ترجمہ و ترتیب: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ 13 شوال 911ھ کو پیدا ہوئے اور 5 ربیع الاول 966ھ کو شہادت سے سرفراز ہوئے۔ علمی تشنگی کی سیرابی اور علوم کے مختلف سرچشموں سے فیض حاصل کرنے کے لئے آپ نے عالمِ اسلام کے متعدد علاقوں کے سفر کئے اور مختلف نامور اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔ آپ نے مصر، دمشق، حجاز، بیت المقدس، عراق اور قسطنطنیہ کا سفر کیا اور ہر مقام سے علمی فیض حاصل کیا۔ متعدد مآخذ میں آپ کے اہلِ سنت اساتذہ کی تعداد اور نام بھی بیان ہوئے ہیں۔ یہی وسیع علمی اسفار اور مختلف مکاتبِ فکر کے علماء سے استفادہ آپ کی جامع علمی شخصیت کی تشکیل میں اہم سبب بنا۔
فقہ و اصول کے علاوہ آپ فلسفہ، حکمت، عرفان، طب، علمِ ہیئت اور دیگر علوم سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ انتہائی زاہد، متقی، محنتی اور خوددار عالم تھے۔ آپ کے حالاتِ زندگی میں بیان ہوا ہے کہ دورانِ تدریس بعض راتوں میں اپنے اہل و عیال کی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لئے خود لکڑیاں جمع کرنے جایا کرتے تھے اور صبح ہوتے ہی دوبارہ تدریس و تعلیم میں مصروف ہوجاتے تھے۔
ایک مدت تک آپ نے بعلبک میں پانچوں فقہی مذاہب، یعنی فقہِ جعفری، حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کے مطابق تدریس کی۔ یہ آپ کی وسعتِ نظر، فقہی بصیرت اور مختلف فقہی مکاتب سے گہری واقفیت کی نمایاں علامت ہے۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے متعدد علمی و فقہی کتابیں تصنیف فرمائیں۔ آپ کی مشہور ترین تصانیف میں "الروضة البهية في شرح اللمعة الدمشقية" سرفہرست ہے، جو شہیدِ اوّل رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی معروف فقہی کتاب "اللمعة الدمشقية" کی شرح ہے اور حوزہ ہائے علمیہ میں شرحِ لمعہ کے نام سے معروف ہے۔ آپ کی دوسری اہم تصنیف "مسالك الأفهام إلى تنقيح شرائع الإسلام" ہے، جو محقق حلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی معروف فقہی کتاب "شرائع الإسلام" کی شرح ہے۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے محقق کرکی قدس سرہ سے بھی کسبِ فیض کیا تھا، البتہ یہ استفادہ محقق کرکی قدس سرہ کے ایران آنے سے قبل ہوا تھا۔ خود شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ایران تشریف نہیں لے گئے۔ ممتاز شیعہ عالم و فقیہ، جناب شیخ حسن بن زین الدین عاملی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آپ کے فرزندِ ارجمند تھے۔(آشنایی با علوم اسلامی، صفحہ 303)
ابتدائی تعلیم
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ بزرگوار جناب نور الدین علی بن احمد رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد آپ میس تشریف لے گئے، جہاں شیخ علی بن عبد العالی میسی مرحوم سے کسبِ علم کیا۔ آپ نے ان سے محقق حلی قدس سرہ کی "شرائع الاحکام" اور علامہ حلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی "ارشاد" اور "قواعد" جیسی اہم فقہی کتابیں پڑھیں۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ عالمِ تشیع کے ان جلیل القدر فقہاء اور نابغۂ روزگار علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، فقہی ژرف نگاہی اور بے مثال علمی جدوجہد کے ذریعہ علومِ آلِ محمد علیہم السلام کو نئی تابندگی عطا کی۔ وہ اسلامی علوم کے بحرِ ذخّار، فقہ و اجتہاد کے میدان کے عظیم ماہر اور تاریخِ فقہ کی ان درخشاں شخصیات میں سے ہیں جن کے علمی آثار آج بھی اہلِ علم کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔
آپ کی پوری علمی زندگی فقہِ آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیم، ترویج اور اشاعت کے لئے وقف رہی۔ آپ نے اپنی انتھک علمی کاوشوں، عمیق فقہی بصیرت اور قوتِ قلم کے ذریعہ ایسے علمی نقوش ثبت کئے جو صدیاں گزرنے کے باوجود اہلِ فقہ و دانش کے لئے سرمایۂ افتخار اور چراغِ ہدایت ہیں۔ آپ کی شخصیت علم، عمل، تقویٰ، تحقیق اور اجتہاد کا حسین امتزاج تھی، جس نے آپ کو تاریخِ فقہِ جعفری میں ایک ممتاز اور منفرد مقام عطا کیا۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی خدمات اور گراں قدر آثار اس حقیقت کے روشن گواہ ہیں کہ آپ نے فقہِ آلِ محمد علیہم السلام کے گلشن کی آبیاری محض اپنے قلم سے نہیں، بلکہ اپنی پوری زندگی کی علمی جدوجہد، تحقیق اور تدریس کے ذریعہ کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا نام آج بھی فقاہت و اجتہاد کی تاریخ میں عظمت، احترام اور عقیدت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے علمی اسفار
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی تعلیم کو مزید وسعت دینے کے لئے مختلف علاقوں کا سفر کیا۔ کچھ عرصہ میس میں قیام کے بعد آپ کرکِ نوح تشریف لے گئے، جہاں صاحبِ "المحجة البیضاء" سید جعفر کرکی مرحوم سے نحو اور اصولِ فقہ کی تعلیم حاصل کی۔
934ھ میں آپ دوبارہ جبع واپس آئے اور 937ھ تک وہاں مطالعہ، تحقیق اور علمی مباحث میں مشغول رہے۔
937ھ میں آپ دمشق تشریف لے گئے اور تقریباً ایک سال سے زائد عرصہ وہاں علمی استفادہ کیا۔ آپ نے ماہرِ حکمت و فلسفہ، جناب شیخ محمد بن مکی، سے طب، حکمت اور علمِ ہیئت کی بعض کتابیں پڑھیں۔ اسی طرح شیخ احمد جابر مرحوم کے درس میں بھی شرکت کی اور ان کے سامنے علمِ قراءت و تجوید کی معروف کتاب "شاطبیہ" پڑھی۔
938ھ میں آپ دوبارہ جبع واپس آئے، لیکن علمی ترقی کی جستجو نے آپ کو زیادہ عرصہ وہاں قیام نہ کرنے دیا۔ چنانچہ آپ دوبارہ دمشق تشریف لے گئے تاکہ وہاں سے مصر کا سفر کرسکیں۔
دمشق میں مختصر قیام کے دوران آپ نے مدرسہ سلیمیہ میں شمس الدین طولون سے صحیح مسلم اور صحیح بخاری کا درس لیا۔ اس کے بعد 15 ربیع الاول 942ھ کو مصر کی جانب روانہ ہوئے۔
دمشق سے مصر کا سفر تقریباً ایک ماہ میں مکمل ہوا۔ اس سفر کے دوران بعض غیر معمولی واقعات بھی آپ سے منسوب کئے گئے ہیں، جنہیں آپ کے شاگرد ابن العودی نے بیان کیا ہے۔
مصر میں علمی استفادہ
مصر پہنچ کر شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے متعدد ممتاز علماء سے استفادہ کیا۔ آپ کے اساتذہ کی تعداد مختلف مآخذ میں مختلف بیان ہوئی ہے، تاہم ابن العودی نے اپنی کتاب "بغیة المرید" میں آپ کے اساتذہ کے نام تفصیل سے ذکر کیے ہیں۔
آپ نے مصر میں عربی زبان، اصولِ فقہ، ہندسہ، علمِ معانی، بیان، عروض، منطق، تفسیر اور دیگر علوم کا مطالعہ کیا۔ آپ کے اساتذہ میں صاحبِ "الأنوار في مولد النبي"، جناب شیخ ابو الحسن بکری بھی شامل تھے۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے شوال 944ھ میں بیت اللہ کی زیارت کے ساتھ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ مبارک اور ائمۂ بقیع علیہم السلام کے مزارات کی زیارت کا شرف بھی حاصل کیا۔
اس کے بعد آپ اپنے وطن جبع واپس آئے۔ ربیع الاول 946ھ میں عراق تشریف لے گئے اور ائمۂ ہدیٰ علیہم السلام کے روضہ ہائے اقدس کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ اسی سال 5 شعبان کو جبع واپس آئے اور چند سال وہیں قیام فرمایا۔
بیت المقدس کا سفر
ذی الحجہ 948ھ میں شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے بیت المقدس کا سفر کیا۔ وہاں شیخ شمس الدین بن ابی اللطیف مقدسی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صحیح مسلم و صحیح بخاری کے بعض حصے ان سے پڑھے۔ اسی موقع پر ان سے اجازۂ روایت بھی حاصل کیا۔
اس کے بعد آپ اپنے وطن واپس آئے اور تحقیق، مطالعہ اور تدریس میں مشغول ہوگئے۔
قسطنطنیہ کا سفر
اس کے بعد آپ نے مشرقی روم کا سفر اختیار کیا اور 17 ربیع الاول 949ھ کو دمشق اور حلب کے راستے قسطنطنیہ پہنچے۔
یہ بلند ہمت اور سخت کوش عالم وہاں بھی علمی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔ قیام کے ابتدائی ایام ہی میں آپ نے صرف اٹھارہ دن کے اندر ایک رسالہ تحریر کیا، جس میں دس مختلف علوم سے متعلق مباحث شامل تھے۔ یہ رسالہ آپ نے قاضی عسکر محمد بن محمد بن قاضی زادہ رومی کے پاس بھیجا، جو اس زمانے کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے تھے۔
قاضی رومی نے شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے ملاقات کی۔ دونوں کے درمیان مختلف علمی مسائل پر گفتگو اور مباحثہ ہوا۔ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تحریروں اور علمی گفتگو سے قاضی رومی بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے مختلف مدارس میں تدریسی فرائض اور ذمہ داریوں سے متعلق ایک پروگرام آپ کے سامنے پیش کیا اور آپ کو اختیار دیا کہ اپنی پسند کے مدرسہ میں تدریس کی ذمہ داری قبول کرلیں۔
قاضی رومی نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ شام یا حلب میں تدریس کی ذمہ داری سنبھالیں۔ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے استخارہ کے بعد بعلبک کے مدرسۂ نوریہ کو منتخب کیا۔ چنانچہ قاضی رومی کی جانب سے اس مدرسہ کے انتظام اور تدریس کی ذمہ داری آپ کے سپرد کردی گئی۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا قسطنطنیہ میں قیام تقریباً چار ماہ رہا۔ اس مختصر مدت میں بھی آپ نے علمی استفادہ کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسی دوران آپ کی ملاقات صاحبِ "معاهد التنصیص" جناب سید عبد الرحیم عباسی سے ہوئی۔ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کی مصاحبت اختیار کی اور ان سے علمی استفادہ کیا۔
اس کے بعد آپ عراق کے راستے اپنے وطن جبع واپس روانہ ہوئے۔ واپسی کے دوران ائمۂ اطہار علیہم السلام کے روضہ ہائے اقدس کی زیارت بھی کی۔ یہ واپسی 953ھ کے نصفِ صفر کے قریب ہوئی۔
بعد ازاں شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے بعلبک میں سکونت اختیار کی، جہاں تدریس، تحقیق، تصنیف اور فقہی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا اور فقہِ آلِ محمد علیہم السلام کی ترویج و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
علمی شہرت
بعلبک میں قیام کے بعد آپ کو اپنی علمی شہرت اور غیر معمولی فقہی بصیرت کے باعث مرجعیتِ علمی حاصل ہوئی۔ اس دیار کے علماء، فضلاء اور طلبہ ہی نہیں، بلکہ دور دراز علاقوں سے بھی اہلِ علم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ کے علمی و اخلاقی فیوض و برکات سے بھرپور استفادہ کرتے تھے۔
آپ نے اس شہر میں جامع انداز میں تدریس کا آغاز کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پانچوں فقہی مذاہب، یعنی جعفری، حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی کے بارے میں وسیع علمی آگاہی اور مہارت رکھتے تھے اور ان کے فقہی مباحث کو تقابلی انداز میں پڑھاتے تھے۔ اس اعتبار سے آپ فقہِ مقارن اور تقابلی فقہ کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
جس طرح آپ سے پہلے شیخ طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے فقہِ تطبیقی اور اسلامی تقابلی فقہ کے موضوع پر اہم علمی کام انجام دیا تھا، اسی طرح شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے بعلبک میں مختلف فقہی مکاتب کے تقابلی مطالعہ اور تدریس کو فروغ دیا۔ عام لوگ بھی اپنے اپنے فقہی مذہب کے مطابق استفتاءات کے جوابات آپ کی خدمت سے حاصل کرتے تھے۔
اپنے وطن میں مستقل قیام
