جمعرات 25 جون 2026 - 12:03
یوم عاشور؛ امام حسین (ع) اور ان کے اہل بیت و انصار پر مظالم کی قیامت ڈھائی گئی

حوزہ / علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ نواسۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام نے انکارِ بیعت کے بعد مدینہ سے مکہ اور مکہ سے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرکے عراق کا سفر اختیار کیا۔ اس دوران آپ نے اپنے قیام کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کسی ذاتی اقتدار، جاہ و حشمت یا شخصی مفاد کے حصول کے لیے نہیں بلکہ امت کی اصلاح اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے نکلے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے یوم عاشور کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امام حسین علیہ السلام موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوئے اور صرف قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ محسنِ انسانیت نے بزور مسلط کی جانے والی حکمرانی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اسلامی اصولوں، بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی نفی پر مبنی جابرانہ نظام کو قبول نہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا: امام حسین علیہ السلام نے غیر اسلامی تہذیب و ثقافت کو مسترد کرتے ہوئے اصلاحِ امت، نیکی کے فروغ اور برائی کے خاتمے کے لیے مدینہ سے ہجرت اختیار کی۔ آپ مکہ سے روانہ ہو کر دو محرم کو کربلا پہنچے اور شب عاشور تک آپ کی تعلیمات، خطبات اور نصیحتوں کا محور حق کی سربلندی، صبر اور رضائے الٰہی رہا۔ امام علیہ السلام نے ہر مرحلے پر ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور اپنے اصحاب و انصار کو دینِ اسلام کی خاطر قربانی کے لیے آمادہ کیا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد سے یہ درس ملتا ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو مؤثر انداز میں انجام دیا جائے، نیکیوں کو فروغ دیا جائے اور برائیوں کے خاتمے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے۔

انہوں نے کہا: شب عاشور بھی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے، جب امام عالی مقام علیہ السلام نے اپنے اصحاب، جانثاروں اور بنی ہاشم کو آنے والے واقعات سے آگاہ کیا اور واضح کیا کہ عاشور کے دن کس نوعیت کی قربانیاں پیش کرنا ہوں گی۔ امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو حقیقتِ عاشور اور شہادت سے آگاہ کرنے کے ساتھ انہیں مکمل آزادی دی کہ وہ چاہیں تو اس راستے کا انتخاب کریں یا کربلا چھوڑ کر چلے جائیں، لیکن کسی پر جبر نہیں کیا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا: شب عاشور چراغ گل ہونے کے بعد انسانوں کی نہیں بلکہ ضمیروں کی شناخت ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے عمر سعد کے ساتھ ملاقات میں جنگ سے بچنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں، جن میں مدینہ واپسی یا کسی سرحدی علاقے میں جانے کی اجازت شامل تھی، تاہم ان تجاویز کو قبول نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا: روز عاشور امام حسین علیہ السلام کے اہل بیت اور وفادار اصحاب و انصار پر مظالم کی انتہا کر دی گئی اور ظلم و جبر کی ایسی مثال قائم کی گئی جس کی نظیر تاریخ میں کم ملتی ہے۔ اس عظیم واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب حق و باطل کا معرکہ درپیش ہو تو انسان کو اپنے نظریے، اصول اور موقف کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha