شہید آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای منادی وحدت

حوزہ/آپ اپنے خطبات اور تقاریر میں اس بات پر زور دیتے ہوئے نظر آتے تھے کہ مسلمان اختلافی امور میں الجھنے کے بجائے مشترکہ عقائد، دینی اقدار اور باہمی اخوت کو محور بنائیں، تاکہ امتِ مسلمہ اتحاد و یکجہتی کی توانائی سے سربلند ہو سکے۔

تحریر:مولانا سید امیر حسنین زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی| اسلام کی عظیم تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اخوت ہے۔ قرآنِ کریم و احادیث کی تعلیمات میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد، بھائی چارے اور یکجہتی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اتحاد صرف ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ امت مسلمہ کی عزت طاقت اور بقا کا اساسی ذریعہ ہے۔

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (سورۂ آلِ عمران، آیت 103) سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔

پیغمبر اکرم (ص)کی مشہور حدیث ہے اَلْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ كَالْجَسَدِ الْوَاحِدِ إِنِ اشْتَكَى شَيْئاً مِنْهُ وَجَدَ أَلَمَ ذَلِكَ فِي سَائِرِ جَسَدِهِ(دعائم الاسلام ،جلد ۱،باب حقوق المومنین )

مومن،مومن کا بھائی ہے وہ ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے ۔

یہ اور اس جیسی بہت سی روایتیں اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ا سلام میں اتحاد، ہمدردی اور اخوت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے شہید امت نے اتحاد امت کی ضرورت کو اپنے دل و جان سے محسوس کیا۔ آپ نے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان وحدت، اخوت اور امت کی بیداری کو اپنی زندگی کا اہم ترین ہدف قرار دیا۔ امتِ مسلمہ کو تفرقہ اختلاف اور دشمنوں کی سازشوں سے بچانے کے لیے آپ نے فکری علمی اور عملی میدان میں مسلسل جدوجہد کی آپ ہہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ شیعہ و سنی اختلافات کو ہوا دینا دشمنان اسلام کا منصوبہ ہے جبکہ امت کی نجات اتحاد میں ہے۔

آپ نے اس سلسلے میں چند اہم اقدامات انجام دیئے۔

ہفتۂ وحدت کی ترویج

آپ نے امام خمینی(رضوان اللہ تعالی علیہ) کے قائم کردہ ہفتہ وحدت کے مشن کو پوری قوت اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھایا تاکہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اخوت، محبت اور اتحاد کی فضا مزید مستحکم ہو سکے۔

مشترکہ اسلامی اقدار پر زور

آپ اپنے خطبات اور تقاریر میں اس بات پر زور دیتے ہوئے نظر آتے تھے کہ مسلمان اختلافی امور میں الجھنے کے بجائے مشترکہ عقائد، دینی اقدار اور باہمی اخوت کو محور بنائیں تاکہ امتِ مسلمہ اتحاد و یکجہتی کی توانائی سے سربلند ہو سکے۔

فرقہ واریت کے خلاف پالیسی

آپ ہمیشہ علماء، خطباء اور دینی شخصیات کو نصیحت کرتے تھے کہ وہ اپنی تقاریر اور تحریروں میں ایسے الفاظ اور اندازِ گفتگو اختیار کریں جو امت میں وحدت، قربت اور ہمدلی کو فروغ دیں۔ آپ اس حقیقت کو بار بار اجاگر کرتے تھے کہ آج امت مسلمہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ باہمی اتحاد اور احترام ہے تاکہ مسلمان مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ ایک مضبوط اور متحد امت کی حیثیت سے کر سکیں۔

نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنا

آپ کے نزدیک نوجوان امت کا سب سے قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے معمار تھے لہٰذا آپ ہمیشہ انہیں امتِ مسلمہ کے اتحاد، علمی و فکری ترقی کی طرف توجہ دیتے تھے ۔ آپ نوجوان نسل کو اس بات کی تلقین کرتے تھے کہ وہ علم بصیرت اور آگہی کے زیور سے آراستہ ہو کر دشمنانِ اسلام کی سازشوں اور تفرقہ انگیز منصوبوں کو پہچانے تاکہ امت کے درمیان اتحاد اخوت اور یکجہتی کو محفوظ رکھا جا سکے۔

فلسطین اور امت کے مشترکہ مسائل پر توجہ دلانا

آپ نے ہمیشہ فلسطین، غزہ ،بیت المقدس اور دیگر اسلامی مسائل کو پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ درد اور اجتماعی ذمہ داری قرار دیا ہے آپ بارہا اس حقیقت کو اجاگر کرتے رہے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ کسی ایک قوم، ملک یا مسلک کا نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے ایمان غیرت اور وحدت کا مسئلہ ہے۔

عالمی اسلامی کانفرنسوں کی سرپرستی و حمایت

آپ کی سرپرستی اور حمایت میں مختلف بین الاقوامی اسلامی کانفرنسیں بالخصوص ’اسلامی وحدت کانفرنس ‘ مسلسل منعقد ہوتی رہی ہیں جن میں عالمِ اسلام کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء مفکرین، دانشوران اور دینی شخصیات وسیع پیمانہ پر شرکت کرتی رہی ہیں ان کانفرنسوں کا بنیادی مقصد امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد ،ہم آہنگی ، فکری و عملی تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ مسلمان امت کے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کے قریب آ سکیں۔ ان اجتماعات میں شیعہ و سنی علماء ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اسلامی دنیا کو درپیش مسائل امت کی ذمہ داریوں اور اتحادِ امت کی ضرورت پر تبادلۂ خیال کرتے رہے ہیں۔

غرض کہ شہید نے اپنی پوری زندگی امتِ مسلمہ کے اتحاد و باہمی یک جہتی کے لئے وقف کر دی تھی ۔آپ کی شہادت نے دنیا بھر میں آپ کے چاہنے والوں خواہ وہ شیعہ ہوں یا سنی اشک بار کر دیا اور آپ کے غم میں متحد کر دیا ۔ کئی اسلامی ممالک میں ان کی یاد میں تعزیتی اجتماعات اور اجلاس منعقد ہوئے جو ان کی ’امتِ واحدہ ‘کی کوششوں کا ثمر سمجھے جاتے ہیں۔ اس وحدت کے علمبردار نے اتحاد امت کا جو خواب اپنی زندگی میں دیکھا تھا وہ ان کی زندگی میں تو شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا لیکن ان کی شہادت نے پوری امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا ۔ اتحاد و اتفاق کی جیسی فضا منادی وحدت کی شہادت کے بعد نظر آئی شاید اس سے پہلے وہ فضا کبھی نہیں دیکھی گئی آخر میں پروردگار سے دعا ہے کہ ہم کو بھی ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرما ۔آمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha