حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مبلغ حجت الاسلام والمسلمین سید محمد تقی قادری نے «امام حسن عسکریؑ اور 250 سالہ سازش کا خاتمہ» کے عنوان سے ایک تحریر میں آنحضرت کے دورِ امامت کی درخشاں کارکردگی، سیاسی حالات کے مقابل، آنحضرت کے دوٹوک اور سنجیدہ مؤقف اور اہلِ بیتؑ کے دشمنوں کی انتہائی خطرناک اور پیچیدہ سازشوں کے مقابل، آنحضرت کی حکمتِ عملی کا جامع تجزیہ پیش کیا ہے، جس کی تفصیل ذیل میں ملاحظہ کیجیے:
اگر ہم امام حسن عسکریؑ کے دورِ امامت کی اہم کارکردگی اور سیاسی حالات کے مقابل، آنحضرت کے دوٹوک اور سنجیدہ مؤقف، نیز اہلِ بیتؑ کے دشمنوں کی انتہائی خطرناک اور پیچیدہ سازشوں کے مقابل، آنحضرت کی حکمتِ عملی کا جامع تجزیہ کرنا چاہیں تو یہ اسی وقت ممکن ہے جب دو نہایت اہم اور بنیادی نکات کا درست طور پر تجزیہ کیا جائے:
پہلا نکتہ:
دسویں ہجری میں واقعۂ غدیر اور اس کے بعد سقیفۂ بنی ساعدہ کے قیام سے لے کر 260 ہجری تک، یعنی تقریباً 250 سال کے عرصے میں، اہلِ بیتؑ کے دشمنوں نے اس مقصد کے لیے کہ ائمہؑ میں سے کوئی بھی حکومت تشکیل نہ دے سکے اور مسلمانوں کی قیادت و رہبری اپنے ہاتھ میں نہ لے سکے، مختلف مراحل اور منصوبوں کے تحت کاروائیاں کیں اور انہیں سیاسی و جسمانی طور پر منظر سے ہٹانے کی کوشش کی۔
پہلا مرحلہ: سیاست سے دوری
دسویں ہجری سے 36 ہجری تک، یعنی تقریباً 25 سال کے عرصے میں جو کچھ پیش آیا، وہ درحقیقت اہلِ بیتؑ کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کی کوشش تھی۔
یعنی ولایت و امامت کے منصب کو خلافت میں تبدیل کرکے، رسولِ اکرم (ص) کی جانشینی کو اس کے قدسی و الٰہی مقام سے گرا کر محض ایک انتظامی و اجرائی منصب کی سطح تک محدود کر دیا گیا۔ سقیفۂ بنی ساعدہ میں سازش کرنے والے عناصر اس طرح امام علیؑ کو ان کے مشروع اور منصوص منصب سے دور کرنے میں کامیاب ہوئے اور امتِ اسلامی کو نظامِ ولایت سے محروم کر دیا۔
دوسرا مرحلہ: سیاسی اور جسمانی خاتمہ
40 ہجری سے 132 ہجری تک، یعنی اموی اور مروانی حکومت کے دور میں، اموی و مروانی حکمرانوں نے اہلِ بیتؑ کو منظر سے ہٹانے کے لیے دو مراحل میں کاروائیاں کیں۔
پہلے مرحلے میں سیاسی اخراج تھا۔ انہوں نے اس امر کی اجازت نہیں دی کہ اس دور کے کسی بھی امام، یعنی امام حسنؑ، امام حسینؑ اور امام زین العابدینؑ کو حکومت اور قیادتِ امت سنبھالنے کا موقع ملے۔
دوسرے مرحلے میں جسمانی اخراج (شہید کرنے) کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں امام حسنؑ، امام حسینؑ اور امام زین العابدینؑ کو شہید کیا گیا۔
تیسرا مرحلہ: سیاسی، نسلی اور جسمانی خاتمہ
132 ہجری میں جب بنی عباس برسرِ اقتدار آئے اور سفاح، منصور، ہارون اور مأمون جیسے خلفاء اقتدار میں آئے تو انہیں اہلِ بیتؑ کے بارے میں پہلے سے زیادہ اور دقیق معلومات حاصل تھیں۔ چنانچہ انہوں نے سیاسی اخراج کے ساتھ ساتھ ایک نئی پالیسی اختیار کی۔
انہوں نے نہ صرف یہ کہ چار ائمہؑ، یعنی امام محمد باقرؑ، امام جعفر صادقؑ، امام موسیٰ کاظمؑ اور امام علی رضاؑ کو امتِ اسلامی کی قیادت و رہبری سنبھالنے اور حکومت تشکیل دینے کی اجازت نہیں دی، بلکہ ان چاروں ائمہؑ کو بھی شہید کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اہلِ بیتؑ کو نسلی طور پر ختم کرنے کا ایک نیا مرحلہ شروع کیا۔ اسی مقصد کے تحت سادات کو گرفتار کرنا اور انہیں شہید کرنا شروع کیا گیا، تاکہ اہلِ بیتؑ کی نسل کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک امامؑ کو ختم کرنے کے باوجود امام زادے قیام کرتے ہیں، اپنے بزرگوں کے راستے اور طرزِ عمل کو جاری رکھتے ہیں اور یوں بنی عباس کے ظالم حکمرانوں کے لیے ایک حقیقی اور بالفعل خطرہ بن جاتے ہیں۔
چوتھا مرحلہ: سلسلۂ امامت کی آخری کڑی اور مرکزِ الہام کا خاتمہ
218 ہجری سے شروع ہونے والے بنی عباس کے دوسرے دورِ اقتدار میں، جب متوکل، مستعین، معتز، مہتدی اور معتمد جیسے ظالم خلفاء برسرِ اقتدار تھے اور امام محمد تقیؑ، امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کا دورِ امامت تھا تو ان ستم پیشہ حکمرانوں نے اہلِ بیتؑ کو ختم کرنے کے لیے چار مراحل اختیار کیے:
پہلا: ائمہؑ کے جسمانی خاتمے کے لیے انہوں نے اپنے پیشرو خلفاء کی روش میں تبدیلی کی اور اس دور کے ائمہؑ کو جوانی ہی میں شہید کر دیا، تاکہ انہیں افراد سازی، تربیتِ کارکنان اور ولائی افکار کی ترویج و اشاعت کا موقع نہ مل سکے۔ چنانچہ امام جوادؑ 25 سال، امام ہادیؑ 41 سال اور امام حسن عسکریؑ 28 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔
دوسرا: ائمہؑ کو امت سازی سے روکنے اور شیعوں کے ساتھ ان کا رابطہ منقطع کرنے کے لیے امام ہادیؑ اور امام حسن عسکریؑ کو مدینہ سے سامرا منتقل کیا گیا اور وہاں ایک فوجی چھاؤنی میں نظر بند اور خانۂ حصر میں رکھا گیا۔
تیسرا: چونکہ عباسی حکمران رسولِ اکرم (ص) کی روایات سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ امامت کی آخری کڑی حضرت امام مہدیؑ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں، اس لیے انہوں نے اس آخری کڑی کو، جو ابھی دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے، ختم کرنے اور اہلِ بیتؑ کے خلاف اپنے منصوبے کو مکمل کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ حضرت امام مہدیؑ کی والدہ ماجدہؑ کو سخت نگرانی میں رکھا گیا اور دایاؤں کے ذریعے مسلسل ان کی طبی جانچ کروائی جاتی تھی، تاکہ اگر حمل کا پتا چلے تو ماں اور بچے دونوں کو جسمانی طور پر ختم کیا جا سکے۔
چوتھا: چونکہ حضرت امام حسینؑ کی تربتِ پاک اور مرقدِ مطہر علویوں اور شیعوں کی تحریکوں اور قیام کے لیے مرکزِ الہام تھا، اس لیے عباسی خلیفہ متوکل نے اس تحریک کو خاموش کرنے کے لیے امام حسینؑ کی مقدس قبر کو منہدم کرنے کی کوشش کی اور آپؑ کے روضۂ اقدس کو مسمار کروایا۔
دوسرا نکتہ:
ایسے سخت اور کٹھن دور میں، جب یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ اہلِ بیتؑ اپنے سفر کی آخری منزل تک پہنچ چکے ہیں اور سقیفۂ بنی ساعدہ کا وہ منصوبہ، جس کا مقصد اہلِ بیتؑ کو جسمانی، سیاسی اور اعتقادی طور پر ختم کرنا تھا، کامیابی کے قریب ہے، امام حسن عسکریؑ نے اپنے غیر معمولی کردار، چار بنیادی اور کلیدی اقدامات کو عملی جامہ پہنانے اور اپنے انتہائی سنجیدہ، دقیق اور مقدس مؤقف کے ذریعے امویوں اور عباسیوں کے نہایت خطرناک سیاسی، سلامتی اور ثقافتی منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔
یوں امام حسن عسکریؑ نے اہلِ بیتؑ کو تاریخ کے ہر دور کے لیے غالب، سربلند اور ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا، جبکہ ان کے دشمنوں کو مغلوب کرکے تاریخ کے صفحات سے مٹا دیا۔
آخری حلقۂ امامت کی مخفیانہ ولادت
بنی عباس کی حکومت کے تمام تر حفاظتی انتظامات اور آخری حلقۂ امامت کی ولادت کا سراغ لگانے کے لیے ان کے کارندوں کی سخت نگرانی کے باوجود، امام حسن عسکریؑ نے اپنی غیر معمولی کرامت اور تدبیر کے ذریعے آخری حلقۂ امامت کی ولادت کے لیے حالات سازگار کیے۔
چنانچہ حضرت امام مہدیؑ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اپنی پاکیزہ والدہ حضرت نرجس خاتونؑ کے دامن میں دنیا میں تشریف لائے، امامتِ اہلِ بیتؑ کا سلسلہ جاری رکھا اور یہ حقیقت ثابت ہوگئی کہ:﴿یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللّٰهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ﴾(سورۂ صف، آیت ۸)
ترجمہ:وہ چاہتے ہیں کہ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں، حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔
شیعوں کو غیبتِ کبریٰ کے دور کے لیے تیار کرنا
شیعوں کو بارہویں امام حضرت مہدیؑ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت کے دور کے لیے تیار کرنا بھی امام حسن عسکریؑ کے اہم ترین کرداروں میں سے ایک تھا؛ کیونکہ کسی بھی قوم یا جماعت کے پیشوا اور رہبر کا نظروں سے اوجھل ہوجانا ایک غیر معمولی اور غیر مانوس واقعہ ہے، جس پر یقین کرنا اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرنا لوگوں کے لیے دشوار ہوتا ہے۔
رسولِ اکرم (ص) اور سابق ائمہؑ نے بتدریج لوگوں کو اس حقیقت سے آشنا کیا اور ان کے اذہان کو اس امر کی قبولیت کے لیے تیار کیا۔ امام ہادیؑ اور امام حسن عسکریؑ کے زمانے میں یہ کوشش زیادہ سنجیدہ اور نمایاں ہوگئی، جبکہ امام حسن عسکریؑ کے دور میں اس کی خاص اہمیت سامنے آئی۔
اگرچہ امام حسن عسکریؑ نے حضرت مہدیؑ کی ولادت پر تاکید فرمائی، لیکن آپؑ انہیں صرف اپنے خاص اور انتہائی قریبی شیعوں کو دکھاتے تھے۔
آپؑ فرماتے ہیں: «صاحبُکم بعدی...»
یہ میرے بعد تمہارے صاحب اور پیشوا ہیں۔(الارشاد، ج ۲، ص ۳۴)
«إنَّ ابنی هو القائمُ من بعدی...»
بے شک میرا فرزند میرے بعد قائم ہے۔(کمال الدین و تمام النعمة، ج ۳، ص ۵۲۴)
«هذا إمامُکم من بعدی و خلیفتی علیکم...»یہ میرے بعد تمہارے امام اور تم پر میرے جانشین ہیں۔(حوالۂ سابق، ص ۵۲۴)
«ابنی محمد هو الإمامُ الحجةُ بعدی...» میرا فرزند محمدؑ میرے بعد امام اور حجت ہیں۔(حوالۂ سابق، ص ۴۰۹)
دوسری جانب، خود امام حسن عسکریؑ سے شیعوں کا براہِ راست رابطہ بھی روز بروز محدود اور کم ہوتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ سامرہ میں بھی آپؑ لوگوں کے سوالات اور مسائل کے جوابات خطوط یا اپنے نمائندوں کے ذریعے دیتے تھے۔
اس طرح امام حسن عسکریؑ نے شیعوں کو بتدریج ایسے حالات کا عادی بنایا کہ وہ دورانِ غیبت امام سے براہِ راست ملاقات کے بجائے بالواسطہ رابطے کے ذریعے دینی رہنمائی حاصل کر سکیں اور یوں انہیں عصرِ غیبت کے حالات اور تقاضوں کو قبول کرنے کے لیے تیار کیا۔
وکالتی نظام کی تشکیل
گھر میں نظر بندی کے باوجود امامؑ کا شیعوں کے ساتھ رابطہ منقطع نہ ہو، اس مقصد کے لیے وکالتی نظام کو منظم اور وسیع کیا گیا۔ اس زمانے میں تشیع مختلف شہروں اور علاقوں میں پھیل چکا تھا اور متعدد مقامات پر شیعوں کے مضبوط مراکز قائم ہو چکے تھے۔
کوفہ، بغداد، نیشاپور، قم، خراسان، مدائن، یمن، رے، آذربائیجان، سامرہ، جرجان اور بصرہ شیعوں کے اہم مراکز شمار ہوتے تھے۔
امام حسن عسکریؑ نے اپنے والد امام ہادیؑ کے قائم کردہ وکالتی نظام کو مزید وسعت دی، جس کا مقصد ایک طرف شیعوں کا سلسلۂ امامت سے رابطہ برقرار رکھنا اور دوسری طرف خود شیعوں کے درمیان باہمی ارتباط کو مضبوط بنانا تھا۔
اسی مقصد کے تحت امامؑ نے شیعوں کے درمیان موجود ممتاز اور قابلِ اعتماد شخصیات کو منتخب کرکے مختلف علاقوں میں اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ امامؑ ان نمائندوں سے مسلسل رابطے میں رہتے اور ان کے ذریعے مختلف علاقوں میں اپنے پیروکاروں کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔
امامؑ کے نمائندے ایک منظم اور درجہ بندی پر مبنی نظام کے تحت کام کرتے تھے اور ہر نمائندے کے دائرۂ فعالیت کا تعین کیا گیا تھا۔ مختلف علاقوں سے جمع ہونے والے مالی حقوق اور دیگر وجوہات بالآخر مرکزی وکیل تک پہنچتے، جو انہیں امامؑ کی خدمت میں پیش کرتا تھا۔
امام حسن عسکریؑ نے اس مؤثر وکالتی نظام کے ذریعے نہ صرف شیعوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا، بلکہ شیعہ اقلیت کی اجتماعی شناخت، تنظیم اور وجود کو بھی محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
تربتِ سیدالشہداءؑ کی زیارت کو زندہ رکھنا
عباسی خلفاء نے حکومت کے آغاز ہی سے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ سیدالشہداء امام حسینؑ کی مقدس تربت، قیام اور تحریکوں کے لیے ایک مرکزِ الہام ہے؛ کیونکہ خود انہوں نے بھی «یا لَثَارَاتِ الْحُسَیْن» یعنی خونِ حسینؑ کا بدلہ لینے کے نعرے کے تحت مروانیوں کے خلاف قیام کیا اور عباسی حکومت قائم کی۔
لیکن حکومت مضبوط ہونے کے بعد، پہلے منصور دوانیقی، پھر ہارون اور متوکل نے امام حسینؑ کی مقدس قبر اور گنبد کو منہدم کیا اور آپؑ کی قبرِ مطہر پر پانی بہانے کی کوشش کی۔
اس کے مقابل امام حسن عسکریؑ نے اپنے نورانی کلام کے ذریعے زیارتِ امام حسینؑ کو زندہ اور ہمیشہ کے لیے ماندگار بنا دیا۔
آپؑ نے فرمایا:«عَلاماتُ المؤمنِ خَمسٌ: صَلَواتُ إحدی و خَمسینَ، و زیارةُ الأربعینِ، و التَّخَتُّمُ بالیَمینِ، و تَعفیرُ الجَبینِ، و الجَهرُ بِبسمِ اللهِ الرَّحمنِ الرَّحیمِ.»(اقبال، ج ۳، ص ۱۰۰)
ترجمہ:مؤمن کی پانچ نشانیاں ہیں:
1. 51 رکعت نماز ادا کرنا
2. امام حسینؑ کی زیارتِ اربعین بجا لانا
3. دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا
4. سجدے کے وقت پیشانی کو خاک پر رکھنا
5. جہری نمازوں (فجر، مغرب اور عشاء) میں بسم الله الرحمٰن الرحیم کو بلند آواز سے پڑھنا
امام حسن عسکریؑ نے اپنے اس نورانی فرمان کے ذریعے اپنے جدِّ بزرگوار امام حسین بن علیؑ کے روضۂ اقدس اور تربتِ پاک کی زیارت کو اس قدر زندہ اور ماندگار کردیا کہ واقعۂ کربلا کے 1383 سال بعد بھی دنیا بھر سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ عاشقانِ حسینؑ زیارتِ اربعین کے لیے نجف سے کربلا تک پیدل سفر کرتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