حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جلیلُ القدر عالمِ دین، محقق و عالمِ باعمل، جناب مولانا سید محمد سیادت نقوی کے انتقال پر علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و الم کا اظہار کیا گیا ہے۔ مرحوم کا تعلق امروہہ کی مردم خیز علمی و دینی سرزمین سے تھا، جہاں سے برصغیر کو علم و فضل، تقویٰ اور معارفِ اہلِ بیتؑ کے متعدد چراغ نصیب ہوئے۔
اس موقع پر خادم حرم امام رضا علیہ السلام مشہد مقدس مولانا سید مناظر حسین نقوی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا سید محمد سیادت نقوی صاحب قبلہ نے اپنی زندگی علمِ دین کی ترویج، دینی تعلیم و تبلیغ اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کے معارف کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی علمی بصیرت، دینی خدمات، اخلاص و تقویٰ اور باوقار طرزِ زندگی اہلِ علم و ایمان کے لیے ہمیشہ قابلِ احترام رہے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مرحوم نے اپنی علمی و تبلیغی جدوجہد کے ذریعے نسلِ نو میں دینی شعور بیدار کرنے اور معارفِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کو عام کرنے میں گراں قدر خدمات انجام دیں، اور ان کی رحلت اہلِ علم و دین کے حلقے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی علمی و روحانی نقصان ہے۔
مولانا سید مناظر حسین نقوی نے مرحوم کے انتقال پر ان کے اہلِ خانہ، پسماندگان، متعلقین اور شاگردان کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے اس غم میں برابر کا شریک ہونے کا اظہار کیا۔
انہوں نے بارگاہِ ربِ کریم میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمتِ الٰہی اور قربِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبول بخشے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل و اجرِ عظیم عنایت فرمائے۔









آپ کا تبصرہ