جمعہ 14 اگست 2026 - 18:37
شب ہجرت؛ وہ شبِ وفا جب علی نے رسول کی خاطر اپنی جان پیش کردی! قریش کی خونی سازش، ہجرتِ رسول اور علی کا بے مثال ایثار

حوزہ/قریش اپنے منصوبے کی کامیابی کے زعم میں تھے، مگر انہیں کیا معلوم کہ ان کی ہر چال سے پہلے ربِّ کائنات کی تدبیر کارفرما ہے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دشمن کی سازش سے آگاہ کیا گیا اور ہجرت کا حکم ملا۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| مکہ کی تپتی ہوئی وادی میں جب رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید کا پرچم بلند کیا، عدل و کرامتِ انسانی کی صدا بلند کی اور انسان کو بندگیِ غیر سے نکال کر بندگیِ خدا کی طرف بلایا، تو قریش کے سرداروں کے اقتدار کے ایوانوں میں تشویش کی لہریں دوڑ گئیں۔ انہیں صرف ایک نئے دینی پیغام کا خوف نہ تھا؛ انہیں اندیشہ تھا کہ محمدؐ کی دعوتِ توحید ان کے بت پرستانہ نظام، طبقاتی برتری، سیاسی غلبے اور ان مفادات کی بنیادوں کو ہلا دے گی جن پر ان کی سرداری قائم تھی۔

چنانچہ مخالفت نے پہلے تمسخر کا جامہ پہنا، پھر اذیت و آزار کا، پھر ظلم و ستم کا؛ یہاں تک کہ آخرکار یہی دشمنی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کی ایک منظم اور خونی سازش میں تبدیل ہوگئی۔

مگر انہیں کیا خبر تھی کہ جس چراغ کو وہ اپنی تلواروں سے بجھانے نکلے ہیں، وہ چراغ انسانی تدبیروں سے نہیں بلکہ تائیدِ الٰہی سے روشن ہے۔

اور اسی سازش کے بطن سے تاریخِ اسلام کی ایک ایسی عظیم رات طلوع ہوئی جسے لیلۃُ المبیت کہا جاتا ہے؛ وہ رات جب امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لئے اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیا اور ایثار و وفا کی ایسی لازوال مثال قائم کی جس کے سامنے شجاعت کے بڑے بڑے قصے بھی ماند پڑ جاتے ہیں۔

قریش کی خونی سازش؛ جب حق کی آواز کو خاموش کرنے کا فیصلہ ہوا

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوتِ توحید مکہ کے دلوں میں اترتی جارہی تھی۔ بتوں کے سائے میں پروان چڑھنے والا معاشرہ ایک ایسے پیغام سے دوچار تھا جو اعلان کرتا تھا کہ اقتدار کا حقیقی مالک اللہ ہے، انسان کسی انسان کا غلام نہیں، اور عزت کا معیار نسب و دولت نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔

یہ پیغام قریش کے لئے محض ایک مذہبی اختلاف نہ تھا؛ یہ ان کے پورے نظامِ اقتدار کے لئے ایک چیلنج تھا۔

انہوں نے کبھی آپؐ کو ساحر کہا، کبھی شاعر، کبھی مجنون قرار دینے کی کوشش کی؛ کبھی آپؐ کے پیروکاروں کو اذیت دی اور کبھی معاشرتی مقاطعہ کیا۔ مگر جب یہ تمام حربے ناکام ہوگئے تو آخرکار ان کے دلوں میں ایک نہایت سنگین فیصلہ پختہ ہوگیا: محمدؐ کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔

قرآن کریم اس سازش کی طرف یوں اشارہ کرتا ہے: "وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ ۚ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ"

اور جب کافروں نے آپ کے خلاف سازش کی کہ آپ کو قید کردیں، یا قتل کردیں، یا جلاوطن کردیں؛ وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر فرما رہا تھا، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ (سورۂ انفال، آیت 30)

قریش نے ایسا منصوبہ بنایا کہ مختلف قبائل کے منتخب نوجوان بیک وقت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کریں، تاکہ آپؐ کا خون کسی ایک قبیلے کے ذمے نہ آئے اور بنی ہاشم کسی ایک خاندان سے قصاص کا مطالبہ نہ کرسکیں۔

ظاہر میں سازش مضبوط تھی، راستے بند تھے اور تلواریں نیام سے نکلنے کو بے تاب تھیں۔ مگر انسان کی تدبیر آخر کہاں تک پہنچ سکتی ہے؟ وہیں تک، جہاں سے تقدیرِ الٰہی کا آغاز ہوتا ہے۔

جب آسمانی تدبیر نے زمینی سازش کو مات دے دی

قریش اپنے منصوبے کی کامیابی کے زعم میں تھے، مگر انہیں کیا معلوم کہ ان کی ہر چال سے پہلے ربِّ کائنات کی تدبیر کارفرما ہے۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دشمن کی سازش سے آگاہ کیا گیا اور ہجرت کا حکم ملا۔

اب مکہ کی وہ رات اپنے دامن میں ایک ایسا راز چھپائے ہوئے تھی جس سے تاریخ کا رخ بدلنے والا تھا۔

ایک طرف قریش کے مسلح جوان رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے؛ دوسری طرف اللہ کا رسولؐ الٰہی حکم کے مطابق مکہ سے نکلنے کی تیاری کر رہا تھا۔

مگر سوال یہ تھا کہ وہ کون ہوگا جو رسولؐ کے بستر پر سوئے گا؟

وہ کون ہوگا جو دشمن کی تلواروں کے سائے میں بے خوف لیٹ جائے گا؟

وہ کون ہوگا جو اپنی جان کو رسالت کے راستے میں پیش کردے گا؟

جواب ایک ہی تھا: علی بن ابی طالب علیہ السلام۔

علیؑ؛ جب عشقِ رسولؐ نے موت کے خوف کو شکست دے دی

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کو اپنی ہجرت کے منصوبے سے آگاہ کیا اور انہیں اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا۔

یہ بستر آرام و آسائش کا بستر نہ تھا۔

یہ درحقیقت موت کے سائے میں بچھا ہوا بستر تھا۔

باہر قریش کے جوان تلواریں لئے کھڑے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ چند ہی لمحوں بعد محمدؐ اسی بستر پر ہوں گے اور ان کی تلواریں اپنا کام کرجائیں گی۔

علیؑ یہ سب جانتے تھے۔ انہیں دشمن کے ارادے کا علم تھا۔ انہیں خطرے کا اندازہ تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ کسی بھی لمحے تلواریں اس بستر تک پہنچ سکتی ہیں۔

مگر علیؑ کے لئے اپنی جان سے زیادہ قیمتی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت اور رضائے الٰہی تھی۔

انہوں نے خطرہ نہیں پوچھا، انہوں نے انجام نہیں پوچھا، انہوں نے یہ نہیں کہا کہ دشمن کتنے ہیں اور میں اکیلا ہوں۔

انہوں نے صرف یہ دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محفوظ رہیں۔

یہی علیؑ تھے؛ جن کے لئے محبت محض دعوائے زبان نہ تھی، بلکہ جان کا نذرانہ تھی۔

شبِ ہجرت؛ جب بسترِ علیؑ میدانِ ایثار بن گیا

وہ تاریخی رات آن پہنچی۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر سے نکلے اور ہجرت کے سفر پر روانہ ہوگئے، جبکہ علی علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر لیٹ گئے۔

باہر قریش کے مسلح جوان اپنے شکار کے منتظر تھے۔ ان کی نگاہوں میں قتل کا ارادہ تھا۔ ان کے ہاتھوں میں تلواریں تھیں۔ ان کے دلوں میں انتقام تھا اور گھر کے اندر ایک ایسا جوان آرام فرما رہا تھا جسے معلوم تھا کہ تلواروں کا رخ کسی بھی لمحے اس کی طرف ہوسکتا ہے۔

مگر اس کے دل میں خوف نہ تھا۔ وہ کل ایمان تھا۔ اس کے سینے میں یقین تھا۔ اس کے وجود میں وفا تھی اور اس کی نگاہوں کے سامنے صرف رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت تھی۔

وہ رات گویا دو متضاد تصویروں کے درمیان کھڑی تھی: ایک طرف قتل کی سازش، دوسری طرف قربانی کا عزم، ایک طرف باطل کی تلواریں، دوسری طرف حق کا ایثار، ایک طرف قریش کی دشمنی، دوسری طرف علیؑ کی وفا۔

آیتِ ایثار؛ علیؑ کے ایثار کی قرآنی بازگشت

قرآن مجید فرماتا ہے: "وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ"

اور لوگوں میں وہ بھی ہے جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان فروخت کردیتا ہے، اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ (سورۂ بقرہ، آیت 207)

روایات و تفسیری مصادر میں اس آیت کو لیلۃُ المبیت میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے عظیم ایثار سے مربوط کیا گیا ہے۔

کیا منظر ہوگا!

ایک ایسا شخص جو جانتا ہے کہ موت اس کے دروازے پر کھڑی ہے، پھر بھی رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر اسی بستر پر لیٹ جاتا ہے۔

یہ صرف شجاعت نہیں، یہ صرف اطاعت نہیں، یہ صرف محبت نہیں، یہ ایثار، یقین، وفا، اطاعت اور عشقِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ حسین امتزاج ہے جس کی مثال تاریخ کے صفحات میں بہت کم ملتی ہے۔

جہاں انسان اپنی جان کی حفاظت کے لئے حصار بناتا ہے، وہاں علیؑ نے اپنی جان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حصار بنا دیا۔

جہاں انسان موت سے فرار کا راستہ تلاش کرتا ہے، وہاں علیؑ نے رضائے الٰہی کی خاطر موت کو اپنے قریب آنے دیا۔

یہی علیؑ کا ایثار تھا، یہی علیؑ کی وفا تھی، یہی علیؑ کی اطاعت تھی۔

قریش کی تلواریں اور اللہ کی تدبیر

قریش نے سمجھا تھا کہ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیر لیا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ اپنے ہی وہم کے حصار میں تھے۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے محاصرے سے نکل چکے تھے، جبکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر موجود تھے۔

یوں قریش کی سازش اپنے مقصد تک نہ پہنچ سکی۔

جس رات وہ رسالت کا چراغ بجھانے نکلے تھے، اسی رات اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے ذریعہ اسلام کے لئے ایک نئے دور کا دروازہ کھول دیا۔

مکہ کی گلیوں سے نکلنے والا یہ قافلہ مدینہ میں ایک امت کی بنیاد رکھنے والا تھا۔

قریش نے سمجھا تھا کہ محمدؐ کو مکہ سے نکال کر وہ اسلام کو ختم کردیں گے؛

مگر یہی ہجرت اسلام کی قوت، وسعت اور عالمگیر پیغام کے ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز بن گئی۔

اور اس تاریخی سفر کے آغاز پر امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا ایثار ایک روشن چراغ کی مانند جلوہ گر تھا۔

لیلۃُ المبیت؛ رسالت و ولایت کی روشن تصویر

لیلۃُ المبیت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں؛ یہ ایمان، اطاعت، شجاعت، وفا اور ایثار کی ایک مکمل تصویر ہے۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نازک ترین لمحے میں علی علیہ السلام پر اعتماد کیا۔

اور علیؑ نے اس اعتماد کا جواب اپنی جان پیش کرکے دیا۔

رسولؐ نے بستر پر سونے کا فرمایا؛ علیؑ سو گئے۔

رسولؐ کی حفاظت کی ذمہ داری آئی؛ علیؑ نے اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔

یہ اطاعت محض حکم کی پیروی نہ تھی؛ یہ محبت کی وہ منزل تھی جہاں محبوب کی حفاظت کے لئے اپنی زندگی بھی معمولی محسوس ہونے لگتی ہے۔

اسی لئے لیلۃُ المبیت حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت میں موجود اس عظیم روحانی بلندی کی ایک روشن جھلک ہے، جہاں انسان اپنی ذات، اپنی خواہش اور اپنے مفاد کو رضائے الٰہی اور محبتِ رسولؐ کے قدموں پر قربان کردیتا ہے۔

لیلۃُ المبیت کو صرف تاریخ کا ایک واقعہ سمجھ کر گزر جانا اس کے پیغام کو محدود کردینا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب حق، باطل کے مفادات کو چیلنج کرتا ہے تو باطل کبھی تمسخر کا سہارا لیتا ہے، کبھی ظلم کا، کبھی دھمکی کا اور کبھی سازش و تشدد کا۔

مگر حق کی بقا صرف نعروں سے نہیں ہوتی۔

حق کو ایمان والے دل، ثابت قدم قدم، قربانی دینے والے ہاتھ اور ایثار کرنے والے کردار درکار ہوتے ہیں۔

قریش کے پاس تعداد تھی، مگر حق نہ تھا، ان کے پاس تلواریں تھیں، مگر نصرتِ خدا نہ تھی، ان کے پاس سازش تھی، مگر تقدیرِ الٰہی ان کے خلاف تھی اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک علیؑ تھا؛ ایسا علیؑ جو اپنی جان کو بھی رسولؐ کی حفاظت کے مقابلے میں بے قیمت سمجھتا تھا۔

وہ شبِ وفا جو قیامت تک امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے ایثار کی گواہی دیتی رہے گی

لیلۃُ المبیت ہمیں علی علیہ السلام کی شجاعت کا وہ رخ دکھاتی ہے جس میں شجاعت صرف میدانِ جنگ میں دشمن کے مقابل کھڑے ہونے کا نام نہیں؛ بلکہ کبھی شجاعت یہ بھی ہوتی ہے کہ انسان موت کے سائے میں خاموشی سے لیٹ جائے، صرف اس لئے کہ محبوبِ خدا محفوظ رہیں۔

وہ رات گواہ ہے کہ علیؑ نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جگہ صرف بستر پر نہیں لی تھی؛ انہوں نے اپنی جان کو رسولؐ کی حفاظت کی نذر کردیا تھا۔

قریش نے سوچا تھا کہ آج محمدؐ کا چراغ بجھا دیں گے۔ مگر انہیں کیا خبر تھی کہ جس رات کو وہ قتل کی رات سمجھ کر آئے ہیں، وہی رات علیؑ کے ایثار و وفا کی ابدی رات بننے والی ہے۔

وہ تلواریں جو رسولؐ تک پہنچنے کے لئے اٹھائی گئی تھیں، اپنے مقصد میں ناکام رہیں؛ مگر علیؑ کا ایثار تاریخ کے دل پر ہمیشہ کے لئے نقش ہوگیا۔

مکہ سے رسولؐ ہجرت کرگئے، علیؑ اپنی جگہ ٹھہرے رہے، قریش کی سازش ناکام ہوئی اور اسلام کا سفر آگے بڑھتا گیا۔

سلام ہو نبی پر اور اس علیؑ پر، جس نے شبِ ہجرت اپنی جان کو رضائے الٰہی کے لئے پیش کردیا۔

سلام ہو اس ایثار پر، جس نے محبت کو عمل، وفا کو قربانی اور اطاعت کو جان نثاری بنا دیا۔

اور سلام ہو محمد و آلِ محمد علیہم السلام پر، جن کی استقامت، قربانی اور ایثار سے دینِ خدا کا پرچم بلند ہوا اور آج تک لہرا رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha