اتوار 4 اکتوبر 2026 - 15:15
تنظیم المکاتب کا نصاب: اعتراض کے کٹہرے میں نہیں تحقیق کی میز پر

حوزہ/ تنظیم المکاتب کے نصاب میں جہاد سے متعلق عبارت پر اٹھنے والے اعتراضات کے جائزے میں سید نجیب الحسن زیدی نے فقہائے امامیہ کی آراء اور عصرِ غیبت کے فقہی مباحث کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ نصاب میں کسی پیچیدہ فقہی مسئلے کو بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق آسان زبان میں بیان کرنا شریعت میں تبدیلی نہیں، بلکہ تدریس کا تقاضا ہے۔

تحریر: حجۃالاسلام سید نجیب الحسن زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی| کسی ادارہ، اسکول یا مدرسہ کے تعلیمی نصاب پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ بنیادی حقیقت ذہن میں رہنی چاہیے کہ نصاب کوئی جامد پتھر نہیں جس میں تبدیلی ممکن نہ ہو ۔ زمانہ بدلتا ہے، تعلیمی تقاضے بدلتے ہیں، زبان کا اسلوب بدلتا ہے، بچوں کی ذہنی سطح اور معاشرتی ضرورتیں بدلتی ہیں، چنانچہ نصاب بھی وقتاً فوقتاً تبدیل، مرتب، مختصر، وسیع اور جدید ہوتا رہتا ہے۔

دنیا کے بڑے سے بڑے تعلیمی نظام میں نئی نسل کی ضرورتوں کے مطابق نصاب میں تبدیلی کوئی عیب نہیں بلکہ تعلیمی زندگی کی علامت ہے۔

پھر اگر کسی دینی ادارے نے بھی اپنی درسی کتابوں کے اسلوب، ترتیب، مثالوں، زبان، ابواب یا تعلیمی طریقۂ کار میں تبدیلی کی تو آخر اس میں اعتراض کی کیا گنجائش ہے؟

کیا ہر نئی عبارت کا مطلب نئی شریعت ہے؟

کیا کتاب کی نئی ترتیب کا مطلب فقہ کی تبدیلی ہے؟

کیا مشکل فقہی اصطلاح کو آسان زبان میں بیان کرنا شریعت میں تصرف ہے؟

اگر ایسا ہے تو پھر صدیوں سے فقہ کی شرحیں، حواشی، تلخیصات، توضیحات اور تعلیقات کیوں لکھی جاتی رہی ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ شریعت اپنی جگہ ہے اور شریعت کی تعلیم دینے کا اسلوب اپنی جگہ۔

*تنظیم المکاتب* نے شریعت کے اصول تبدیل نہیں کیے؛ اس نے فقہائے اہل بیتؑ کے بیان کردہ اصولوں کو بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق آسان زبان میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایک مجتہد جب درس خارج میں میں کسی مسئلے کی شرائط، قیود، استثنائات اور فروعات بیان کرتا ہے تو وہ حوزہ کے طلاب و محققین سے مخاطب ہوتا ہے اور یہ درس سالہا سال چلتا ہے تنقیدوں سے گزرتا ہے مدون ہوتا ہے اس پر حاشیے لگتے ہیں گفتگو ہوتی ہے مباحثے ہوتے ہیں پھر ضرورت ہو تو اسی کے روشنی میں فتاوی سامنے آتے ہیں بلکہ بسا اوقات بحث و مباحثہ کے بعد فتاوی تبدیل بھی ہوتے ہیں

لیکن جب یہی بنیادی مفہوم ایک دینی مدرسہ کے ابتدائی طالب علم کو سمجھانا ہو تو کیا استاد درس خارج کی بحث چھیڑتا ہے یا کتاب کی پیچیدہ عبارت بعینہٖ بچے کے سامنے رکھ دیتا ہے۔

اگر ایسا کیا ہو تو بچہ فقہ نہیں سمجھے گا، بلکہ فقہ کو بھوت پریت سمجھ کر اس سے خوفزدہ ہوجائے گا۔

اسی لیے نصاب کا کام فقہی رسالے کی لفظ بہ لفظ نقل کرنا نہیں بلکہ فقہی اصول کو تعلیمی زبان میں منتقل کرنا ہے۔

تنظیم المکاتب کے نصاب کو مدون کرنے والے افاضل و اساتید نے یہی کام کیا ہے۔

انہوں نے فقہاء کی جگہ فتویٰ نہیں دیا۔انہوں نے کوئی نیا واجب ایجاد نہیں کیا۔

انہوں نے کسی حرام کو حلال اور کسی حلال کو حرام قرار نہیں دیا۔

انہوں نے صرف یہ کوشش کی کہ جو بات فقیہ پیچیدہ فقہی اصطلاح میں بیان کرتا ہے، اسے بچہ آسان زبان میں سمجھ سکے۔

یہ شریعت میں تبدیلی نہیں؛

یہ تعلیم کا ہنر ہے۔

اب تنظیم المکاتب کے نصاب میں "جہاد" سے متعلق ایک عبارت کو لے کر اگر کوئی اعتراض اٹھایا جاتا ہے تو پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس عبارت کا بنیادی مفہوم کیا ہے۔

اگر بچے کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ جہاد کوئی انفرادی، خود ساختہ اور بے قاعدہ مسلح اقدام نہیں، بلکہ شرعی قیادت اور مجاز اتھارٹی سے متعلق ایک سنجیدہ شرعی مسئلہ ہے تو اس بنیادی تصور کو غلط کہنا فقہی تاریخ سے ناواقفیت ہوگی۔

تنظیم المکاتب کا نصاب: اعتراض کے کٹہرے میں نہیں تحقیق کی میز پر

آیت اللہ سیستانی کے دفتر کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود استفتاء میں صاف الفاظ ہیں:

«الجهاد مع المعصوم (عليه السلام) أو نائبه الخاص واجب وهو حكم شرعي.»

یعنی معصومؑ یا اس کے خاص نائب کے ساتھ جہاد واجب ہے اور یہ ایک شرعی حکم ہے۔

اور یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے فقہاء نے اس سے پہلے بھی مختلف روایات سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے چنانچہ :

متقدمین کے یہاں ہمیں ملتا ہے :

«والجهاد فرضٌ على الكفاية، يجب على من ندبه الإمام إليه، ويكون مع الإمام العادل أو من نصبه الإمام لذلك.»

یعنی جہاد واجبِ کفائی ہے، اور اس شخص پر واجب ہوتا ہے جسے امام اس کے لیے طلب کرے؛ نیز یہ امامِ عادل یا اس کے مقرر کردہ نمائندے کے ساتھ انجام پاتا ہے۔

شیخ طوسیؒ اپنی کتاب النهاية میں لکھتے ہیں:

«والجهاد مع أئمة الجور لا يجوز، وإنما يجب الجهاد مع الإمام العادل أو من يأمره الإمام بذلك.»

ظالم حکمرانوں کے ساتھ جہاد جائز نہیں؛ جہاد صرف امامِ عادل کے ساتھ یا اس شخص کے ساتھ واجب ہے جسے امام اس کام کا حکم دے۔

علامہ حلیؒ تذكرة الفقهاء میں فرماتے ہیں:

«الجهاد واجب على الكفاية، ولا يجب إلا مع الإمام العادل أو نائبه الخاص.»

یعنی جہاد واجبِ کفائی ہے، اور یہ امامِ عادل یا اس کے خاص نائب کی موجودگی یا اجازت کے ساتھ ہی واجب ہوتا ہے۔

شہید ثانیؒ مسالك الأفهام میں جہادِ ابتدائی کے بارے میں لکھتے ہیں:

«يشترط في وجوب الجهاد الابتدائي حضور الإمام أو نائبه الخاص،

جہادِ ابتدائی کے وجوب کے لیے امام یا اس کے خاص نائب کی موجودگی شرط ہے؛ لہٰذا زمانۂ غیبت میں یہ اسی عنوان سے مشروع نہیں ہوتا۔

اب اگر ایک نصابی کتاب میں بچے کے لیے اس پیچیدہ فقہی بحث کو مختصر کرکے یہ لکھ دیا جائے کہ:

’’جہاد نبی، امام یا نائبِ امام کی اجازت سے ہوسکتا ہے‘‘

تو اسے فوراً ’’شریعت کے خلاف‘‘ قرار دینا کہاں کی فقہی بصیرت ہے؟

یہ تو بنیادی فقہی تصور کو آسان تعلیمی زبان میں منتقل کرنا ہے۔

ہاں، اعلیٰ درجے کی فقہی تعلیم میں یہ وضاحت ضرور کی جائے گی کہ جہادِ ابتدائی، دفاعی قتال، امامِ معصوم، نائبِ خاص، عصرِ غیبت اور دفاعِ اسلام کے احکام کو ایک دوسرے سے خلط نہ کیا جائے۔

لیکن ابتدائی درجے کے بچے کے لیے بنیادی اصول بیان کرنا کوئی جرم نہیں۔

کیا فقہاء نے اجازت اور قیادت کی شرط بیان نہیں کی؟

اگر اعتراض کرنے والے واقعی فقہی تحقیق چاہتے ہیں تو انہیں صرف نصابی کتاب نہیں، فقہائے امامیہ کی اصل کتابیں کھول کر دیکھنا چاہیئے

صدیوں سے فقہائے امامیہ نے جہاد کو ایک منظم فقہی باب کے طور پر بیان کیا ہے۔ ان مباحث میں امامِ عادل، نائب، قیادت، اذن، دعوت، استطاعت، دفاع اور دیگر شرائط زیر بحث آتی رہی ہیں۔

یعنی تنظیم المکاتب نے آسمان سے کوئی نیا فقہی نظریہ نازل نہیں کیا۔

یہ فقہی ورثہ پہلے سے موجود تھا۔

نصاب نے صرف اسے بچے کی زبان میں سمجھایا۔

یہی تو نصاب کا کام ہے!

مگر ایک اعتراض پھر بھی کیا جاسکتا ہے — اور اس کا جواب بھی موجود ہے

کوئی کہہ سکتا ہے کہ اگر جہاد کی تمام اقسام ایک جیسی نہیں تو پھر نصاب میں اتنا مختصر جملہ کیوں لکھا گیا؟

اس کا جواب بالکل واضح ہے:

ابتدائی نصاب، درسِ خارج نہیں ہوتا۔

چھوٹے بچے کو پہلے بنیادی اصول سکھایا جاتا ہے، پھر عمر، استعداد اور تعلیمی سطح بڑھنے کے ساتھ تفصیلات، استثنائات اور فقہی اختلافات سامنے آتے ہیں۔

اگر پہلی جماعت کے بچے کو ہر مسئلے کے تمام فقہی اختلافات بتانے شروع کردیئے جائیں تو وہ علم حاصل نہیں کرے گا، بلکہ معلومات کے بوجھ تلے دب جائے گا۔

اسی لیے نصاب میں تعلیم کی تدریجی حکمت اختیار کی جاتی ہے۔

مختصر عبارت کو اس وقت تک ’’غلط‘‘ کہنا درست نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہوجائے کہ وہ اپنے تعلیمی سیاق میں بنیادی طور پر غلط مفہوم پیدا کررہی ہے۔

اور عصر حاضر نے اس فقہی تصور کو عملاً ثابت بھی کردیا

یہاں آیت اللہ سیستانی کا داعش کے خلاف 2014ء کا تاریخی فتویٰ ایک نہایت اہم عملی مثال بن کر سامنے آتا ہے۔

جون 2014ء میں داعش نے عراق کے بڑے علاقوں پر قبضہ کیا اور بغداد، نجف، کربلا اور دیگر علاقوں کو خطرات لاحق ہوئے۔ 13 جون 2014ء کو مرجعیتِ اعلیٰ کے نمائندے نے کربلا میں واضح کیا کہ عراق اور اس کے عوام کو درپیش خطرے کا مقابلہ کرنا سب کی ذمہ داری ہے، اور دفاع کو «واجب على المواطنين بالوجوب الكفائي» قرار دیا گیا۔ مسلح افراد کو عراق، اس کے عوام اور مقدسات کے دفاع کے لیے سرکاری سکیورٹی فورسز میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔

اسکے بعد مرجعیت کی وضاحت میں روشن کیا گیا کہ یہ دعوت سرکاری سکیورٹی فورسز میں شامل ہونے کے لیے تھی، نہ کہ قانون سے باہر مسلح ملیشیائیں بنانے کے لیے اب کوئی کہے جو چیز مرجعیت نے ایک ہفتے بعد بیان کی اسے پہلے ہی دن کیوں نہ بیان کیا گیا یہ تبدیلی ہم برداشت نہیں کر سکتے تو اسے خبط ہی کہا جائے گا ۔

یہی تو وہ مقام ہے جہاں فقہ کتاب سے نکل کر میدان شہادت میں جلوہ افروز ہوتی ہے اور مکمل احتیاط کے ساتھ مرجعیت اس طرح شریعت کو بیان کرتی ہے کہ نظام اتھل میں کوئی اتھل پتھل نہ ہو ۔

خود آیت اللہ سیستانی کے فقہی متن میں ایک طرف امامؑ یا نائبِ خاص کے ساتھ جہاد کا ذکر ہے اور دوسری طرف «الدفاع عن الإسلام» کو الگ عنوان کے طور پر بھی تسلیم کیا گیا ہے جس سے بہت سارے خناسوں کے منھ کو بند کر دیا گیا

جگ ظاہر ہے

جہاد انفرادی اور بے قاعدہ عمل نہیں؛ اس کے فقہی عنوان، شرائطِ قیادت ہیں۔

اور جب دفاع کا مسئلہ پیدا ہوا تو عصرِ حاضر کی مرجعیت نے اس کے لیے اپنا شرعی موقف بھی واضح کردیا۔

تو پھر تنظیم المکاتب کا قصور کیا ہے؟

کیا اس نے فقہ تبدیل کردی؟

نہیں!

کیا اس نے شریعت میں کوئی نیا اصول ایجاد کیا؟

نہیں!

کیا اس نے مجتہدین کے فتووں کو رد کردیا؟

نہیں!

کیا اس نے اپنی طرف سے جہاد کا نیا نظام بنا دیا؟

نہیں!

اس نے کیا کیا؟

فقہاء کی مشکل بات کو بچے کی سمجھ کی زبان میں بیان کیا۔

بس!

اور اگر یہی جرم ہے تو پھر دنیا بھر کی تمام دینی شرحیں، ترجمے، تلخیصیں، توضیحات اور نصابی کتابیں بھی اسی ’’جرم‘‘ کی مرتکب ہوں گی۔

نصاب بدلنے کا مطلب شریعت بدلنا نہیں

یہ نکتہ شاید سب سے زیادہ واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

نصاب بدلتا ہے، شریعت نہیں۔

کتاب کی جلد بدل سکتی ہے۔

سبق کی ترتیب بدل سکتی ہے۔

مثال بدل سکتی ہے۔

زبان کا اسلوب بدل سکتا ہے۔

ایک مشکل عبارت کو آسان کیا جاسکتا ہے۔

ایک غیر ضروری تکرار ختم کی جاسکتی ہے۔

نئی نسل کے لیے نئی مثال شامل کی جاسکتی ہے۔

عربی عبارت کے ساتھ اردو میں وضاحت کی جاسکتی ہے۔

لیکن ان تمام تبدیلیوں سے اصل شرعی حکم تبدیل نہیں ہوجاتا۔

ایک فقہی مسئلہ اگر پہلے پیچیدہ زبان میں لکھا گیا تھا اور آج آسان اردو میں لکھا گیا ہے تو فتویٰ نہیں بدلا؛ صرف تدریس کا انداز بدلا ہے۔

اس لیے نصاب کی ہر نئی عبارت کو ’’نئی شریعت‘‘ قرار دینا علمی بحث نہیں بلکہ ہتھوڑا لیکر اس سے قلم کا کام لینے کے مترادف ہے جو کبھی ممکن نہیں ۔

تنظیم المکاتب سے اختلاف ہو تو علمی انداز اختیار کیجیے

تنظیم المکاتب کے نصاب میں اگر کسی عبارت سے اختلاف ہے تو اعتراض کا بہترین طریقہ یہ نہیں کہ پورے نصاب کو مشکوک قرار دے دیا جائے۔

بلکہ علمی طریقہ یہ ہے:

اصل عبارت پیش کی جائے۔

پھر اس کا فقہی مفہوم بیان کیا جائے۔

پھر فقہاء کے اقوال سامنے رکھے جائیں۔

پھر دیکھا جائے کہ نصاب کی عبارت ان اصولوں کے خلاف ہے یا انہیں آسان زبان میں بیان کررہی ہے۔

اگر کہیں واقعی علمی یا فقہی اصلاح کی ضرورت ہو تو اصلاح کی جائے۔

علمی اداروں کی اصلاح، اداروں کی تحقیر سے نہیں ہوتی؛ تحقیق، مکالمے اور دلیل سے ہوتی ہے۔

نصاب پر اعتراض کرنے والوں سے ایک سوال

اگر تنظیم المکاتب نے ایک پیچیدہ فقہی مسئلے کو بچے کے لیے آسان کردیا تو اعتراض یہ ہونا چاہیے کہ:

’’اس آسان تعبیر میں فلاں اصول سے غفلت برتی گئی جسکا ازالہ ضروری ہے

صرف یہ کہنا کہ:

’’پہلے نہیں تھا اب کہاں سے آگیا کافی نہیں ہے ‘‘

اگر اصل عبارت:

«الجهاد مع المعصوم أو نائبه الخاص...»

ہے، اور نصاب بچے کو اس کا بنیادی مفہوم سمجھانے کے لیے ’’نبی، امام یا نائبِ امام‘‘ کے الفاظ استعمال کرتا ہے، تو پہلے یہ دکھانا ہوگا کہ اس تعبیر نے کون سا شرعی حکم الٹ دیا؟

صرف الفاظ کے فرق سے فقہی اصول تبدیل نہیں ہوجاتا۔

اصل جنگ جہاد کے لفظ پر نہیں، علمی دیانت پر ہے

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت جذبات نہیں، علمی دیانت کو معیار بنائیں۔

کسی ادارہ کی ہر کتاب کو تنقید سے بالاتر قرار دینا بھی درست نہیں۔

لیکن ایک مختصر نصابی عبارت کو پکڑ کر پورے نصاب، پورے تعلیمی نظام اور اس کے پس پشت دہائیوں کی محنت کو مشکوک قرار دینا بھی انصاف نہیں۔

تنظیم نے شریعت ایجاد نہیں کی؛

تنظیم نے شریعت کو بچوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

تنظیم نے فقہاء کی جگہ نہیں لی؛

فقہاء کی بات کو بچوں کی زبان میں منتقل کیا ہے۔

تنظیم نے قرآن کی زبان نہیں بدلی؛

عربی قاعدے کے ذریعے بچوں کو قرآن کی زبان سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

تنظیم نے اردو کو مذہب پر مسلط نہیں کیا؛اردو ریڈر کے ذریعے مذہبی و تہذیبی تعلیم کو ایک مانوس زبان میں منتقل کیا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر:

نصاب کی عبارت تبدیل ہونا شریعت تبدیل ہونا نہیں ہے۔

*ہندوستان جیسے کثیر مذہبی جمہوری ملک میں نہایت اہم احتیاط*

ہندوستان کے مخصوص حالات کے تناظر میں ایک نہایت اہم بات کی طرف توجہ ضروری ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے یہاں جہاد کسی ذمہ دار اور مجاز شرعی اتھارٹی کے حکم کے بغیر نہیں ہوسکتا تو اس کا مطلب محض ایک فقہی احتیاط بیان کرنا نہیں، بلکہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور جمہوری معاشرے میں ایک انتہائی اہم سماجی و دینی حقیقت کی وضاحت کرنا ہے۔

