جمعرات 20 اگست 2026 - 06:55
مدینہ واپسی: اختتام نہیں، مشنِ کربلا کا نیا آغاز

حوزہ/ کربلا سے شام اور شام سے کربلا ہوتے ہوئے مدینہ تک کا سفر محض ایک سفر نہیں تھا؛ یہ پیغامِ عاشورا کی حفاظت، بقا اور منتقلی کا سفر تھا۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے وفادار اصحاب نے اپنے خون سے حق کی تاریخ رقم کی، جبکہ کربلا کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنے خطبات، صبر، گریہ، کردار اور استقامت کے ذریعہ اس تاریخ کو زندہ رکھا۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | کربلا سے شام اور شام سے کربلا ہوتے ہوئے مدینہ تک کا سفر محض ایک سفر نہیں تھا؛ یہ پیغامِ عاشورا کی حفاظت، بقا اور منتقلی کا سفر تھا۔ کربلا میں امام حسین علیہ السلام اور ان کے وفادار اصحاب نے اپنے خون سے حق کی تاریخ رقم کی، جبکہ کربلا کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنے خطبات، صبر، گریہ، کردار اور استقامت کے ذریعہ اس تاریخ کو زندہ رکھا۔

مدینہ واپسی کو اگر صرف ایک غم زدہ قافلے کی واپسی سمجھا جائے تو کربلا کے بعد اہلِ بیت علیہم السلام کی عظیم جدوجہد کی حقیقت ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کربلا کا میدان ختم ہوا تھا، لیکن کربلا کا مشن ختم نہیں ہوا تھا۔ بلکہ مدینہ پہنچ کر اس مشن نے ایک نئی صورت اختیار کی اور ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔

جو قافلہ مدینہ سے روانہ ہوا تھا، جب واپس آیا تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ روانگی کے وقت امام حسین علیہ السلام اس قافلہ کے سربراہ تھے۔ علی اکبرؑ، عباسؑ، قاسمؑ، علی اصغرؑ اور دیگر اہلِ وفا اس قافلہ کا حصہ تھے، لیکن واپسی پر ان میں سے کوئی بھی نہ تھا۔ قافلہ کے پاس ان کے جسم نہیں تھے، مگر ان کی یادیں تھیں، ان کی قبریں تھیں، ان کی قربانیاں تھیں اور سب سے بڑھ کر ان کا پیغام تھا۔

مدینہ کی گلیاں وہی تھیں، مسجدِ نبویؐ وہی تھی، مگر قافلہ وہ نہیں تھا۔

یہ واپسی اپنے اندر ایک ایسا سوال لئے ہوئے تھی جس کا جواب آنسوؤں کے سوا آسان نہ تھا: حسینؑ کہاں ہیں؟

وہ حسینؑ جنہیں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آغوش میں اٹھاتے تھے، آج مدینہ واپس نہیں آئے تھے۔ ان کی جگہ ان کے فرزند امام زین العابدین علیہ السلام، ان کی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور اہلِ حرم واپس آئے تھے، جن کے سینوں میں کربلا کی پوری داستان محفوظ تھی۔

اس لئے یہ صرف واپسی نہیں تھی؛ یہ شہادت کی گواہی کی واپسی تھی۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کربلا کی عظیم ترجمان تھیں۔ یزیدی اقتدار کا خیال تھا کہ امام حسین علیہ السلام کو شہید کرکے ان کی آواز کو خاموش کر دیا گیا ہے، لیکن وہ یہ بھول گئے تھے کہ شہید کا پیغام اس کے جسم کے ساتھ دفن نہیں ہوتا۔

کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے حق لکھا، تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی زبان سے اس حق کو دنیا کے سامنے بیان کیا۔ کوفہ میں انہوں نے لوگوں کے ضمیر کو جھنجھوڑا، شام میں یزید کے دربار میں باطل کو بے نقاب کیا اور مدینہ پہنچ کر کربلا کی داستان کو زندہ رکھا۔

حضرت زینب سلام اللہ علیہا صرف ایک غم زدہ بہن نہیں تھیں؛ وہ پیغامِ عاشورا کی امین اور ترجمان تھیں۔

ان کا گریہ بھی پیغام تھا، ان کے خطبات بھی پیغام تھے، ان کا صبر بھی پیغام تھا اور ان کی استقامت بھی پیغام تھی۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت شکست نہیں؛ بلکہ باطل کے چہرے سے نقاب اٹھانے والی ایک عظیم قربانی اور حق کی سربلندی کا ذریعہ ہے۔

مدینہ واپسی کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام کے سامنے ایک نہایت حساس اور دشوار دور تھا۔ کربلا کے بعد سیاسی حالات سخت تھے اور اہلِ بیت علیہم السلام کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔ ایسے حالات میں امام سجاد علیہ السلام نے عاشورا کے پیغام کو ایک مؤثر اور حکیمانہ انداز میں آگے بڑھایا۔

آپؑ نے دعا کو تربیت کا ذریعہ، گریہ کو یادِ کربلا کی حفاظت کا وسیلہ، عبادت کو اصلاحِ انسان کا راستہ اور اخلاق کو معاشرے کی تعمیر کی بنیاد بنایا۔

صحیفۂ سجادیہ کی دعائیں صرف عبادت کے الفاظ نہیں، بلکہ معرفت، اخلاق، تربیت اور انسانی زندگی کی اصلاح کا ایک عظیم خزانہ ہیں۔ اسی طرح رسالۃ الحقوق انسان کے مختلف حقوق اور ذمہ داریوں کی تعلیم دیتا ہے۔

یوں امام سجاد علیہ السلام نے یہ حقیقت واضح کی کہ ہر اصلاح کے لئے تلوار ضروری نہیں ہوتی۔

کبھی ایک دعا نسلوں کی تربیت کرتی ہے، ایک آنسو تاریخ کو زندہ رکھتا ہے اور ایک سجدہ انسان کے اندر انقلاب برپا کر دیتا ہے۔

امام سجاد علیہ السلام کا گریہ صرف ایک بیٹے کا اپنے والد کے لئے غم نہیں تھا؛ یہ یادِ عاشورا کو زندہ رکھنے کی ایک مسلسل جدوجہد بھی تھی۔

پانی سامنے آتا تو امام حسین علیہ السلام یاد آتے۔ کھانا سامنے آتا تو شہدائے کربلا یاد آتے۔ کسی مصیبت زدہ کو دیکھتے تو کربلا کی مصیبتیں یاد آ جاتیں۔

یہ گریہ لوگوں کو بتاتا تھا کہ کربلا کوئی بھولی ہوئی داستان نہیں؛ یہ وہ عظیم قربانی ہے جسے امت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔

اسی لئے امام سجاد علیہ السلام کا گریہ محض آنکھوں سے بہنے والا آنسو نہیں تھا؛ وہ تاریخ کے ضمیر کو بیدار کرنے والا ایک خاموش احتجاج تھا۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی مدینہ واپسی کے بعد عاشورا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں رہا، بلکہ ایک زندہ فکر اور دائمی پیغام بن گیا۔

کربلا نے انسان کو سکھایا کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار نہ کرو، حق کو مصلحت کے نام پر قربان نہ کرو، اقتدار کو حق و باطل کا معیار نہ سمجھو، تعداد کم ہو تو بھی حق کا ساتھ نہ چھوڑو، اور قربانی کا مقصد صرف جان دینا نہیں بلکہ حق کو زندہ رکھنا بھی ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں اپنے خون سے یہ سبق دیا، اور امام سجاد علیہ السلام و حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسے علم، خطبات، دعا، گریہ، کردار اور تربیت کے ذریعہ آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔

  • کربلا میں خون بہا تھا؛ مدینہ میں اس خون کا پیغام پھیلا۔
  • کربلا میں شہادت تھی؛ مدینہ میں شہادت کی تشریح تھی۔
  • کربلا میں تلواریں تھیں؛ مدینہ میں بیان، دعائیں اور آنسو تھے۔
  • کربلا میں قربانی دی گئی؛ مدینہ میں اس قربانی کے مقصد کو لوگوں کے سامنے واضح کیا گیا۔

یہی عاشورا کی حقیقی طاقت تھی۔

یزیدی طاقت جسموں کو قتل کر سکتی تھی، مگر قربانی کے پیغام کو قتل نہیں کر سکتی تھی۔

ظاہرا امام حسین علیہ السلام کا جسم کربلا میں رہ گیا، مگر ان کا پیغام مدینہ پہنچا۔ کربلا کی مٹی وہیں رہ گئی، مگر اس مٹی کی خوشبو نسل در نسل پھیلتی چلی گئی۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی مدینہ واپسی آج بھی ہم سے ایک سوال کرتی ہے:

  1. کیا ہم امام حسین علیہ السلام کو صرف تاریخ کا ایک واقعہ سمجھتے ہیں، یا اپنی زندگی کا ایک اصول؟
  2. کیا ہماری مجالس ہمیں صرف رلاتی ہیں یا ہمارے کردار کو بھی بدلتی ہیں؟
  3. کیا امام حسین علیہ السلام سے ہماری محبت ہمیں حق کے ساتھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتی ہے؟
  4. کیا ہماری زینبی نسبت ہمیں حق بات کہنے کی جرأت عطا کرتی ہے؟
  5. کیا ہماری سجادیت ہمیں عبادت، علم، اخلاق، صبر اور انسان سازی کی طرف لے جاتی ہے؟

اگر کربلا ہمارے آنسوؤں تک محدود ہے تو ہم نے کربلا کا آدھا پیغام سمجھا ہے۔

کربلا آنکھوں کو رلاتی ہے، مگر ضمیر کو جگانے کے لئے۔

کربلا دل کو غمگین کرتی ہے، مگر کردار کو مضبوط بنانے کے لئے۔

کربلا امام حسین علیہ السلام کی محبت عطا کرتی ہے، مگر امام حسین علیہ السلام کے راستے پر چلنے کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔

کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے حق کی بنیاد مضبوط کی، اور کربلا کے بعد امام سجاد علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسی بنیاد پر شعور و معرفت کی عمارت تعمیر کی۔

امام حسین علیہ السلام نے اپنے عمل سے حق کی گواہی دی۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس گواہی کو اپنی آواز عطا کی۔ امام سجاد علیہ السلام نے اس پیغام کو دعا، عبادت، علم اور تربیت کے ذریعہ نسلوں تک پہنچایا۔

اسی لئے مدینہ واپسی کسی مشن کا اختتام نہیں تھا؛ بلکہ مشنِ کربلا کے ایک نئے مرحلے کا آغاز تھا۔

کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے مشن کا آغاز ہوا، کوفہ اور شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسے آواز دی، اور مدینہ میں امام سجاد علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسے شعور اور پیغام کی شکل دے کر آنے والی نسلوں کے سپرد کر دیا۔

قافلہ مدینہ واپس آیا تھا، مگر کربلا اپنے ساتھ لایا تھا۔

اور یہی وجہ ہے کہ کربلا آج بھی زندہ ہے۔

امام حسین علیہ السلام آج بھی دلوں میں زندہ ہیں، حضرت زینب سلام اللہ علیہا آج بھی حق گوئی کی علامت ہیں، امام سجاد علیہ السلام آج بھی صبر، عبادت اور معرفت کا درس دے رہے ہیں۔

سلام ہو امام حسینؑ پر، جنہوں نے حق کے لئے سب کچھ قربان کر دیا۔

سلام ہو حضرت زینبؑ پر، جنہوں نے اس قربانی کو تاریخ بنا دیا۔

سلام ہو امام سجادؑ پر، جنہوں نے اس تاریخ کو شعور بنا دیا۔

اور سلام ہو اس مقدس قافلے پر جو کربلا سے نکلا تو زخمی تھا، مگر شکست خوردہ نہیں؛ غم زدہ تھا، مگر خاموش نہیں؛ قیدی تھا، مگر اپنے پیغام میں آزاد تھا۔

اَلسَّلَامُ عَلَى الْحُسَيْنِ، وَعَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، وَعَلَى أَوْلَادِ الْحُسَيْنِ، وَعَلَى أَصْحَابِ الْحُسَيْنِ۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha