بدھ 24 جون 2026 - 14:38
نظامِ امامت دین کے تحفظ اور انسانیت کی سعادت کا ضامن ہے: مولانا سید عباس باقری

حوزہ/ میرٹھ کی مرکزی امام بارگاہ چھوٹی کربلا میں محرم الحرام کے عشرۂ اول کی مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید عباس باقری نے کہا کہ ختمِ نبوت کے بعد دینِ اسلام کے تحفظ اور صحیح رہنمائی کے لیے نظامِ امامت ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے واقعۂ کربلا کو امامت و ولایت کی بقا کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کا یزید کی بیعت سے انکار حق و باطل کے درمیان ابدی معیار بن گیا، جبکہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں بھی انہوں نے مزاحمت اور استقلال کے اسی پیغام کو اجاگر کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میرٹھ-مظفر نگر/ مغربی اتر پردیش کے سب سے بڑے شہر میرٹھ کی مرکزی امام بارگاہ چھوٹی کربلا میں محرم الحرام کے عشرۂ اول کی مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید عباس باقری نے ’’امامت، الٰہی نظامِ حیات‘‘ کے عنوان پر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا شیعہ مکتبِ فکر کے پیش کردہ نظامِ امامت پر سنجیدگی سے غور کرنے لگی ہے، کیونکہ ختمِ نبوت کے بعد دینِ اسلام کے تحفظ اور صحیح رہنمائی کا واحد مؤثر نظام امامت ہی ہے۔

مولانا باقری نے کہا کہ نظامِ امامت انسان کو کمال، سعادت اور حقیقی فلاح تک پہنچانے کی مکمل ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس راستے پر چلنے والی قومیں کبھی باطل اور ظالم طاقتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرتیں۔

انہوں نے واقعۂ کربلا کو نظامِ امامت و ولایت کی بقا سے جوڑتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار کرکے قیامت تک کے لیے نظامِ امامت و ولایت کی حفاظت فرمائی۔ امام عالی مقامؑ کا یہ تاریخی موقف حق و باطل کے درمیان ہمیشہ کے لیے ایک واضح معیار بن گیا۔

مولانا سید عباس باقری نے حالیہ دنوں میں ایران، امریکہ اور غاصب اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سامراجی طاقتوں نے راہِ حسینؑ پر گامزن امتِ مسلمہ کے رہبر شہید امت حضرت آیت اللہ العظمی آقای سید علی خامنہ ای قدس سرہ سے غیر مشروط طور پر سرتسلیم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن انہیں وہی جواب ملا جو چودہ سو برس قبل امام حسین علیہ السلام نے یزید کو دیا تھا کہ ’’مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔‘‘

مجلس میں عقیدت مندوں اور عزاداروں کی بڑی تعداد شریک رہی اور مقرر کے خطاب کو توجہ و انہماک سے سنا۔

دریں اثنا مولانا سید عباس باقری نے رات نو بجے ضلع مظفر نگر کی معروف مومن بستی ککرولی میں بھی مجلسِ عزا سے خطاب کیا۔ ضلع مظفر نگر مومنین اور سادات کی قدیم و گنجان آبادیوں کے حوالے سے ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ ماہِ محرم اور صفر کے دوران یہاں کی بستیوں میں عزاداریِ سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا بڑے پیمانے پر اہتمام کیا جاتا ہے۔

اس خطے میں درگاہِ عالیہ بھیرہ، جوگی پورہ اور دیگر تاریخی امام بارگاہیں موجود ہیں، جہاں ملک کے مختلف حصوں سے زائرین اور عقیدت مند حاضری کے لیے آتے ہیں۔ محرم الحرام کے ایام میں یہ علاقے ذکرِ شہدائے کربلا، مجالسِ عزا اور مذہبی اجتماعات کا مرکز بن جاتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha