منگل 18 اگست 2026 - 08:40
ویڈیو وائرل کرنے کا بھوت سوار؛حضرت فاطمہ زہراؐ کو میدان محشر میں کیا جواب دیں گے؟

حوزہ/ ائمہ معصومین علیہم السّلام کی تعلیمات کا تتّمہ یہ ہے کہ عزادارِ امام حسینؑ کی تعظیم و احترام اصل میں صاحب عزاداری (رسول اللہؐ اور حضرت زہراؑ) کا احترام ہے۔ عزاداروں کی تحقیر، ان کا مذاق یا ان کی خامیوں کو اچھالنا ائمہؑ کی ناخوشی اور اذیت کا باعث بنتا ہے۔

تحریر: کنیز فاطمہ، ممبئی

حوزہ نیوز ایجنسی|

محرم الحرام کا بابرکت اور غمگین مہینہ ہم پر سایہ فگن ہے۔ یہ وہ مقدس ایام ہیں جن میں ہر صاحب ایمان کا دل غم حسینؑ میں غمگین اور آنکھیں اشکبار ہوتی ہیں۔ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت جب عزاداری، نوحہ خوانی اور سینہ زنی لائیو (Live) براڈکاسٹ کے ذریعے دنیا بھر میں دکھائے جاتے ہیں، تو یہ پیغام کربلا کو پھیلانے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ تاہم، اسی تکنیک کا ایک انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ پہلو بھی سامنے آیا ہے جس پر ہم سب کو سنجیدگی سے غور کرنے اور اصلاح کی طرف قدم بڑھانے کی شدید ضرورت ہے۔

ویڈیو وائرل کرنے کا بھوت سوار

آج کل کچھ کم فہم، غیر ذمہ دار اور شرارت پسند عناصر لائیو پروگراموں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ نوحہ خوانی یا سینہ زنی کے دوران اگر کسی نوحہ خواں سے آواز لڑکھڑا جائے، کوئی سانس ٹوٹ جائے، نوحہ خوانی کرتے ہوئے بھول جائے، اسٹیج سے قدم پھسل کر گرجائے، الفاظ کے تلفظ میں کوئی معمولی خطا ہو جائے یا کوئی انتظامی بھول چوک ہو جائے، تو یہ افراد فوراً اس چند سیکنڈ کی ویڈیو کو کاٹ کر’’Short Clips‘‘سوشل میڈیا کے تمام گروپس اور پلیٹ فارمز پر وائرل کر دیتے ہیں۔ پھر اس کے بعد طنز و مزاح، مذاق اڑانے اور تضحیک کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو نہ صرف پڑھنے والے کی دل شکنی کا باعث بنتا ہے، بلکہ عزاداری جیسے مقدس و پاکیزہ عمل کے تقدس کو بھی مجروح کرتا ہے۔

عزادارانِ امام حسینؑ کی اہمیت

امام جعفر صادق علیہ السلام عزاداروں اور ان کے گرئیے و ماتم کے احترام میں بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمایا کرتے تھے۔ بحار الانوار اور الکافی میں نقل ہے کہ آپؑ نے سجدے میں یہ دعا مانگی: ’’اے اللہ! ان آنکھوں پر رحم فرما جن کے آنسو ہماری محبت و مظلومیت میں بہے اور ان دلوں پر رحم فرما جو ہمارے غم میں بے قرار اور غمگین ہوئے، اور ماتم و بکا پر رحم فرما جو ہمارے لیے بلند ہوئے۔ (بحار الانوار، جلد 98، صفحہ 52)

ائمہ معصومین علیہم السّلام کی تعلیمات کا تتّمہ یہ ہے کہ عزادارِ امام حسینؑ کی تعظیم و احترام اصل میں صاحب عزاداری (رسول اللہؐ اور حضرت زہراؑ) کا احترام ہے۔ عزاداروں کی تحقیر،ان کا مذاق یا ان کی خامیوں کو اچھالنا ائمہؑ کی ناخوشی اور اذیت کا باعث بنتا ہے۔ عزادار سے اگر کوئی خطا یا غلطی سرزد بھی ہو، تو اسے باہم اخلاق، پیار اور پوشیدہ طریقے سے اصلاح کرنا چاہیے، نہ کہ اس کی تذلیل و تضحیک کی جائے کیونکہ ان کے دلوں میں محبت حسینؑ کا نور موجود ہوتا ہے۔اس برائی کا بروقت سد باب نہ کیا گیا یاوقت رہتے اسے نہ روکا گیا تو یہ ہمارے معاشرتی اخلاق اور عزاداری کی روحانیت کو شدید نقصان پہنچائے گی۔ عزاداری کا تقدس اور ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ عزاداریِ امام حسینؑ کوئی ڈرامہ، اسٹیج شو یا تفریحی پروگرام نہیں ہے؛ یہ ایک عبادت ہے، ایک مقدس شعائر ہے اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو ان کے مظلوم بیٹے کا پرسہ دینا ہے۔نوحہ خواں اور ذاکرین جب منبر یا فرشِ عزاء پر بیٹھ کر نوحہ پڑھتے ہیں، تو وہ کسی دنیاوی شہرت کے لیے نہیں بلکہ اپنے دل کے جذبات اور عقیدت کا نذرانہ پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ لائیو پڑھتے ہوئے بھول جانا، لحن کا بگڑ جانا یا آواز کا بیٹھ جانا یا دیگر غیر شعوری طور پر کوئی کام ہوجانا ایک قدرتی انسانی عمل ہے۔

عزاداروں کے لیے سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہراؑ کی شفاعت

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے ارشاد فرمایا کہ روزِ قیامت جب تمام لوگ پریشان ہوں گے، تو جو لوگ امام حسینؑ پر روتے اور ان کا سوگ مناتے ہیں، آپؑ ان کا احترام اور شفاعت فرمائیں گی ’’اے فاطمہؑ! قیامت کے دن تمام آنکھیں رو رہی ہوں گی سوائے اس آنکھ کے جو حسینؑ کے مصائب پر روئی ہو، وہ قیامت کے دن ہنس مکھ اور جنت کی نعمتوں کی خوشخبری پانے والی ہوگی۔‘‘

اگر واقعی کسی نوحہ خواں یا عزادار سے کوئی بڑی غلطی یا نامناسب بات سرزد ہو جائے، تو اسلام اور سیرتِ معصومینؑ کا طریقہ پردہ پوشی اور تنہائی میں اصلاح کا ہے۔اگر آپ کو کہیں کوئی خامی نظر آئے، تو مومن کا شیوہ یہ ہے کہ اس کی عزاداری کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے اسے تنہائی میں محترم طریقے سےمتوجہ کیا جائے، نہ کہ اسے سوشل میڈیا پر رسوا کر کے عزاداری کے وقار کو نقصان پہنچایا جائے۔جس عزادار امام حسینؑ کے ہمارے ائمہ معصومینؑ نے کیا۔ اگر ہم عزاداری کا پھیلاؤ اور اس کی بہتری چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے رویوں میں ظرف، محبت اور پردہ پوشی کو پیدا کرنا ہوگا۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں مذاق اڑانے والے کے بجائے عزائے حسینؑ کا محافظ و پاسبان بننے کی کوشش کریں۔

ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے

قرآن مجیدمیں اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ ’’ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے جو ایمان والوں میں برائی یا رسوائی پھیلانا چاہتے ہیں‘‘ (سورہ النور)۔ کسی کے عیب کو اچھال کر چند لمحوں کی سستی شہرت یا تفریح حاصل کرنا، اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کرنے کے مترادف اور برابر ہے۔

دوسری جگہ پروردگار عالم قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ’’اے ایمان والو! کوئی قوم کسی دوسری قوم کا تمسخر (مذاق) نہ اڑائے، ہو سکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اڑایا جا رہا ہے) ان سے بہتر ہوں...‘‘(سورۃ الحجرات)

کسی مومن، خصوصاً عزاداری سے وابستہ شخص کی تضحیک کرنا شرعی، اخلاقی اور انسانی تمام اصولوں کے خلاف ہے۔

حضرت فاطمہ زہراؐ کو میدان محشر میں ویڈیو وائرل کرنے والے کیا جواب دیں گے؟

کچھ شرارت پسند عناصر ایسی ویڈیوز کاٹ کر شیئر کرتے ہیں اور تبصرے کر کے خوش ہوتے ہیں، انہیں چند باتیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں۔ نوحہ خواں جو کچھ پڑھ رہا ہے، وہ آلِ محمدؑ کی مصیبت کا بیان ہے۔ اس کے کسی جملے یا انداز کا مذاق اڑانا درحقیقت اس مجلس اور عزاداری کے ماحول کو ہلکا بنانے کے مترادف ہے۔ کسی کی خرابی یا غلطی کو دوسروں کے سامنے اس نیت سے پیش کرنا کہ اس کا مذاق بنے، سخت گناہ ہے۔ احادیثِ معصومینؑ میں مومن کی آبرو کو کعبہ سے بھی زیادہ محترم بتایا گیا ہے۔ جب آپ کوئی ایسی تحقیر آمیز ویڈیو کسی گروپ میں بھیجتے ہیں، اور آگے سو (100) لوگ اسے دیکھتے ہیں، تو ان تمام لوگوں کے گناہ کا بارِ گران آپ کے نامہ اعمال میں بھی درج ہوتا ہے۔

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ قیامت کے دن جب حضرت فاطمہ زہراؑ کے سامنے پیش ہوں گے، تو ان کے عزادار کا مذاق اڑانے پر ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی (فضیل بن يسار) سے پوچھا کہ کیا تم لوگ ایک جگہ بیٹھ کر امام حسینؑ کا ذکر اور احادیث بیان کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں۔ اس پر امامؑ نے فرمایا: بے شک میں ان مجلسوں کو پسند کرتا ہوں۔ پس ہمارے امر (فکر و پیغام) کو زندہ رکھو، اللہ اس شخص پر رحم کرے جو ہمارے امر کو زندہ کرے۔(وسائل الشیعہ، جلد 10، صفحہ 235)

عزاداروں اور انجمنوں کے لیے اصلاحی نکات یہ ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے صرف شرارت پسندوں کو تنقید کا نشانہ بنانا کافی نہیں، بلکہ ہمیں بطورِ عزادار اور منتظمین بھی کچھ عملی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔ لائیو کوریج اورپیشہ ورانہ افرادجولائیو کوریج کرتے ہیں، وہ تکنیکی اعتبار سے تربیت یافتہ ہوں۔تاخیر کے ساتھ لائیو اگر ممکن ہو تو لائیو نشریات میں 10 سے 15 سیکنڈ کا وقفہ ’’Delay‘‘ رکھا جائے تاکہ اگر کوئی بڑا حادثہ یا ناگواری واقع ہو تو اسے آن ایئر جانے سے روکا جا سکے۔

ویڈیوز پر واضح واٹر مارک اور کاپی رائٹ کی تنبیہ لکھی جائے تاکہ بغیر اجازت کاٹ کر شیئر کرنے والوں پر قانونی اور اخلاقی دباؤ رہے۔نوحہ خواں بھائیوں کو چاہیے کہ وہ لائیو پڑھتے وقت مکمل تیاری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ زیادہ سے زیادہ مشق کریں تاکہ غلطی کا امکان کم سے کم ہو۔

اگر بالفرض آپ کی کوئی ویڈیو وائرل ہو جائے، تو دلبرداشتہ نہ ہوں۔ آپ کا عمل اللہ اور امامِ زمانہ (عج) کے لیے ہے، لوگوں کے تبصروں کے لیے نہیں۔ جب بھی کسی گروپ میں ایسی کوئی تحقیر آمیز کلپ آئے، تو خاموش رہنے کے بجائے اس کی مذمت کریں اور بھیجنے والے کو تنبیہ کریں۔

برائی کو روکنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ آپ تک پہنچ کر ختم ہو جائے۔ اسے کسی اور گروپ یا فرد کو فارورڈ نہ کریں۔

بیدار قوم سے ایک اپیل

یہ زمین و آسمان ائمہ اطہار کی بدولت ہے۔ یہ سر زمین ہمیشہ سے علم، ادب اور عزاداری کا مرکز رہی ہے۔

بیدار مغز جوانوں، علمائے کرام، انجمنوں کے ذمہ داران اور ذی شعور مؤمنین کو ایک ساتھ مل کر اس رجحان کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔

منبر رسولؐ سے ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مجالس کے دوران اس اخلاقی بیماری پر روشنی ڈالیں۔ لوگوں کو بتائیں کہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال دین کی تبلیغ کا ذریعہ ہے، جبکہ اس کا غلط استعمال عزاداری کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔

ہم عزاداری کے ہر رکن اور ہر خادم کا احترام کریں گے۔کسی کی انسانی یا فنی غلطی کو اس کی تضحیک کا ذریعہ نہیں بنائیں گے۔

سوشل میڈیا کو صرف اور صرف پیغام کربلا اور فضائل و مصائبِ اہل بیتؑ کی ترویج کے لیے استعمال کریں گے۔خداوندِ عالم ہم تمام عزاداروں کی توفیقات میں اضافہ فرمائے، تمام انجمنوں اور نوحہ خوانوں کی خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمیں عزاداری کے حقیقی آداب کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha