تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی | چہلمِ سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ الصلوٰۃ والسلام اختتام پذیر ہوا۔ کروڑوں زائرین، زیارت کی سعادت حاصل کرنے کے بعد، اشک بار آنکھوں، بوجھل دلوں اور حسرت سے لبریز نگاہوں کے ساتھ کربلا سے رخصت ہو رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا زائر ہو جس کی آنکھ نم نہ ہو اور جس کے لبوں پر یہ دعا جاری نہ ہو: "اے میرے مولا! یہ میری آخری زیارت نہ ہو۔ ایک بار پھر اپنے در پر حاضری نصیب فرمائیے۔"
کوئی ضریحِ اقدس سے لپٹ کر زار و قطار رو رہا ہے، کوئی بابِ قبلہ سے نکلتے ہوئے بار بار پلٹ کر گنبدِ حسینی کی طرف حسرت بھری نگاہ ڈال رہا ہے، تو کوئی آسمان کی جانب ہاتھ اٹھا کر التجا کر رہا ہے: "پروردگار! دوبارہ اس روضۂ مقدس کی زیارت نصیب فرما۔"
اگر ایک عام زائر کے لئے کربلا سے رخصت ہونا اس قدر دشوار ہے تو ذرا تصور کیجیے کہ جب قافلۂ اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام اس مقدس سرزمین سے روانہ ہوا ہوگا، تو ان کے دلوں پر کیا بیتی ہوگی؟
یہ وہ سرزمین تھی جہاں بھائی، بیٹے، بھتیجے، بھانجے، عزیز اور وفادار اصحاب اپنے خون سے تاریخِ وفا رقم کر چکے تھے۔ یہی وہ خاک تھی جس نے آلِ محمد علیہم السلام کی عظیم ترین قربانیوں کو اپنے دامن میں سمو لیا تھا۔
تصور کیجیے، حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا اپنے بھائی حضرت امام حسین علیہ السلام کے مزارِ اقدس کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی ہوں گی۔ دل میں کیسا طوفان برپا ہوگا! زبانِ حال شاید یوں گویا ہو: "بھیا! آپ کی زینب رخصت ہو رہی ہے۔ آپ نے مجھے صبر کا درس دیا تھا، میں نے صبر کیا، مگر آپ سے جدائی کا یہ لمحہ میری طاقت سے باہر ہے۔"
پھر نگاہ حضرت علی اکبر علیہ السلام کے مزارِ اقدس کی طرف اٹھی ہوگی۔ وہ جوان، جن کی صورت میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ دل نے پکارا ہوگا: "اے اکبر! تمہاری پھوپھی رخصت ہو رہی ہے، مگر تمہاری یاد ہمیشہ اس کے دل میں زندہ رہے گی۔"
پھر حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی قبرِ مبارک کی طرف قدم بڑھے ہوں گے۔ وہ علمدار، جس نے آخری سانس تک بہن کے پردے کی حفاظت کی۔ دل بے اختیار کہہ اٹھا ہوگا: "اے عباس! اے میرے علمدار! اے میرے پردے کے محافظ! تمہارے بعد یہ سفر کتنا دشوار ہے۔"
پھر عون و محمد کی یاد نے دل کو بے قرار کر دیا ہوگا۔ ایک ماں نے اپنے دونوں بیٹوں کو راہِ خدا میں قربان کر دیا، مگر جدائی کا درد تو بہرحال ماں ہی محسوس کرتی ہے۔
ادھر امام زین العابدین علیہ السلام کی نگاہیں کبھی اپنے بابا حضرت امام حسین علیہ السلام کے مزار پر ٹھہرتی ہوں گی، کبھی حضرت عباس علیہ السلام کی قبرِ مبارک پر، کبھی حضرت علی اکبر علیہ السلام کے مزار پر، اور کبھی دیگر شہدائے کربلا کی قبورِ مطہرہ پر۔
فرات کی لہروں کو دیکھتے ہوں گے تو حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کی پیاس یاد آتی ہوگی، اور کربلا کی تپتی ریت پر نظر پڑتی ہوگی تو حضرت علی اصغر علیہ السلام کے خشک لب آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہوں گے۔ جلے ہوئے خیموں کی یاد دل کے زخموں کو پھر سے تازہ کر دیتی ہوگی۔
حضرت ام کلثوم سلام اللہ علیہا نے بھی نہ جانے کس دل کے ساتھ اپنے بھائیوں اور عزیزوں کی یادگاروں کو الوداع کہا ہوگا۔ ہر قدم پر ایک یاد، ہر لمحے ایک آہ، اور ہر نگاہ میں ایک قیامت برپا ہوگی۔
اور پھر حضرت رباب سلام اللہ علیہا…
وہ رباب، جن کا سہاگ اسی سرزمین پر اجڑ گیا، جن کا شیر خوار حضرت علی اصغر علیہ السلام اسی خاک میں آسودۂ خواب تھا، اور جن کی ننھی سکینہ سلام اللہ علیہا نے قید و اسیری کے بے مثال مصائب برداشت کئے۔
عجب نہیں کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا ہو: "بی بی! قافلہ روانگی کے لئے تیار ہے۔"
اور حضرت رباب سلام اللہ علیہا کے دل کی صدا کچھ یوں رہی ہو: "اے بی بی زینب! تم مدینہ جاؤ گی تو تمہارا گھر تمہارا منتظر ہوگا، مگر رباب مدینہ جا کر کیا کرے؟ میرا حسین اسی کربلا میں آرام فرما رہا ہے، میرا علی اصغر اسی خاک میں سو رہا ہے۔ میرا دل تو یہیں رہ گیا ہے۔"
آخرکار حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے حکمِ امامت سے قافلہ روانہ ہوا، مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب کے دل کربلا ہی میں رہ گئے۔
کون جانتا ہے کہ اس وقت اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے کس کیفیت کے ساتھ کربلا کو الوداع کہا ہوگا؟ اس منظر کا حقیقی درد نہ قلم بیان کر سکتا ہے، نہ زبان ادا کر سکتی ہے۔ اسے صرف وہی دل محسوس کر سکتا ہے جس میں محبتِ حسین علیہ السلام کی شمع روشن ہو۔
آج بھی جب کوئی زائر کربلا سے واپس لوٹتا ہے تو اس کی زبان پر یہی دعا ہوتی ہے:
"السلام علیک یا اباعبداللہ! مولا، یہ آخری حاضری نہ ہو۔ پھر بلا لیجیے گا، پھر اپنے درِ کرم پر حاضری نصیب فرمائیے گا۔"
بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ وہ تمام محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو بار بار زیارتِ حضرت امام حسین علیہ السلام کی سعادت عطا فرمائے اور ان کے پیغامِ حق، صبر، وفا، ایثار اور قربانی پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
السلام علی الحسین، وعلی علی بن الحسین، وعلی اولاد الحسین، وعلی اصحاب الحسین۔
اللّٰهم ارزقني زيارة الحسين عليه السلام في الدنيا، وشفاعته في الآخرة.









آپ کا تبصرہ