جمعہ 11 ستمبر 2026 - 16:41
تقویٰ اور توکل اختیار کریں، اللہ تعالیٰ بند راستوں سے نجات کی راہیں کھول دیتا ہے: مولانا سید علی سجیر رضوی

حوزہ/ مولانا سید علی سجیر رضوی نے خطبہ جمعہ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں پیش آنے والے ظاہری بن بست اور مشکلات کے حالات میں انسان کو اپنی شرعی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے؛ تقویٰ اور توکل علی اللہ کے ساتھ ثابت قدمی اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ غیب سے مدد اور نجات کی راہیں فراہم کرتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ عیدگاہ حسین آباد، جھارکھنڈ میں نمازِ جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید علی سجیر رضوی نے ’’تمام بند راستوں سے نجات کا راستہ‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی اور قرآن کریم کی آیات و احادیثِ معصومینؑ کی روشنی میں مشکلات، بن بست اور سخت حالات سے نجات کے لیے تقویٰ اور توکل کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے سورۂ انفال اور سورۂ طلاق کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان جب اللہ تعالیٰ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تقویٰ اختیار کرتا اور اپنی شرعی ذمہ داری پر ثابت قدم رہتا ہے تو اللہ اس کے لیے نجات کی راہیں پیدا کرتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات کی روشنی میں قرآن کی ان ہدایات سے تمسک کو مشکلات اور بن بست سے نکلنے کا مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

مولانا سید علی سجیر رضوی نے کہا کہ انسان اور معاشرے کی زندگی میں آنے والے بعض ظاہری بند راستے دراصل آزمائش کا حصہ ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں خوف، دباؤ یا مشکلات کے باعث اپنی شرعی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے بجائے تقویٰ اور ثابت قدمی اختیار کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہی رویہ اللہ کی نصرت کے دروازے کھولنے کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب انسان دشمن کے دباؤ یا نامساعد حالات سے مرعوب ہوئے بغیر اپنی الٰہی ذمہ داری ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے ذرائع سے مدد اور رزق فراہم کرتا ہے جن کا اسے پہلے سے گمان بھی نہیں ہوتا۔

خطیبِ جمعہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات کو قرآنی مثالوں کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے دریا اور پیچھے فرعون کا لشکر تھا، لیکن اللہ پر اعتماد اور ثابت قدمی کے نتیجے میں دریا میں راستہ پیدا ہوا۔ اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے گناہ سے اجتناب اور تقویٰ اختیار کیا تو مشکلات کے باوجود بالآخر حقیقت آشکار ہوئی اور ان کی براءت ثابت ہوئی۔

انہوں نے توکل کے حقیقی مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ توکل کا مطلب اپنی ذمہ داریوں سے دست بردار ہو کر تمام امور اللہ کے سپرد کر دینا نہیں، بلکہ انسان کا اپنی بندگی اور شرعی ذمہ داری کو پوری طرح ادا کرنا اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر اعتماد رکھنا ہے۔

مولانا سید علی سجیر رضوی نے کہا کہ مشکلات اور ذہنی دباؤ کے دوران اللہ کی یاد انسان کو بصیرت عطا کرتی ہے اور اسے ظاہری اسباب کی حد تک محدود رہنے کے بجائے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کے ساتھ درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق، یہی کیفیت انسان کو اسباب کی غلامی اور شیطانی وسوسوں سے نجات دلاتی ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر موجودہ عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مظلوموں، بالخصوص یمن اور ایران کی استقامت اور مقبولیت کو تقویٰ اور توکل علی اللہ کے عملی نتائج کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، جب کوئی قوم دشمن کے دباؤ اور ظاہری اسباب کی محدودیت سے مرعوب ہوئے بغیر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے موقف پر قائم رہتی ہے تو نصرتِ الٰہی کے راستے کھل سکتے ہیں۔

آخر میں عالمِ اسلام کے مظلومین اور مجاہدین کی سلامتی، امتِ مسلمہ کی سربلندی اور دشمنانِ اسلام کی نابودی کے لیے دعا کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha