حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ جامعۃ النجف سکردو بلتستان پاکستان میں ایک پروقار علمی و تحقیقی تقریب منعقد ہوئی؛ جس میں شہید رہبر آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی فکری و علمی خدمات، قیامِ امام حسین کے فلسفے اور عصرِ حاضر میں اسلامی فکر و تہذیب کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ مقالہ نویسی و مضمون نویسی کے مقابلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کیے گئے۔

تقریب میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی کے شعبۂ تحقیق کے مسئول مولانا شیخ سکندر علی بہشتی کی مختلف ورکشاپ اور نشستوں کی صورت میں انجام دی جانے والی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

تقریب میں جامعۃ النجف کے پرنسپل علامہ شیخ محمد علی توحیدی، مہمانِ خصوصی محقق و مؤلف جناب محمد حسن حسرت، حجۃالاسلام شیخ سجاد حسین مفتی، حجۃ الاسلام شیخ احمد نوری، حجۃ الاسلام شیخ سکندر علی بہشتی، حجۃ الاسلام ڈاکٹر محمد علی ممتاز، حجۃ الاسلام شیخ محمد علی ذاکری، شیخ غلام حسن جعفری، شیخ محمد جان حیدری، آغا زمانی، شیخ ابراہیم نوری، شیخ عبداللہ، محمد اسلم ناز شگری، علماء و اساتذہ، طلبہ اور مختلف علمی و دینی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے توحید و ایمان کے بعد علم، تفکر، تدبر اور تحقیق کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ دینی مدارس کی بنیادی ذمہ داری صرف علوم کی منتقلی نہیں، بلکہ تحقیقی مزاج، علمی بصیرت اور دلیل و استدلال کی تربیت بھی ہے۔ آج کی دنیا میں اسلام اور مکتبِ اہل بیت کے پیغام کو مؤثر انداز میں عالمی سطح تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل قلم، تحقیق، جدید ذرائع ابلاغ اور علمی اسلوب سے بھرپور استفادہ کرے۔
مقررین نے شہید مطہری کے افکار کی روشنی میں پیغام کی کامیابی کے چار بنیادی عناصر بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی پیغام کو مؤثر بنانے کے لیے خود پیغام کی جامعیت، پیغام پہنچانے والے کی شخصیت و صلاحیت، ابلاغ کا مؤثر اسلوب اور دستیاب وسائل و ذرائع سے درست استفادہ ضروری ہے۔ اگر اسلام کے آفاقی پیغام کو ان چار اصولوں کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تو مکتب اہل بیت کا پیغام عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پہنچایا جاسکتا ہے۔

اس موقع پر جامعۃ النجف کے استاد شیخ سجاد حسین مفتی نے علم و تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نے اللہ کی وحدانیت اور ایمان کے بعد سب سے زیادہ جس چیز پر تاکید کی ہے وہ علم، تفکر، تدبر اور تحقیق ہے۔ انسان کو کسی بات کو محض اس لیے قبول نہیں کرنا چاہیے کہ فلاں شخص نے کہہ دیا ہے، بلکہ ہر معاملے کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے غور و فکر اور تحقیق ضروری ہے۔

اس موقع پر مقالہ نویسی کے مقابلے میں شرکت کرنے والے طلباء نے شہید رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کی فکر و شخصیت، اسلامی تہذیب، تمدن سازی اور قیامِ امام حسین علیہ السلام کے فلسفے جیسے موضوعات پر تحقیقی مضامین پیش کیے۔
اس موقع پر جامعۃ النجف کے طالب علم حافظ فرمان علی نے اپنا مقالہ ''مقصدِ قیامِ امام حسین رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نظر میں'' کا خلاصہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ رہبر شہید کی نظر میں امام حسین علیہ السلام کے قیام کو صرف شہادت، سیاسی تحریک یا حکومت کے قیام کے کسی ایک پہلو تک محدود نہیں کیا جاسکتا؛ بلکہ امام حسین کا قیام تمام ائمہ علیہم السلام کی اس مسلسل جدوجہد کا حصہ تھا جس کا بنیادی مقصد حاکمیتِ دین، اصلاحِ امت، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اسلامی معاشرے کا قیام تھا۔

