حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ نے پاکستان کے معروف قرآنی آرٹسٹ شاہنواز حسینی سے ان کے فن، قرآنِ کریم سے تعلق، اس منفرد کاوش کے آغاز، مشکلات اور مستقبل کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی ہے۔
شاہنواز حسینی انہی اہلِ ذوق میں شامل ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی آیات اور اہلِ بیت علیہم السلام سے مروی ادعیہ کو ایک منفرد اور غیر معمولی فنّی انداز میں پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ وہ دھاگے، انگلیوں اور لکڑی کی پنسل نما ڈنڈی کی مدد سے قرآنِ کریم کی آیات اور دعاؤں کو فن پاروں کی صورت میں تخلیق کرتے ہیں۔
شاہنواز حسینی کا تعلق پنجاب کے ضلع لیہ کے ایک زمیندار گھرانے سے ہے۔ انہوں نے کراچی پولیس میں بطور انسپکٹر خدمات انجام دیں اور 2004ء میں ریٹائر ہوئے۔ دورانِ ملازمت دس سے زائد تھانوں میں ایس ایچ او سمیت مختلف اہم ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور فرض شناسی سے انجام دیں۔ تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کو بڑی حد تک قرآنِ کریم کے اس منفرد فن کے لیے وقف کر دیا۔
5 اور 6 ستمبر، بروز ہفتہ و اتوار، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی کے زیر اہتمام مسجد و امام بارگاہ شریکۃ الحسین میں ان کے قرآنی آیات اور ادعیہ پر مشتمل روح پرور فن پاروں کی نمائش منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شاہنواز حسینی خود بھی صبح سے شام تک موجود رہے اور آنے والے شائقین کو اپنے اس منفرد فن کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرتے رہے۔ اسی فن سے متعلق حوزہ نیوز کے نمائندہ کے ساتھ ان کی گفتگو کے خلاصہ کو ذیل میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:
حوزہ نیوز: سب سے پہلے اپنا مختصر تعارف اور اس منفرد فن کے آغاز کے بارے میں بتائیے۔
شاہنواز حسینی: میرا تعلق پنجاب کے ضلع لیہ سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے کے ایک مقامی اسکول سے حاصل کی۔ میں پیدائشی طور پر فنِ مصوری سے شغف رکھتا تھا۔ زمانۂ طالب علمی میں قائداعظم محمد علی جناح، علامہ اقبال اور دیگر مسلم قائدین کی تصاویر پنسل سے بنایا کرتا تھا۔ میری بنائی ہوئی بعض تصاویر آج بھی میرے گاؤں کے اسکول میں موجود ہیں۔

2002ء میں پہلی مرتبہ قرآنِ کریم میں مذکور اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ کی خطاطی کی۔ میرا مقصد یہ تھا کہ قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کا تعارف ایک منفرد فنّی انداز میں پیش کیا جائے۔ اسی کام کی 2002ء میں آرٹس کونسل میں نمائش بھی ہوئی جبکہ اس کے دو فریم آج بھی کراچی ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔
تقریباً تین سال بعد میں نے پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمِ مبارک پر بھی کام کیا۔ قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نامِ مبارک کو نمایاں کیا اور سورۂ نجم اور سورۂ بنی اسرائیل میں مذکور آیات، خصوصاً «سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ» کو تصویری انداز میں پیش کیا۔
یہ سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تصویری صورت میں پیش کرنے کی ایک منفرد کوشش تھی۔ اس سے پہلے سیرتِ طیبہ زیادہ تر تحریری انداز میں پیش کی جاتی رہی تھی، میں نے کوشش کی کہ اسے ایک نئے فنّی انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔
حوزہ نیوز: دھاگے کے ذریعہ قرآنِ کریم اور ادعیہ لکھنے کا خیال آپ کے ذہن میں کیسے آیا؟
شاہنواز حسینی: اگرچہ فن میرے مزاج اور فطرت میں شامل تھا لیکن دھاگے کے اس فن کی باقاعدہ بنیاد ایک قیدی کے ذریعہ پڑی۔ ایک مرتبہ ایک قیدی نے مجھے میرے نام کا ایک قلم دھاگے سے بنا کر دیا۔ مجھے یہ کام بہت دلچسپ لگا اور میں نے اسی قیدی سے اس فن کا بنیادی طریقہ سیکھا۔
بظاہر یہ چند منٹ کا کام محسوس ہوتا ہے لیکن اصل مہارت یہ ہے کہ دھاگے کے کام کا آغاز اور اختتام کس طرح کیا جائے۔ فن میں ابتدا اور انتہا دونوں بہت اہم ہوتے ہیں۔ بنیادی طریقہ سمجھ میں آنے کے بعد مسلسل مشق سے کام میں بہتری آتی چلی جاتی ہے۔
ابتدا میں میں نے دھاگے سے قلم بنانا شروع کیے۔ شروع میں میرے بنائے ہوئے قلم ٹیڑھے میڑھے ہوتے تھے۔ میں اپنے رشتہ داروں کو یہ قلم بنا کر دیتا رہا۔ پھر خیال آیا کہ آخر کب تک لوگوں کے نام کے قلم بناتا رہوں گا؟ چنانچہ اس کے بعد اردو اور عربی میں کام شروع کیا۔
عربی خطاطی کی طرف آیا تو نستعلیق، کوفی اور دیگر خطوط میں بھی کام کرنے لگا۔ ابتدا میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم مکمل کرنے میں دو دن لگتے تھے جبکہ اب تقریباً 45 منٹ میں بسم اللہ مکمل کر لیتا ہوں۔ اس کے بعد سورۂ فاتحہ پر کام شروع کیا۔ اسے مکمل کرنے میں ابتدا میں دو ہفتے لگے، جبکہ اب ایک پنسل پر سورۂ فاتحہ تقریباً ایک دن میں مکمل کر لیتا ہوں۔

حوزہ نیوز: مکمل قرآنِ کریم کو اس انداز میں تحریر کرنے کا سلسلہ کب شروع ہوا؟
شاہنواز حسینی: بسم اللہ اور سورۂ فاتحہ کے بعد میں نے قرآنِ کریم کے آخری پارے کا انتخاب کیا کیونکہ اس میں نسبتاً مختصر سورتیں ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ سال کی مسلسل محنت کے بعد آخری پارہ مکمل ہوا۔
اس کام پر ایک ڈاکومنٹری بھی بنائی گئی جسے 7 جنوری 2015ء کو جیو نیوز نے تقریباً ڈھائی منٹ کے دورانیے میں نشر کیا۔ اس ڈاکومنٹری کے ذریعہ میرے اس منفرد فن کو پہلی مرتبہ وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچنے کا موقع ملا۔
حوزہ نیوز: لوگوں کی طرف سے آپ کے فن کو کس طرح پذیرائی ملی؟
شاہنواز حسینی: 2017ء میں کراچی آرٹس کونسل نے پہلی مرتبہ میرے اس فن کی نمائش منعقد کی، جس میں قرآنِ کریم کے 15 پارے پیش کیے گئے۔ لوگوں نے اسے بہت سراہا اور ایک منفرد اور نئے انداز کے طور پر دیکھا۔
مارچ 2022ء میں نیشنل میوزیم کراچی میں پورے قرآنِ کریم کی نمائش منعقد ہوئی، جو تقریباً دو ماہ جاری رہی۔ رمضان اور عید کے بعد بھی ایک گیلری میں قرآنِ کریم کے یہ فن پارے رکھے گئے اور تقریباً دو سال تک وہاں موجود رہے۔
جب امیر مقام صاحب وفاقی وزیرِ ثقافت تھے تو انہوں نے اسلام آباد میں بھی نمائش کی پیشکش کی۔ میں قرآنِ کریم کے فن پارے ٹرک کے ذریعہ اسلام آباد لے کر گیا۔ دسمبر 2020ء میں آرٹس کونسل اسلام آباد میں آٹھ روزہ نمائش منعقد ہوئی۔ آج بھی قرآنِ کریم کے نو پارے اسلام آباد میوزیم میں موجود ہیں جبکہ باقی بیس پارے ایوانِ جوش کراچی میں رکھے ہوئے ہیں۔

حوزہ نیوز: آپ کے اس فن کی سب سے نمایاں اور منفرد خصوصیت کیا ہے؟
شاہنواز حسینی: میرے علم کے مطابق یہ دنیا کا ایک منفرد فن ہے۔ اس میں نہ سوئی استعمال ہوتی ہے، نہ سیاہی، نہ کپڑا اور نہ کاغذ۔ صرف دھاگے کو انگلیوں کی مدد سے لکڑی کی ایک ڈنڈی کے ذریعہ مخصوص انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔
یہ قرآنِ کریم کا اپنی نوعیت کا پہلا دھاگے سے تیار کردہ نسخہ ہے۔ قرآنِ کریم تاریخ میں ہاتھ سے بھی لکھا گیا، بعد میں طباعت کے ذریعہ عام ہوا، سلائی کے ذریعہ بھی تیار کیا گیا اور سونے چاندی سے لکھے گئے نسخے بھی موجود ہیں۔ بعض مقامات پر لکڑی اور دیگر اشیا پر آیاتِ قرآنی کی کندہ کاری بھی کی گئی ہے۔
حوزہ نیوز: آپ اس کام کو عملی طور پر کس طرح انجام دیتے ہیں؟
شاہنواز حسینی: تقریباً بارہ سال کی مدت میں میں نے اس کام کو مکمل قرآنِ کریم کی صورت میں ترتیب دیا ہے۔ اس میں پاروں کے بجائے ہر سورت کے لیے الگ فریم بنایا گیا ہے، اس لیے ہر سورت کے لحاظ سے فریم کا سائز مختلف ہوتا ہے۔
چونکہ لکڑی کے ساتھ شیشہ بھی ضروری ہوتا ہے، اس لیے تمام فریموں کا وزن خاصا زیادہ ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ بقرہ دو فریموں میں آتی ہے۔ تمام فریموں کو ملا کر تقریباً 60 من وزن بنتا ہے۔
حوزہ نیوز: کیا آپ کا یہ فن صرف قرآنِ کریم تک محدود ہے یا اہلِ بیت علیہم السلام سے مروی دعائیں بھی اس میں شامل ہیں؟
شاہنواز حسینی: قرآنِ کریم کے بعد میں نے اہلِ تشیع کی معروف دعاؤں کو بھی اسی انداز میں پیش کیا۔ دعائے توسل، نادِ علی اور دیگر دعاؤں کے علاوہ حدیثِ کسا بھی دھاگے کے ذریعہ فریم کی صورت میں تیار کی ہے۔
میں نے بعض فن پارے مختلف امام بارگاہوں اور دینی مراکز کو ہدیہ کیے ہیں۔ مثلاً نادِ علی علامہ شہنشاہ نقوی صاحب کو تحفے میں دی جبکہ بعض فن پارے نیو رضویہ امام بارگاہ کو ہدیہ کیے۔ اسی طرح دعائے نور کو اردو ترجمے کے ساتھ تیار کرکے اسلامک ریسرچ سینٹر کو بھی ہدیہ کیا ہے۔
اس کام پر بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں، اس لیے میں عموماً اسے فروخت کرنے کے بجائے ہدیہ کر دیتا ہوں۔ میرا مقصد مالی منفعت حاصل کرنا نہیں بلکہ اس فن کو لوگوں تک پہنچانا اور قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی خدمت کرنا ہے۔

حوزہ نیوز: مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی سطح پر آپ کے اس فن کی کس حد تک حوصلہ افزائی ہوئی؟
شاہنواز حسینی: جب لوگ میرا فن دیکھتے ہیں تو بہت داد دیتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی سطح پر کسی بڑے ہال میں اس فن کو مستقل طور پر محفوظ کیا جائے اور لوگوں کے لیے نمائش کا اہتمام ہو۔ اس سلسلے میں علما، دینی اکابر اور مخیر حضرات کو آگے آنا چاہیے اور اس فن کی حفاظت کے لیے مستقل انتظام کرنا چاہیے۔
مومنین کے درمیان اس فن کو متعارف کرانے کے لیے یہاں شریکۃ الحسین میں منعقد ہونے والی یہ پانچویں نمائش ہے۔ اتنے بڑے کام کو سنبھالنا کسی ایک فرد کے لیے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایک پوری ٹیم درکار ہے۔
میں تنہا کام کرتے کرتے تھک جاتا ہوں۔ کبھی کبھار مسلسل محنت کی وجہ سے انگلیاں بھی کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں تو انہیں تیل یا گرم پانی سے سکون دیتا ہوں۔
حوزہ نیوز: کیا حکومتی سطح پر بھی آپ کے فن کی قدر دانی ہوئی؟
شاہنواز حسینی: جی ہاں۔ 2024ء میں صدرِ پاکستان کی جانب سے مجھے تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ مختلف نیوز چینلز نے بھی میرے انٹرویوز کیے اور میرے اس فن کو عوام تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔
یہ کام بہت مہنگا ہے۔ ایک مکمل قرآنِ کریم تیار کرنے پر تقریباً 25 لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ مالی مشکلات کے باوجود میں نے یہ کام جاری رکھا۔ میری اہلیہ نے بھی اپنے زیورات فروخت کرکے اس عظیم کام میں میری مدد کی۔ بعض رشتہ دار بھی حسبِ استطاعت تعاون کرتے ہیں لیکن اس بڑے کام کے لیے یہ تمام وسائل کافی نہیں ہوتے۔

حوزہ نیوز: ریٹائرمنٹ کے بعد قرآنِ کریم کے اس کام کے علاوہ آپ کی کوئی اور مصروفیت بھی ہے؟
شاہنواز حسینی: ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے خود کو تقریباً مکمل طور پر قرآنِ کریم کے اسی کام کے لیے وقف کر دیا ہے۔ مجھے اس فن سے جنون کی حد تک دلچسپی ہے۔
میں زیادہ تر پنسلیں اور دیگر فن پارے بنا کر لوگوں کو ہدیہ کرتا ہوں۔ اس کام سے مجھے قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔ مختلف لوگ مجھ سے یہ فن پارے مانگتے ہیں تو میں خوشی سے انہیں دے دیتا ہوں۔ میری نظر میں کوئی امیر ہو یا غریب، سب برابر ہیں۔
حوزہ نیوز: آخر میں قارئین اور بالخصوص اہلِ علم و مومنین کے لیے کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
شاہنواز حسینی: میرا پیغام ہے کہ حکومت، علما، دینی ادارے اور مخیر حضرات قرآنِ کریم اور دیگر دینی فنون کی حوصلہ افزائی کریں۔ ایسے فنون صرف فنّی اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ قرآنِ کریم اور دینی تعلیمات کے روحانی پیغام کو عام کرنے کا وسیلہ بھی ہیں۔
ہمیں اپنی دینی، تہذیبی اور فنّی میراث کو محفوظ کرنا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں بھی قرآنِ کریم سے ہماری وابستگی اور محبت کے ان مختلف مظاہر سے واقف ہو سکیں۔
میری کوشش صرف ایک فن تخلیق کرنا نہیں بلکہ قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام سے اپنی محبت کو ایک ایسے انداز میں پیش کرنا ہے جو لوگوں کے دلوں کو دین کی طرف متوجہ کرے۔ اگر اس کام کے ذریعہ کسی ایک شخص کے دل میں قرآنِ کریم سے محبت پیدا ہو جائے تو میں اسے اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتا ہوں۔












آپ کا تبصرہ