حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جونپور/ ہندوستان میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے نمائندۂ حجۃ الاسلام والمسلمین کمال حسینی نے جامعہ خدیجۃ الکبریٰ جونپور کا دورہ کیا، جہاں جامعہ کی انتظامیہ، اساتذہ اور طالبات نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر طالبات نے ان سے ملاقات کی اور ان کی اخلاقی و تربیتی گفتگو سے استفادہ کیا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین کمال حسینی نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے درسِ اخلاق و تربیت پیش کیا اور علم کے حصول کے ساتھ اخلاقی، روحانی اور ہمہ جہت تربیت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علم حاصل کرنا صرف دینی علوم تک محدود نہیں، بلکہ دینی تعلیم و تربیت کے ساتھ عصرِ حاضر کے علوم اور جدید علمی و فنی شعبوں سے واقفیت بھی ایک باشعور اور مؤمن انسان کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے طالبات کو قرآن کریم، معارف اہل بیت علیہم السلام اور دینی علوم کے ساتھ ساتھ علمی، ثقافتی، سماجی اور تخصصی شعبوں میں بھی آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ترغیب دی۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہر طالبہ مختلف میدانوں میں اپنی خدمات انجام دے سکتی ہے؛ کوئی تعلیم و تربیت کے شعبے میں، کوئی علمی و تحقیقی میدان میں، کوئی ثقافتی و سماجی سرگرمیوں میں اور کوئی دیگر ذمہ داریوں میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ انسان جس بھی مقام پر ہو، محنت، اخلاص، علم اور اخلاق کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے اور معاشرے و آنے والی نسلوں کے لیے خیر و خدمت کا ذریعہ بنے۔

نمائندۂ جامعۃ المصطفیٰ ہند نے تقویٰ، حسنِ اخلاق، دوسروں کے احترام، احساسِ ذمہ داری، نظم و ضبط اور فرامینِ الٰہی پر عمل کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علم اسی وقت مؤثر اور بامقصد ہوتا ہے جب اس کے ساتھ اخلاق و معنویت بھی ہو۔ ایک طالبہ کو علمی ترقی کے ساتھ اپنی اخلاقی اور روحانی نشوونما پر بھی توجہ دینی چاہیے، تاکہ اس کا کردار دینی تعلیمات اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی عکاسی کرے۔
انہوں نے طالبات کو دورانِ تعلیم حاصل ہونے والے مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے، اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھنے اور مزید محنت کرنے کی تلقین کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان خواتین علم حاصل کرکے، ایمان و اخلاق کو مضبوط بناکر اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے مستقبل میں خاندان اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔

اس موقع پر جامعہ کی مدیریہ، اساتذہ اور دیگر ذمہ داران کے ساتھ ایک خصوصی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں جامعہ کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں، طالبات کی تعلیمی صورتِ حال، دینی و ثقافتی پروگراموں اور طالبات کی تربیت کے حوالے سے گفتگو اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس دوران علمی و تربیتی سرگرمیوں کو مزید مستحکم اور وسعت دینے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔
واضح رہے کہ جامعہ خدیجۃ الکبریٰ، جونپور، طالبات کی دینی و عصری تعلیم، اخلاقی و روحانی تربیت اور علمی و فکری نشوونما کے لیے سرگرمِ عمل ہے، جہاں تعلیم و تربیت کے ذریعے باشعور، مؤمن اور باصلاحیت نسل کی پرورش پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔









آپ کا تبصرہ