منگل 21 جولائی 2026 - 18:23
شعبۂ دینیاتِ شیعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں "کربلا؛ انسانیت اور اخلاقی تعلیمات کی درسگاہ" کے عنوان سے علمی مذاکرہ منعقد

حوزہ/ شعبۂ دینیاتِ شیعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام "کربلا؛ انسانیت اور اخلاقی تعلیمات کی درسگاہ" کے عنوان سے ایک باوقار اور علمی مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں اساتذۂ کرام، ریسرچ اسکالرز، ائمۂ جماعت، طلبہ اور مومنین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علی گڑھ/ شعبۂ دینیاتِ شیعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام "کربلا؛ انسانیت اور اخلاقی تعلیمات کی درسگاہ" کے عنوان سے ایک باوقار اور علمی مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں اساتذۂ کرام، ریسرچ اسکالرز، ائمۂ جماعت، طلبہ اور مومنین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

پروگرام کا آغاز مولانا احمد مجلسی کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد شعبۂ دینیاتِ شیعہ کے چیئرمین ڈاکٹر مولانا اصغر اعجاز قائمی نے مہمانِ خصوصی کا خیرمقدم کرتے ہوئے استقبالیہ خطبہ پیش کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے واقعۂ کربلا کو انسانیت، اخلاق، عدل، ایثار اور حق پر استقامت کا دائمی منشور قرار دیتے ہوئے کہا کہ کربلا ہر دور کے انسان کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے اور اعلیٰ انسانی اقدار کو اپنانے کا درس دیتی ہے۔

اس علمی نشست کے مہمانِ خصوصی ایران سے تشریف لائے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین سید مبین حیدر رضوی تھے۔ انہوں نے اپنے جامع اور فکر انگیز خطاب میں دینی علوم اور عصری علوم کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سمجھنے کے لیے دینی بصیرت کے ساتھ جدید علوم سے آراستہ ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واقعۂ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت، اخلاق، علم، کردار اور سماجی ذمہ داری کا ایسا ابدی مکتب ہے جو ہر زمانے کے انسان کو حق و انصاف کی راہ پر گامزن ہونے کی دعوت دیتا ہے۔

پروگرام کی نظامت ڈاکٹر مولانا عباس رضا نے نہایت عمدگی اور شائستگی کے ساتھ انجام دی۔ انہوں نے موضوع کی مناسبت سے ایک مدلل، بسیط اور علمی تقریر پیش کرتے ہوئے کربلا کی اخلاقی، فکری اور تمدنی جہات کو اجاگر کیا اور حاضرین کو اس کے عملی پیغام سے روشناس کرایا۔

اس علمی مذاکرے میں ریسرچ اسکالرز، ائمۂ جماعت، اساتذۂ کرام، طلبہ اور مومنین نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ شرکت کی اور مقررین کے علمی نکات کو بے حد سراہا۔

پروگرام کے اختتام پر مولانا زاہد حسین نے تمام معزز مہمانوں، مقررین، شرکاء اور منتظمین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کی علمی و فکری نشستیں آئندہ بھی منعقد ہوتی رہیں گی تاکہ کربلا کے آفاقی پیغامِ انسانیت، اخلاق اور حق و صداقت کو معاشرے میں مزید عام کیا جا سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha