تحریر: فرخ رضا ترمذی
حوزہ نیوز ایجنسی| امام زمانہ حضرت حجت ابن الحسن عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبتِ کبریٰ کے بعد مجتہدینِ عظام اور علمائے کرام نے مکتبِ اہلِ بیتؑ کی علمی و دینی تعلیمات کو اصل و اصول کے مطابق عوام الناس تک پہنچانے کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے قرآن و سنت، احادیثِ اہلِ بیتؑ، فقہ، اصول، عقائد اور اخلاق کے علوم کی ترویج کے ساتھ ساتھ دینی مراکز اور مدارس قائم کیے، علمی کتب تصنیف کیں اور نسلِ نو کی علمی و فکری تربیت کا فریضہ انجام دیا۔ یہ علمی و دینی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہر دور کے علما نے اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق دین کی حفاظت، تشریح اور تبلیغ میں اپنا کردار ادا کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں بھی اس علمی سلسلے کو آگے بڑھانے والے متعدد جلیل القدر علما پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے علم، کردار، قلم اور تدریسی و تبلیغی خدمات سے مکتبِ اہلِ بیتؑ کی علمی روایت کو مضبوط کیا۔ انہی ممتاز شخصیات میں آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکوؒ کا نام ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔
آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکوؒ 10 اپریل 1932ء کو جہانیاں شاہ، ضلع سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ڈھکو خاندان سے تھا۔ آپ کے والد رانا تاج الدین تھے، جن کی دیرینہ خواہش تھی کہ ان کے صاحبزادے دینی تعلیم حاصل کریں۔ 1945ء میں والد کے انتقال کے بعد آپ کی والدہ نے اپنے شوہر کی اس خواہش کو پورا کرنے کا عزم کیا اور مولانا محمد حسین نجفی کو مدرسہ محمدیہ جلال پور ننکیانہ میں داخل کرایا۔ یہی فیصلہ آگے چل کر ان کی زندگی کے علمی سفر کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔
مولانا محمد حسین نجفیؒ نے پانچ سال کی عمر میں اسکول میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں 1945ء میں مدرسہ محمدیہ جلال پور ننکیانہ، ضلع سرگودھا میں باقاعدہ دینی تعلیم کا آغاز کیا، جہاں انہوں نے علامہ شیخ حسین بخش جاڑا سے استفادہ کیا۔ 1947ء میں آپ بدھ رجبانہ، ضلع جھنگ تشریف لے گئے اور علامہ سید محمد باقر نقوی چکڑالوی سے درسِ نظامی کے علوم حاصل کیے۔ 1949ء میں آپ جلال پور گئے اور علامہ سید محمد یار شاہ نقوی سے استفادہ کیا۔ تقریباً پانچ سال تک ان سے تعلیم حاصل کی۔ یوں آپ کے ابتدائی علمی سفر کی تشکیل میں شیخ حسین بخش جاڑا، سید محمد باقر نقوی چکڑالوی اور سید محمد یار شاہ نقوی جیسے جلیل القدر اساتذہ کا بنیادی کردار رہا۔
علم کی جستجو اور اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کی خواہش انہیں 1954ء میں حوزۂ علمیہ نجف اشرف لے گئی۔ نجف اشرف اس وقت بھی مکتبِ اہلِ بیتؑ کا ایک عظیم علمی مرکز تھا، جہاں دنیا بھر سے تشنگانِ علم جمع ہوتے تھے۔ مولانا محمد حسین نجفیؒ نے یہاں سطحیات کی تکمیل کے بعد اصولِ فقہ اور فقہ کے درسِ خارج میں شرکت کی۔ اصولِ فقہ میں سید جواد تبریزی اور مرزا محمد باقر زنجانی سے استفادہ کیا جبکہ فقہ میں سید محمود شاہرودی اور سید محسن الحکیم جیسے جلیل القدر فقہا کے دروس میں شرکت کی۔ نجف اشرف میں آپ کے اساتذہ میں سید محمود شاہرودی، سید محسن الحکیم، سید ابوالقاسم رشتی، سید جواد تبریزی، مرزا محمد باقر زنجانی، عبد الکریم زنجانی، مدرس افغانی، آقا بزرگ تہرانی اور سید عبدالاعلیٰ سبزواری جیسے ممتاز اہلِ علم شامل تھے۔
