حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،دفترِ نمائندگی ولی فقیہ ہند کے زیرِ اہتمام حوزہ علمیہ بقیۃ الله جلال پور میں ایک روزہ عظیم الشان دروس کا اہتمام کیا گیا؛ جن میں علمائے کرام اور طلباء نے بھرپور شرکت کی۔

پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ سلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کو عیسوی سال کے لحاظ سے پندرہ سو سال مکمل ہو چکے ہیں، کیونکہ آپ کی ولادت پانچ سو اکہتر ۵۷۱ عیسوی میں مکہ مکرمہ ہوئی تھی۔ دنیا بھر میں مسلمانوں نے پیغمبر اسلام کا ۱۵۰۰ویں سالگرہ کا جشن عقیدت و احترام سے منایا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
اسی مناسبت سے دفترِ نمائندگی ولی فقیہ ہند اور ایران کلچر ہاؤس دہلی کے زیرِ اہتمام حوزہ علمیہ بقیۃ الله جلال پور ضلع امبیڈکر نگر اتر پردیش ہندوستان میں، دو نشستوں میں درس پیغمبر شناسی کا عظیم الشان علمی و تربیتی و درسی پروگرام زیرِ انتظام حجۃ الاسلام مولانا عارف حسین مبارکپوری منعقد ہوا۔
پہلی نشست صبح ۹؍بجے سے ۱۲؍بجے تک، جبکہ دوسری نشست ۲؍بجے سے شام ۵؍بجے تک رکھی گئی۔
پہلی نشست کا آغاز حجۃ الاسلام مولانا ضیغم عباس باقری نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔
حجۃ الاسلام مولانا اشفاق حسین مدیر حوزہ علمیہ بقیۃ الله جلال پور نے پروگرام میں شریک علمائے کرام اور طلبہ و نوجوانوں کا شکریہ ادا کیا۔
حجۃ الاسلام مولانا عارف حسین مبارکپوری، ایران کلچر ہاؤس نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے اس نشست کو یادگار اور تاریخی پروگرام قرار دیا۔

حجۃالاسلام مولانا ابن حسن املوی ،سربراہ مجمع علماء واعظین پوروانچل جو کہ بطور مہمان خصوصی اور درس کے منتخب استاد کی حیثیت سے مدعو تھے نے پیغمبرِ اسلام کی شخصیت کے حوالے سے مختلف نکات پر شاندار روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پیغمبر شناسی آج کی نسل جدید کے لیے نہایت اہم موضوع ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی نوری خلقت، ذاتِ پیغمبر وجہ تخلیق کائنات، قرآن اور سنت کی روشنی میں پیغمبر کا وسیع علم، پیغبر کی معرفت کی ضرورت، غرض بعثت پیغمبر، پیغمبر سراپا رحمت، پیغمبر کا طریقہء تبلیغ اور ایسے ہی دیگر اہم نکات پر سیر حاصل گفتگو کی۔
نمازِ جمعہ اور طعام کے بعد دوسری نشست کا آغاز ٹھیک ۲؍بجے حجۃ الاسلام مولانا عارف حسین مبارکپوری، ایران کلچر ہاوس نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔
حجۃالاسلام مولانا اشفاق حسین نے سیرتِ نبوی پر اختصار سے روشنی ڈالی۔

حجۃالاسلام مولانا ابن حسن املوی، سربراہ مجمع علماء واعظین پوروانچل جو کہ بطورِ مہمان خصوصی اور درس کے لئے منتخب استاد کی حیثیت سے مدعو تھے۔
اس نشست میں پیغمبر کی حیات اور خدمات کے تعلق سے اہم موضوعات پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔
مولانا نے اس سلسلے میں طلبہ کی دلچسپی کی غرض سے اردو کے مشہور شاعر جگر ؔمرادآبادی کا یہ شعر پیش کیا کہ
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کی بات نہیں
فیضان محمد عام سہی عرفان محمد عام نہیں
‘‘یعنی یوں تو پیغمبر تمام مخلوق کے لئے فیض رساں تھے،رحمت تھے؛ مگر پیغمبر کو سمجھنا ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔
پیغمبر اسلام اور علم غیب
مولانا نے علم پیغمبر کی مناسبت سے شاعر کا یہ شعر بھی پیش کیا:
اگر کچھ علم ہے تو بس یہی ہے
محمد کو سمجھنا آگہی ہے
اور
محبت رسول اور اطاعت رسول میں فرق
زمانہ پیغمبر کا معاشرہ (خصوصاً دور نبوی اور مدنی معاشرہ)
پیغمبر کا تشکیل کردہ اسلامی معاشرہ کی شان
پیغمبر کی دعوت پر سب سے پہلے ایمان لانے والی ہستیاں
راہ تبلیغ دین میں پیغمبر کا صبر اور استقامت
پیغمبر کی خاموش تبلیغ اور اعلانیہ تبلیغ
جیسے دیگر موضوعات پر بہترین درس دیا۔
اس نشست میں حجۃ الاسلام مولانا حسن اختر مبارکپوری نے بھی ’’اصول تربیت ‘‘پر مختصراً روشنی ڈالی۔
اس موقع پر حجۃ الاسلام مولانا رمضان علی صابری، حجت الاسلام مولانا عقیل عباس زینبی ،حجۃ الاسلام مولانا محمد مہدی املوی قمی،حجۃ الاسلام مولانا کونین رضا مبارکپوری، مولانا کوثر ودیگر اسٹیج پر رونق افروز رہے۔










آپ کا تبصرہ