جمعہ 4 ستمبر 2026 - 19:39
فقہ جعفریہ کی بنیاد محض ایک فقہی عنوان نہیں بلکہ اہل بیت (ع) کی علمی و دینی میراث سے وابستگی کا نتیجہ ہے، علامہ شبیر حسن میثمی

حوزہ / حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا: امامت اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین کبھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہ سکتی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کی حجت اور دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے محافظ تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ، ڈیفنس کراچی میں 4 ستمبر 2026ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ اور علمی خدمات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: اسلام انسان کو اخلاق سکھانے، اللہ کا بندہ بنانے اور تعلیم دینے کے لیے آیا۔ قرآن کریم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم کو بیان کیا ہے۔

انہوں نے کہا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حالات میں ایسی تبدیلیاں آئیں کہ دین کی تعلیم، اخلاق اور تزکیۂ نفس کے بجائے حکومت اور فتوحات کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی، جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ اسلام میں داخل تو ہوئے لیکن اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح ان تک نہیں پہنچ سکی۔

علامہ شبیر میثمی نے کہا: امام محمد باقر علیہ السلام نے مسجد نبوی میں علمی درس کا سلسلہ شروع کیا اور توحید، قرآن اور احکامِ شرعیہ کی تعلیمات کو واضح کیا۔ یہی علمی سلسلہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں مزید وسیع ہوا اور بڑی تعداد میں طلبہ نے آپ علیہ السلام سے استفادہ کیا۔

انہوں نے کہا: امام جعفر صادق علیہ السلام نے علم کے فروغ کے لیے ایسا علمی ماحول قائم کیا جس میں مختلف علوم کے طالب علم شریک ہوتے تھے۔ سائنس، جغرافیہ، تاریخ، تفسیر اور دینی علوم سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے علمی دروازے کھلے تھے۔

فقہ جعفریہ کی بنیاد محض ایک فقہی عنوان نہیں بلکہ اہل بیت (ع) کی علمی و دینی میراث سے وابستگی کا نتیجہ ہے

علامہ شبیر میثمی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے مناظرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: امام علیہ السلام نے علمی و فکری مباحث کے ذریعہ دین کو خرافات سے پاک کرنے اور حقائق کو واضح کرنے پر زور دیا۔ آپ علیہ السلام نے واضح کیا کہ جو چیز اسلام میں غلط طور پر شامل ہو جائے اسے ترک کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: فقہ جعفریہ کی بنیاد محض ایک فقہی عنوان نہیں بلکہ اہل بیت علیہم السلام کی علمی و دینی میراث سے وابستگی کا نتیجہ ہے۔ پانچویں اور چھٹے امام علیہم السلام کو جو مواقع میسر آئے، ان کے ذریعے دین کی تعلیمات کو وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچایا گیا، جبکہ بعد کے ائمہ علیہم السلام کو ایسے مواقع بہت کم ملے۔

خطبہ جمعہ کے دوسرے حصے میں علامہ شبیر حسن میثمی نے کراچی میں ایک نوجوان کے قتل کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انصاف کے فوری تقاضے پورے کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا: کسی بھی قتل کے معاملے میں شفاف تحقیقات اور انصاف ضروری ہے اور کسی کو انصاف کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔

انہوں نے نوجوانوں کو کرپٹو کرنسی اور آن لائن فراڈ کے مختلف طریقوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا: نوجوان لالچ میں آکر اپنی زندگیاں تباہ نہ کریں۔ معمولی مالی فائدے سے شروع ہونے والی بعض اسکیمیں بعد میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

علامہ شبیر میثمی نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے قانون کی یکساں عمل داری پر زور دیا اور کہا: اگر کوئی تعمیر غیر قانونی تھی تو اس کے قیام کے وقت بھی قانون کو حرکت میں آنا چاہیے تھا۔ انہوں نے قانون کے نفاذ میں امتیاز اور سیاسی دباؤ کی مخالفت کی۔

غزہ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مسلم دنیا کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا: فلسطینی عوام کے خلاف جاری مظالم پر عالمی برادری کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ انہوں نے غزہ کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مسلم ممالک سے عملی کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے پاکستان میں اتحاد و وحدت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمارا اہل سنت سے عقیدتی اختلاف ضرور ہے لیکن اس کا مطلب دشمنی یا جھگڑا نہیں۔ ہم پاکستان کے امن کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں، تاہم کسی بھی ایسے عمل کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے جو فرقہ وارانہ کشیدگی کو فروغ دے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں امن و اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو معاشرے میں انتشار پیدا کرتی ہیں۔ ملک کے مختلف مسائل کو باہمی اتحاد اور حکمت کے ذریعے حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جو قربانیوں، اتحاد، وحدت اور اسلامی اقدار کے جذبے سے آگے بڑھے۔

علامہ شبیر حسن میثمی نے خطبے کے اختتام پر موت اور آخرت کی جواب دہی کو یاد رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا: ہر انسان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور بالآخر ہر شخص کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ انسان کو دنیاوی عہدے، مال و دولت اور ظاہری پروٹوکول کے بجائے اپنے نامۂ اعمال کی فکر کرنی چاہیے۔

انہوں نے مؤمنین کو تقویٰ اختیار کرنے، امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لیے دعا کرنے اور اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی بھی تلقین کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha