق کے دائرے میں رہتا تھا۔ ان کی خاموشی ہمیں یہ پیغام دے رہی ہے کہ افراد رخصت ہو جاتے ہیں مگر افکار باقی رہتے ہیں، چراغ بجھ جاتے ہیں مگر روشنی اپنا سفر جاری رکھتی ہے، قافلے بچھڑ جاتے ہیں مگر منزلیں باقی رہتی ہیں۔
انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مولوی مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کی علمی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں اپنے مقرب بندوں، انبیائے کرام، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ محشور فرمائے۔ دعا ہے کہ ان کے قلم کی روشنائی قیامت تک اہلِ علم کے دلوں میں روشنی بکھیرتی رہے اور ان کا نام علمی افق پر ہمیشہ آفتاب کی مانند تابندہ و درخشندہ رہے۔









آپ کا تبصرہ