جامعہ منصوریہ کے طالب علم محمد یونس نے واقعۂ کربلا کے بعد حضرت زینب اور امام زین العابدین علیہم السلام کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کربلا کے پیغام کو اسیری کے مرحلے میں مؤثر انداز میں پیش نہ کیا جاتا تو واقعۂ عاشورا کی حقیقت تاریخ میں اسی وضاحت کے ساتھ زندہ نہ رہتی۔
انہوں نے رہبر شہید کے افکار کی روشنی میں حضرت زینب کے کردار کو کربلا کے پیغام کی بقا کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نامور محقق و مؤلف محمد حسن حسرت نے قرآن مجید کی آیت ''هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ'' کا حوالہ دیتے ہوئے علم و تحقیق کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری علمی تاریخ میں بے شمار علماء نے عظیم خدمات انجام دیں، مگر ان کی زندگیوں اور خدمات کو قلم بند نہ کیے جانے کے باعث ہماری نئی نسل ان کے علمی ورثے سے پوری طرح آگاہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطابت اور تقریر کے اثرات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن کتاب، مقالہ اور تحقیقی تحریر کا اثر زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلتستان کے علماء، علمی مراکز، تاریخ، تہذیب اور علمی ورثے کو تحقیق و تصنیف کے ذریعے محفوظ کیا جائے۔
انہوں نے جامعۃ النجف کی جانب سے تحقیق و تحریر کے فروغ کے لیے شروع کیے گئے سلسلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کوشش نئی نسل کو قلم سے جوڑنے اور علمی سرمایہ محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
جامعۃ النجف کے پرنسپل علامہ شیخ محمد علی توحیدی نے کہا کہ کسی محقق کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ضرورت شاید اس سے زیادہ ہماری نئی نسل کو ہے، تاکہ نوجوان اس کے علمی کردار کو دیکھ کر تحقیق و تصنیف کی طرف راغب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو تین دہائیوں کے دوران بلتستان میں علمی و تحقیقی میدان میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ سمیت مختلف علمی مراکز نے طلبہ کو باقاعدہ تحقیق و تصنیف کی طرف متوجہ کیا ہے۔ بلتستان کے نوجوانوں میں علمی صلاحیتیں غیر معمولی ہیں، ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان صلاحیتوں کو مناسب سمت اور تحقیقی تربیت فراہم کی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دینی مدارس کا بنیادی نصاب دراصل اجتہاد اور تحقیق کی بنیاد فراہم کرتا ہے، تاہم طلبہ کو تحقیق کے فنی طریقۂ کار، اسلوب اور عملی مہارتوں کی تربیت دینا بھی ضروری ہے۔ آج دنیا اسلام کے پیغام کو محض جذباتی انداز میں نہیں، بلکہ دلیل، تحقیق اور علمی استدلال کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں امام حسین علیہ السلام کے مصائب اور جذباتی پہلوؤں پر تو بہت گفتگو ہوتی ہے، مگر امام حسین علیہ السلام کے خطبات، بالخصوص خطبۂ منیٰ میں موجود فکری، سیاسی، اجتماعی اور عقلی پیغام پر مطلوبہ تحقیقی کام کم ہوا ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے۔
حجۃ الاسلام شیخ سکندر علی بہشتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر ہم اسلامی فکر کو پوری دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں استعمار کے طریقۂ کار اور فکری و ثقافتی حملوں کو سمجھنا ہوگا۔ اس کے لیے گہری تحقیق، غور و فکر اور عصری تقاضوں سے آگاہی ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جامعۃ المصطفیٰ کے شعبۂ تحقیق کی جانب سے بلتستان کے مختلف دینی مدارس میں طلبہ و طالبات کو مضمون نویسی، مقالہ نویسی، کالم نویسی، رپورٹنگ، خلاصہ نویسی اور علمی تحریر کی بنیادی مہارتوں سے آگاہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سلسلے میں بارہ سے زائد مدارس میں نشستیں ہوئیں اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے رہبر شہید کی فکر اور دیگر علمی موضوعات پر مضامین و مقالات تحریر کیے۔

انہوں نے کہا کہ آج سوشل میڈیا، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اسلامی پیغام کی ترسیل کے مؤثر ذرائع ہیں۔ ہمیں ایک ہی پیغام کو مختلف عصری اسالیب میں دنیا تک پہنچانا ہوگا؛ کبھی تحقیقی مقالے، کبھی کالم، کبھی مضمون، کبھی رپورٹ اور کبھی ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے۔ اس طرح مکتبِ اہل بیت کا پیغام مسجد، امام بارگاہ اور محدود معاشرتی دائرے سے نکل کر عالمی علمی پلیٹ فارم تک پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے شہید رہبر کے ''دوسرے مرحلے'' کے تصور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کی اگلی منزل تمدن سازی ہے۔ مغربی تہذیب کے مقابلے میں اسلامی علم و تحقیق، اخلاق، معیشت، عدالت، آزادی اور اسلامی طرزِ زندگی کا ایک جامع متبادل دنیا کے سامنے پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
شیخ سکندر علی بہشتی نے بلتستان کے طلبہ و طالبات کی علمی استعداد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ انسانی اور علمی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو قلم اور تحقیق سے جوڑا جائے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی محمد حسن حسرت کو جامعہ النجف کے پرنسپل شیخ محمد علی توحیدی کی جانب سے آیت اللہ جوادی آملی کی شہرۂ آفاق کتاب بطورِ تحفہ پیش کی گئی۔










آپ کا تبصرہ