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بعلبک میں تقریباً پانچ سال کے پُربار اور ثمر بخش قیام کے بعد اپنے اصلی وطن جبع واپس آئے اور وہاں تدریس، تحقیق اور فقہی و علمی آثار کی تالیف میں مشغول ہوگئے۔
آپ کے علمی آثار کے بارے میں ایک دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ آپ علمی اور فقہی مطالب کی تحریر میں نہایت مہارت رکھتے تھے اور اپنے پیچھے بے شمار بابرکت علمی آثار چھوڑ گئے۔
کتاب "أمل الآمل" میں ذکر ہوا ہے کہ شہادت کے بعد شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنے پیچھے تقریباً دو ہزار جلد کتابیں چھوڑ گئے تھے۔ ان میں دو سو جلدیں خود آپ کے قلم سے لکھی ہوئی تھیں، جبکہ بعض کتابیں آپ کی اپنی علمی تصانیف اور بعض دیگر مختلف مصنفین کی کتابیں تھیں۔
شخصیت کی عظمت
جناب شیخ بہائی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے والد، جناب شیخ حسین بن عبد الصمد حارثی قدس سرہ، بیان کرتے ہیں: ایک روز میں شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہیں متفکر اور اپنے آپ میں گم پایا۔ میں نے ان کی اس کیفیت کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے فرمایا: ’’میرے بھائی! میرا خیال ہے کہ میں دوسرا شہید بنوں گا، کیونکہ میں نے خواب میں سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک ضیافت کا اہتمام کیا ہے جس میں امامیہ اور شیعہ علماء و دانشمندان شریک ہیں۔ جب میں مجلس میں داخل ہوا تو سید مرتضیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنی جگہ سے اٹھے، مجھے مبارک باد دی اور حکم دیا کہ میں استادِ شہیدِ اوّل کے پہلو میں بیٹھوں۔‘‘
رسالہ "مسائل السید بدر الدین الحسن الحسینی" میں، جس میں مذکورہ سید نے شیخ بہائی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے والد شیخ حسین بن عبد الصمد قدس سرہ، سے بعض سوالات کئے ہیں، اس واقعہ کا بھی ذکر ملتا ہے۔
سوال کیا گیا:
کیا اس واقعہ کے بارے میں کچھ معلومات ہیں جو شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے حوالے سے نقل کیا جاتا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ استنبول (قسطنطنیہ) کے ایک مقام سے گزر رہے تھے اور آپ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے آپ سے فرمایا: ’’عنقریب اس مقام پر ایک بلند مرتبہ شخصیت قتل کی جائے گی۔‘‘ کیا یہ واقعہ درست ہے؟
جواب دیا گیا: ’’جی ہاں۔‘‘
چنانچہ یہ پیشنگوئی اسی طرح واقع ہوئی اور میں اس پیشنگوئی کے وقت ان کے مخاطبوں میں سے تھا۔ ہمیں یہ بھی خبر دی گئی کہ استاد اسی مقام پر شہید ہوئے اور انہوں نے اپنے لئے اس واقعہ کی پیشنگوئی ایک باطنی مکاشفہ کے ذریعہ کی تھی۔
اس جواب کے آخر میں شیخ بہائی قدس سرہ کے والد نے اپنا نام اور تاریخِ جواب اس طرح درج کی: شیخ حسین بن عبد الصمد حارثی، 18 ذوالحجہ 983ھ، مکۂ مکرمہ۔
سید نعمت اللہ جزائری رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب "مقامات" میں بھی یہی واقعہ نقل ہوا ہے۔
جدوجہد
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ایسے بلند علمی و فقہی مقام اور ممتاز شخصیت کے باوجود اپنی معاشی ضروریات میں سے بعض کو پورا کرنے کے لئے خود محنت کیا کرتے تھے۔ لکھا ہے کہ جب اندھیرا چھا جاتا اور رات آجاتی تو آپ اس گدھے کو، جس پر سواری کیا کرتے تھے، گھر سے باہر لے جاتے، شہر سے باہر جاکر لکڑیاں جمع کرتے، انہیں گدھے پر لادتے اور اس طرح اپنے اہلِ خانہ کے لئے گھر کا ایندھن فراہم کرتے تھے۔
یہ واقعہ آپ کی سادہ زندگی، خودداری، محنت اور عملی زہد کی ایک روشن مثال ہے۔
اس بزرگ شخصیت کے وجودِ بابرکت کا ایک عظیم علمی ثمر یہ بھی تھا کہ آپ کے یہاں ایک باکمال فرزند، جلیل القدر علامہ، پرہیزگار اور عمیق نگاہ عالم، جناب ابو منصور جمال الدین حسن رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، پیدا ہوئے، جو صاحبِ معالم کے نام سے معروف ہوئے۔ انہوں نے اصولِ فقہ اور دیگر اسلامی علوم میں گراں قدر آثار عالم تشیع کو عطا کیے۔
ابو منصور حسن رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب "معالم الدین فی الاصول" نے اصولِ فقہ کی معروف کتاب "مختصر ابن حاجب" کی جگہ لے لی اور کئی صدیوں تک شیعہ حوزاتِ علمیہ میں طلابِ علومِ دینیہ کے لئے ایک اہم درسی کتاب کی حیثیت سے پڑھی اور پڑھائی جاتی رہی۔ یہ کتاب بھی اپنے والد کی "الروضة البهية" کی طرح آج تک علمی حلقوں میں زندہ و برقرار ہے۔
آپ کے علمی آثار میں "منتقى الجمان فی الأحادیث الصحاح والحسان" بھی ایک گراں قدر تصنیف ہے، جس سے اہلِ علم نے طویل عرصے تک استفادہ کیا ہے۔
آپ کے فاضل نسل (پوتوں) میں شیخ محمد بن حسن رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی شامل ہیں۔
مرحوم خوانساری، صاحبِ "روضات الجنات"، شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’اب تک عالمِ تشیع کے بڑے اور ممتاز علماء کے درمیان مجھے کوئی ایسی شخصیت یاد نہیں آتی جو عظمتِ شخصیت، کشادہ دلی، فہم و فراست، حسنِ ذوق، نظم و ضبط، تعلیمی منصوبہ بندی، کثرتِ اساتذہ، لطافتِ طبع، کلام کی معنویت اور علمی آثار کی پختگی و استحکام کے اعتبار سے ان کے مقام و مرتبے تک پہنچتی ہو۔‘‘(روضات الجنات، ج 3)
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جب آنے والے مہمانوں کی میزبانی کرتے تو ان کی پذیرائی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے۔ حاجت مندوں کی ضروریات پوری کرنے اور مہمانوں کی خدمت میں ایثار و فداکاری کی حد تک کوشش کرتے تھے۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے اساتذہ
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی مجاہدانہ علمی زندگی سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے متعدد اسفار کے ذریعہ ایسے اساتذہ کی تلاش میں رہتے تھے جن کی خدمت میں رہ کر زیادہ سے زیادہ علمی فیض حاصل کرسکیں۔
اگرچہ آپ کے تمام اساتذہ کے نام شمار کرنا ممکن نہیں، تاہم تاریخی مآخذ میں مذکور چند اساتذہ کے نام درج ذیل ہیں:
1. والدِ ماجد، جناب نور الدین علی بن احمد عاملی جبعی، میس میں۔
2. شیخ علی بن عبد العالی میسی، میس میں۔
3. شیخ محمد بن مکی، حکیم و فلسفی، دمشق میں۔
4. سید حسن بن جعفر کرکی، کرکِ نوح میں۔
5. شیخ احمد بن جابر، دمشق میں۔
6. شمس الدین طولون دمشقی حنفی، دمشق میں۔
7. شیخ ابو الحسن بکری۔
8. شیخ شمس الدین ابو اللطیف مقدسی، بیت المقدس میں۔
9. سید عبد الرحیم عباسی، قسطنطنیہ میں۔
10. ملا حسن جرجانی۔
11. ملا محمد استرآبادی۔
12. ملا محمد علی گیلانی۔
13. شہاب الدین بن نجار حنبلی۔
14. زین الدین حری مالکی۔
15. شیخ ناصر الدین طلاوی کفعمی۔
اس کے علاوہ بھی متعدد ایسے اساتذہ تھے جن سے شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے علمی اسفار کے دوران استفادہ کیا اور جن کے ذریعے آپ کے علمی ذخیرے میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے علمی آثار
اس پاکیزہ سرشت عالم کے علمی آثار درجنوں کتابوں اور علمی رسائل پر مشتمل ہیں۔ دیگر تدریسی اور علمی مشاغل کے باوجود آپ نے تقریباً ستر علمی آثار اپنے پیچھے یادگار چھوڑے۔ ان میں سے بعض آج بھی اہلِ علم کی دسترس میں ہیں، جبکہ بعض کے نام ہمیں مختلف مآخذ میں آپ کے حالاتِ زندگی کے ضمن میں ملتے ہیں۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی تصانیف میں "روض الجنان" سے لے کر "الروضة البهية" تک متعدد گراں قدر علمی آثار شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی یہ تصانیف ایک ایسے علمی گلستان کی مانند ہیں جس میں دینی علوم کا ہر محقق اپنی علمی ضرورت کے مطابق پھول چن سکتا ہے۔ ان تصانیف کا مطالعہ فقہ، اصول، حدیث، اخلاق، عرفان اور دیگر اسلامی علوم کے طالب علم کے لئے علمی بصیرت کے نئے در وا کرتا ہے۔
آپ کے معروف علمی آثار کو موضوعاتی ترتیب سے درج ذیل بیان کیا جاسکتا ہے:
الف: فقہی کتب و رسائل
1. روض الجنان فی شرح إرشاد الأذهان — بظاہر یہ آپ کی اولین تصانیف میں سے ہے، جسے 25 ذی القعدہ 949ھ، بروز جمعہ، مکمل فرمایا۔
2. مسالک الأفهام فی شرح شرائع الإسلام — تاریخِ اختتام کتاب الدیات آن 2 ربیع الاول 964ھ ذکر ہوئی ہے۔
3. الفوائد العملیة فی شرح النفلیة
4. المقاصد العلیة فی شرح الألفیة — 19 ربیع الاول 950ھ کو مکمل ہوئی۔
5. نتائج الأفکار فی حکم المقیمین فی الأسفار — پیر، 27 رمضان 950ھ کو تصنیف ہوئی۔
6. رسالة فی إرث الزوجة من العقار — 956ھ میں تصنیف ہوئی۔
7. رسالة فی أحکام الحیوة — منگل، 25 ذی الحجہ 956ھ کو۔
8. رسالة فی وجوب صلاة الجمعة
9. رسالة فی الحث علی صلاة الجمعة — یہ گزشتہ رسالے سے الگ تصنیف ہے۔
10. رسالة فی تحریم طلاق الحائض الحامل المدخول بها، الحاضر زوجها
11. رسالة فی حکم طلاق الحائض الغائب عنها زوجها
12. رسالة فی تحقیق النیة
13. مناسک الحج الکبیر
14. مناسک الحج الصغیر
15. رسالة فی عدم جواز تقلید المیت
16. الفتاوی المختصرة — زیادہ تر عبادات سے متعلق مسائل پر مشتمل ہے۔
17. رسالة فی انفعال ماء البئر
18. رسالة فیما إذا أحدث المجنب حدثاً صغیراً فی أثناء الغسل
19. رسالة فیما إذا تیقن الحدث والطهارة وشک فی السابق منهما
20. المسائل النجفیة — جن کے جوابات آپ نے استانبول (قسطنطنیہ) سے واپسی کے دوران نجف پہنچ کر تحریر فرمائے۔
21. مسائل جبل عامل — مکہ سے واپسی کے بعد جبلِ عامل میں ان کے جوابات تحریر کیے گئے۔
22. رسالة فی عدم قبول الصلاة إلا بالولایة
23. الرسالة الاسطنبولیة فی الواجبات العینیة — یہ فقہ اور واجباتِ عملی کے ساتھ اعتقادی مسائل سے بھی متعلق ہے۔ اسے 12 صفر 952ھ کو تحریر کیا گیا۔
24. الروضة البهية فی شرح اللمعة الدمشقیة — اسے آپ نے چھ ماہ اور چھ دن، یا بعض نقلوں کے مطابق پندرہ ماہ کی مدت میں تصنیف فرمایا۔
25. حاشیة المختصر النافع
26. حاشیة إرشاد الأذهان
27. حاشیة قواعد الأحکام
28. حاشیة شرائع الإسلام
ب: علمِ درایہ کی کتب
29. البدایة فی علم الدرایة — شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے علمِ درایہ کے میدان میں ایک اہم علمی روایت قائم کی۔
30. شرح البدایة فی علم الدرایة
ج: اصولِ فقہ کی کتب
31. تمهید القواعد الأصولیة لتفریع الأحکام الشرعیة — یہ کتاب اصولی اور ادبی قواعد پر مشتمل ہے اور اسے یکم محرم 958ھ کو تصنیف کیا گیا۔
د: حدیث سے متعلق کتب
32. غنیة القاصدین فی اصطلاحات المحدثین
33. شرح حدیث «الدنیا مزرعة الآخرة»
34. کتاب فی الأحادیث — مرحوم شیخ حر عاملی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے ہاتھ سے تحریر شدہ تقریباً ایک ہزار احادیث دیکھی تھیں، جنہیں آپ نے حسن بن محبوب کی «مشیخہ» سے منتخب کیا تھا۔
ہ: ادعیہ و آداب سے متعلق کتب
35. رسالة فی الأدعیة
36. رسالة فی آداب الجمعة
و: علمِ کلام
37. حقائق الإیمان، یا تحقیق الإسلام والإیمان — پیر کی شب، 8 ذی القعدہ 954ھ کو تصنیف ہوئی۔
ز: تفسیر
38. رسالة فی شرح البسملة
ح: علمِ نحو
39. منظومة فی النحو
40. شرح المنظومة فی النحو
ط: اخلاق و عرفانِ دینی
41. منار القاصدین فی أسرار معالم الدین — تعلیم و تربیت، اخلاق اور عرفان سے متعلق تصنیف ہے۔
42. منیة المرید فی آداب المفید والمستفید — تعلیم و تعلم کے آداب سے متعلق ہے اور اس موضوع پر نہایت مفید تصنیف شمار ہوتی ہے۔
43. مسکن الفؤاد عند فقد الأحبة والأولاد — یعنی محبوب افراد اور اولاد کی وفات کے وقت دل کا سکون۔ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے بعض بچوں کے انتقال کے بعد اپنے اور دوسروں کے دل کو تسلی دینے کے لئے یہ کتاب بروز جمعہ، یکم رجب 954ھ کو تصنیف فرمائی۔
44. تلخیص مسکن الفؤاد
45. کشف الریبة عن أحکام الغیبة
46. التنبیهات العلیة علی وظائف الصلاة القلبیة، جسے «أسرار الصلاة» بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نماز کے عرفانی اسرار، باطنی نکات اور اندرونی آداب پر مشتمل ہے اور احادیث سے استفادہ کرتے ہوئے 9 ذی الحجہ 951ھ کو تحریر کی گئی۔
یہ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے ان معروف علمی آثار کا ایک اجمالی تذکرہ ہے جن کے بارے میں مختلف مآخذ سے معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ آپ کے علمی آثار کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بیان کی گئی ہے۔
شہادت
ہر صاحبِ ضمیر انسان کے لئے یہ امر نہایت دردناک ہے کہ عظیم علمی شخصیات بعض اوقات ذاتی عناد، تعصب اور دنیاوی مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ بھی اسی طرح ایک ایسے سانحہ کا شکار ہوئے جس نے تاریخِ علم و فضیلت کو سوگوار کردیا۔
جبع کے دو افراد کسی مقدمہ اور نزاع کے فیصلے کے لئے شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے دینی اصولوں اور شرعی ضوابط کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ فرمایا۔ ظاہر ہے کہ کسی مقدمے میں دونوں فریق بیک وقت حق پر قرار نہیں دیے جاسکتے؛ چنانچہ فیصلہ ایک فریق کے حق میں اور دوسرے کے خلاف ہوا۔
جس شخص کے خلاف فیصلہ ہوا، وہ اس فیصلے پر سخت ناراض ہوگیا اور صیدا کے قاضی کے پاس جاکر شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے خلاف شکایت کی کہ وہ رافضی اور شیعہ ہیں۔ قاضی نے یہ معاملہ سلطان سلیم تک پہنچایا۔ سلطان کی جانب سے شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو گرفتار کرنے کے لیے ایک شخص کو مامور کیا گیا۔
وہ شخص جبع پہنچا اور لوگوں سے شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے لگا۔ لوگوں نے اسے بتایا کہ وہ شہر میں موجود نہیں ہیں۔
اس زمانے کے ناسازگار ماحول اور مخالفین کے خطرے کے پیشِ نظر شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اکثر گوشہ نشینی اختیار کرتے تھے۔ آپ نمازِ صبح کی ادائیگی کے لیے مسجد تشریف لے جاتے اور بیشتر اوقات تحقیق، مطالعہ اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے تھے۔
عین اسی وقت جب مذکورہ شخص جبع میں داخل ہوا، شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنے انگور کے باغ میں بیٹھے ایک کتاب کی تصنیف میں مشغول تھے۔ وہ شخص آپ کو گرفتار نہ کرسکا۔ اسی دوران شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے دل میں حج کا سفر کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ آپ نے مکہ کے سفر کی تیاری شروع کردی اور ایک پردے سے ڈھکے ہوئے محمل میں سوار ہوگئے تاکہ کوئی آپ کو پہچان نہ سکے۔
ادھر صیدا کے قاضی نے سلطانِ روم، یعنی عثمانی سلطان سلیم، کو خط لکھا کہ شام کے علاقے میں ایک عالم رہتا ہے جو بدعتی ہے، اہلِ سنت کے چاروں مذاہب سے خارج ہے اور اپنے عقائد کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہے۔
سلطان سلیم نے اپنے وزیر رستم پاشا کو شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی گرفتاری کے لئے مامور کیا اور حکم دیا کہ انہیں زندہ گرفتار کرکے لایا جائے، تاکہ قسطنطنیہ کے علماء کے ساتھ ان کا علمی مباحثہ کرایا جاسکے اور ان کے عقائد و نظریات کے بارے میں تحقیق کی جاسکے۔
رستم پاشا جبع پہنچا اور شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں دریافت کیا۔ اسے بتایا گیا کہ آپ حج کے سفر پر روانہ ہوچکے ہیں۔ وہ مکہ کے راستے میں آپ تک جا پہنچا اور آپ کو گرفتار کرلیا۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے فرمایا کہ مجھے مہلت دو تاکہ میں حج کے مناسک مکمل کرلوں۔ میں فرار نہیں ہوں گا بلکہ تمہاری نگرانی میں مناسکِ حج ادا کروں گا۔ حج مکمل ہونے کے بعد تم میرے ساتھ جس طرح چاہو سلوک کرنا۔
رستم پاشا اس بات پر رضامند ہوگیا کہ شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ حج کے مناسک ادا کرلیں۔ حج مکمل ہونے کے بعد وہ انہیں روم، یعنی عثمانی سلطنت، کی طرف لے گیا۔
جب وہ عثمانی سلطنت کے علاقے میں داخل ہوچکے تو راستے میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی۔ اس شخص نے رستم پاشا سے پوچھا کہ یہ آدمی کون ہے؟ اس نے جواب دیا:
’’یہ شیعہ امامیہ کے علماء میں سے ہیں اور میں سرکاری حکم کے مطابق انہیں سلطان کے پاس لے جارہا ہوں۔‘‘
اس شخص نے کہا: ’’تم نے راستے میں اس شخص کے ساتھ کوتاہی کی ہے اور اسے اذیت بھی دی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ سلطان کے سامنے تمہاری شکایت کردے اور اس کے دوست و ساتھی بھی اس کی حمایت اور دفاع کے لئے اٹھ کھڑے ہوں، جس کے نتیجے میں تمہیں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑے، بلکہ ممکن ہے کہ تم اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو۔ بہتر یہ ہے کہ اسی مقام پر اس کا سر تن سے جدا کردو اور اس کا کٹا ہوا سر سلطان کے پاس لے جاؤ۔‘‘
چنانچہ اس سنگ دل شخص نے سمندر کے کنارے اس عظیم عالم کو شہید کردیا اور ان کا کٹا ہوا سر سلطان کے حضور لے گیا۔
سلطان اس واقعہ پر سخت غضب ناک ہوا اور اسے ملامت کرتے ہوئے کہا: ’’میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ اسے زندہ میرے پاس لاؤ، پھر تم نے کس اجازت کے تحت اسے قتل کیا؟‘‘
سید عبد الرحیم عباسی، جن کی شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے پہلے سے دوستی اور شناسائی تھی، جب انہوں نے شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا کٹا ہوا سر دیکھا تو انہیں شدید صدمہ پہنچا۔ انہوں نے کوشش کی کہ سلطان کو اس قاتل کو قصاص میں قتل کرنے پر آمادہ کریں۔ بالآخر ان کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور رستم پاشا کو اس عظیم جرم کے ارتکاب پر سزائے موت سنائی گئی۔
کتاب "لؤلؤة البحرین" کے مؤلف لکھتے ہیں کہ بعض معتبر کتابوں اور مآخذ میں شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی گرفتاری اور شہادت کے بارے میں یہ واقعہ بھی نقل ہوا ہے کہ روم کے بادشاہ، یعنی عثمانی سلطان سلیم، کے حکم سے انہیں مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے اندر نمازِ عصر کی ادائیگی کے بعد گرفتار کیا گیا اور .مکہ کے ایک گھر میں زیرِ نگرانی رکھا گیا۔ اس کے بعد انہیں سمندری راستے سے قسطنطنیہ لے جایا گیا اور وہیں شہید کیا گیا۔ ان کی شہادت 966ھ میں واقع ہوئی۔
بعض روایات کے مطابق تین دن تک ان کا جسدِ مبارک زمین پر پڑا رہا اور کسی نے اسے دفن نہ کیا۔ آخرکار ان کے جسدِ اطہر کو سمندر میں ڈال دیا گیا۔
شہیدِ ثانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی علم و عمل، تحقیق و تدریس، تقویٰ و زہد اور فقہ و اجتہاد کا ایک روشن باب ہے۔ انہوں نے علومِ آلِ محمد علیہم السلام کی خدمت میں اپنی پوری زندگی صرف کردی اور بالآخر اسی راہ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
خداوندِ متعال ان پر اپنی وسیع رحمتیں نازل فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں محمد و آلِ محمد علیہم السلام کے ساتھ محشور فرمائے۔
سلام ہو اس شہیدِ علم و فقاہت پر،
جس کے نورِ قلم سے آج بھی افقِ فقاہت روشن ہے۔









آپ کا تبصرہ