نجف اشرف کا یہ علمی دور آپ کی شخصیت کی تشکیل میں انتہائی اہم ثابت ہوا۔ یہاں آپ نے فقہ و اصول کے دقیق مباحث سے استفادہ کرنے کے ساتھ تحقیق، استدلال اور علمی مباحث کو گہرائی سے سمجھنے کی تربیت حاصل کی۔ یہی علمی پس منظر بعد میں ان کی تدریسی، تحقیقی اور تصنیفی زندگی میں نمایاں نظر آیا۔
1960ء میں مدرسہ محمدیہ سرگودھا کی دعوت پر مولانا محمد حسین نجفیؒ تدریس کے لیے پاکستان واپس آئے۔ وطن واپسی کے بعد انہوں نے اپنی زندگی تبلیغ، تدریس، تصنیف، تحقیق اور دینی رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔ مدرسہ محمدیہ سرگودھا میں تقریباً بارہ سال تک مدیر کے فرائض انجام دیے اور طلبہ کی علمی و دینی تربیت میں فعال کردار ادا کیا۔ دینی تعلیم کے فروغ اور مستقل علمی مراکز کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے سلطان المدارس الاسلامیہ اور جامعہ علمیہ عقیلہ بنی ہاشم کی بنیاد رکھی، جہاں دینی علوم کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ آگے بڑھایا گیا۔
مولانا محمد حسین نجفیؒ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی تصنیفی و تحقیقی خدمات ہیں۔ انہوں نے فقہ، اصول، عقائد، تفسیر، حدیث، تاریخ، سیرت اور اصلاحِ معاشرہ جیسے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا۔ ان کی دس جلدوں پر مشتمل ’’تفسیر فیضان الرحمن‘‘ ان کی علمی کاوشوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ’’مسائل الشریعہ‘‘ کے ذریعے وسائل الشیعہ کا اردو ترجمہ کیا، جبکہ ’’احسن الفوائد فی شرح العقائد‘‘، ’’اصول الشریعہ فی عقائد الشیعہ‘‘ اور ’’اعتقادات امامیہ‘‘ جیسی کتب کے ذریعے عقائد کے موضوع پر علمی مواد فراہم کیا۔
فقہی میدان میں ’’قوانین الشریعہ فی فقہ الجعفریہ‘‘ اور ’’خلاصۃ الاحکام‘‘ اہم تصانیف ہیں۔ اسی طرح ’’اسلام اور حرمتِ غنا‘‘، ’’اسلام اور حرمتِ ریش تراشی‘‘ اور ’’اسلام اور وجوبِ نمازِ جمعہ‘‘ کے ذریعے مختلف فقہی و دینی مسائل پر تفصیلی بحث کی۔ حدیث، عقائد اور تاریخ کے موضوعات میں ’’اثبات الامامۃ‘‘، ’’تحقیقات الفریقین فی حدیث الثقلین‘‘، ’’تجلیات صداقت فی جواب آفتاب ہدایت‘‘، ’’تنزیہ الامامیہ‘‘، ’’ختم نبوت بر ختمی مرتبتؐ‘‘، ’’سعادت الدارین فی مقتل الحسینؑ‘‘ اور ’’حالات شہدائے خمسہ‘‘ جیسی کتب بھی ان کے علمی سرمایہ کا حصہ ہیں۔ ’’عقد الجمعان‘‘ کے ذریعے مفاتیح الجنان اور ’’آداب المفید و المستفید‘‘ کے ذریعے منیۃ المرید کے اردو تراجم کرکے انہوں نے دینی علمی ذخیرے کو اردو خواں طبقے تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
مولانا محمد حسین نجفیؒ کی دینی جدوجہد کا ایک اہم پہلو مجالس اور مذہبی محافل میں پائی جانے والی غیر مستند روایات، انحرافات اور غلو کے خلاف ان کی علمی کاوشیں تھیں۔ وہ اس امر پر زور دیتے تھے کہ دینی جذبات کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی صحت اور اصل ماخذ کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے ’’اصلاح المجالس و المحافل‘‘ تصنیف کی۔ ’’اصلاح الرسوم الظاہرہ بکلام العترت الطاہرہ‘‘ بھی اسی اصلاحی سلسلے کی اہم کڑی تھی۔ ان تصانیف کے ذریعے انہوں نے مذہبی مجالس اور رسوم میں پائی جانے والی ان خرابیوں کی نشاندہی کی جنہیں وہ دینی تعلیمات کے مطابق اصلاح طلب سمجھتے تھے۔
اس علمی و اصلاحی مؤقف کے باعث انہیں مخالفت اور اعتراضات کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن انہوں نے علمی استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ ان کے نزدیک دین کی خدمت کا تقاضا یہ تھا کہ بات جذبات کے بجائے دلیل، تحقیق اور مستند دینی ماخذ کی بنیاد پر کی جائے۔ یہی علمی جرأت اور استقامت ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔
مولانا محمد حسین نجفیؒ کی خدمات صرف تدریس، تصنیف اور تبلیغ تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے اپنے عہد کے اجتماعی و دینی معاملات میں بھی کردار ادا کیا۔ وہ تحریک جعفریہ سے وابستہ رہے اور علامہ مفتی جعفر حسینؒ کی وفات کے بعد شیعیانِ پاکستان کی قیادت کے انتخاب کے لیے قائم مرکزی کونسل میں دیگر علما کے ساتھ مل کر مؤثر کردار ادا کیا۔ اس طرح وہ پاکستان کی شیعی علمی و اجتماعی زندگی میں بھی ایک اہم اور فعال شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔
آپ ہمیشہ تبلیغِ دین میں مصروف رہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ مختلف ممالک کے سفر کیے اور دینی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کا فریضہ انجام دیا۔ آپ کی زندگی کا بنیادی مقصد لوگوں کو قرآن و عترت کی تعلیمات سے وابستہ کرنا، صحیح عقائد و احکام سے آگاہی پیدا کرنا اور معاشرے میں دینی شعور و اصلاح کو فروغ دینا تھا۔
مولانا محمد حسین نجفیؒ کی علمی و عملی خدمات کو محفوظ کرنے کے لیے ان کی شخصیت پر مستقل سوانحی کتب بھی لکھی گئیں۔ ملک افتخار حسین اعوان نے ’’سرکار آیت اللہ نجفی کی عہد ساز شخصیت اور تاریخ ساز کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان کی شخصیت اور خدمات کو قلمبند کیا، جبکہ طاہر عباس اعوان نے ’’مردِ علم میدانِ عمل میں، یعنی سرکار علامہ آیت اللہ الشیخ محمد حسین النجفی کے سوانح حیات اور علمی و عملی کارنامے و دیگر حالات‘‘ کے عنوان سے ان کی زندگی اور علمی و عملی خدمات کو محفوظ کیا۔
آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکوؒ نے تقریباً نو دہائیوں پر محیط زندگی میں علم حاصل کرنے سے لے کر علم پھیلانے تک کا ایک طویل سفر طے کیا۔ جہانیاں شاہ سے جلال پور، سرگودھا سے نجف اشرف اور پھر پاکستان کے مختلف علمی و تبلیغی مراکز تک ان کا سفر مسلسل جدوجہد، علم اور خدمت کا سفر تھا۔ انہوں نے مدارس میں تدریس کی، طلبہ کی تربیت کی، دینی ادارے قائم کیے، کتابیں تصنیف کیں، علمی مسائل پر تحقیق کی، تبلیغِ دین کے لیے سفر کیے اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کیا۔
آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکوؒ 21 اگست 2023ء، بمطابق 4 صفر 1445ھ کو وفات پا گئے۔ ان کی وفات برصغیر کی شیعی علمی روایت کے لیے یقیناً ایک بڑا نقصان تھی، لیکن اہلِ علم کی زندگی کا سفر ان کے دنیا سے رخصت ہونے پر ختم نہیں ہوتا۔ ان کی اصل میراث وہ علم، فکر، تصانیف، ادارے، شاگرد اور علمی روایت ہے جو ان کے بعد بھی جاری رہتی ہے۔
مولانا محمد حسین نجفیؒ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ دین کی خدمت صرف منبر و محراب تک محدود نہیں بلکہ علم کے حصول، تحقیق، تصنیف، تدریس، ادارہ سازی، نسلوں کی تربیت اور اصلاحِ معاشرہ کے مسلسل عمل کا نام ہے۔ انہوں نے اپنے قلم سے بھی خدمت کی، درسگاہ سے بھی، منبر سے بھی اور عملی میدان میں بھی۔ ان کا علمی ورثہ آج بھی اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ایک عالم کی حقیقی عظمت اس کے عہدے یا شہرت سے نہیں بلکہ اس علم و کردار سے ہوتی ہے جو اس کے بعد بھی لوگوں کی رہنمائی کرتا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی ڈھکوؒ کی زندگی اور خدمات مکتبِ اہلِ بیتؑ کی معاصر علمی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں، جسے محفوظ کرنا، اس کا مطالعہ کرنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔









آپ کا تبصرہ