پیر 24 اگست 2026 - 12:35
کراچی میں عظیم الشان سیرت النبیؐ سیمینار، نوجوانوں کی کردار سازی اور معاشرے میں برداشت و رواداری کے فروغ پر زور

حوزہ/ گورنر ہاؤس کراچی میں منعقدہ ایک روزہ عظیم الشان سیرت النبیؐ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سیرتِ طیبہ کو عملی زندگی کا حصہ بنانے، نوجوان نسل کی اخلاقی و روحانی تربیت، کردار سازی اور معاشرے میں برداشت، رواداری، اتحاد و باہمی احترام کے فروغ پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گورنر ہاؤس کراچی پاکستان میں ایک روزہ سیرت النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے عنوان سے عظیم الشان سیمینار منعقد ہوا،جسمیں مفتی تقی عثمانی، خورشید احمد ندیم، علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی، حنیف طیب، قاری محمد عثمان، رضی جعفری، ڈاکٹر عزیز الرحمن اور دیگر شخصیات نے بھی خطاب کیا۔

کراچی میں عظیم الشان سیرت سیمینار: پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا/نوجوانوں کو برداشت، رواداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا پیغام دینا ناگزیر، علامہ شہنشاہ نقوی

اس موقع پر معروف خطیب علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا، اس لیے نوجوانوں کو برداشت، رواداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا پیغام دینا ہوگا۔

کراچی میں عظیم الشان سیرت سیمینار: پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا/نوجوانوں کو برداشت، رواداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا پیغام دینا ناگزیر، علامہ شہنشاہ نقوی

قاری عثمان نے کہا کہ موجودہ دور میں سیرتِ طیبہ کو زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں میں بے راہ روی کی ایک بڑی وجہ سیرتِ پاک سے دوری ہے، اس لیے نئی نسل کو اسوۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے روشناس کرانا ضروری ہے۔

پیر سید اظہر شاہ ہمدانی نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور انہیں سیرتِ طیبہ سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں اور والدین کو مادی مصروفیات کے ساتھ اخلاقی و روحانی تربیت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ سیرتِ طیبہ کی رہنمائی صرف پڑھنے اور پڑھانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس پر عملی طور پر بھی عمل کیا جائے۔

کراچی میں عظیم الشان سیرت سیمینار: پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا/نوجوانوں کو برداشت، رواداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا پیغام دینا ناگزیر، علامہ شہنشاہ نقوی

ان کا کہنا تھا کہ جامعات اور تعلیمی اداروں میں سیرتِ طیبہ کو اہم موضوع کے طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی کردار سازی کیلئے انہیں سنتِ نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ ہر فرد کو روزمرہ زندگی میں اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ اسوۂ حسنہ پر کس حد تک عمل کررہا ہے۔

مفتی تقی عثمانی نے سوشل میڈیا پر اختلافات کے دوران گالم گلوچ کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ خاندانوں میں باہمی نشست کے لیے وقت نکال کر سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کیا جانا چاہیے۔

کراچی میں عظیم الشان سیرت سیمینار: پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا/نوجوانوں کو برداشت، رواداری اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کا پیغام دینا ناگزیر، علامہ شہنشاہ نقوی

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ سیرت النبی (ص) ہمارے لئے مکمل ضابطۂ حیات ہے، نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات پوری انسانیت کیلئے مشعلِ راہ ہیں، جبکہ نوجوان نسل کو سیرت النبی سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گورنر سندھ نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی زندگیوں کو حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا ہوگا، سیرت النبی (ص) پر عمل سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ سیرت طیبہ صرف پڑھنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی زندگی میں اتارنے کے لئے ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ اگر آج پاکستان کا نوجوان حضور اکرم (ص) کی زندگی سے صرف ایک چیز سیکھے تو وہ کیا ہونی چاہئے؟ علم، قیادت، قانون، معیشت، عبادت، برداشت یا کردار؟ میرا جواب ہے کردار۔ کیونکہ کردار بن جائے تو علم بھی سنور جاتا ہے، طاقت امانت بن جاتی ہے، دولت وسیلہ بن جاتی ہے اور قیادت انسانی خدمت بن جاتی ہے۔

آخر میں منعقدہ کانفرنس سے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت اور معاشرے میں برداشت، اتحاد اور باہمی احترام کے فروغ کیلئے سیرتِ طیبہ کی تعلیمات کو عام کیا جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha