تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
جب امریکہ و اسرائیل نے بم برسائے، ایران نے جنگ کے اندر بھی انسان کو دیکھا
جنگ صرف ہتھیاروں کا مقابلہ نہیں ہوتی؛ جنگ دراصل انسانی اخلاق کا سب سے بڑا امتحان ہوتی ہے۔ میزائل چلتے ہیں، ڈرون اڑتے ہیں، طیارے بم برساتے ہیں، دفاعی نظام آسمان کو روشن کرتے ہیں۔ یہ سب جنگ کی مجبوریوں کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ طاقت رکھنے والا اپنے دشمن کے ساتھ کیا کرتا ہے اور بے گناہ انسان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل کی جنگی کارروائیوں پر دنیا کو سنجیدگی سے سوال اٹھانا چاہیے۔ اسکول کہاں ہوتے ہیں؟ جہاں بچے پڑھتے ہیں۔ اسپتال کہاں ہوتے ہیں؟ جہاں زخمی اور بیمار انسان زندگی کی امید لیے پڑے ہوتے ہیں۔ بازار کہاں ہوتے ہیں؟ جہاں عام لوگ اپنے بچوں کے لیے روٹی، دوا اور روزمرہ کی ضرورتیں خریدنے جاتے ہیں۔ رہائشی عمارتیں کہاں ہوتی ہیں؟ جہاں خاندان اپنے گھروں میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ جب بم ان مقامات تک پہنچتے ہیں تو جنگ کا سب سے خوفناک چہرہ سامنے آتا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران اسکولوں، جہاں بے گھر خاندان پناہ لیے ہوئے تھے، اور بازاروں کے قریب حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ اور جب جنگ ایران تک پہنچی تو اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن نے بھی اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تہران کے ایک رہائشی کمپلیکس میں شہریوں اور ایرانی ہلالِ احمر کے امدادی کارکنوں کی ہلاکت، بچوں کے لیے ایک کلینک اور ایک اسپتال کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصولوں کے حوالے سے سنگین خدشات ظاہر کیے۔ یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ بم کس نے گرایا۔ سوال یہ ہے: کیا انسان کی جان اتنی معمولی چیز ہے کہ جنگ کے نام پر اسکول، اسپتال، گھر اور بازار بھی محفوظ نہ رہیں؟
ایران پر حملہ ہوا، اس کی سرزمین کو نشانہ بنایا گیا، اس کے فوجی اور دفاعی مراکز پر حملے ہوئے، اس کے اہلکار مارے گئے، اس کے سائنسی اور دفاعی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسی صورتحال میں ایران کے پاس جواب دینے کے لیے میزائل تھے، ڈرون تھے، دفاعی صلاحیت تھی اور دشمن کے اندر دور تک پہنچنے کی طاقت بھی۔ مگر ایران کے سامنے ایک بنیادی اخلاقی انتخاب تھا: کیا دشمن کے عام شہریوں کو بھی دشمن سمجھ لیا جائے، یا جنگ کو فوجی اہداف تک محدود رکھنے کی کوشش کی جائے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ایران کے جنگی کردار کا ایک ایسا پہلو سامنے آتا ہے جسے مغربی میڈیا اور ایران مخالف بیانیہ اکثر نظر انداز کر دیتا ہے: ایران نے یہ پیغام دیا کہ دشمن کی فوج سے لڑا جا سکتا ہے، مگر ہر شہری دشمن نہیں ہوتا۔ یہ معمولی بات نہیں۔ یہ جنگی اخلاق ہے۔ یہ انسانی تہذیب کا اصول ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ سرحد کے دوسری طرف رہنے والا انسان بھی انسان ہے۔
امریکہ کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوجوں میں سے ایک ہے۔ اسرائیل کے پاس جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی، فضائی طاقت، میزائل اور دفاعی نظام موجود ہیں۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ کس کے پاس زیادہ طاقت ہے۔ اصل سوال یہ ہے: طاقت استعمال کرتے ہوئے کس نے انسانیت کو زیادہ اہمیت دی؟ کیونکہ طاقتور ہونا کوئی کمال نہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ طاقتور ہونے کے باوجود بے گناہ کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ ایک میزائل کسی عمارت کو گرا سکتا ہے، لیکن ایک اخلاقی اصول پوری تہذیب کو بچا سکتا ہے۔
جنگ اور بربریت میں فرق ہے۔ دفاع اور انتقام میں فرق ہے۔ فوجی ہدف اور شہری آبادی میں فرق ہے۔ سپاہی اور بچے میں فرق ہے۔ کمانڈ سینٹر اور اسپتال میں فرق ہے۔ میزائل اڈے اور بازار میں فرق ہے۔ جس جنگ میں یہ فرق باقی رہے، وہاں اخلاق ابھی زندہ ہے، اور جس جنگ میں یہ فرق مٹ جائے، وہاں طاقت اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتی ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون بھی یہی بنیادی اصول بیان کرتا ہے کہ فریقین کو شہریوں اور فوجی اہداف کے درمیان امتیاز کرنا چاہیے، جبکہ اسکول، اسپتال اور دیگر شہری مقامات خصوصی تحفظ رکھتے ہیں۔
ایران کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کی ہر کارروائی کو آنکھیں بند کرکے درست مان لیا جائے۔ اصولی حمایت، اندھی حمایت نہیں ہوتی۔ لیکن جب ایک قوم پر حملہ ہو اور وہ جواب دیتے ہوئے یہ اصول سامنے رکھے کہ جنگ کا اصل میدان فوجی طاقت ہے، عام شہری نہیں، تو اس اصول کی حمایت ضرور ہونی چاہیے۔ ایران کی حمایت دراصل اس سوال کی حمایت ہے: کیا دفاع کرتے ہوئے بھی انسانیت کو زندہ رکھا جا سکتا ہے؟ ہم کہتے ہیں: ہاں! اور ایران کی جنگ نے دنیا کو کم از کم یہ بحث ضرور دی ہے کہ جدید جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز سے نہیں جیتی جاتی؛ جنگ کا اخلاقی معیار بھی ہوتا ہے۔
اگر آپ کے پاس دنیا کے جدید ترین ہتھیار ہیں تو کیا آپ کو ہر جگہ بم گرانے کا حق بھی مل جاتا ہے؟ اگر آپ کسی ملک کو دہشت گردی کا الزام دے کر حملہ کرتے ہیں تو کیا اس ملک کے بچے بھی آپ کے دشمن بن جاتے ہیں؟ اگر ایک اسکول میں بچے ہوں تو کیا وہ صرف اس لیے جائز ہدف بن سکتا ہے کہ آپ کو وہاں کوئی فوجی سرگرمی کا شبہ ہے؟ اگر ایک اسپتال میں مریض ہوں تو کیا ان کی زندگی جنگی نقشے پر ایک معمولی عدد ہے؟ اگر بازار میں لوگ اپنے بچوں کے لیے کھانا خرید رہے ہوں تو کیا وہ بھی جنگ کا حصہ ہیں؟ نہیں! انسانی جان کسی جھنڈے، مذہب، قومیت یا سیاسی وابستگی کی محتاج نہیں۔ بچہ، بچہ ہے۔ مریض، مریض ہے۔ بوڑھا، بوڑھا ہے۔ ماں، ماں ہے۔ اور انسان، انسان ہے۔
ایران یہ کہتا دکھائی دیتا ہے: ہمیں جنگ مسلط کی جائے گی تو ہم دفاع کریں گے۔ ہم پر حملہ ہوگا تو جواب دیں گے۔ ہم اپنی سرزمین اور خودمختاری کا دفاع کریں گے۔ لیکن ہماری طاقت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انسانیت سے دستبردار ہو جائیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اگر جنگ کا جواب جنگ ہے تو یہ سیاسی اور عسکری معاملہ ہے، لیکن اگر جنگ کا جواب انسانیت کے ساتھ دیا جائے تو یہ تہذیبی معاملہ بن جاتا ہے۔
ایران کے پاس میزائل ہیں۔ ایران کے پاس ڈرون ہیں۔ ایران کے پاس دفاعی نظام ہے۔ لیکن ایران کی سب سے بڑی طاقت اس کا میزائل نہیں۔ اس کی اصل طاقت یہ اخلاقی اصول ہونا چاہیے کہ دشمن سے جنگ کی جائے، دشمن کے ہر شہری سے نہیں۔ اور اگر ایران اس اصول کو برقرار رکھتا ہے تو یہ اس کی ایسی کامیابی ہے جسے صرف عسکری نقشے پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ کیونکہ تاریخ صرف یہ نہیں پوچھے گی: کس کے پاس کتنے میزائل تھے؟ تاریخ یہ بھی پوچھے گی: جب تمہارے پاس طاقت تھی تو تم نے انسان کے ساتھ کیا کیا؟
امریکہ اور اسرائیل اگر اپنی بے پناہ عسکری طاقت کے باوجود اسکولوں، اسپتالوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں عام انسانوں کے تحفظ کے بنیادی اصولوں پر سوالات پیدا کرتے ہیں، تو ان کی عسکری برتری خود بخود اخلاقی برتری نہیں بن جاتی۔ دوسری طرف ایران اگر اپنے دفاع کے ساتھ شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کو اصول بناتا ہے تو یہی اس کی اخلاقی طاقت ہے۔ دنیا کو آج ایسی طاقت کی ضرورت ہے جو دشمن کو شکست دے سکے، مگر انسانیت کو شکست نہ دے۔
اور شاید ایران کی جنگ کا سب سے اہم سبق یہی ہے: جنگ لڑو، مگر انسانیت نہ مارو۔ دشمن کا مقابلہ کرو، مگر ہر شہری کو دشمن نہ سمجھو۔ اپنی سرزمین کا دفاع کرو، مگر انسانی اقدار کو اپنی سرحد کے باہر بھی زندہ رکھو۔ کیونکہ میزائل جنگ کا رخ بدل سکتے ہیں، ڈرون میدان بدل سکتے ہیں، ٹیکنالوجی طاقت کا توازن بدل سکتی ہے؛ مگر اخلاق ہی تاریخ کا فیصلہ بدلتا ہے۔
اور اسی لیے ایران کی حمایت صرف ایک ملک کی حمایت نہیں؛ یہ اس اصول کی حمایت بھی ہے کہ جنگ کے سب سے خوفناک لمحے میں بھی انسان کو انسان سمجھا جائے۔









آپ کا تبصرہ