یعنی اسلام میں جہاد کو کسی فرد، خفیہ گروہ، مسلح تنظیم یا خود ساختہ امیر کے ہاتھ میں نہیں چھوڑا گیا۔ کوئی شخص قرآن و حدیث کے چند نصوص اپنے ہاتھ میں لے کر خود کو مجاہد، اپنے ساتھیوں کو لشکر اور اپنے سیاسی مقاصد کو جہاد کا عنوان دے دے، یہ فقہِ اہل بیتؑ کا تصورِ جہاد نہیں ہے۔ اسی لیے داعش جیسی تنظیموں کے خودسرانہ اقدامات کو اسلامی جہاد کے عنوان سے جوڑنا علمی اور فقہی دونوں اعتبار سے ناقابلِ قبول ہے۔

تنظیم المکاتب کے نصاب میں جہاد کے باب کو اسی زاویے سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ وہاں اگر اذنِ امام یا مجاز شرعی قیادت کی بات کی گئی ہے تو اس کا مقصد معاشرے کو بے لگام تشدد کا لائسنس دینا نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس جہاد کو شخصی خواہش، گروہی مفاد اور خود ساختہ قیادت سے محفوظ رکھنا ہے۔

نتیجہ یہ کہ ہندوستان کے حالات کے پیش نظر اس عبارت کا مفہوم بالکل واضح ہے:

جہاد کوئی انفرادی پروجیکٹ نہیں، شرعی ذمہ داری ہے؛ اور شرعی ذمہ داری ہر شخص اپنی مرضی سے عائد نہیں کرسکتا۔

یہی وہ بنیادی لکیر ہے جو فقہی جہاد کو داعشیت، دہشت گردی، فرقہ وارانہ تشدد اور خودسرانہ مسلح کارروائیوں سے الگ کرتی ہے۔

*آیت اللہ العظمی سید ابو القاسم الخوئی کا نظریہ اور رائج نظریہ ولایت فقیہ*

جیسا کہ ہم نے بیان کیا فقہی موقف جامد نہیں، بلکہ عصرِ غیبت کے سیاسی و اجتماعی حالات کے ساتھ اس کی تطبیق میں فقہی اجتہاد کا ارتقا ہوا ہے

تنظیم المکاتب کے نصاب پر اعتراض کرتے وقت ایک تاریخی حقیقت کو فراموش کردیا جاتا ہے۔ جب یہ نصاب مرتب ہوا، اس وقت ولایتِ فقیہ کی وہ عملی سیاسی صورت موجود نہیں تھی جو بعد میں اسلامی حکومت کے قیام کے ذریعے سامنے آئی۔ چنانچہ اس زمانے کے فقہی مباحث میں جہادِ ابتدائی کے سلسلے میں عمومی طور پر یہ تعبیر ملتی تھی کہ اس کے لیے امام معصومؑ یا ان کے نائبِ خاص کی اجازت ضروری ہے۔ قدیم امامی فقہ کے ایک بڑے حصے میں "نائب" سے مراد بھی یہی نائبِ خاص لیا گیا تھا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بعد کے فقہی اجتہاد کو اسی تاریخی تعبیر میں ہمیشہ کے لیے منجمد کردیا جائے؟

یہی وہ مقام ہے جہاں اعتراض اپنی بنیاد کھو دیتا ہے۔

جب عصرِ غیبت میں ایک جامع الشرائط فقیہ کے ہاتھ میں مسلمانوں کے اجتماعی و حکومتی امور کی ذمہ داری آتی ہے، جب ایک اسلامی حکومت عملاً قائم ہوتی ہے، جب فوج، سرحد، دفاع، بین الاقوامی تعلقات، اجتماعی امن اور امت کے وسیع تر مصالح کی ذمہ داری ایک شرعی حاکم کے سپرد ہوتی ہے، تو پھر یہ سوال ناگزیر ہوجاتا ہے کہ:

کیا فقیہ کو حکومت تو دی جائے، لیکن حکومت کے بنیادی لوازم و اختیارات نہ دیے جائیں؟

یہی وہ نقطہ ہے جہاں فقہی بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔

رہبر شہید انقلاب آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالٰی کے موجودہ صریح فتویٰ کے مطابق عصرِ غیبت میں اگر جامع الشرائط فقیہ مسلمانوں کی ولایتِ امر سنبھالے اور مصلحت اس کا تقاضا کرے تو اس کے لیے جہادِ ابتدائی کا حکم دینا بعید نہیں، بلکہ یہی قول اقویٰ ہے۔

یہ محض سیاسی ضرورت کے نام پر فقہ میں کوئی من پسند اضافہ نہیں؛ بلکہ ولایت، حکومت اور اختیاراتِ حاکم کے باہمی ربط سے پیدا ہونے والی ایک فقہی تطبیق ہے۔

اور یہاں آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئیؒ کے فقہی مباحث کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے ہاں بھی مسئلہ محض اس سادہ سوال تک محدود نہیں کہ "غیبت میں جہادِ ابتدائی جائز ہے یا نہیں"، بلکہ جب فقیہ کو اجتماعی حکومت اور امورِ عامہ کی ولایت حاصل ہو تو حکومت کے لوازم و اختیارات کے مسئلے پر بھی گفتگو سامنے آتی ہے۔ فقہی مطالعات میں آیت اللہ خوئیؒ کے موقف کو اسی وسیع تر تناظر میں نقل کیا گیا ہے کہ عام نیابت اور اجتماعی ولایت کے دائرے کو تسلیم کرنے کے بعد جہاد اور حکومتی اقتدار کے باہمی تعلق پر بھی غور ناگزیر ہوجاتا ہے۔

لہٰذا یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ "پرانے نصاب میں فلاں تعبیر کیوں آئی؟" ظاہر ہے وہ فقیہ کے حدود و شرائط اور آقائے خوئی کے" امور حسبیہ" تک اختیارات کے پیش نظر تھی جبکہ بعد میں ولایت مطلقہ کے نظریہ کے پیش نظر اسے پھر وسعت دی گئی

اب یہاں اصل سوال یہ ہونا چاہیے:

کیا بعد کے اجتہادی ارتقا کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ہمارے نصاب اور فقہی فکر میں ہونی چاہیے یا نہیں؟

اگر جواب "ہاں" ہے، تو پھر تنظیم المکاتب کے قدیم نصاب کی عبارت کو اس کے تاریخی پس منظر میں پڑھنا ہوگا، نہ کہ اسے آج کے مکمل شدہ نظریۂ حکومتِ اسلامی پر زبردستی منطبق کرکے یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ گویا فقہ نے کبھی اپنے اندر کوئی اجتہادی تحول دیکھا ہی نہیں۔

*اعتراض کرنے والے کے لیے اصل سوال*

اس مقام پر معترض سے صرف ایک سوال کافی ہے:

اگر آپ جامع الشرائط فقیہ کو اسلامی حکومت کا حاکم تسلیم کرتے ہیں، امورِ عامہ، حفظِ نظام، دفاع، مصالحِ امت، امنیتِ سرحدوں اور اجتماعی اقتدار کے اختیارات اس کے لیے مانتے ہیں، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت کے سب سے بنیادی اور حساس اجتماعی اختیارات میں سے ایک کو پہلے ہی مرحلے میں اس سے خارج کردیا جائے؟

اور اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ اختیار صرف اس لیے نہیں دیا جاسکتا کہ قدیم فقہی عبارت میں "نائبِ خاص" کا لفظ آیا ہے، تو پھر آپ کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ عصرِ غیبت میں نائبِ عام کی ولایت اور حکومت کے پورے تصور کو عملی صورت دینے کے بعد اس تعبیر کی فقہی تطبیق کیا ہوگی؟

یہاں آکر بات جذبات کی نہیں رہتی؛ فقہ، اجتہاد، زمان و مکان کی استنباط میں دخالت اور حکومت کے باہمی ربط کی بات بن جاتی ہے۔

لہٰذا تنظیم المکاتب کے نصاب پر اعتراض کرنے والے کو پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ:

نصاب کی عبارت کس تاریخی فقہی ماحول میں مرتب ہوئی؛

اس زمانے میں "نائب" سے مراد کس قسم کی نیابت تھی؛

بعد میں ولایتِ فقیہ کی عملی حکومت کے قیام نے فقہی سوالات کی نوعیت کو کس طرح تبدیل کیا؛

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ موجودہ فقہی اجتہاد، خصوصاً جامع الشرائط فقیہِ متولیِ امر کے ذریعے جہادِ ابتدائی کے امکان کے صریح فتوے کو کس دلیل سے نظر انداز کررہا ہے۔

اس کے بعد اگر کوئی پھر بھی پرانی عبارت کو پکڑ کر بیٹھا رہے تو وہ فقہ کا مطالعہ نہیں کررہا، بلکہ فقہ کے ایک تاریخی جملے کو فقہ کے پورے ارتقائی نظام پر حاکم بنانا چاہتا ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں اعتراض کو جواب نہیں، اپنی بنیاد پر نظرِ ثانی کی ضرورت پڑتی ہے۔

کیونکہ فقہِ اہل بیتؑ کی قوت اس میں نہیں کہ وہ ایک تاریخی عبارت کو ہمیشہ کے لیے منجمد کردے؛ اس کی قوت تو یہ ہے کہ نصوص کے اصولوں کو محفوظ رکھتے ہوئے ہر نئے اجتماعی مرحلے کے لیے اجتہادی جواب پیدا کرے۔

چنانچہ تنظیم المکاتب کے نصاب پر گفتگو کرتے ہوئے انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ نصاب کی عبارت کو اس کے زمانے میں سمجھا جائے، اور آج کے فقہی موقف کو اس کے اپنے اجتہادی تناظر میں۔تنظیم المکاتب کا نصاب: اعتراض کے کٹہرے میں نہیں تحقیق کی میز پر

تب تصویر بالکل صاف ہوجاتی ہے:

نہ یہ نصاب داعش کے لیے کوئی دروازہ کھولتا ہے، نہ فرد یا گروہ کو خود ساختہ جہاد کا اختیار دیتا ہے؛ اور نہ عصرِ غیبت کے موجودہ فقہی اجتہاد کو چند دہائیاں پرانی نصابی تعبیر میں قید کیا جاسکتا ہے۔

یہی علمی دیانت ہے، یہی فقہی انصاف ہے، اور یہی اعتراض کے لیے وہ مقام ہے جہاں جذبات نہیں بلکہ دلیل فیصلہ کرتی ہے۔

جو لوگ تنظیم المکاتب کے نصاب میں جہاد سے متعلق ایک مختصر عبارت کو بنیاد بناکر پورے نصاب کو کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں، انہیں پہلے فقہائے امامیہ کے صدیوں پر محیط علمی ذخیرے کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

انہیں آیت اللہ سیستانی کے سرکاری فقہی متن میں موجود:

«الجهاد مع المعصوم أو نائبه الخاص»

پڑھنا چاہیے۔

انہیں 2014ء میں داعش کے خلاف مرجعیتِ اعلیٰ کے تاریخی واجبِ کفائی دفاع کے فتویٰ کو بھی پڑھنا چاہیے۔

اور انہیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ دفاعی قتال اور جہادِ ابتدائی سب ایک فقہی عنوان نہیں ہیں۔

پھر نصاب کی عبارت کو اس کے تعلیمی سیاق میں پڑھنا چاہیے۔

کیونکہ حقیقت بہت سادہ ہے:

فقہاء اصول بیان کرتے ہیں،

اساتذہ انہیں سمجھاتے ہیں،

اور نصاب انہیں اگلی نسل تک پہنچاتا ہے۔

اگر فقہاء کی مشکل عبارت کو بچوں کے لیے آسان بنا دینا بھی اعتراض بن جائے تو پھر دینی تعلیم کو عام کرنے کا راستہ ہی بند ہوجائے گا۔

نصاب بدلتے رہیں گے، کتابیں نئی ہوتی رہیں گی، زبان کا اسلوب تبدیل ہوتا رہے گا، مگر شریعت کے بنیادی اصول اپنی جگہ قائم رہیں گے۔

اور شاید یہی کسی زندہ تعلیمی نظام کی سب سے بڑی پہچان ہے کہ وہ اصولوں میں ثابت قدم، مگر تدریس کے طریقوں میں زمانے کے ساتھ متحرک رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha