پیر 24 اگست 2026 - 21:47
آیۃ الله العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ

حوزہ/کچھ لوگ صرف زندگی گزارتے ہیں اور کچھ اپنی زندگی کو ایک مقصد، ایک پیغام اور ایک روشن روایت بنا دیتے ہیں۔ کچھ اہلِ علم کتابیں لکھتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے ہیں جن کی پوری زندگی ہی ایک کھلی ہوئی کتاب بن جاتی ہے۔ مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر کاظمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا شمار انہی بلند پایہ شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ علم، تحقیق، تقویٰ، تدریس اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی خدمت کے لئے وقف کردیا۔

ترجمہ و ترتیب: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| کچھ لوگ صرف زندگی گزارتے ہیں اور کچھ اپنی زندگی کو ایک مقصد، ایک پیغام اور ایک روشن روایت بنا دیتے ہیں۔ کچھ اہلِ علم کتابیں لکھتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے ہیں جن کی پوری زندگی ہی ایک کھلی ہوئی کتاب بن جاتی ہے۔ مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر کاظمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا شمار انہی بلند پایہ شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ علم، تحقیق، تقویٰ، تدریس اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی خدمت کے لئے وقف کردیا۔

ان کی رحلت محض ایک عالمِ دین کی وفات نہیں تھی، بلکہ علمی دنیا کے ایک درخشاں باب کا اختتام تھی۔ تاہم جن اہلِ علم نے اپنی زندگی قلم و قرطاس کے نام کردی ہو، ان کا سفر موت کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔ ان کی فکر، تصانیف اور علمی خدمات آنے والی نسلوں کے لئے چراغِ راہ بن جاتی ہیں۔

11 ربیع الاول 1354ھ کو جب کاظمین کی مقدس سرزمین نے اس مردِ علم و اخلاص کو اپنے دامن میں جگہ دی تو بظاہر ایک عظیم عالم دنیا سے رخصت ہوا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے ایسا علمی سرمایہ چھوڑ گئے جس کی روشنی وقت گزرنے کے ساتھ ماند پڑنے کے بجائے مزید نمایاں ہوتی گئی۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت میں علم و عمل، تحقیق و تقویٰ، بصیرت و دینی غیرت اور تالیف و تدریس کا ایسا حسین امتزاج تھا جو کم ہی شخصیات میں نظر آتا ہے۔ وہ صرف فقیہ یا محدث نہیں تھے، صرف مدرس یا مؤلف و مصنف نہیں تھے؛ وہ اپنے عہد کے فکری و مذہبی حالات پر گہری نظر رکھنے والے صاحبِ بصیرت عالم تھے، جنہوں نے مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی علمی خدمت اور حفاظت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا تھا۔

29 رمضان 1272ھ کو کاظمین کے ایک علمی و روحانی خاندان میں آنکھ کھولنے والے آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے کم عمری ہی میں غیر معمولی علمی استعداد کا مظاہرہ کیا۔ صرف و نحو، معانی، بیان اور بدیع جیسے علوم میں کم سنی ہی میں مہارت حاصل کرنا ان کی ذہانت کے ساتھ ساتھ ان کی غیر معمولی محنت اور شوقِ علم کی بھی علامت تھا۔ بعد ازاں منطق، حکمت، کلام، فقہ اور اصول جیسے علوم کی تحصیل کرتے ہوئے علمی مدارج طے کئے اور نجف اشرف پہنچے۔

حوزۂ علمیہ نجف کی علمی فضا میں 17 برس قیام کیا اور علم و معرفت کی مختلف منزلیں طے کیں۔ اس کے بعد 1297ھ میں مرجعِ عظیم الشأن آیۃ اللہ العظمیٰ میرزا محمد حسن شیرازی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی خدمت میں سامرا تشریف لے گئے اور وہاں بھی 17 برس قیام فرمایا۔ یہ محض دو عظیم علمی مراکز میں گزرا ہوا ایک طویل عرصہ نہیں تھا؛ بلکہ یہ ایک ایسے عالم کی علمی تعمیر کا دور تھا جو آگے چل کر اپنے قلم سے اسلامی علوم کی تاریخ میں شیعہ علماء کے کردار کو نمایاں کرنے والا تھا۔

ان کی علمی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آیۃ اللہ محمد جواد بلاغی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آیۃ اللہ شیخ مرتضیٰ آل یاسین کاظمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور متعدد دیگر اہلِ علم نے ان سے کسبِ فیض کیا۔ علمِ حدیث میں ان کی غیر معمولی مہارت کے باعث وہ محدثِ کاظمینی کے لقب سے معروف ہوئے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے علمی کارناموں میں سب سے نمایاں مقام "تأسیس الشیعة لعلوم الإسلام" کو حاصل ہے۔ یہ کتاب محض ایک تألیف نہیں، بلکہ ایک علمی جواب تھی؛ ایسا جواب جس میں جذباتی ردِعمل کے بجائے تحقیق، استدلال، حوالہ اور تاریخی شواہد کو بنیاد بنایا گیا۔

ایسے زمانے میں جب بعض تحریروں میں شیعہ مکتب کے علمی کردار کو نظرانداز یا محدود کرکے پیش کیا جارہا تھا، آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے قلم اٹھایا اور اسلامی علوم کی تشکیل و ترقی میں شیعہ علماء کی خدمات کو سامنے لانے کا بیڑا اٹھایا۔

علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ، آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اور آیۃ اللہ محمد حسین کاشف الغطاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی علمی جدوجہد کے پیچھے ایک مشترکہ احساس کارفرما تھا: تشیع کی علمی میراث کو محفوظ کرنا اور اس کے علمی کردار کو دنیا کے سامنے پیش کرنا۔

علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے شیعہ تصانیف کا عظیم ذخیرہ "الذریعۃ إلی تصانیف الشیعۃ" کی صورت میں مرتب کیا، آیۃ اللہ کاشف الغطاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے جرجی زیدان کی تحریروں کا علمی نقد کیا اور آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے "تأسیس الشیعة لعلوم الإسلام" کے ذریعہ اسلامی علوم کی تشکیل، تدوین اور ارتقا میں شیعہ علماء کے کردار کو اجاگر کیا۔

یہاں آیۃ اللہ العظمیٰ سید صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت کا ایک نہایت روشن پہلو سامنے آتا ہے: وہ دفاعِ مکتب کو جذباتی نعروں کا نہیں، تحقیق و استدلال کا میدان سمجھتے تھے۔

"تأسیس الشیعة لعلوم الإسلام" میں نحو، صرف، لغت، معانی و بیان و بدیع، عروض، فنونِ شعر، تاریخ و سیرت، علمِ حدیث، درایۃ الحدیث، فقہ، اصولِ فقہ، علومِ قرآن، علمِ کلام اور اخلاق جیسے علوم پر گفتگو کی گئی ہے۔ کتاب کا ہر باب گویا تاریخ کے ایک بند دروازے پر دستک دیتا ہے اور یہ سوال سامنے لاتا ہے کہ اسلامی علوم کی تشکیل، تدوین اور ترقی میں کن اہلِ علم نے اپنا خونِ جگر صرف کیا؟

آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے علمِ نحو کے ضمن میں ابوالاسود دوئلی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا ذکر کرتے ہوئے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی علمی رہنمائی کی طرف توجہ دلائی۔ تفسیر کے میدان میں جناب سعید بن جبیر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا ذکر کیا، حدیث اور درایۃ الحدیث کے ضمن میں حاکم نیشابوری جیسے ناموں پر گفتگو کی (آپ کے مطابق حاکم نیشاپوری علمِ درایہ کے اولین مولف تھے۔ ابن تیمیہ، سمعانی اور ذہبی جیسے اہلِ سنت علماء نے ان کے شیعہ ہونے کی تصریح کی ہے۔) اور اخلاقی تعلیمات کے باب میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی علمی و اخلاقی میراث کو نمایاں کیا۔

یہ کتاب صرف یہ بتانے کی کوشش نہیں کرتی کہ شیعہ علماء نے کن علوم میں خدمات انجام دیں، بلکہ اسلامی تہذیب کی تشکیل میں ان کے علمی کردار کو تاریخی تناظر میں سمجھنے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ اسی اعتبار سے "تأسیس الشیعة لعلوم الإسلام" شیعہ علمی میراث کے تعارف اور دفاع کی ایک اہم اور قابلِ ذکر کاوش بن جاتی ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے لئے کتاب محض کاغذ کے اوراق کا مجموعہ نہیں تھی؛ کتاب ان کی رفیقِ زندگی اور تحقیق کا وسیلہ تھی۔ نادر و قدیم کتابوں کی تلاش، ان کے مولفین و مصنفین کا سراغ لگانا، متون کی تحقیق کرنا اور علمی روایات کو محفوظ رکھنا ان کے معمولات کا حصہ تھا۔ جوانی میں راتیں مطالعہ میں گزرتیں اور عمر کے آخری حصے میں بھی کتابوں کے درمیان تحقیق، تالیف و تصنیف کا سلسلہ جاری رہا۔

یہ منظر آج کے انسان کے لئے کس قدر سبق آموز ہے!

آج معلومات کے ذرائع بے شمار ہیں، مگر گہرے مطالعہ کے لئے وقت کم ہوتا جارہا ہے۔ معلومات کا سیلاب ہے، لیکن تحقیق کا ذوق کم ہوتا جارہا ہے۔ دعوے بہت ہیں، مگر حوالہ کم؛ آوازیں بہت ہیں، مگر مطالعہ کم۔

ایسے دور میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی خاموشی سے ہمیں پکارتی ہے کہ علم حاصل کرنا ہو تو کتاب سے رشتہ جوڑو، اور کسی بات کا دفاع کرنا ہو تو پہلے اسے تحقیق اور دلیل سے ثابت کرو۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف دینی غیرت بھی تھا، لیکن ان کی یہ غیرت شور و غوغا یا جذباتی ردِعمل کی صورت میں نہیں بلکہ علمی جدوجہد کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ وہابی افکار کے رد میں ان کی تالیف "الرسالة الشریفة فی الردّ علی فتاوی الوهابیین" ہو یا "تأسیس الشیعة لعلوم الإسلام"، دونوں میں ایک بنیادی مزاج نمایاں نظر آتا ہے: باطل کا جواب علم سے، شبہات کا جواب دلیل سے اور فکری چیلنج کا جواب تحقیق سے دیا جائے۔

یہی شاید ان کی زندگی کا سب سے اہم سبق ہے۔ مکتبِ اہل بیت علیہم السلام سے محبت کا مطلب صرف اپنے مکتب کے حق میں نعرہ لگانا نہیں؛ بلکہ اس محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنے مکتب کی علمی تاریخ پڑھے، اس کے عظیم علمی ذخیرے سے واقف ہو، اپنے عقائد کو دلیل کے ساتھ سمجھے اور حکمت، اخلاق اور حسنِ بیان کے ساتھ انہیں دوسروں تک پہنچائے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی وفات کو کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن ان کی علمی ضرورت آج بھی محسوس ہوتی ہے۔ آج فکری شبہات صرف کتابوں اور مناظروں تک محدود نہیں رہے؛ وہ موبائل فون کی اسکرینوں کے ذریعہ لمحوں میں ہزاروں ذہنوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایک غیر مستند روایت، ایک تاریخی غلط بیانی یا ایک گمراہ کن نظریہ چند لمحوں میں وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔

ایسے ماحول میں آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی زندگی ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ مکتب کا دفاع صرف جذبات سے نہیں کیا جاسکتا۔

پڑھنا ہوگا، سمجھنا ہوگا، تحقیق کرنا ہوگی، حوالہ تلاش کرنا ہوگا، اور پھر دلیل، حکمت اور اخلاق کے ساتھ بات کرنی ہوگی۔

اگر ہمارے نوجوان "تأسیس الشیعة لعلوم الإسلام" جیسی کتابوں سے واقف ہوں، اپنے بزرگ علماء کی علمی خدمات کا مطالعہ کریں اور تحقیق کو اپنی عادت بنائیں تو وہ صرف اپنے ماضی سے واقف نہیں ہوں گے، بلکہ اپنے زمانے کے فکری چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے بھی مضبوط بنیاد حاصل کرسکیں گے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید حسن صدر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے 11 ربیع الاول 1354ھ کو اس دنیا سے رخصت ہوکر ایک ایسی علمی میراث چھوڑی جو وقت کی گرد سے دھندلی نہیں ہوئی۔ ان کی تصانیف آج بھی موجود ہیں، ان کا علمی اسلوب آج بھی قابلِ مطالعہ ہے اور ان کی تحقیقی کاوشیں آج بھی اہلِ علم کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔

وہ چلے گئے، مگر ان کا قلم باقی رہ گیا۔ وہ خاموش ہوگئے، مگر ان کی کتابیں بولتی رہیں۔ ان کا جسم خاک میں آسودہ ہوگیا، مگر ان کا علمی فکر نسلوں کے ذہنوں میں زندہ رہا۔

آج بزرگان دین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ صرف ان کی عظمت بیان کرنا نہیں، بلکہ ان کے علمی مشن کو سمجھنا اور اسے آگے بڑھانے کا عزم کرنا بھی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha