ہفتہ 22 اگست 2026 - 20:18
جنگ، جارحیت اور دفاع مشروع

حوزہ/امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بین الاقوامی قوانین و ادارے، ریاستی خودمختاری کی بقا اور عالمی انصاف کے اُصولوں کا امتحان ہے۔

تحریر: شاہ خالد مصباحی

حوزہ نیوز ایجنسی| امریکہ ایک مرکزی طاقت کی طور پر عالم کے سامنے کھڑا ہے، اس چیز کے انکار سے پس پردہ کہ آج کی دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور امریکہ ہے یا نہیں، لیکن آج چھ مہینوں سے جاری جنگ یہ ضرور ثابت کرتی ہے کہ ایران اپنی حفاظت کے سلسلے میں کسی سپریم پاور سے کم نہیں۔ ایران و امریکہ کے درمیان جاری جنگ ایران کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہیں یا نہیں، یا اس کے سیاسی و عسکری و اقتصادی منابع و مصادر پر حملہ کرکے اس کو تہ و تیغ کیا جارہا ہے یا نہیں، یہ ایک دوسرا بیانیہ لیکن ریاست امریکہ نے جاری جنگ سے قبل جو اعلامیہ عالم کے سامنے رکھا تھا اس میں اس کو ضرور پسپائی حاصل ہوئی ۔ نہ رجیم (ریاست) میں تبدیلی ہوئی اور نہ ایران کے اندرونی معاملات میں خلفشار پیدا ہوئے، یہ اور بات ہے کہ جب جنگیں ہوتی ہیں تو جانی و مالی نقصانات کا خمیازہ دونوں ملکوں کو بھگتنا پڑتا ہے گر چہ کسی کو کم یا زیادہ ۔

٢٨/فروری ٢٠٢٦ء سے دونوں ممالک کے درمیان جاری ہوئی جنگ ٹہرنے کا نام نہیں لے رہی ہے، جو صرف مشرقی وسطی ممالک کے لیے چیلنجز کا مسئلہ نہیں بلکہ بین الاقوامی ایجنسیوں اور قوانی اداروں کے لیے بھی ایک نیا مسئلہ ہے ۔ آج تک دنیا جہاں مادیت کے بنیاد پر فیصلہ کرتی آ رہی تھی ، طاقت و توانائی سیاسی زمرہ میں ملک کا عظیم سرمایہ گردانا جاتا تھا، کس ملک کے پاس کتنے فوجی کمانڈر ہیں، اور کتنا سیاسی اثر و رسوخ عالم کے اوپر رکھتا ہے، اس کی معشیت وتجارت کی دنیا کی تجارت گاہوں میں کیا وقعت حاصل ہے، کتنے ممالک کے لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں، امریکہ و ایران کے درمیان جاری جنگ میں ان کی اہمیت ضرور برقرار ہے، لیکن اس کی معنوی جبلت ضرور سرد مہری کی شکار بن چکی ہے، آج کا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کو بین الاقوامی ادارے کسی خود مختار، جمہوریہ حکومت کے خلاف اپنے طاقت کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہیں ؟ جب کسی کمزور ملک کے اوپر حملہ ہوتا ہے تو بین الاقوامی اداروں کی خاموشی کیوں برقرار رہتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ان اداروں کی تشکیل کا عمل اس لیے آیا تھا کہ دنیا کو دوبارہ آتش جنگ سے دوچار نا ہونا پڑے، دنیا کو جنگ سے دور رکھ کر لوگوں کے لیے امن و سکون کی بہشت بنائی جائے۔

اس سوال کے تناظر میں اقوامِ متحدہ کے منشور کا جب ہم‌ مطالعہ کرتے ہیں تو یہ چیز سامنے آتی ہے کہ منشور کا دفعہ ٢(٤) کسی بھی ریاست کو دوسری ریاست کی علاقائی سالمیت و سیاسی خود مختاری و آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال کرنے یا اس کو کسی قسم کی دھمکی دینے سے روکتا ہے۔ اور اگر کوئی ملک اس کے برخلاف کرتا ہے تو آئین کے دفعہ ٥١ کے تحت کسی مسلحے حملہ کی جواب کی صورت میں ہم انفرادی یا اجتماعی طور پر دفاعی مشروع کے تحت اس کو جواب دے سکتے ہیں۔

اس نکتے پر ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کیا امریکہ عالمی قوانین برادری کی بات کو تسلیم کر رہا ہے، کیا امریکہ کی فوجی کارروائی واقعی دفاعِ مشروع تھی، یا اس نے بین الاقوامی قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ظلم و بربریت کی حدود کو پار کر رہا ہے؟

بچے، حاملہ خواتین اور ہسپتال اور اسکولوں کو امریکہ بڑی دلیرہ دہی کے ساتھ اپنے حملے کا نشانہ بنا رہا ہے، امریکہ نے جوہری ہتھیاروں کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے نام پر ایران کے آبادی والوں علاقوں کو خاص طور پر ٹارگیٹ کر رہا ہے، لاکھوں لوگوں آج اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں، میناب اسکول پر امریکہ نے میزائل داغے، ١٦٩ بچے جاں بحق ہوگئے ، ایران کے مرکزی عدلیہ برائے وکلاء کے سربراہ، حسن عبدالیاں پور کی صدارت میں برکس میٹینگ میں شامل ہونے کے لیے ورودہ ہند ڈیلی گیشن نے ایران کلچر نئی دہلی میں منعقدہ ایک لیگل سیمینار سے امریکہ کی سفاکیت و بربریت پر روشنی ڈالی کہ امریکہ کس طرح سے عالمی قوانی اداروں کی دھجیاں اڑا رہا ہے اور آج تک قانونی محافظت کی علمبردار ادارے خاموش تماشائی بنے ہیں۔ ڈیلی گیشن کی ایک خاتون ممبر ڈاکٹر سارہ نے ان الفاظ میں اپنے رنج و الم کا اظہار کیا " خاندان اور گھر، خاندان اور گھر ہی رہتے ہیں۔ جنگ یا حملے کی وجہ سے ان پر صرف تناؤ، خوف اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ قانونی پہلو کے علاوہ میں اس معاملے کو ایک وسیع انسانی زاویے سے دیکھنا چاہتی ہوں۔ جب کسی ملک میں جارحیت ہوتی ہے تو ہسپتال، ہسپتال ہی رہتا ہے؛ اسکول، اسکول ہی رہتا ہے؛ اور گھر اور خاندان، گھر اور خاندان ہی رہتے ہیں۔ لیکن جنگ اور مسلسل حملوں کی وجہ سے ان خاندانوں، گھروں اور معاشرے کے اندر شدید خوف، اضطراب اور ذہنی دباؤ پیدا ہو جاتے ہیں، اور اس ایران میں یہ سارے مقامات امریکی خطرے کی زد میں ہیں ۔" (٢١/ اگست ٢٠٢٦، خانہ فرہنگ ایران دہلی نو)

ڈالی گیشن میں بڑی دل جمعی کے ساتھ امریکہ کا ایران کے مختلف علاقوں پر ہوئے حملوں کی نشان دہی فرمائی اور خاص کر ان علاقوں کی جو فوجی اڈے نہیں ہیں، رہائشی علاقے اور تعلیمی اداروں اور معالج گاہوں کو امریکہ نے اپنا نشانہ بنایا ڈیلی گیشن نے اس امر پر ایک تفصیلی رپورٹ پیش کیا۔ لیکن سوال مطلوب یہ نہیں ہے کہ میزائل کس نے کہاں داغے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا حملہ گر فریق نے شہری علاقوں اور فوجی اڈوں کے درمیان امتیاز پیدا کرنے، شہریوں کے تحفظ اور تناسب کے بنیادی اصولوں کی پابندی کیوں نہیں کی؟ امریکہ نے میناب اسکول سمیت مختلف رہائشی سوسائٹیوں کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا عالمی عدلیہ اس فوجی ہدف کی تحقیق و تفتیش کرنے اور دستیاب انٹیلی جنس کی جانچ اور حملے کی پر مذمت کرنے کے ساتھ امریکہ اور سربراہانِ ریاست کے خلاف قانونی کاروائی کیوں نہیں کر رہی ہے؟

ان دونوں ملکوں کے درمیان جو جنگ جاری ہے وہ صرف زمانہ حال کا ایک جزو نہیں بلکہ ایران کے ساتھ محاذ آرائی صرف اس لیے قائم ہے ، کہی یہ ٹوٹا ہوا تارہ ماہ کا مل نہ بن جائے، ایران کہی جوہری صلاحیت سے معبر نہ ہوجائے۔ یہ جنگ صرف اور صرف ایران کو کمزور کرنے کے لیے ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے بنانے میں کامیاب ہو، جب ایران کا موقف دیگر جوہری ممالک کی طرح واضح ہے کہ ہم پر امن طریقے سے دفاع مشروع کے لیے اپنے جوہری پروگرام کو عمل میں لانا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں بھی سائنسی و تکنیکی ترقی حاصل ہو۔ لیکن امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو نا جانے کیوں ایران کی سالمیت زیادہ پر خطرہ لگ رہی ہے اور ہمیشہ ایران کے خلاف اپنے طاقتوں کا غلط استعمال کرنے کے لیے برسر پیکار رہتے ہیں ۔

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں ایک ریاست ہمشیہ دوسرے ریاست سے خطرہ محسوس کرتا ہے، ایران کے معاملے میں بھی امریکہ کا یہی موقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو لانچ کرنے سے ہماری ریاستی سالمیت کو خطرہ ہے۔ ٹھیک ہے لیکن کیا کسی ریاست کو خود بخود اپنے لیے خطرہ کی گھنٹی سمجھ لینا، اور پھر اس ریاست پر حملہ کرنا، یہ کہاں کی دانش مندی ہے؟

امریکہ ایران سے منسلکہ خدشات کی بنیاد پر گزشتہ دہاییوں سے اس کا کا دشمن بنا ہوا ہے ، ایران کے اقتصادی و معیشت ذرائع پر پابندی، تیل کے ذخائر پر حملات اور اندرون ملک خلفشار پیدا کرنے جیسے مختلف جرائم میں امریکہ بالواسطہ شامل ہے۔ ہم نے ایران جیسے مختلف ممالک مثلاً افغانستان، ویتنام اور افریقن ممالک کو دیکھے ہیں کہ محض خدشات کی بنیاد پر طاقتور ممالک انہیں لقمۂ اجل بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی تمام تر فوجی کارروائی کو ان کے خلاف جائز سمجھتے ہیں۔ کیا بین الاقوامی قانونین اس چیز کی حمایت کرتے ہیں؟ اور بالآخر بین الاقوامی برادری ان کے خلاف کوئی مضبوط و مستحکم آئین کا نفاذ کیوں نہیں کرتی۔

اپنا دفاع کرنا سب کا حق ہے، لیکن کوئی کمزور ملک اپنے دفاع کے لیے آمادہ ہو تو ایٹمی و جوہری ہتھیاروں کی دنیا میں اس کے بڑھتے ہوئے قدم کو روکنا، آخر یہ کہاں کا انصاف ہے؛ یا دفاع مشروع کی وہ کونسی تعریف ہے جو صرف طاقتور ممالک کے سربراہان کے پاس ہے، کہ دفاعی مشروع کے نام پر کسی کمزور ملکوں کے دفاعی تصورات سے بھی ان کو خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ امریکہ مسلسل ایران پر فوجی حملہ کررہا ہے، اب ایران کو دفاعی مشروع کا حق کون دے گا، یو این جس کے پاس صرف تعزیتی کلمات کے پیش کرنے کے علاوہ کوئی طاقت نہیں، کیا یو این کے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ امریکہ جب ایران جیسے ممالک کو اپنی خوراک بنانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر قدغن لگائے۔ ہم نے افغانستان کی تصویر اور یو این کا کردار دیکھا ہے۔‌ یو این کا دفاعی منشور دفعہ ٥١ صرف امریکہ کو دفاع مشروع کا حق نہیں دیتا، کیا امریکہ کو اس دفعہ کے تحت لا محدود فوجی طاقت کے رکھنے کی اجازت ہے ؟ کہ جاؤ جس ملک سے آپ کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے، اس کو تہس نہس کر ڈالو، اس پر فوجی حملے کرو۔ امریکہ کو ایران سے جو بھی خطرہ ہے، کیا اس میں فوجی کارروائی ضروری ہے؟ لیکن امریکہ نے ہمیشہ اپنی طاقت کی انانیت پر عالمی و مقامی صورت حال کو پیچیدہ بنایا ہے اور ہر ملک پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جو بھی ملک اس کے نظریہ کے خلاف کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس کو ڈرا دھمکا کر اپنے دامن میں لینے کی کوشش کرتا ہے۔ خیر، اب ایران کا امریکہ کو ہر موقع پر دندان شکن جواب دینے سے مستقبل میں جواز کی صورت پیدا ہو کر ہی رہے گی کہ اپنے نویوکلیئر مشن اور توانا جوہری ہتھیاروں کے بنانے میں ایران ایک روز ضرور کامیابی حاصل کرے گا، اور ایران کو اب امریکہ کی طرف سے ہونے والے کسی بھی قسم کے حملے و کاروائی کا ڈر نہیں۔

لیکن عالمی قوانین برادری کو یہ چاہیے کہ وہ دفاع مشروع کی از سر نو تجدید کریں ، جب کوئی طاقتور ملک کسی کمزور ملک پر حملہ کرتا ہے اور جوابی حملے میں کمزور ملک اگر اسے انکھ دیکھتا ہے تو بابا گورے صاحب کے یہاں یہ دفاعی مشروع کے حقوق کی بھی خلاف ورزی کے ضمن میں آ جاتا ہے۔ میں یہ کہتا ہو کہ ایران کے حملات کی بھی جانچ ہوں اگر وہ عالمی قوانین اداروں کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس پر بھی پابندیاں اور سختیاں عائد کی جائیں لیکن ایران کے خلاف سالوں سے جاری جنگ اور اسرائیل و امریکہ کی خلاف روزانہ بمباری کرنے کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کب یہ طے کرے گی ایران کو بھی دفاعی مشروع کا حق حاصل ہے اور ایران کو یو این کی موافقت حاصل ہو اور ان سر کش ممالک کے خلاف انتقائی کاروائی پوری شفافیت کے ساتھ بجا لائی جائے ۔ میں اس کے خلاف نہیں کہ ایران کے کسی حملے کا جواب نہیں دیا جائے یا اس کی جانچ نا ہوں ، لیکن ایران کے خلاف مسلسل جو سپریم پاور ممالک کی طرف سے رد عمل کیا جارہا ہے اس کی جانچ کب کی جائے گی۔

میں کسی بھی فوجی و غیر فوجی حملے کی حمایت نہیں کرتا، لیکن مجھ کو اگر مارا جائے گا تو اس کا رد عمل کرنا میرے اندر ایک طبعی چیز ہے۔ لیکن افسوس قوانینِ عالم میری فطری حساسیت کو بھی زمانے کے سنگین جرائم میں رکھتی ہے۔ اور میرے خون رگ سے میری بد قسمتی کی نقشہ کشی کرنا چاہتی ہے۔ تاریخ نے یو، این کی روز تاسیس سے لے کر آج تک اس قسم کے مختلف حملے دیکھے ہیں جس پر یو این خاموش تماشائی بنی رہی، اور ہر بڑا ملک اپنے سے چھوٹے ملک کو ہضم کرنے کے پوری کوشش میں لگا رہا۔

ایران کا پاس سب سے بڑا جوہری طاقت جلیج فارس میں واقع آبی راستہ ابنائے ہرمز ہے ۔ امریکہ نے آج تک ایران پر مختلف پابندیاں لگاکر جوہری ہتھیاروں کو بنانے سے اسے روکتا رہا۔ لیکن ایران نے اپنے دفاع مشروع کے لیے ابنائے ہرمز کو روک کر ان سرکشوں کو جو درس دیا ہے وہ تاریخ میں آپ زر سے لکھا جائے گا۔‌ اور جو بھی ممالک صرف فوجی طاقت کو کل سرمایہ سمجھتے تھے ان کے لیے ایک درس عبرت بھی ہے کہ ایران نے کس طریقے سے اس تنازع کو عالمی اقتصادی فورم سے جوڑا اور اپنے اس آبی راستے کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سبھی نیو کلئیر ممالک کو زیرِ دست لا کر کھڑا کیا۔

ابنائے ہرمز یہ صرف امریکہ کے لیے اہم نہیں بلکہ اس کے اتحادی ملکوں کے بھی کافی اہمیت کا حامل ہے، ایران کا اس راستے پر پابندی لگانے سے عالمی توانائیاں مثلاً تیل ، نیچرل گیس، اور سمندری تجارت میں یکایک گراوٹ نظر آنے لگی اور اور چند ہی دن میں پوری دنیا میں معاشی گراوٹ، کساد بازاری کا اثر نمایاں ہونے لگا۔

امریکہ مسلسل ایران کو ابنائے ہرمز کے راستے کو کھولنے کے لیے دھمکیا دیتا رہتا ہے لیکن شیر کے چنگل سے نکلنا کوئی آسان کام نہیں، اب امریکہ کے لیے ہر چیز اتنا ہی مشکل لگنے لگا ہے جتنا وہ جنگ سے قبل ہر چیز کو آسان سمجھتا تھا۔ ایران نے ابنائے ہرمز کے کھولنے کے حوالے سے اپنا موقف واضح کردیا ہے، اب امریکہ کو ایران کے ہر ہر موقف کی تائید کرنی پڑے گی، اور سیاسی طور پر یہ امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی ایران جوہری ہتھیاروں کے بنانے میں بھی کامیاب ہوگا۔

یہ بات جگ ظاہرہے کہ امریکہ و ایران کے درمیان ہونے والی مسلسل جنگ سے امریکہ سے زیادہ ایران کا جانی و مالی نقصان ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود آج کا سب سے بڑا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی قوانین برادری کس کے ساتھ ہے؟ اور اس طرح کی عظیم ترین جنگوں سے جو جانی و مالی نقصانات ہو رہے ہیں اس سے انصاف پسند طبقوں اور عالمی حقوق کے پاسداران کس حد تک متاثر ہورہے ہیں۔

پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کے درمیان مختلف ادارے بنے کہ اب دنیا کو جنگ سے بچایا جائے،مسائل کو بحث و مباحثہ کے ذریعے حل کیے جائیں۔ اگر کسی ملک کے درمیان کوئی مسئلہ در پیش ہوتا ہے تو اس کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ این کو تشکیل دینے کا بنیادی خاکہ یہی تھا کہ طاقت کا استعمال کرنے کا فیصلہ صرف طاقتور ریاستوں کی مرضی سے نہیں ہوگا۔

بین الاقوامی اداروں کا قیام اسی مقصد کے تحت ہوا تھا کہ ریاستوں کی خودمختاری، سالمیت، امن اور طاقت کے استعمال کے حوالے سے مشترکہ اصول بنائے جائیں گیں۔

آج کے وقت میں ان اداروں کے پاس اصول بھی ہیں اور قوانین بھی ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان اصولوں کا اطلاق ریاستوں کی معاشی و سیاسی حالات کو دیکھ کر کیا جارہا ہے ۔ کمزور ریاست ہے تو اس کے خلاف طاقت ور ممالک کچھ بھی کریں، ان قانونی اداروں کی خاموشی برقرار رہتی ہے اور بڑے سرمایہ دارانہ ریاست کے خلاف ایک حرف زبان پر لانے کی جسارت نہیں کرتے، ان اداروں کی سچائی تو یہ ہے کہ یہ قانونی اور اخلاقی دونوں حیثیتوں سے کمزور ہوچکے ہیں۔

اگر امریکہ اپنی کاروائی کو صرف اس لیے جاری رکھتا ہے کہ اسے اپنی قومی سلامتی کا خطرہ ہے تو ایران کو کیا اپنی قومی سلامتی تحفظ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ؟

آج کا سب سے بڑا چیلنج کن مسئلہ یہ ہے کہ دفاع مشروع کی توصیف کون کرے اور کیا عالمی برادری دفاعی مشروع کے حدود کو متعین کرنے کے لیے آگے آئے گی؟

اگر قومی سالمیت اور دفاعی مشروع کے تحت امریکہ کی طرح ہر ریاست کے لوگ اپنے طاقت کا استعمال کرنے لگیں تو بین الاقوامی قوانین کی حیثیت صرف ایک دستاویز تک سمٹ کر رہ جائے گی۔ اور جنگوں کو روکنے کے لیے کوئی طاقت ور ادارہ باقی نہیں رہے گا۔

بالآخر جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، ایک نہ ایک روز توثیق نامہ کی طرف دونوں ممالک کے سربراہان کو رجوع کرنا پڑے گا ۔ آج ضرورت ہے کہ عالمی برادریاں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں اور ان دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط فریم ورک تشکیل کریں جس میں دونوں ممالک کی سالمیت و امنیت برقرار رہنے کے ساتھ ایران کو اس کے جوہری پروگرام بنانے کی اجازت، اقتصادی پابندیوں کو ہٹانے ، علاقائی سلامتی، بحری آمد و رفت کو برقرار رکھنے اور مستقبل میں اس قسم کی امریکی فوجی کشیدگی سے دو چار نا ہونے کی ضمانت دیں۔

ہم لوگ امریکہ اور ایران کی جنگ کو صرف اس زاویے سے دیکھتے ہیں کہ امریکہ کی جیت ہو رہی ہے یا ایران کو کس قدر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لوگ گروہوں میں تقسیم ہیں اور ہر کوئی اپنی جماعت کی برتری بیان کرنے میں لگا ہے۔ لیکن سب سے افسردہ بات یہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے اتنے طاقتور ہونے کے باوجود قومی سلامتی اور دفاع مشروع کے نام پر ہونے والے طاقت کے غلط استعمال کو روک نہیں پا رہا ہے۔ ہمارے لیے ایران کی قومی و ریاستی خود مختاری اتنا ہی قابلِ احترام ہے جتنا کہ امریکہ کی قومی سلامتی ۔ ہم جنگ کے ترجمان نہیں ہیں، لیکن کوئی ملک کیسے قومی سلامتی کے نام پر فوجی طاقت کا غلط استعمال کرتا ہے، جس کی مثال امریکہ ہے ہمیں سچ کو بولنے سے منہ نہیں چرانا چاہئیے۔

جنگ جاری رہے یا اختتام پذیر ہو۔ لیکن یہ فکر سبھی انصاف پسند حضرات کو لاحق ہے اگر بین الاقوامی قوانین، انٹرنیشل کورٹ آف جسٹس، شورای امنیت عالی، اگر قومی سلامتی اور دفاع مشروع کے نام پر طاقت کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو اس کے اثرات صرف امریکہ یا ایران تک پر ہی نہیں سمٹیں گے۔ بلکہ اس کے بد ترین نتائج کا سامنا دنیا کی ہر چھوٹی سی چھوٹی یا بڑی سی بڑی ریاست کو کرنا پڑے گا ۔ اور پھر ہر ملک کی خود مختاری کا مسئلہ پس و پیش ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha