بارہ محرم: کوفہ میں اسیرانِ اہلِ بیت (ع) کا ورود اور حق کی پہلی فتح

حوزہ/12 محرم 61 ہجری کی صبح اہل حرم کا قافلہ شہرِ کوفہ میں داخل ہوا۔ کوفہ وہی شہر تھا جس نے حضرت امام حسین (ع) کے عظیم، وفادار اور جان نثار اصحاب کو جنم دیا تھا، لیکن اب اسی شہر کے ماتھے پر عہد شکنی اور بے وفائی کا ایک ایسا داغ ثبت ہو چکا تھا جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لئے رقم ہو گیا۔ آج یہی شہر اس قافلے کا استقبال کر رہا تھا جو کربلا کی عظیم قربانی، صبر و استقامت اور بے مثال مظلومیت کی داستان اپنے ساتھ لیے آ رہا تھا۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی|

12 محرم کی صبح: اہل حرم کا کوفہ میں داخلہ

12 محرم 61 ہجری کی صبح اہل حرم کا قافلہ شہرِ کوفہ میں داخل ہوا۔ کوفہ وہی شہر تھا جس نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے عظیم، وفادار اور جان نثار اصحاب کو جنم دیا تھا، لیکن اب اسی شہر کے ماتھے پر عہد شکنی اور بے وفائی کا ایک ایسا داغ ثبت ہو چکا تھا جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لئے رقم ہو گیا۔ آج یہی شہر اس قافلے کا استقبال کر رہا تھا جو کربلا کی عظیم قربانی، صبر و استقامت اور بے مثال مظلومیت کی داستان اپنے ساتھ لئے آ رہا تھا۔

صرف 40 روز قبل یہی کوفہ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام اور حضرت ہانی بن عروہ علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کا گواہ بنا تھا۔ 9 ذی الحجہ کو ان دونوں عظیم ہستیوں کے سر تن سے جدا کر کے ان کے اجساد کو عبرت کے طور پر سولی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ یہی وہ شہر تھا جس کے ہزاروں باشندوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کو خطوط لکھ کر مدد کی دعوت دی، لیکن پھر انہی میں سے بہت سے افراد حکومتِ وقت کے دباؤ، خوف یا دنیا طلبی کے باعث لشکرِ یزید میں شامل ہو گئے اور فرزندِ رسولؐ کے مقابل صف آرا ہوئے۔

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے لئے کوفہ کوئی اجنبی شہر نہ تھا۔ آپؑ نے 37 سے 40 ہجری تک اپنے والد ماجد امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے دورِ خلافت میں اسی شہر میں قیام فرمایا تھا۔ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام مدینہ واپس تشریف لے گئے تھے، مگر کوفیوں کی بے وفائی اور عہد شکنی کے تلخ واقعات حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی یادوں میں محفوظ تھے۔

اگرچہ تاریخ میں کوفہ کا نام عہد شکنی کے حوالے سے مشہور ہوا، لیکن علمی، فکری اور ثقافتی اعتبار سے یہ شہر شام سے بالکل مختلف تھا۔ یہی وہ شہر تھا جہاں امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے خطبات گونجتے رہے، جہاں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی تعلیمات لوگوں نے سنیں، اور جہاں اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت بہت سے دلوں میں زندہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے کوفیوں کے دل حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے، اگرچہ ان کی تلواریں آپؑ کے خلاف اٹھ چکی تھیں۔ اس حقیقت کو مشہور شاعر فرزدق نے نہایت مختصر مگر جامع الفاظ میں یوں بیان کیا: "لوگوں کے دل امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ہیں، مگر ان کی تلواریں آپؑ کے خلاف ہیں۔"

اسی خصوصیت کے باعث کوفہ میں حالات اور عوامی جذبات نہایت تیزی سے بدلتے تھے۔ چنانچہ کچھ ہی عرصے بعد یہی شہر گریہ و زاری، ندامت، پشیمانی اور توبہ کی علامت بن گیا۔

کوفہ کی فضا

اسیرانِ کربلا کے قافلے کو صبح سویرے شہرِ کوفہ میں داخل کیا گیا۔ عمر بن سعد ملعون اس سے پہلے ہی اپنی فوج کے ساتھ کوفہ پہنچ چکا تھا۔ پورے شہر میں سخت پہرہ تھا اور ہر طرف حکومتی سپاہی تعینات تھے تاکہ کسی قسم کا ردِعمل سامنے نہ آ سکے۔

لوگ ایک دوسرے سے پوچھتے تھے: "یہ کس قبیلے اور کس علاقے کے قیدی ہیں؟"

جواب ملتا: "یہ آلِ محمد علیہم السلام کے اسیر ہیں۔"

عبیداللہ بن زیاد ملعون کے حکم پر اسیرانِ اہلِ بیتؑ اور شہدائے کربلا کے مقدس سروں کو شہر کے بازاروں اور چوراہوں میں پھرایا جا رہا تھا۔ مقدس سروں کو مختلف نیزہ برداروں میں تقسیم کر دیا گیا تھا تاکہ حکومت اپنی نام نہاد فتح کا مظاہرہ کر سکے اور لوگوں کے دلوں میں خوف و دہشت بٹھا دے۔

اس وقت کوفہ ایک عجیب منظر پیش کر رہا تھا۔ ایک گروہ ظلم و ستم کے اس ہولناک انجام پر اشک بار تھا، دوسرا گروہ حکومتی پروپیگنڈے کے زیرِ اثر خوشیاں منا رہا تھا، جبکہ ایک بڑی تعداد حیرت، خوف اور خاموشی کے عالم میں اس المناک منظر کو دیکھ رہی تھی۔

سہل بن حبیب شہرزوری بیان کرتے ہیں: "میں اس سال مکہ معظمہ سے واپس آ رہا تھا۔ جب کوفہ پہنچا تو دیکھا کہ شہر کی فضا یکسر بدلی ہوئی ہے۔ بازار اور دکانیں بند تھیں اور لوگ گروہ در گروہ جمع تھے۔ کچھ ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے، جبکہ کچھ اشک بار آنکھوں کے ساتھ تعزیت کر رہے تھے۔ میں نے ایک بوڑھے شخص سے پوچھا: 'یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے میرا ہاتھ پکڑا، مجھے ایک طرف لے گیا اور آہستہ آواز میں کہا: 'ہمارے لئے کوئی عید نہیں۔ دو لشکر آمنے سامنے آئے تھے؛ ابنِ زیاد کا لشکر غالب آ گیا اور حسین بن علی علیہ السلام کا لشکر شہید کر دیا گیا۔ خدا کرے امام حسین علیہ السلام کا سر ہمارے شہر میں نہ لایا جائے۔

یہ کہتے ہی وہ شدتِ غم سے رونے لگا۔ ابھی وہ گفتگو کر ہی رہا تھا کہ اچانک نقاروں کی آوازیں بلند ہوئیں، پرچم لہرانے لگے اور عمر بن سعد ملعون کا لشکر فاتحانہ انداز میں شہر میں داخل ہو گیا۔

دارالامارہ کی طرف سفر

جب اسیرانِ کربلا کے قافلہ کو دارالامارہ کی طرف لے جایا گیا تو راستے کے دونوں جانب ہزاروں لوگ کھڑے تھے۔ شہر کی مرکزی شاہراہوں، بازاروں اور چوراہوں کو آراستہ کیا گیا تھا۔ دارالامارہ کی عمارت کی دیواروں پر تازہ مرمت اور رنگ و روغن کروایا گیا تھا تاکہ حکومت اپنی نام نہاد فتح کا اظہار کر سکے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کے لئے یہ منظر ایک نئی آزمائش تھا۔ ہر طرف تماشائیوں کی نظریں، نیزوں پر بلند شہداء کے مقدس سر، مسلح سپاہیوں کا حصار اور بے بسی کی کیفیت تھی، مگر اس کے باوجود اہلِ بیت علیہم السلام نے صبر، وقار اور عظمت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

اسی موقع پر حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا نے بلند آواز میں اہلِ کوفہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے اہلِ کوفہ! کیا تمہیں اللہ اور اس کے رسولؐ سے شرم نہیں آتی کہ تم رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ حرم کو اس حالت میں دیکھ رہے ہو؟"

اسیرانِ کربلا کا قافلہ ابھی شہرِ کوفہ کی گلیوں سے گزر ہی رہا تھا کہ ایک نہایت دردناک منظر سامنے آیا۔ بعض لوگ، جو اہلِ بیت علیہم السلام کی حقیقت سے پوری طرح آگاہ نہ تھے، اسیر بچوں پر ترس کھا کر ان کے لئے روٹیاں، کھجوریں اور اخروٹ لے آئے اور انہیں تقسیم کرنے لگے۔

حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا اور حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے فوراً بچوں کے ہاتھوں سے وہ چیزیں لے کر زمین پر ڈال دیں تاکہ کوئی بچہ صدقہ نہ کھا لے۔ پھر حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا نے رقت آمیز آواز میں فرمایا: "اے اہلِ کوفہ! کیا تم نہیں جانتے کہ صدقہ ہم اہلِ بیتؑ پر حرام ہے؟"

یہ جملہ سنتے ہی بہت سے لوگوں پر حقیقت آشکار ہوئی۔ وہ بے اختیار رونے لگے اور اپنے کئے پر ندامت کا اظہار کرنے لگے۔

حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا نے مزید فرمایا: "تمہارے مردوں نے ہمارے عزیزوں کو قتل کیا ہے، اور آج تمہاری عورتیں ہم پر گریہ کر رہی ہیں!"

یہ الفاظ اہلِ کوفہ کے دلوں پر بجلی بن کر گرے۔ بہت سے لوگ سسکیاں بھرنے لگے اور ہر طرف گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام شدید بخار میں مبتلا تھے۔ آپؑ کے ہاتھوں اور گردن میں زنجیریں تھیں، مگر اس جسمانی کمزوری کے باوجود آپؑ کی روحانی عظمت اور وقار میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔

جب آپؑ نے لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا تو نہایت درد بھرے لہجے میں فرمایا: "اگر تم ہمارے حال پر رو رہے ہو، تو پھر ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟"

یہ مختصر مگر نہایت گہرا سوال اہلِ کوفہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی تھا۔ بہت سے لوگوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ وہ شرمندگی سے سر جھکائے کھڑے رہے۔

اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ کربلا سے واپس آنے والے مسلح سپاہی بھی چل رہے تھے تاکہ لوگوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ انہوں نے ایک بڑی فتح حاصل کی ہے۔ درحقیقت اس تمام انتظام کا مقصد اہلِ کوفہ کو خوف زدہ رکھنا اور کسی بھی ممکنہ احتجاج کو دبانا تھا۔

اگرچہ یہ بعید معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ کے تمام باشندے واقعۂ کربلا سے بے خبر ہوں، کیونکہ کوفہ اور کربلا کے درمیان مسلسل آمدورفت رہتی تھی اور خبریں بہت جلد پورے شہر میں پھیل جاتی تھیں، تاہم شہر میں بیرونی علاقوں سے آنے والے ایسے افراد بھی موجود تھے جو اس سانحہ سے ناواقف تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ قیدی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے اہلِ بیت ہیں تو ان پر رقت طاری ہو گئی اور وہ بے اختیار اشک بہانے لگے۔

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا تاریخی خطبہ

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا خطبہ تاریخِ اسلام کے عظیم ترین خطبات میں شمار ہوتا ہے۔ آپؑ نے یہ خطبہ ایسے نازک اور کٹھن حالات میں ارشاد فرمایا جب ہر طرف دشمن کی تلواریں تھیں اور اہلِ بیت علیہم السلام چاروں جانب سے مسلح فوجیوں کے گھیرے میں تھے۔

اس خطبہ کے وقت واقعۂ کربلا کو صرف دو دن گزرے تھے اور آپؑ ابھی اپنے بھائی، بھتیجوں، بیٹوں اور عزیزوں کے غم سے نڈھال تھیں، شہدائے کربلا علیہم السلام کے مقدس سر نیزوں پر بلند تھے اور آپؑ کی نگاہوں کے سامنے تھے، ہزاروں سپاہی ہر طرف پہرہ دے رہے تھے، ابنِ زیاد ملعون کا دربار اسیروں کا منتظر تھا اور مستقبل بظاہر انتہائی پرخطر دکھائی دیتا تھا، شہر میں شور، ہجوم، گھوڑوں کی ٹاپوں اور سپاہیوں کی آوازوں کے باعث گفتگو کرنا بھی آسان نہ تھا۔

اس ہنگامہ خیز ماحول میں زینتِ خطیبِ منبرِ سلونی حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو خاموش ہونے کا حکم دیا۔ تاریخ بیان کرتی ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے شور تھم گیا اور ایک گہری خاموشی چھا گئی۔

بشیر بن خزیم اسدی کہتے ہیں: "خدا کی قسم! میں نے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا سے زیادہ باوقار، باحیا، فصیح اور بلیغ خاتون نہیں دیکھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام بول رہے ہوں۔"

حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کے بعد اہلِ کوفہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے اہلِ کوفہ! اے مکر و فریب اور عہد شکنی کرنے والو! کیا تم روتے ہو؟ خدا کرے تمہاری آنکھوں کے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمہاری آہیں کبھی ختم نہ ہوں۔"»

پھر فرمایا: "تمہاری مثال اس عورت کی سی ہے جس نے بڑی محنت سے سوت کاتا، مضبوطی سے اسے بُنا، پھر خود ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ تم نے بھی اپنے عہد و پیمان کو دھوکے اور فریب کا ذریعہ بنا لیا۔"

اس کے بعد آپؑ نے اہلِ کوفہ کی اخلاقی پستی اور بے وفائی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: "تمہارے اندر بے حیائی، عہد شکنی، چاپلوسی، منافقت اور ذلت کے سوا کون سی خوبی باقی رہ گئی ہے؟ تم اس سبزے کی مانند ہو جو گندگی پر اگتا ہے، یا اس قبر کی مانند جسے اوپر سے آراستہ کر دیا جائے مگر اس کے اندر سڑتی ہوئی لاش ہو۔"

پھر نہایت دردناک انداز میں فرمایا: "تم نے اپنے لئے بہت برا ذخیرہ تیار کیا ہے۔ تم نے اللہ کے غضب کو خرید لیا ہے اور ہمیشہ کی ذلت اپنے نام کر لی ہے۔"

اس کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی آواز مزید بلند ہوئی اور آپؑ نے فرمایا: "خوب روؤ، کیونکہ تم اسی کے مستحق ہو۔ زیادہ روؤ اور کم ہنسو، اس لئے کہ تم نے ایسی ننگ و عار اپنے دامن پر لے لی ہے جو کبھی دھل نہیں سکتی۔"

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبہ کو جاری رکھتے ہوئے اہلِ کوفہ کو ان کے عظیم جرم کی سنگینی کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا: "تم نے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے، جنت کے جوانوں کے سردار، وحی و رسالت کے گھرانے کے چشم و چراغ اور امت کے چراغِ ہدایت کو شہید کر دیا۔ تم نے اس ہستی کا خون بہایا جو مصیبتوں میں تمہارا سہارا، مشکلات میں تمہاری پناہ اور ہدایت کا روشن مینار تھی۔"

پھر آپؑ نے نہایت جلال اور ہیبت کے ساتھ فرمایا: "تمہاری تمام کوششیں اکارت گئیں، تمہارا سودا خسارے میں رہا، تم اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے اور ذلت و رسوائی تمہارا مقدر بن گئی۔ تم نے ایسا ہولناک جرم کیا ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑے، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔"

اس کے بعد حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے نہایت درد بھرے لہجے میں فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ تم نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کس جگر گوشے کو شہید کیا ہے؟ کس حرمت کو پامال کیا ہے؟ اور کس پاکیزہ خون کو زمین پر بہایا ہے؟"

پھر اہلِ کوفہ کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: "اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے۔ اللہ مجرموں کو فوراً سزا نہیں دیتا، لیکن وہ مظلوم کے خون کا انتقام ضرور لیتا ہے۔ ہمارا پروردگار ہم پر بھی نگہبان ہے اور تم پر بھی۔"

یہ تاریخی خطبہ ختم ہوا تو پورا مجمع آبدیدہ ہو گیا۔ ہر طرف گریہ و زاری کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ عورتیں بین کرنے لگیں، اپنے سر اور چہرے پیٹنے لگیں، جبکہ مرد ایک دوسرے کو ملامت کرتے اور اپنے کئے پر افسوس کا اظہار کرتے تھے۔

چند لمحے پہلے تک جو لوگ اس قافلے کو ایک شکست خوردہ گروہ سمجھ رہے تھے، اب ان کی نگاہیں بدل چکی تھیں۔ اہلِ کوفہ کے دلوں میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی محبت اور احترام پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہو گیا، جبکہ عبیداللہ بن زیاد ملعون نفرت اور ملامت کی علامت بنتا جا رہا تھا۔

بشیر بن خزیم بیان کرتے ہیں: "جب حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنا خطبہ ختم کیا تو بوڑھے، جوان، مرد اور عورتیں سب زار و قطار رونے لگے۔ میں نے اپنے قریب ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جس کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہو چکی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر عرض کیا: "میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ کے بزرگ بہترین بزرگ، آپ کے جوان بہترین جوان اور آپ کی نسل سب سے پاکیزہ نسل ہے۔ آپ کا خاندان شرف، کرامت اور فضیلت میں تمام خاندانوں سے افضل ہے۔"

تاریخی روایات میں یہ بات صراحت سے مذکور نہیں کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے خود خطبہ ختم فرمایا یا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے مناسب وقت دیکھ کر آپؑ سے خطبہ اختتام پذیر کرنے کی درخواست کی۔ البتہ بعض روایات کے مطابق اسی موقع پر حضرت امام سجاد علیہ السلام نے اپنی پھوپھی جان سے فرمایا: "الحمد للہ! آپ ایسی عالمہ ہیں جنہیں کسی نے تعلیم نہیں دی اور ایسی دانا و فہیمہ ہیں جنہوں نے کسی استاد سے کسبِ فیض نہیں کیا۔"»

یہ درحقیقت حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے علمِ لدنیٰ، فصاحت، بلاغت اور غیرمعمولی بصیرت کا اعتراف تھا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا دردناک مرثیہ

روایت ہے کہ اس کے بعد حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنی سواری پر تشریف فرما ہوئیں اور نہایت دردناک اشعار پڑھے: "اے اہلِ کوفہ! جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے پوچھیں گے کہ میری امت ہونے کے باوجود تم نے میرے اہلِ بیتؑ، میری اولاد اور میرے عزیزوں کے ساتھ کیا سلوک کیا، تو تم کیا جواب دو گے؟ تم نے بعض کو قید کر دیا اور بعض کو بے دردی سے شہید کر ڈالا۔ کیا میری وصیت اور سفارش کا یہی صلہ تھا؟ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں تم پر بھی اللہ کا عذاب نازل نہ ہو۔"

حضرت فاطمہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا، حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہااور امام سجاد علیہ السلام کے خطبات

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے تاریخی خطبہ کے بعد قافلہ ابھی چند ہی قدم آگے بڑھا تھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی صاحبزادی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اہلِ کوفہ کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت پُرجوش اور مؤثر خطبہ ارشاد فرمایا۔

یہ خطبہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبہ سے زیادہ مفصل تھا، لیکن اس کا اسلوب، انداز اور پیغام وہی تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت فاطمہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے پیغام کو مزید وضاحت اور قوت کے ساتھ لوگوں تک پہنچایا۔

اس کے بعد حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا نے بھی اہلِ کوفہ کے سامنے نہایت بلیغ اور مؤثر خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں انہوں نے اہلِ بیت علیہم السلام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بیان کرتے ہوئے اہلِ کوفہ کو ان کی بے وفائی یاد دلائی۔

پھر حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنا تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں آپؑ نے اپنا اور اپنے خاندان کا تعارف کرایا، اہلِ بیت علیہم السلام کے مقام و منزلت کو واضح کیا اور لوگوں کو ان کی سنگین غلطی کا احساس دلایا۔

یہ تمام خطبات فصاحت، بلاغت، جرأت، حکمت اور حق گوئی کا بے مثال نمونہ تھے۔ انہی خطبات نے اہلِ کوفہ کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کیا اور حکومتِ وقت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔

ان خطبات کے بعد اسیرانِ کربلا کو شہر کی مختلف گلیوں اور بازاروں سے گزارا گیا۔ شہدائے کربلا کے مقدس سر نیزوں پر بلند تھے اور لوگ انہیں حسرت، حیرت اور غم کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔

بعض روایات میں مذکور ہے کہ اسی دوران بعض افراد نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے سرِ اقدس سے سورۂ کہف کی یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنی: "أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا" (کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ اصحابِ کہف اور رقیم ہماری نشانیوں میں سب سے زیادہ عجیب تھے؟"

اس کے بعد اسیرانِ کربلا کو عبیداللہ بن زیاد ملعون کے محل، دارالامارہ، میں لے جایا گیا، جہاں حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ابنِ زیاد کے سامنے نہایت جرأت، عزتِ نفس اور استقامت کے ساتھ کلمہ حق بلند کیا۔ وہ تاریخی مجلس تاریخ اسلام میں ظلم کے مقابل حق کی عظیم ترین مثالوں میں شمار ہوتی ہے۔

شہدائے کربلا علیہم السلام کی تدفین

سرزمینِ کربلا تین دن تک تاریخ کے بے گور و کفن مقدس ترین جنازوں کی امین بنی رہی۔ یہ وہ پاکیزہ جسم تھے جن کے سروں کو بے دردی سے تن سے جدا کر دیا گیا تھا، جنہیں گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا اور پھر تپتی ہوئی ریت پر بے گوروکفن چھوڑ دیا گیا۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں قیام سے قبل اس زمین کو قبیلۂ بنی اسد سے خرید لیا تھا تاکہ آپؑ غصب شدہ زمین میں نہ شہید ہوں اور نہ ہی مدفون ہوں۔ یہی سرزمین بعد میں تاریخِ اسلام کی مقدس ترین زیارت گاہوں میں شمار ہوئی۔

غاضریہ میں آباد قبیلۂ بنی اسد کے افراد، جو میدانِ کربلا کے قریب رہتے تھے، جان چکے تھے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور لشکرِ عمر بن سعد وہاں سے روانہ ہو گیا ہے۔

تدفین کے وقت کے بارے میں تاریخی اقوال

تدفین کے وقت کے بارے میں تاریخی روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے، لہٰذا مختلف اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔

بعض مؤرخین کے مطابق تدفین گیارہ محرم کو عمل میں آئی، بعض کے نزدیک عمر بن سعد کے کربلا سے روانہ ہونے کے بعد، جبکہ بعض روایات میں بارہ محرم کی شام یعنی شب تیرہ محرم کا ذکر ملتا ہے۔

اکثر شیعہ تاریخی مصادر اور مقتل نگاروں کے نزدیک یہی آخری قول زیادہ مشہور اور قابلِ اعتماد قرار دیا گیا ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد تدفین کا عمل مکمل ہوا۔

بنی اسد کی خواتین کی روایت

بعض تاریخی روایات کے مطابق سب سے پہلے قبیلۂ بنی اسد کی چند خواتین دریائے فرات سے پانی لینے کے لئے نکلیں۔ جب وہ میدانِ کربلا کے قریب پہنچیں تو ان کی نظر شہداء کے بے گوروکفن جنازوں پر پڑی۔

یہ دل خراش منظر دیکھ کر وہ شدتِ غم سے رونے لگیں اور جلدی سے اپنے قبیلے میں واپس جا کر مردوں سے کہنے لگیں: "تم اپنے گھروں میں بیٹھے ہو، جبکہ فرزندِ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے جانثار ساتھیوں کے پاکیزہ جسم میدان میں بے گوروکفن پڑے ہیں۔ اگر تم نے ان کی تدفین نہ کی تو ہم عورتیں خود یہ فریضہ انجام دیں گی۔"

قبیلے کے بعض افراد نے جواب دیا: "ہمیں ابنِ زیاد اور اس کے سپاہیوں کا خوف ہے۔ اگر انہوں نے ہمیں شہداء کی تدفین کرتے دیکھ لیا تو ممکن ہے ہمیں قتل کر دیں یا سخت سزا دیں۔"

اس پر قبیلے کے بزرگ نے کہا: "ہم نگہبانی کا انتظام کرتے ہیں، پھر اللہ کے بھروسے یہ عظیم دینی فریضہ انجام دیں گے۔"

چنانچہ بنی اسد کے افراد میدانِ کربلا کی طرف روانہ ہوئے۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام کی آمد

روایت میں ہے کہ بنی اسد کے لوگ سب سے پہلے حضرت امام حسین علیہ السلام کے مقدس جنازہ کے قریب پہنچے۔ اگرچہ انہوں نے نورِ امامت کی برکت سے آپؑ کو پہچان لیا، لیکن جسمِ مبارک پر زخموں کی کثرت اور اعضا کے پامال ہونے کی وجہ سے وہ تدفین کے بارے میں تذبذب کا شکار ہو گئے۔

اسی دوران انہوں نے دیکھا کہ ایک باوقار سوار تیزی سے میدان کی طرف آ رہا ہے۔ وہ گھوڑے سے اترا، حضرت امام حسین علیہ السلام کے مقدس جنازہ سے لپٹ گیا، اسے بوسہ دیا، دیر تک گریہ کرتا رہا اور نہایت درد بھرے لہجے میں اپنے والدِ گرامی سے مناجات کرنے لگا۔

بنی اسد کے لوگ ادب سے ان کے قریب آئے اور عرض کیا: "ہم شہدائے کربلا کی تدفین کے لئے حاضر ہوئے ہیں، لیکن ان بے سر جنازوں کو پہچان نہیں پا رہے۔"

امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: "میں تمہاری رہنمائی کرتا ہوں۔"

پھر آپؑ نے مختلف شہداء کی نشاندہی فرمائی اور بنی اسد کے افراد نے آپؑ کی رہنمائی میں ان کے مقدس جنازوں کو سپردِ خاک کیا۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کی تدفین

جب بنی اسد کے افراد نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے جسم اطہر کو اٹھانے میں مدد کرنا چاہی تو امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: "میرے والدِ گرامی کی تدفین میں میری مدد کی ضرورت نہیں، میں خود انہیں سپردِ خاک کروں گا۔"

روایات کے مطابق آپؑ نے تنہا اپنے والدِ گرامی کی تدفین فرمائی اور اس عظیم فریضہ کو اپنے دستِ مبارک سے انجام دیا۔

تمام شہداء کی تدفین مکمل ہونے کے بعد بنی اسد کے لوگوں نے عرض کیا: "ہمیں ان قبور کی نشاندہی بھی فرما دیجیے تاکہ آئندہ آنے والوں کو صحیح معلومات دے سکیں۔"

آپؑ نے فرمایا: "یہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی قبر ہے۔ اس کے قریب بنی ہاشم کے جوان مدفون ہیں، جن میں حضرت علی اکبر علیہ السلام نمایاں ہیں۔ دوسری اجتماعی قبر میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے اصحاب آرام فرما ہیں، جبکہ حضرت عباس علیہ السلام دریائے علقمہ کے کنارے مدفون ہیں۔"

امام سجاد علیہ السلام کا تعارف

بنی اسد کے افراد نے نہایت ادب سے عرض کیا: "آپ کو اس مقدس جسد کا واسطہ، جسے آپ نے اپنے ہاتھوں سے دفن کیا، اپنا تعارف بھی فرما دیجیے۔"

تب آپ نے فرمایا: "میں علی بن الحسین، زین العابدین ہوں۔"

یہ سن کر بنی اسد کے لوگ اشک بار ہو گئے۔ روایت کے مطابق حضرت امام سجاد علیہ السلام اس کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔

تدفینِ شہدائے کربلا کے بارے میں منقول بعض روایات کی جزئیات کے متعلق مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، اور بعض تفصیلات کے بارے میں تحقیق کی گنجائش بھی موجود ہے۔ تاہم اس امر پر شیعہ تاریخی روایت کا تقریباً اتفاق ہے کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے خصوصی اذن سے کربلا پہنچ کر اپنے والد حضرت امام حسین علیہ السلام اور دیگر شہداء کی تدفین کا فریضہ انجام دیا۔

یہ بھی مسلم حقیقت ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کی قبر دریائے علقمہ کے کنارے، جبکہ حضرت امام حسین علیہ السلام، بنی ہاشم اور اصحابِ باوفا کی قبور موجودہ روضۂ اقدس کے احاطے میں واقع ہیں، جو صدیوں سے اہلِ ایمان کی عقیدت اور محبت کا مرکز ہیں۔

بارہ محرم اور اس کے بعد کے ایام تاریخِ اسلام کے نہایت دردناک، مگر ایمان افروز ابواب ہیں۔ ایک جانب اہلِ بیتِ رسولؐ کو اسیری کی حالت میں کوفہ اور شام کے بازاروں سے گزارا گیا، اور دوسری جانب کربلا کی مقدس سرزمین نے اپنے بے گور و کفن شہداء کو اپنے دامن میں سمیٹا۔ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا، حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا، حضرت فاطمہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے خطبات نے باطل کے تمام دعووں کو خاک میں ملا دیا اور یہ حقیقت ہمیشہ کے لئے آشکار کر دی کہ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں، مگر حق کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کر سکتیں۔ اسی طرح حضرت امام سجاد علیہ السلام کے دستِ مبارک سے شہدائے کربلا کی تدفین نے اس عظیم قربانی کو تاریخِ انسانیت میں ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔ آج بھی کربلا کی مقدس سرزمین انسانیت کو یہی پیغام دیتی ہے کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، مگر حق، صبر، استقامت اور قربانی کی روشنی کبھی بجھ نہیں سکتی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha