حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 12 ربیع الاوّل سے 17 ربیع الاوّل تک، امام خمینی (رح) کے فرمان کے مطابق، ہفتۂ وحدت منایا جاتا ہے؛ اسی مناسبت سے استادِ حوزہ علامہ شیخ محمد یوسف عابدی نے ہفتۂ وحدت کی ضرورت، مظلوم مسلم اقوام کی حمایت میں اتحادِ امت کا کردار، علماء، خطباء اور دانشوروں کا اتحادِ امت میں کردار اور مدارس اور جامعات کے نصاب کو تقریب بین المسالک کی خدمت کے لیے کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟ کے عنوان پر حوزہ نیوز سے خصوصی گفتگو کی ہے۔
گفتگو سوال اور جواب کی صورت میں پیش خدمت ہے:
حوزہ: سب سے پہلے ہفتۂ وحدت کی ضرورت اور اہمیت بیان کریں۔
علامہ شیخ یوسف عابدی: ’’ہفتۂ وحدت‘‘ محض چند دنوں کا نام نہیں، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کو اپنے بنیادی تشخص، اپنے مشترکات اور اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔
اسلام نے مسلمانوں کو سب سے پہلے ’’امت‘‘ کے عنوان سے پہچنوایا ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے: إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ.(الأنبیاء: 92) یعنی یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری عبادت کرو۔
اسی طرح سورۂ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا.(آل عمران: 103) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ قرآن ’’واعتصموا‘‘ کہتا ہے؛ یعنی اللہ کی رسی کو اجتماعی طور پر تھامنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نظر میں امت کی اجتماعی وحدت کوئی ثانوی یا اختیاری مسئلہ نہیں بلکہ ایک بنیادی قرآنی ہدایت ہے۔

ہفتۂ وحدت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ مسلم معاشروں میں فقہی، کلامی اور تاریخی اختلافات موجود ہیں۔ یہ اختلافات اپنی جگہ علمی بحث کا موضوع ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں باہمی نفرت، تکفیر، تحقیر اور دشمنی کا ذریعہ بنانا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مسلمان اپنے فقہی یا اعتقادی مکتبِ فکر سے دستبردار ہو جائیں۔ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے دوسرے مسلمان کے ایمان، جان، عزت اور حقوق کا احترام کریں اور ان امور میں متحد ہوں جو پوری امت کے مشترک مسائل ہیں۔
آج دنیا میں مسلمان مختلف سیاسی، اقتصادی اور تہذیبی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں باہمی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کرنا امت کو کمزور کرتا ہے۔ اس لیے امام خمینی کا نظریۂ ہفتۂ وحدت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہماری پہلی شناخت ’’مسلمان‘‘ ہونے کی ہے اور ہمارے مشترکات ہمارے اختلافات سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔
بالخصوص رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے یہ ایام ہمیں اس ذاتِ گرامی کے گرد جمع ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں جو تمام مسلمانوں کے لیے مرکزِ محبت و عقیدت ہیں۔ چنانچہ ہفتۂ وحدت دراصل محبتِ رسولؐ کو اجتماعی اخوت، باہمی احترام اور امت کی وحدت میں تبدیل کرنے کا ایک موقع ہے۔
میرے خیال میں اگر ہفتۂ وحدت صرف چند تقریبات، کانفرنسوں اور نعروں تک محدود رہے تو اس کا حقیقی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ ہمیں اس کو ایک فکری تحریک بنانا چاہیے؛ ایسی تحریک جو مسجد، مدرسہ، یونیورسٹی، میڈیا، منبر اور گھر تک پہنچے اور مسلمانوں کو یہ شعور دے کہ اختلافِ نظر کے باوجود ہم ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ ایک ہی امت کا حصہ ہیں۔
حوزہ: مظلوم مسلم اقوام، خصوصاً فلسطین، کی حمایت میں اتحادِ امت کا کیا کردار ہونا چاہیے؟
استادِ حوزہ: فلسطین کا مسئلہ وحدتِ امت کے لیے ایک عملی امتحان ہے۔ اگر ہم وحدت کی بات صرف کانفرنسوں اور تقریروں میں کریں، لیکن فلسطین، قدس اور دیگر مظلوم مسلمانوں کے مسئلے پر ہماری کوئی اجتماعی آواز نہ ہو تو ہماری وحدت کا دعویٰ کمزور ہوجاتا ہے۔
فلسطین کسی ایک مسلک یا ایک قوم کا مسئلہ نہیں ہے۔ مسجد الاقصیٰ پوری امتِ مسلمہ کے مقدس مقامات میں سے ہے اور خود اسلامی تعاون تنظیم نے بھی فلسطین اور القدس کو اپنی اجتماعی اسلامی کاروائی کا مرکزی مسئلہ قرار دیا ہے۔
قرآنِ کریم کا حکم ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى.(المائدہ: 2) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اسی طرح قرآن مظلوموں کی حمایت کے بارے میں فرماتا ہے:وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ.(النساء: 75)
یہ آیت دنیا کے مستضعفین کے لیے آواز اٹھانے پر تاکید ہے۔
لہٰذا مظلوموں کی حمایت محض سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی، انسانی اور دینی ذمہ داری ہے۔
البتہ امت کی حمایت کو صرف جذباتی اظہار تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ اس کے کئی عملی پہلو ہیں:
سب سے پہلے: عالمِ اسلام کو مظلوم قوموں کے حق میں متحد اور واضح سیاسی و سفارتی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
دوسرا: انسانی امداد، طبی سہولت، خوراک اور تعمیرِ نو کے لیے مؤثر تعاون ہونا چاہیے۔
تیسرا: عالمی سطح پر مظلوموں کی آواز کو قانونی اور سفارتی ذرائع سے مضبوط کیا جانا چاہیے۔
چوتھا: میڈیا اور علمی اداروں کو حقائق دنیا کے سامنے پیش کرنے چاہئیں؛ تاکہ ظلم کو معمول کی خبر بنا کر فراموش نہ کردیا جائے۔
لہٰذا فلسطین کو ہفتۂ وحدت کے پروگراموں کا ایک اہم موضوع ہونا چاہیے، لیکن صرف تقریر کی حد تک نہیں؛ بلکہ امت کو یہ بتانا چاہیے کہ اتحاد کا حقیقی ثمر یہ ہے کہ مظلوم کی حمایت میں ہماری آواز، ہماری فکر اور ہماری اجتماعی صلاحیت ایک سمت میں حرکت کرے۔

حوزہ: علماء، خطباء اور دانشور وحدت کا پیغام کس انداز میں پیش کریں؟
استادِ حوزہ علمیہ امام علی قم المقدسہ: اتحاد و وحدت کے سلسلے میں علماء، خطباء اور دانشوروں کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے، کیونکہ عوام کی ایک بڑی تعداد دین کو منبر، محراب، مدرسہ، دینی رسوم اور دانشور حضرات کے ذریعے سمجھتی ہے۔
سب سے پہلے ہمیں یہ اصول سمجھنا ہوگا کہ وحدت، حقائق کو چھپانے کا نام نہیں؛ بلکہ حقائق کو اخلاق کے ساتھ بیان کرنے کا نام ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے: ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ.(فصلت: 34)
لہٰذا اگر کوئی عالم یا دانشور حضرات دوسرے مکتبِ فکر کے مقدسات کی توہین کرتے ہیں، اشتعال انگیز زبان استعمال کرتے ہیں یا عوام کے درمیان نفرت پیدا کرتے ہیں تو وہ دراصل وحدت کے قرآنی مزاج کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
میری نظر میں خطباء اور دانشور حضرات کو سب سے پہلے مشترکات بیان کرنے چاہئیں: توحید، قرآن، رسول اکرمؐ، قبلہ، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اخلاق، آخرت، اہل بیتؑ سے محبت، صحابۂ رسولؐ کا احترام، مظلوم کی حمایت اور اسلامی اخوت جیسے موضوعات پوری امت کو جوڑتے ہیں۔
دوسری بات: اختلافی مسائل کو علمی سطح پر رکھا جائے۔ اگر کسی مسئلے میں اختلاف ہے تو اسے علمی اختلاف کے طور پر بیان کیا جائے، نہ کہ اسے دشمنی اور نفرت کا عنوان بنا دیا جائے۔
تیسری بات: ہمیں اپنی نئی نسل کی تربیت کرنی ہے۔ نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے ہر طرح کا مواد دیکھ رہے ہیں۔ اگر منبر انہیں علمی، اخلاقی اور منطقی زبان نہیں دے گا تو وہ اشتعال انگیز اور متعصب مواد سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے علماء کو جدید ذرائع ابلاغ، مختصر ویڈیوز، پوڈکاسٹ، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے وحدت کا علمی پیغام نئی زبان میں نوجوانوں تک پہنچانا چاہیے۔
چوتھی بات: وحدت کو مصلحت یا وقتی سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر نہیں بلکہ دینی اصول کے طور پر پیش کیا جائے۔
آخر میں میری گزارش یہ ہوگی کہ عالمِ دین اور دینی ذمہ دار افراد کی زبان لوگوں کو قریب لانے والی ہونی چاہیے، دور کرنے والی نہیں۔ منبر ایسا مقام ہے جہاں ایک جملہ دل جوڑ سکتا ہے اور ایک جملہ نسلوں تک نفرت پیدا کرسکتا ہے۔
لہٰذا ہمیں ایسے منبر کی ضرورت ہے جو عقیدے میں مضبوط، دلیل میں مستحکم، اخلاق میں بلند اور امت کے درد میں مشترک ہو۔
حوزہ: مدارس اور جامعات کے نصاب کو تقریب بین المسالک کے لیے کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟
علامہ شیخ محمد یوسف عابدی: اگر ہم حقیقی اور پائیدار وحدت چاہتے ہیں تو صرف تقریری پروگرام کافی نہیں ہیں؛ ہمیں اپنی نئی نسل کی فکری تربیت کے بنیادی مراکز یعنی مدارس اور جامعات کے نصاب پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
پہلی ضرورت: طلبہ کو دیگر اسلامی مذاہب کے بارے میں براہِ راست اور معتبر مصادر کے ذریعے علمی معرفت فراہم کی جائے۔ اکثر اوقات ایک مکتبِ فکر کے طلبہ دوسرے مکتبِ فکر کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں، وہ مخالفانہ کتابچوں یا غیر معتبر سوشل میڈیا مواد سے جانتے ہیں۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مکتبِ فکر کے معتبر عقائد، فقہ، تاریخ اور علمی منہج کا تعارف خود اس مکتب کے معتبر مصادر کی روشنی میں کروایا جائے۔
دوسری ضرورت: ’’ادبِ اختلاف‘‘ کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانا ہے۔ طلبہ کو یہ سکھایا جائے کہ علمی اختلاف کس طرح کیا جاتا ہے، مخالف رائے کو کس طرح سمجھا جاتا ہے، دلیل کا جواب دلیل سے کیسے دیا جاتا ہے اور اختلاف کو توہین اور تکفیر میں تبدیل ہونے سے کیسے روکا جاتا ہے۔
تیسری ضرورت: مشترکہ دروس اور علمی نشستیں ہیں۔ مدارسِ شیعہ اور مدارسِ اہل سنت کے طلبہ و اساتذہ کے درمیان علمی نشستیں، مشترکہ سیمینار، تحقیقی کانفرنسیں اور مطالعاتی پروگرام ہونے چاہئیں۔ صرف ایک دوسرے کو سننے سے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے سے تقریب کا عمل مضبوط ہوگا۔
چوتھی ضرورت: نصاب میں ’’تاریخِ تقریب‘‘ اور ’’تجرباتِ وحدت‘‘ کو شامل کیا جائے تاکہ طلبہ کو معلوم ہو کہ مسلمان علماء نے مختلف ادوار میں کس طرح مشترکہ علمی اور اجتماعی مسائل پر تعاون کیا ہے۔
پانچویں اور بہت اہم ضرورت: مشترکہ قرآنی و حدیثی مطالعات ہیں۔ قرآن کی وہ آیات جو اخوت، تعاون، عدل، رحمت اور وحدت سے متعلق ہیں، انہیں مختلف مکاتبِ فکر کی تفاسیر کے ساتھ پڑھایا جائے۔ اسی طرح حدیثی مصادر کے تقابلی مطالعے سے طلبہ میں علمی وسعت پیدا ہوگی۔
چھٹی بات یہ ہے کہ یونیورسٹیوں میں ’’تقریب بین المسالک‘‘ کو صرف مذہب کے ایک مضمون تک محدود نہ کیا جائے، بلکہ تاریخ، سیاست، سماجیات، میڈیا اور بین الاقوامی تعلقات کے ساتھ بھی جوڑا جائے، کیونکہ آج مسلکی ہم آہنگی صرف منبر کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی اور تہذیبی ضرورت ہے۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم طلبہ کو یہ سکھائیں کہ مذہبی شناخت اور امت کی وحدت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ انسان اپنے مکتبِ فکر سے وابستہ رہتے ہوئے بھی دوسرے مسلمان کے ساتھ اخوت، احترام اور تعاون کا رشتہ قائم کرسکتا ہے۔
میرے خیال میں ایسا نصاب جو طالب علم کو اپنے مذہب پر پختہ اور دوسرے مسلمانوں کے بارے میں باخبر، منصف، بااخلاق اور متحمل بنائے، وہی حقیقی معنوں میں تقریب بین المسالک کی خدمت کرسکتا ہے۔
ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو اختلاف سے خوف زدہ نہ ہو، لیکن اختلاف کو دشمنی بھی نہ بنائے؛ جو اپنے عقیدے پر مضبوط ہو، مگر دوسرے مسلمان کی توہین کو اپنے ایمان کا حصہ نہ سمجھے۔ یہی وہ علمی بنیاد ہے جس پر پائیدار وحدتِ امت قائم ہوسکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