تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| آج انسان کے ہاتھ میں دنیا کی تاریخ ہے، آنکھوں کے سامنے پوری دنیا کا منظرنامہ ہے اور انگلی کے ایک لمس پر ہزاروں کتابیں، لاکھوں معلومات اور بے شمار آرا اس کے سامنے آجاتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ مگر اس حیرت انگیز ترقی کے درمیان ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا معلومات کی فراوانی نے انسان کو واقعی زیادہ عاقل بھی بنا دیا ہے؟
یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ معلومات اور عقل ایک چیز نہیں۔ معلومات انسان کو بہت کچھ بتاتی ہیں، مگر عقل اسے یہ سمجھنے کی صلاحیت دیتی ہے کہ کیا درست ہے، کیا غلط ہے، کیا کہنا چاہیے، کہاں خاموش رہنا چاہیے اور اپنے علم کو کس مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہیے۔
صدیاں گزر جانے کے باوجود معلم بشریت مربی انسانیت حجت رحمٰن ناطق قرآن امام جعفر صادق علیہ السلام کی عقل سے متعلق تعلیمات آج بھی انسانی زندگی کے لئے گہری رہنمائی رکھتی ہیں۔ خصوصاً موجودہ ڈیجیٹل دور، جہاں معلومات کی رفتار بے مثال ہے اور فکری انتشار بھی اسی رفتار سے بڑھ رہا ہے، امامؑ کی یہ تعلیمات ہماری اجتماعی اور انفرادی زندگی کو نئے سرے سے دیکھنے کی دعوت دیتی ہیں۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "الْعَقْلُ مَا عُبِدَ بِهِ الرَّحْمٰنُ وَاكْتُسِبَ بِهِ الْجِنَانُ"(تفسير نور الثقلين، جلد1، صفحہ 76)
عقل وہ ہے جس کے ذریعہ خدائے رحمان کی عبادت کی جائے اور جنت حاصل کی جائے۔
یہاں عقل کو محض ذہانت یا ذہنی صلاحیت کے معنی میں نہیں لیا گیا، بلکہ اسے انسان کی ہدایت اور نجات سے جوڑا گیا ہے۔ لہذا وہ ذہانت جو انسان کو تکبر، ظلم، فریب اور گناہ کی طرف لے جائے، اگرچہ دنیاوی اعتبار سے قابلِ تعریف ہوسکتی ہے، لیکن وہ عقلِ مطلوب نہیں جسے اہل بیت علیہم السلام انسانی کمال کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
حقیقی عقل انسان کو اپنے رب سے جوڑتی، اپنے نفس پر قابو پانا سکھاتی اور اسے مخلوقِ خدا کے لئے خیر و بھلائی کا ذریعہ بناتی ہے۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "أَكْمَلُ النَّاسِ عَقْلًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" (الکافی، جلد1، صفحہ 23)
لوگوں میں کامل ترین عقل والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔
یہ حدیث ہمارے موجودہ معاشرے کے لئے ایک اہم پیغام رکھتی ہے۔ آج تعلیم، ڈگری، عہدہ، دولت اور ٹیکنالوجی کو کامیابی کے پیمانے سمجھا جاتا ہے، لیکن امامؑ عقل کے کمال کو حسنِ اخلاق سے وابستہ کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے دور میں اس تعلیم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک کلک سے کسی کی تعریف بھی کی جاسکتی ہے اور کسی کی عزت بھی مجروح کی جاسکتی ہے۔ ایک غیر مصدقہ خبر چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے اور ایک سخت جملہ برسوں پرانے تعلق کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں حسنِ اخلاق محض ایک ذاتی خوبی نہیں، بلکہ ایک اہم سماجی ضرورت بھی ہے۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "الْجَهْلُ فِي ثَلَاثٍ: الْكِبْرِ، وَشِدَّةِ الْمِرَاءِ، وَالْجَهْلِ بِاللَّهِ" (البحار الانوار جلد 1 باب جنود العقل صفحہ 43)
جہالت کی تین نشانیاں ہیں: تکبر، شدید جدال اور اللہ سے ناواقفیت۔
جہالت ہمیشہ کم علمی کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتی۔ کبھی انسان بہت کچھ پڑھنے اور جاننے کے باوجود متکبر، ضدی اور حق قبول کرنے سے گریزاں ہوسکتا ہے۔
آج بہت سے مباحث میں مقصد حقیقت تک پہنچنا نہیں بلکہ اپنی رائے کو غالب ثابت کرنا بن گیا ہے۔ دلیل ختم ہوجاتی ہے، مگر بحث ختم نہیں ہوتی۔ انسان اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے نئے نئے جواز تلاش کرتا رہتا ہے۔
عاقل انسان جانتا ہے کہ حق کسی فرد یا گروہ کی ملکیت نہیں۔ اگر صحیح بات کسی دوسرے کے ذریعہ سامنے آئے تو اسے قبول کرنا شکست نہیں بلکہ عقل کی پختگی ہے۔
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "كَمَالُ الْعَقْلِ فِي ثَلَاثٍ: التَّوَاضُعُ لِلَّهِ، وَحُسْنُ الْيَقِينِ، وَالصَّمْتُ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ" (الامام جعفر الصادق علیہ السلام، علامہ شیخ محمد حسین المظفر، جلد 1، 75)
کمالِ عقل تین چیزوں میں ہے: اللہ کے سامنے تواضع، حسنِ یقین اور خیر کے علاوہ خاموشی۔
ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں ہر شخص کو اپنی رائے دنیا تک پہنچانے کا موقع حاصل ہے، لیکن ہر موقع پر بولنا عقل مندی نہیں، ہر خبر کو آگے بڑھانا ضروری نہیں۔ ہر اختلاف کا جواب دینا ضروری نہیں۔ ہر اشتعال انگیز پوسٹ پر تبصرہ کرنا ضروری نہیں۔ اور ہر بحث میں اپنی برتری ثابت کرنا بھی ضروری نہیں، زبان کی آزادی کے ساتھ زبان کی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "أَفْضَلُ طَبَائِعِ الْعَقْلِ الْعِبَادَةُ، وَأَوْثَقُ الْحَدِيثِ لَهُ الْعِلْمُ، وَأَجْزَلُ حُظُوظِهِ الْحِكْمَةُ" (الاختصاص، صفحہ 244)
عقل کی بہترین صفات عبادت ہیں، اس کے مضبوط ترین مظاہر علم ہیں اور اس کے بڑے حصوں میں حکمت ہے۔
اس فرمان میں عقل، علم اور حکمت کا ایک خوب صورت ربط سامنے آتا ہے۔ علم انسان کو معلومات فراہم کرتا ہے، جبکہ حکمت اسے ان معلومات کے درست اور مناسب استعمال کا شعور عطا کرتی ہے۔
آج انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ذرائع نے علم تک رسائی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ جھوٹی خبریں، جعلی تصاویر، گمراہ کن معلومات اور نامکمل تجزیے بھی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
ایسے ماحول میں صرف معلومات حاصل کرنا کافی نہیں؛ تحقیق، تنقیدی سوچ، فہم اور حکمت بھی ضروری ہے۔
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "كَثْرَةُ النَّظَرِ فِي الْعِلْمِ يَفْتَحُ الْعَقْلَ" (الدعوات : 221 / 603)
علم میں زیادہ غور و فکر عقل کو کھول دیتا ہے۔
آج مختصر ویڈیوز، فوری تبصروں اور چند سطروں کی پوسٹس نے گہرے مطالعہ کی جگہ لینا شروع کردی ہے۔ صرف عنوان پڑھ کر پوری خبر سمجھ لینا یا چند سیکنڈ کی ویڈیو دیکھ کر کسی پیچیدہ مسئلے پر حتمی رائے قائم کرلینا ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے۔
ایسے ماحول میں امام صادق علیہ السلام کی یہ تعلیم ہمیں مطالعہ، تحقیق اور غور و فکر کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
عاقل انسان ہر بات کو فوراً قبول نہیں کرتا۔ وہ ماخذ دیکھتا ہے، سیاق و سباق سمجھتا ہے، مختلف پہلوؤں پر غور کرتا ہے اور پھر رائے قائم کرتا ہے۔
خاص طور پر دینی اور سماجی مسائل میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ ایک غیر مصدقہ یا غلط بات کو پھیلانا کبھی بڑے فکری اور معاشرتی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: "وَالْعَالِمُ بِزَمَانِهِ لَا تَهْجُمُ عَلَيْهِ اللَّوَابِسُ" (تحف العقول عن آل الرسول علیهم السلام , جلد1, صفحه356 ؛ الكافي، جلد 1، صفحہ 27)
جو شخص اپنے زمانے سے واقف ہو، پیچیدگیاں اور شبہات اچانک اسے گھیر نہیں پاتے۔
یہ اصول آج کے دینی معاشرے کے لئے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دین سے وابستگی کا مطلب زمانے سے بے خبری نہیں۔ ایک مؤمن کو اپنے عہد کے فکری، علمی، سماجی، معاشی اور تکنیکی حالات سے واقف ہونا چاہیے۔
آج نوجوان نسل کو الحاد، مذہبی شبہات، مادیت، صارفیت، ثقافتی تبدیلیوں، مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کا مؤثر جواب صرف جذباتی نعروں سے نہیں دیا جاسکتا۔
عقیدہ مضبوط ہو، علم وسیع ہو، عقل بیدار ہو اور زمانے کی شناخت واضح ہو، تب ہی مؤثر دینی بصیرت پیدا ہوسکتی ہے۔
اگر امام صادق علیہ السلام کی تعلیمات کو اجتماعی زندگی پر منطبق کیا جائے تو عاقل معاشرہ صرف وہ نہیں جہاں زیادہ پڑھے لکھے لوگ رہتے ہوں، بلکہ وہ معاشرہ ہے جہاں علم کے ساتھ اخلاق، اختلاف کے ساتھ احترام، طاقت کے ساتھ عدل، عبادت کے ساتھ خدمت اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری موجود ہو۔
عقل انسان کو صرف یہ نہیں سکھاتی کہ وہ اپنا حق کیسے حاصل کرے؛ بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ دوسروں کے حقوق کیسے محفوظ رکھے۔
اسی لئے عقل ایک فرد کی ذاتی خوبی ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرتی سرمایہ بھی ہے۔
آج ہمیں صرف زیادہ معلومات کی ضرورت نہیں، بلکہ صحیح معلومات کی پہچان کی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف زیادہ بولنے والوں کی ضرورت نہیں، بلکہ درست وقت پر خاموش رہنے والوں کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں صرف ذہین افراد نہیں، بلکہ ذہین، متواضع، بااخلاق اور ذمہ دار انسانوں کی ضرورت ہے۔
ہمیں ایسی عقل چاہیے جو مسجد میں عبادت گزار، گھر میں محبت کرنے والی، بازار میں دیانت دار، معاشرے میں ذمہ دار اور اختلاف میں باوقار بنائے۔
ایسی عقل جو جدید دنیا کو سمجھ سکے مگر اپنی دینی شناخت سے محروم نہ ہو؛ جو سوال کرنے سے نہ گھبرائے مگر جواب ملنے کے بعد حق کو قبول کرنے کا حوصلہ بھی رکھے؛ جو ٹیکنالوجی استعمال کرے مگر ٹیکنالوجی کا غلام نہ بنے؛ جو سوشل میڈیا پر موجود ہو مگر اس کے شور میں اپنی بصیرت نہ کھو دے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیمات میں عقل محض ذہنی قوت نہیں بلکہ انسان کے ایمان، اخلاق، علم، کردار اور معاشرتی ذمہ داری کی بنیاد ہے۔ وہ عقل جو انسان کو خدا سے جوڑے، علم کی طرف لے جائے، اخلاق سنوارے، تکبر سے بچائے، حکمت عطا کرے اور زمانے کے فتنوں کو سمجھنے کی صلاحیت دے، وہی انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بناتی ہے۔
آج کے انسان کے پاس معلومات بہت ہیں، مگر فرصتِ فکر کم؛ رابطے بہت ہیں، مگر حقیقی تعلق کم؛ آوازیں بہت ہیں، مگر حکمت کی آواز کم ہے۔
ایسے دور میں امام صادق علیہ السلام کی تعلیمات ہمیں ایک بنیادی سبق دیتی ہیں کہ معلومات کو علم بنائیے، علم کو حکمت میں ڈھالیے، حکمت کو عمل میں لائیے اور عقل کو ایمان و اخلاق کے ساتھ جوڑیے۔
کیونکہ انسان کی عظمت صرف اس میں نہیں کہ وہ کتنا جانتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنی عقل اور اپنے علم کو کس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عقل، ایمان سے ملتی ہے؛ علم، اخلاق سے ملتا ہے؛ اور فرد کی اصلاح، معاشرے کی اصلاح کا آغاز بن جاتی ہے۔









آپ کا تبصرہ