حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جماعت اسلامی ہند نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات اور براہِ راست بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ جماعت کی قیادت نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر)، پُرامن احتجاج پر پابندیوں اور عبادت گاہوں کی مسماری کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفافیت، قانونی عمل اور شہری حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔
جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پروفیسر سلیم انجینئر نے ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 کروڑ نام ووٹر فہرستوں سے باہر کر دیے گئے ہیں، جس سے عوام میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستیں جمہوری نظام کی بنیاد ہیں، اس لیے ان کی نظرثانی میں غیر معمولی شفافیت اور احتیاط ضروری ہے۔
جماعت نے ایس آئی آر کو فوری طور پر روکنے، متاثرہ ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرنے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری یقینی بنانے کے لیے تقرری کے طریقۂ کار میں اصلاحات کی بھی اپیل کی گئی۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے پُرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف پولیس کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھانا شہریوں کا جمہوری حق ہے۔ انہوں نے غیر ضروری حراست اور ایف آئی آر ختم کرنے اور پولیس بدسلوکی کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
جماعت کے نائب امیر ملک معتصم خان نے مساجد، گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں کی مسماری کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے مذہبی اقلیتوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عبادت گاہوں سے متعلق تنازعات کو قانونی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے اور جہاں مسماری ناگزیر ہو، وہاں عدالتی نگرانی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے متنازع انہدامی کارروائیوں کی تحقیقات اور غیر قانونی ثابت ہونے کی صورت میں عبادت گاہوں کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔










آپ کا تبصرہ