تحریر: ناصرہ بتول
حوزہ نیوز ایجنسی|
آج کے دور میں جنگ صرف سرحدوں پر ہتھیاروں سے نہیں لڑی جاتی، بلکہ خیالات، معلومات اور جذبات کو متاثر کرنے اور کمزور کرنے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور معلومات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے، وہیں دشمن بھی اسے اپنے مفادات کے لیے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ چند سیکنڈ میں ایک خبر، تصویر یا ویڈیو لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور یہی رفتار اسے لوگوں کے خیالات اور جذبات پر اثرانداز ہونے کا ایک طاقتور ذریعہ بناتی ہے۔
غاصب اسرائیل اور فلسطین کی جنگ کے دوران سوشل میڈیا پر بہت سی جھوٹی خبریں، جعلی تصاویر، پرانی ویڈیوز اور غلط دعوے پھیلائے گئے۔ کئی بار پرانی تصاویر یا ویڈیوز کو نئے واقعات سے جوڑ کر پیش کیا گیا، تاکہ لوگوں میں خوف اور الجھن پیدا ہو اور عوام کے ذہنوں میں ایک خاص تاثر قائم کیا جا سکے۔
غاصب اسرائیل کی طرف سے بھی سوشل میڈیا کو اپنے مؤقف اور بیانیے کو دنیا تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حماس اور فلسطینیوں کے بارے میں مختلف دعوے اور ایسی معلومات بھی پھیلائی جاتی ہیں جن کا مقصد اسرائیلی کارروائیوں کے حق میں عوامی رائے ہموار کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح امریکہ بھی دنیا میں اپنے سیاسی مفادات کے لیے پروپیگنڈا، معلوماتی مہمات اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنا بیانیہ مضبوط کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ یا اسرائیل کی ہر خبر جھوٹی ہوتی ہے، لیکن یہ ضرور ہے کہ بڑی طاقتیں معلومات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کام بہت آسان ہو گیا ہے۔ ایک جھوٹی خبر، جعلی اکاؤنٹ، پرانی تصویر یا جھوٹی ویڈیو چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں یا لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ لوگ اکثر خبر کی حقیقت جانچنے کے بجائے صرف اس لیے اسے آگے شیئر کر دیتے ہیں کہ وہ ان کے جذبات یا پہلے سے موجود سوچ کے مطابق ہوتی ہے۔ اس طرح عام لوگ بھی انجانے میں جھوٹی معلومات پھیلانے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اسی لیے ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر ملنے والی ہر خبر کو فوراً سچ نہ مانا جائے۔ خبر کا اصل ذریعہ، تاریخ، تصویر اور ویڈیو ضرور چیک کی جائے اور اسے دوسرے معتبر ذرائع سے بھی ملایا جائے۔ خاص طور پر جنگ کے دوران سوشل میڈیا پر پھیلنے والی معلومات کو بہت احتیاط سے دیکھنا چاہیے، کیونکہ ایسے حالات میں جھوٹی خبریں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔
سوشل میڈیا خود دشمن نہیں، لیکن اس کا غلط استعمال دشمن کے لیے ایک خطرناک ہتھیار بن سکتا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور دوسری طاقتیں اپنے مفادات اور بیانیے کے فروغ کے لیے معلوماتی ذرائع استعمال کرتی ہیں۔ اس کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر وائرل خبر پر یقین کرنے کے بجائے تحقیق، سمجھ اور تنقیدی سوچ سے کام لیں۔ آج کی جنگ صرف زمین پر نہیں، بلکہ لوگوں کے ذہنوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔
پاکستانی نیوز چینلز بھی اب اکثر ایسی خبریں نشر کرتے ہیں جن میں حقیقت سے زیادہ جانبداری، سنسنی اور یک طرفہ بیانیہ نظر آتا ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ بن چکا ہے جہاں ہمیں مختلف ذرائع سے معلومات ملتی ہیں اور ہم کسی واقعے کی حقیقت کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ آپ خود ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ جب ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ جاری تھی، اُس وقت پاکستانی نیوز چینلز پر بعض واقعات کی ایک مخصوص تصویر پیش کی جا رہی تھی، جبکہ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز، رپورٹس اور عینی شاہدین کی معلومات ایک مختلف حقیقت سامنے لا رہی تھیں۔
اسی طرح فلسطین، عراق، لبنان اور دنیا کے دیگر علاقوں میں ہونے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بہت سی تصاویر اور ویڈیوز روایتی میڈیا کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے براہِ راست لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ طاقتور قوتیں اور ان کے حامی ذرائع ابلاغ اکثر اپنی مرضی کا بیانیہ قائم کرنے اور بعض حقائق کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حق کو ہمیشہ کے لیے چھپایا نہیں جا سکتا۔
آج کی نئی نسل، جسے Gen Z کہا جاتا ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے ان واقعات کو دنیا کے سامنے لا رہی ہے، مظلوموں کی آواز بن رہی ہے اور لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ حق کہاں ہے اور باطل کہاں۔
اس لیے ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا ہوگا اور اسکرین پر نظر آنے والی ہر بات کو بغیر تحقیق کے سچ ماننے کے بجائے اس کی تصدیق اور تحقیق کرنی ہوگی، تاکہ حقیقت تک پہنچ سکیں۔ ہمیں جھوٹ، افواہوں اور گمراہ کن بیانیوں کا حصہ بننے کے بجائے حق اور سچ کی آواز بننا ہے۔
جہاں تک ممکن ہو، سوشل میڈیا کے ذریعے سچی اور مستند معلومات لوگوں تک پہنچائیں، مظلوموں کی آواز بنیں اور حقائق دنیا کے سامنے لائیں۔ کیونکہ باطل چاہے کتنی ہی کوشش کر لے، حق کو ہمیشہ کے لیے چھپایا نہیں جا سکتا۔ حق کی روشنی دیر سے سہی، مگر اندھیروں کو ضرور چیر دیتی ہے۔









آپ کا تبصرہ