اتوار 23 اگست 2026 - 17:26
تبرّی؛ ایمان کی تکمیل اور اہلِ بیت علیہم السلام سے وفاداری کا تقاضا

حوزہ/اسلامی تعلیمات میں تولّی اور تبرّی ایمان و عقیدے کے اہم اور بنیادی مباحث میں شمار ہوتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم (ص) اور اہلِ بیتِ اطہار (ع) سے محبت و وابستگی ایمان کا تقاضا ہے، اسی طرح ان کے دشمنوں سے بیزاری اور لاتعلقی بھی مؤمن کے اعتقادی تشخص کا حصہ ہے۔ اسی بیزاری کو دین کی اصطلاح میں تبرّی کہا جاتا ہے۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| اسلامی تعلیمات میں تولّی اور تبرّی ایمان و عقیدے کے اہم اور بنیادی مباحث میں شمار ہوتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت و وابستگی ایمان کا تقاضا ہے، اسی طرح ان کے دشمنوں سے بیزاری اور لاتعلقی بھی مؤمن کے اعتقادی تشخص کا حصہ ہے۔ اسی بیزاری کو دین کی اصطلاح میں تبرّی کہا جاتا ہے۔

تبرّی کی تعریف

تبرّی، تولّی کے مقابل ایک کلامی اصطلاح ہے، جسے خصوصاً شیعۂ امامیہ کے عقائد میں اہم مقام حاصل ہے۔ یہ لفظ مادۂ "بَرِئَ" سے مشتق ہے، جس کے معنی بیزاری، لاتعلقی اور کسی چیز سے بری ہونے کے ہیں۔ فارسی زبان میں یہ لفظ عموماً "تبرّا" کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔

تبرّی کا مفہوم محض کسی سے ذاتی نفرت یا عداوت نہیں، بلکہ حق کے مخالف عقائد، افکار اور راستوں سے اعتقادی و قلبی براءت اختیار کرنا ہے۔ چنانچہ جس طرح ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام مؤمن کے ایمان کو سمت عطا کرتی ہے، اسی طرح تبرّی اسے باطل سے فاصلے کا شعور عطا کرتی ہے۔

قرآن و روایات میں تبرّی

تبرّی کی بنیاد قرآنِ کریم کی تعلیمات میں موجود ہے۔ قرآنِ مجید کی ایک سورت سورۂ براءت (سورۂ توبہ) کہلاتی ہے، جس کا آغاز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے مشرکین سے براءت کے اعلان سے ہوتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں حق و باطل کے درمیان امتیاز اور باطل سے براءت کا اصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

احادیثِ نبوی اور روایاتِ اہلِ بیت علیہم السلام میں بھی تبرّی کی اہمیت پر خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ایک حدیث میں تبرّی کو ایمان کی مضبوط کڑیوں میں شمار کیا گیا ہے۔(وسائل الشیعة، جلد 16، صفحہ 177)

اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت میں دینِ خدا کے مخالفین اور خدا کے دشمنوں کے دوستوں سے براءت کو واجب قرار دیا گیا ہے۔(الاعتقادات فی دین الإمامیة، صفحہ 86)

ایک دوسری روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے تولّی اور تبرّی کو حقیقتِ ایمان قرار دیا ہے۔ تولّی سے مراد اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت و وابستگی ہے، جبکہ تبرّی سے مراد ان کے دشمنوں سے بیزاری اور لاتعلقی اختیار کرنا ہے۔
(بحار الأنوار، جلد 66، صفحہ 241)

یوں تبرّی، تولّی کی ضد نہیں بلکہ اس کا تکمیلی پہلو ہے؛ کیونکہ اہلِ حق سے حقیقی وابستگی انسان کو ان کے مخالف راستوں سے بیزاری کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔

دشمنانِ خدا سے مراد

دشمنانِ خدا کے مفہوم میں اس کا انکار کرنے والے، کسی کو اس کا شریک قرار دینے والے ہیں اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ائمۂ معصومین علیہم السلام کی امامت و ولایت کا انکار کرتے ہیں۔

البتہ تبرّی کے مفہوم کو صحیح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ اس کا مقصد ذاتی دشمنی، بے جا سختی یا اخلاقی حدود سے تجاوز نہیں، بلکہ باطل عقائد و نظریات سے براءت اور حق کے ساتھ وفاداری ہے۔ مؤمن کا طرزِ عمل ہمیشہ شریعت، اخلاق اور اسلامی آداب کے تابع ہونا چاہیے۔

تبرّی کا وجوب اور ایمان کی تکمیل

دشمنانِ خدا سے تبرّی اختیار کرنا واجب قرار دیا گیا ہے اور اسے دین کے اہم ارکان میں شمار کیا گیا ہے۔(بدایع الکلام، صفحہ 264؛ مرآة العقول، جلد 8، صفحہ 259؛ وسائل الشیعة، جلد 16، صفحہ 176؛ التعلیقة علی المکاسب، جلد 1، صفحہ 232)

اسی طرح تبرّی کو دین کے اہم ارکان میں شمار کیا گیا ہے۔(مرآة العقول، جلد 12، صفحہ 114)

اور اسے ایمان کی تکمیل کا ذریعہ بھی قرار دیا گیا ہے۔(البیان، صفحہ 241)

اس اعتبار سے تبرّی کوئی ثانوی یا محض تاریخی مسئلہ نہیں، بلکہ مؤمن کے اعتقادی تشخص سے گہرا تعلق رکھنے والا موضوع ہے۔ تولّی انسان کے دل کو اہلِ حق سے جوڑتا ہے اور تبرّی اسے باطل کی پیروی سے محفوظ رکھتی ہے۔

یہاں یہ نکتہ بھی واضح رہے کہ اہل بیت علیہم السلام یعنی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے دشمن در اصل اللہ کے دشمن ہیں۔ ہمارے اس مدعا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی احادیث اور سیرت دلیل ہیں۔

محتضر اور میت کو تبرّی کی تلقین

تبرّی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ محتضر، یعنی مرنے کے قریب شخص، اور میت کو تلقین کئے جانے والے امور میں بھی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ (کشف الغطاء، جلد 2، صفحات 251 اور 289)

یہ امر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عقیدۂ ولایت اور براءت مؤمن کی زندگی کے ساتھ ساتھ اس کے آخری مراحل سے بھی مربوط ہیں۔ انسان کی زندگی کا اختتام بھی اپنے بنیادی اعتقادی موقف کی یاد اور تجدید سے خالی نہیں ہونا چاہیے۔

شب و روزِ جمعہ میں تبرّی

شب و روزِ جمعہ کے اعمال میں گمراہ لوگوں اور دشمنانِ اہلِ بیت علیہم السلام سے تبرّی و بیزاری اختیار کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔(الکافی فی الفقه، صفحہ 153)

جمعہ عبادت، ذکر اور روحانی تطہیر کا خصوصی موقع ہے۔ ایسے مقدس اوقات میں ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام کے ساتھ تجدیدِ وابستگی اور ان کے دشمنوں سے براءت، مؤمن کے اعتقاد کو مزید پختہ کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔

المختصر تبرّی در حقیقت ولایت کی حفاظت اور ایمان کی پاسبانی کا نام ہے۔ جس دل میں اللہ تعالیٰ، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی حقیقی محبت راسخ ہو، وہاں ان کے دشمنوں سے بیزاری بھی اعتقادی تقاضے کے طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔

مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام ہمیں محبت بھی سکھاتا ہے اور شناخت بھی؛ تولّی کے ذریعہ اہلِ حق سے وابستگی عطا کرتا ہے اور تبرّی کے ذریعہ باطل سے فاصلہ قائم رکھنے کا شعور دیتا ہے۔ اسی لئے روایات میں تبرّی کو ایمان کی مضبوط کڑی، دین کے اہم ارکان اور ایمان کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

لہٰذا مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کے ایک سچے پیروکار کے لئے ضروری ہے کہ وہ محبتِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کو اپنے عقیدے اور کردار میں نمایاں کرے، حق کے راستے پر ثابت قدم رہے اور شریعت و اخلاق کی حدود کی پابندی کرتے ہوئے باطل اور دشمنانِ حق سے اپنی اعتقادی و قلبی براءت کو برقرار رکھے۔ یہی تولّی و تبرّی کا متوازن شعور ایمان کو استحکام، عقیدے کو پختگی اور زندگی کو مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام سے حقیقی وابستگی عطا کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha