تحریر: سیدہ ناظمہ حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی|
مقدمہ
اسلامی تاریخ میں ۲۸ صفر ایک نہایت اہم اور غم انگیز دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ دن رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رحلتِ شہادت، حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ کی امامت کے آغاز اور حضرت امام حسن مجتبیٰؑ کی شہادت کی یاد سے وابستہ ہے۔ اس دن کی مناسبت سے امتِ مسلمہ خصوصاً محبانِ اہلِ بیتؑ اپنے آقا و مولا حضرت رسولِ خدا ﷺ اور خاندانِ رسالتؑ کی مظلومیت اور مصائب کو یاد کرتے ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید، عدل، اخلاق اور ہدایت کی روشنی عطا فرمائی۔ آپ ﷺ کی رحلت کے بعد امت کی رہنمائی کا سلسلہ حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کے ذریعے جاری ہوا، جبکہ آپ ﷺ کے نواسے حضرت امام حسن مجتبیٰؑ نے دینِ اسلام کے تحفظ کے لیے بے مثال صبر، حلم اور قربانی پیش کی۔
۱۔ رحلتِ رسولِ اکرم
مشہور شیعہ روایات کے مطابق ۲۸ صفر سنہ ۱۱ ہجری کو رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ۶۳ برس کی عمر میں شہادت پائی۔ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ انسانیت کے لیے مکمل نمونۂ عمل ہے۔
قرآن مجید آپ ﷺ کے مقام کو یوں بیان کرتا ہے:
«وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ»
یعنی ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔
رسولِ خدا ﷺ کی پوری زندگی تبلیغِ توحید، اقامۂ عدل، تعلیمِ قرآن اور تربیتِ انسانیت میں گزری۔ آپ ﷺ نے اپنے بعد امت کی ہدایت کے لیے اہلِ بیتؑ کو مرکزِ ہدایت قرار دیا۔
بیماری کے آخری ایام
رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی کے آخری ایام میں آپ کی طبیعت سخت ناساز ہوگئی۔ بعض روایات کے مطابق ۲۴ صفر کے بعد بیماری میں شدت پیدا ہوئی۔ اسی دوران آپ ﷺ نے اپنے قریبی اور محبوب ترین شخص کو طلب فرمایا۔
روایات میں نقل ہوا ہے کہ جب حضرت علی ابن ابی طالبؑ حاضر ہوئے تو رسولِ خدا ﷺ نے انہیں اپنے قریب بلایا اور خصوصی گفتگو فرمائی۔ حضرت امیرالمؤمنینؑ نے بعد میں فرمایا کہ رسولِ خدا ﷺ نے مجھے علم کے ایسے ابواب عطا فرمائے جن میں سے ہر باب سے مزید ہزار باب کھلتے ہیں۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حضرت علیؑ رسولِ خدا ﷺ کے سب سے قریبی علمی وارث اور امت کے لیے سرچشمۂ علم و ہدایت تھے۔
۲۔ رسولِ خدا ﷺ کی آخری وصیتیں
رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری لمحات میں حضرت امیرالمؤمنینؑ کو متعدد اہم وصیتیں فرمائیں۔
شیعہ روایات میں بیان ہوا ہے کہ جبرئیلؑ اور دیگر ملائکہ اس وصیت کے گواہ تھے۔ ان روایات میں اہلِ بیتؑ پر آنے والے مستقبل کے مصائب اور حضرت امیرالمؤمنینؑ کے حقوق کے غصب ہونے کی خبر بھی بیان ہوئی ہے۔
یہ وصیتیں صرف ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی پیغام رکھتی ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ کے بعد اہلِ بیتؑ کی ہدایت اور ان کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔
۳۔ رسولِ اکرم ﷺ کی تجہیز و تکفین
رسولِ خدا ﷺ کی رحلت کے بعد حضرت امیرالمؤمنین علیؑ نے آپ ﷺ کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری انجام دی۔
روایات کے مطابق حضرت علیؑ نے رسولِ خدا ﷺ کو غسل دیا اور نمازِ جنازہ ادا کی۔ آپ ﷺ کے اصحاب اور اہلِ بیتؑ آپ ﷺ کے وصال کے غم میں مبتلا تھے۔
رسولِ خدا ﷺ کی وفات امت کے لیے ایک عظیم آزمائش تھی۔ جس ہستی نے اپنی پوری زندگی امت کی ہدایت میں گزاری، اس کے بعد امت کو ایک مضبوط نظامِ ہدایت کی ضرورت تھی۔
۴۔ رسولِ خدا ﷺ کی تدفین
حضرت امیرالمؤمنینؑ نے رسولِ خدا ﷺ کو اسی مقام پر دفن کرنے کا فیصلہ کیا جہاں آپ ﷺ کی روحِ مبارک قبض ہوئی تھی۔
چنانچہ رسولِ اکرم ﷺ کو آپ کے حجرۂ مبارک میں سپردِ خاک کیا گیا۔
یہ مقام آج بھی مسلمانوں کے لیے سب سے مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے اور مدینہ منورہ آنے والے زائرین رسولِ خدا ﷺ کی بارگاہ میں سلام پیش کرتے ہیں۔
۵۔ رسولِ خدا ﷺ کی زندگی پر ایک مختصر نظر
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ ﷺ کے والد حضرت عبداللہ آپ ﷺ کی ولادت سے قبل یا ابتدائی عمر میں ہی دنیا سے رحلت کر گئے۔
چھوٹی عمر میں والدہ حضرت آمنہ بنت وہبؑ کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ کی پرورش پہلے دادا حضرت عبدالمطلب اور پھر چچا حضرت ابوطالبؑ نے فرمائی۔
۲۵ برس کی عمر میں حضرت خدیجۃ الکبریٰؑ سے آپ ﷺ کا نکاح ہوا۔ ۴۰ برس کی عمر میں آپ ﷺ کو منصبِ رسالت عطا ہوا۔
آپ ﷺ نے مکہ میں تیرہ برس تک توحید اور اسلام کی دعوت دی، پھر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مدینہ میں تقریباً دس سال دینِ اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کیا اور بالآخر ۲۸ صفر سنہ ۱۱ ہجری کو اس دنیا سے رحلت فرمائی۔
۶۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا غم
رسولِ اکرم ﷺ کی رحلت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے ناقابلِ برداشت صدمہ تھی۔
آپؑ اپنے بابا کی جدائی میں شدید گریہ فرماتی تھیں۔ رسولِ خدا ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں حضرت فاطمہؑ کو اپنے قریب بلایا اور ایک رازدارانہ گفتگو فرمائی۔
روایت کے مطابق آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کو خبر دی کہ اہلِ بیتؑ میں سب سے پہلے وہی آپ ﷺ سے ملاقات کریں گی۔ اس بشارت سے حضرت فاطمہؑ کا حزن کچھ کم ہوا۔
یہ واقعہ باپ اور بیٹی کے درمیان بے مثال محبت اور اہلِ بیتؑ کے روحانی مقام کی عکاسی کرتا ہے۔
۷۔ آغازِ امامتِ حضرت امیرالمؤمنین علیؑ
رسولِ خدا ﷺ کی رحلت کے بعد حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی امامت کا دور شروع ہوا۔
شیعہ عقیدے کے مطابق حضرت علیؑ رسولِ اکرم ﷺ کے بعد امت کے منصوص امام اور جانشین تھے۔ واقعۂ غدیر میں رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ»
یعنی جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔
لہٰذا ۲۸ صفر حضرت امیرالمؤمنینؑ کی امامت کے آغاز کے اعتبار سے بھی ایک اہم دن ہے۔
اس دن حضرت علیؑ کی زیارت کی بھی روایات میں تاکید ملتی ہے۔
۸۔ خلافت کے غصب کا آغاز
شیعہ تاریخی نقطۂ نظر کے مطابق رسولِ خدا ﷺ کی رحلت کے فوراً بعد امت کو درپیش سب سے بڑا سیاسی مسئلہ خلافت اور جانشینی کا تھا۔
حضرت علیؑ کو رسولِ خدا ﷺ نے مختلف مواقع پر اپنی جانشینی اور ولایت کے لیے متعارف کرایا تھا، خصوصاً واقعۂ غدیر میں۔
لیکن رسولِ اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں ایک سیاسی صورتِ حال پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں حضرت علیؑ کی خلافت فوری طور پر قائم نہ ہوسکی۔
شیعہ مکتبِ فکر میں اسے حقِ خلافت کے غصب اور واقعۂ غدیر کے عہد کو توڑنے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
یہ مسئلہ اسلامی تاریخ کے اہم ترین موضوعات میں سے ہے اور اس پر صدیوں سے علمی و تاریخی بحث جاری ہے۔
۹۔ شہادتِ امام حسن مجتبیٰؑ
۲۸ صفر کی ایک اہم نسبت حضرت امام حسن مجتبیٰؑ کی شہادت بھی ہے۔
مشہور شیعہ قول کے مطابق امام حسنؑ کی شہادت سنہ ۵۰ ہجری میں ہوئی۔ البتہ تاریخی روایات میں تاریخِ شہادت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض روایات ۷ صفر اور بعض آخرِ صفر یا دیگر تاریخوں کو بیان کرتی ہیں۔
امام حسنؑ، حضرت امیرالمؤمنین علیؑ اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فرزند اور رسولِ خدا ﷺ کے نواسے تھے۔
آپؑ کی پوری زندگی حلم، بردباری، سخاوت، عبادت اور دین کی حفاظت سے عبارت تھی۔
۱۰۔ امام حسنؑ کی مسمومیت
روایات کے مطابق امام حسنؑ کو زہر دیا گیا اور آپؑ طویل مدت تک اس زہر کی تکلیف برداشت کرتے رہے۔
شیعہ تاریخی مصادر میں جعدہ بنت اشعث کے ذریعے امام حسنؑ کو زہر دیے جانے اور معاویہ کی طرف سے اس سازش میں کردار ادا کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔
تاہم تاریخی روایات کی تفصیلات میں اختلاف بھی موجود ہے، اس لیے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے مستند مصادر اور روایت کے درجے کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
امام حسنؑ نے اپنے بھائی حضرت امام حسینؑ کو اپنی شہادت کے بعد کے حالات کے بارے میں وصیت فرمائی اور انہیں صبر و حکمت کی تلقین کی۔
۱۱۔ امام حسنؑ کی آخری وصیت
جب امام حسنؑ کی شہادت کا وقت قریب آیا تو آپؑ نے اپنے بھائی حضرت سیدالشہداء امام حسینؑ کو وصیت فرمائی کہ آپؑ کو رسولِ خدا ﷺ کے جوار میں دفن کرنے کی کوشش کی جائے، لیکن اگر اس سلسلے میں خونریزی کا خطرہ ہو تو آپؑ کی وصیت کے مطابق بقیع میں دفن کیا جائے۔
یہ وصیت امام حسنؑ کی بصیرت اور امت کے خون کی حفاظت کے جذبے کی عظیم مثال ہے۔
آپؑ جانتے تھے کہ دشمن کسی بھی بہانے سے مسلمانوں کے درمیان خونریزی کروا سکتا ہے، اسی لیے آپؑ نے اپنے بھائی کو صبر اور عدمِ تصادم کی وصیت فرمائی۔
۱۲۔ تشییعِ جنازۂ امام حسنؑ
امام حسنؑ کی شہادت کے بعد امام حسینؑ نے آپؑ کی تجہیز و تکفین انجام دی۔
روایات کے مطابق جب امام حسنؑ کے جنازے کو رسولِ خدا ﷺ کے روضۂ اقدس کی طرف لے جایا گیا تو وہاں شدید مخالفت سامنے آئی۔
آخرکار امام حسنؑ کو ان کی وصیت کے مطابق جنت البقیع میں حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کے قریب دفن کیا گیا۔
امام حسنؑ کی تدفین کا واقعہ تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی دردناک باب ہے۔ یہ واقعہ اہلِ بیتؑ کی مظلومیت اور صبر و استقامت کی تصویر پیش کرتا ہے۔
۱۳۔ امام حسنؑ کی سیرت کا پیغام
حضرت امام حسن مجتبیٰؑ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کی حفاظت صرف میدانِ جنگ میں تلوار اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ کبھی صلح، کبھی خاموشی، کبھی صبر اور کبھی قربانی بھی دین کی حفاظت کا ذریعہ بنتی ہے۔
امام حسنؑ نے ایسے دور میں امامت کی ذمہ داری سنبھالی جب حالات انتہائی پیچیدہ تھے۔ آپؑ نے امت کے وسیع تر مفاد اور دین کے تحفظ کو مقدم رکھا۔
اسی لیے امام حسنؑ کی سیرت ہمیں بصیرت، صبر، حکمت، اخلاق اور ایثار کا درس دیتی ہے۔
۱۴۔ ۲۸ صفر کا مرکزی پیغام
۲۸ صفر ہمیں تین عظیم حقیقتوں کی یاد دلاتا ہے:
پہلی: رسولِ اکرم ﷺ کی رحلت ہمیں قرآن، سنت اور سیرتِ نبوی ﷺ سے وابستگی کی دعوت دیتی ہے۔
دوسری: حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کی امامت ہمیں ولایت اور اہلِ بیتؑ کی اطاعت کی اہمیت سمجھاتی ہے۔
تیسری: امام حسن مجتبیٰؑ کی شہادت ہمیں صبر، حکمت، قربانی اور دین کے تحفظ کا درس دیتی ہے۔
اختتامیہ
۲۸ صفر صرف ایک تاریخی تاریخ نہیں بلکہ ایمان، ولایت، محبت اور ذمہ داری کا دن ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے اپنی پوری زندگی انسانیت کی ہدایت کے لیے وقف کردی۔ آپ ﷺ نے ایک ایسی امت کی بنیاد رکھی جسے قرآن، توحید، اخلاق اور عدل کا راستہ دکھایا۔
آپ ﷺ کے بعد حضرت علیؑ نے امامت و ولایت کی ذمہ داری سنبھالی اور اہلِ بیتؑ نے اپنی پوری زندگی اسلام کی حفاظت کے لیے قربان کردی۔
حضرت امام حسن مجتبیٰؑ نے صبر اور حکمت کے ذریعے دین کی حفاظت کی اور آخرکار زہر کی اذیت برداشت کرتے ہوئے شہادت کا جام نوش فرمایا۔
لہٰذا ۲۸ صفر کا حقیقی پیغام یہ ہے کہ ہم رسولِ خدا ﷺ سے محبت کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھیں بلکہ آپ ﷺ کی سیرت کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے وابستہ رہیں، حق و عدل کا ساتھ دیں، صبر و اخلاق کو اختیار کریں اور دین و انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔
پروردگار ہمیں رسولِ اکرم ﷺ کی سچی محبت، اہلِ بیتؑ کی معرفت، ولایت پر استقامت اور ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللّٰهم صلّ على محمد وآل محمد وعجّل فرجهم









آپ کا تبصرہ