تحریر: مولانا عبد الحسین موسوی صفوی
حوزہ نیوز ایجنسی | ہم شیعہ اثنا عشری، ائمہ اہل بیت علیہم السلام کو اللہ کی جانب سے مقرر کردہ اپنے ائمہ و رہنما مانتے ہیں۔ یہی ہماری اعتقادی اور فقہی شناخت کی بنیاد ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ فقہِ اہل بیتؑ، بالخصوص امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی و فقہی شخصیت کو تاریخِ اسلام کے دیگر معروف فقہا نے کس نظر سے دیکھا اور ان کے علمی مقام کا کس حد تک اعتراف کیا؟
عباسی دور میں جب اسلامی سلطنت کا دائرہ وسیع ہوا اور مختلف علاقوں، معاشروں اور نئے حالات کے باعث نت نئے مسائل سامنے آنے لگے تو ان کے حل کے لیے فقہی اصول و قوانین کی ضرورت مزید محسوس ہوئی۔ اس دور میں فقہا اور مفتیان کی تعداد بھی بڑھ رہی تھی اور مختلف مسائل میں متعدد آرا اور فتوے سامنے آ رہے تھے۔ چنانچہ ریاستی سطح پر بعض معروف فقہا اور فقہی آرا کو ترجیح دینے کا سلسلہ شروع ہوا۔
اسی تاریخی پس منظر میں جب فقہِ اہل بیتؑ، خصوصاً امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی میراث اور فقہی منہج سامنے آتا ہے تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ آپؑ اپنے عہد کے ممتاز ترین علمی مراکز میں ایک مرکزی مقام رکھتے تھے۔ تاہم فقہِ آلِ محمدؐ کو ریاستی سطح پر بنیادی فقہی مرجعیت دینا عباسی اقتدار کی سیاسی و مذہبی مشروعیت پر سوالات کھڑے کر سکتا تھا؛ چنانچہ دیگر فقہی مکاتب کو زیادہ نمایاں حیثیت حاصل ہوئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ائمہ اور فقہا کے فقہی مکاتب بعد میں مستقل حیثیت اختیار کر گئے، ان میں سے متعدد نے براہِ راست یا بالواسطہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے استفادہ کیا اور آپؑ کے علمی مقام کا اعتراف بھی کیا۔
امام ابو حنیفہ (وفات: 150ھ) امام جعفر صادق علیہ السلام سے علمی استفادے کے حوالے سے معروف ہیں۔ ان سے منسوب ہے کہ انہوں نے کہا:
"میں نے جعفر بن محمد سے بڑا کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔"
اسی طرح ان سے یہ قول بھی منقول ہے:
"اگر وہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔"
یعنی امام جعفر صادق علیہ السلام کی صحبت میں گزارے ہوئے عرصے کو وہ اپنی علمی زندگی کے لیے انتہائی اہم سمجھتے تھے۔
امام مالک بن انس (وفات: 179ھ) بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کے علمی و اخلاقی مقام کے معترف تھے۔ ان سے منقول ہے:
"کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور کسی انسان کے دل میں یہ خیال نہیں آیا کہ علم، عبادت اور تقویٰ میں جعفر بن محمد سے بڑھ کر بھی کوئی ہو سکتا ہے۔"
امام شافعی (وفات: 204ھ) کی تصانیف میں بھی امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول روایات ملتی ہیں۔ آپؑ کو علمِ حدیث میں معتبر اور ثقہ راویوں میں شمار کیا گیا ہے۔
اسی طرح امام احمد بن حنبل (وفات: 241ھ) کے حوالے سے بھی امام جعفر صادق علیہ السلام کے علمی اور حدیثی مقام کے بارے میں اقوال منقول ہیں۔ ان کے نزدیک امام جعفر صادق علیہ السلام کی اپنے والد امام محمد باقر علیہ السلام اور اپنے جدّ امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کردہ احادیث نہایت معتبر سند کی حامل تھیں۔
یہ تمام شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی علمی، فقہی، حدیثی اور اخلاقی شخصیت اپنے عہد کے بڑے اہلِ علم کے درمیان بھی غیر معمولی مقام رکھتی تھی۔
تو پھر ہم شیعہ کس امام سے منسوب ہوئے؟
یہاں اصل سوال کی طرف واپس آتے ہیں:
جب امام جعفر صادق علیہ السلام کا علمی مقام اتنا نمایاں تھا اور متعدد معروف فقہا نے آپؑ سے براہِ راست یا بالواسطہ استفادہ کیا، تو ہم شیعہ کس امام سے منسوب ہوئے؟
جواب بالکل واضح ہے:
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
ہماری فقہی نسبت فقہِ جعفری اور ہماری شناخت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہے؛ کیونکہ ہم ائمہ اہل بیت علیہم السلام کو اپنے شرعی و دینی رہبر مانتے ہیں۔
یہی اس سلسلے کے پہلے حصے کا بنیادی نکتہ ہے: امام جعفر صادق علیہ السلام صرف شیعہ مکتب فکر کے امام ہی نہیں، بلکہ اسلامی علمی تاریخ کی ایک ایسی عظیم شخصیت ہیں جن کے علمی مقام کا اعتراف مختلف فقہی مکاتب کے اکابر نے بھی کیا ہے۔









آپ کا تبصرہ