منگل 23 جون 2026 - 11:43
سی سی ایس یو کے شعبۂ اردو میں ’’کربلا کی ادبی و عصری معنویت‘‘ پر سیمینار، امام حسینؑ کو حق، انصاف اور انسانیت کی علامت قرار دیا گیا

حوزہ/ چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ’’کربلا کی ادبی و عصری معنویت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں مقررین نے کہا کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ حق، انصاف، حریت اور انسانی اقدار کا دائمی استعارہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امام حسینؑ کی تعلیمات ہر دور میں ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت، اخلاقی استقامت اور انسانیت کی خدمت کا پیغام دیتی ہیں، جبکہ اردو ادب خصوصاً مرثیہ نگاری نے اس پیغام کو مؤثر انداز میں زندہ رکھا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میرٹھ/ حضرت امام حسینؑ سے محبت کسی ایک مسلک یا فرقے کی میراث نہیں بلکہ پوری امت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ میرے اہلِ بیت سے محبت کرنا ضروری ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ مجھ سے محبت کرتا ہے، اور اللہ کی محبت کا تقاضا ہے کہ میرے اہلبیت علیہم السلام سے بھی محبت کرو۔ کربلا کو صرف یادوں اور گفتگو تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کا پیغام ہماری عملی زندگی میں بھی نمایاں ہونا چاہیے۔ یہی کربلا کی حقیقی معنویت ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولوی خورشید نے چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقدہ پروگرام ’’کربلا کی ادبی اور عصری معنویت‘‘ کی صدارتی تقریر میں کیا۔ انہوں نے شعبۂ اردو کو اس اہم موضوع پر پروگرام منعقد کرنے پر مبارکباد بھی پیش کی۔

سی سی ایس یو کے شعبۂ اردو میں ’’کربلا کی ادبی و عصری معنویت‘‘ پر سیمینار، امام حسینؑ کو حق، انصاف اور انسانیت کی علامت قرار دیا گیا

پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے بی اے آنرز کے طالب علم محمد ندیم نے کیا جبکہ ساجد ربانی نے نعتِ رسولِ مقبول (ص) پیش کی۔ تقریب کی صدارت دارالعلوم جامع مسجد، میرٹھ کے شیخ الحدیث مولوی خورشید نے کی۔ مہمانانِ خصوصی میں مولانا سید عباس باقری (تلنگانہ)، مفتی محمد رضوان (پرنسپل، دارالعلوم جامع مسجد، میرٹھ)، مولانا سید عمار حیدر (اعظم گڑھ) اور مولانا محمد جبرئیل (امام و خطیب، دریا گنج، میرٹھ) شامل تھے۔ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے پیش کیے، نظامت کے فرائض ڈاکٹر عفت زکیہ نے انجام دیے جبکہ اظہارِ تشکر آفاق احمد خان نے کیا۔

سی سی ایس یو کے شعبۂ اردو میں ’’کربلا کی ادبی و عصری معنویت‘‘ پر سیمینار، امام حسینؑ کو حق، انصاف اور انسانیت کی علامت قرار دیا گیا

موضوع کا تعارف پیش کرتے ہوئے اسماعیل نیشنل ویمن پی جی کالج کی صدرِ شعبۂ اردو ڈاکٹر عفت زکیہ نے کہا کہ واقعۂ کربلا حق اور باطل کے درمیان ایک واضح خطِ امتیاز تھا۔ اس نے ہمیشہ کے لیے ثابت کر دیا کہ باطل خواہ کتنا ہی طاقتور نظر آئے، وہ حق کو مغلوب نہیں کر سکتا۔ صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی کربلا کے کردار لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، اور ادب میں اس واقعے کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔

سی سی ایس یو کے شعبۂ اردو میں ’’کربلا کی ادبی و عصری معنویت‘‘ پر سیمینار، امام حسینؑ کو حق، انصاف اور انسانیت کی علامت قرار دیا گیا

پروفیسر اسلم جمشیدپوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادب کی متعدد اصناف ہیں۔ مرثیہ پہلے سے موجود تھا، لیکن واقعۂ کربلا کے بعد مرثیہ نگاری میں کربلا مرکزی موضوع بن گئی اور ’’کربلائی مرثیے‘‘ وجود میں آئے۔ کربلا کا تذکرہ صرف شاعری ہی میں نہیں بلکہ داستانوں، ناولوں، افسانوں اور نثری ادب میں بھی نمایاں طور پر ملتا ہے۔ آج بھی جہاں کہیں ظلم و ستم ہوتا ہے، وہاں امام حسینؑ کی یاد مظلوموں کے لیے حوصلے اور استقامت کا سرچشمہ بنتی ہے۔ کربلا کا پیغام ہمیشہ انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

سی سی ایس یو کے شعبۂ اردو میں ’’کربلا کی ادبی و عصری معنویت‘‘ پر سیمینار، امام حسینؑ کو حق، انصاف اور انسانیت کی علامت قرار دیا گیا

مولانا محمد جبرئیل نے کہا کہ اگر امام حسینؑ کربلا نہ جاتے تو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو ایسی عظیم مثال میسر نہ آتی۔ آج یزید کا نام لینے والا کوئی نہیں، جبکہ امام حسینؑ کو دنیا بھر میں عزت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت حسینؑ سے محبت ایمان کی علامت ہے، اور کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ ظالم خواہ کتنا ہی طاقتور ہو، اس کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرنا چاہیے۔

سی سی ایس یو کے شعبۂ اردو میں ’’کربلا کی ادبی و عصری معنویت‘‘ پر سیمینار، امام حسینؑ کو حق، انصاف اور انسانیت کی علامت قرار دیا گیا

مولانا سید عمار حیدر نے کہا کہ کربلا کا ایک واقعہ صدیوں پر اثر انداز ہوا ہے۔ امام حسینؑ نے پوری انسانیت کی خاطر قربانی پیش کی، اسی لیے مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگ بھی ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔ کربلا ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ مظلوم اور ضرورت مند کی مدد کی جائے، اور یہی اس کی آج کے دور میں اہمیت ہے۔

مفتی محمد رضوان نے کہا کہ جب بھی ظلم سر اٹھائے گا، کربلا کا واقعہ انسانیت کے سامنے ایک مثال بن کر آئے گا۔ اخلاقی اعتبار سے یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی بھی طاقت یا اقتدار کے سامنے ناانصافی کی بنیاد پر جھکنا درست نہیں۔ انہوں نے حضرت زینبؓ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکمران کے دربار میں ظلم کے خلاف بے باکی سے آواز بلند کی۔ میر انیس اور مرزا دبیر نے بھی اپنے مراثی میں اس موضوع کو نہایت فنی مہارت اور گہرائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

سی سی ایس یو کے شعبۂ اردو میں ’’کربلا کی ادبی و عصری معنویت‘‘ پر سیمینار، امام حسینؑ کو حق، انصاف اور انسانیت کی علامت قرار دیا گیا

مولانا سید عباس باقری نے کہا کہ کربلا ایسا عظیم کردار اور تاریخ ہے جس کے اوراق جتنے پلٹے جائیں، اس کی عظمت نئے انداز سے سامنے آتی ہے۔ کربلا کا اثر صرف اردو ہی نہیں بلکہ عربی، فارسی اور دیگر زبانوں کے ادب پر بھی نمایاں ہے۔ جنگ سے قبل امام حسینؑ نے اپنا تعارف کراتے ہوئے فرمایا تھا: ’’میرے جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔‘‘ جن دلوں میں کربلا کا شعور زندہ ہو، وہ کبھی ظلم اور ظالم کے سامنے نہیں جھکتے۔ حسینؑ صرف ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک اعلیٰ کردار اور آفاقی نظریے کی علامت ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تعلیمات کی اہمیت مزید بڑھتی جائے گی۔

اس موقع پر ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر تابش فرید، تنزیر رضا انصاری، اریبہ سرفراز، طاہرہ پروین، شہناز پروین، محمد عیسیٰ رانا، محمد زبیر، محمد حیدر، محمد عابد علی، محمد عابد حیدر، محمد شمشاد، سعید احمد سہارنپوری، شہر کے معزز شہریوں اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha