حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محمود رجبی نے قم میں امام خمینیؒ تعلیمی و تحقیقی ادارے میں تعلیمی سال 2026-2027 کے پہلے درسِ خارجِ اصول کے آغاز میں حضرت آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نئے تعلیمی سال کا آغاز ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب ہم حوزہ ہائے علمیہ کے سب سے اہم اور حقیقی حامی اور رہنما کی جسمانی موجودگی سے محروم ہیں؛ ایسی شخصیت جنہوں نے سب سے بہتر انداز میں حوزہ علمیہ، اس کی صلاحیتوں اور کمیوں کو پہچانا تھا اور سب سے بہتر انداز میں حوزہ کے مسائل کے حل اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی رہنمائی کی تھی، نیز ہم نے اس عظیم شخصیت کی جانب سے حوزہ علمیہ کی مکمل اور بھرپور حمایت بھی دیکھی۔
حوزہ ہائے علمیہ ایران کی اعلیٰ کونسل کے رکن نے مزید کہا کہ بلاشبہ ان کی شہادت ایک عظیم مصیبت تھی، لیکن شہادت کے بعد اور ان کی شہادت کے نتیجے میں ان کے وجود کی برکتیں بہت زیادہ اور بے مثال تھیں اور ہم ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں جو ان کے بابرکت وجود کے سائے میں ان کی پوری زندگی کے دوران اور ان کی شہادت کے بعد ہماری قوم اور ہمارے نظام کو نصیب ہوئیں۔
امام خمینیؒ تعلیمی و تحقیقی ادارے کے سربراہ نے اسلامی نظام کی اقدار و طاقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج رہبرِ شہید کے بابرکت وجود کی برکت سے ہمارے سب سے بڑے دشمن، جو دنیا میں من مانی کرتے تھے، یعنی غاصب صیہونی اور منحوس امریکی حکومت، اپنی ناپاک عمر کی تاریخ میں بے مثال کمزور ترین پوزیشن میں ہیں، جبکہ اسلامی جمہوریہ کا نظام اپنی اقدار و طاقت کی بلند ترین سطح پر ہے اور آج دنیا کی حقیقی سپر پاور یہی مقدس نظام ہے؛ یہ بہت بڑی نعمت ہے۔
مجلسِ خبرگانِ رہبری کی مجلسِ عاملہ کے رکن نے مزید کہا کہ ہمارا نظام بھی مقتدر ہے اور ہمارے عوام وفادار، ولایت مدار، صابر، میدان میں موجود اور مکمل بصیرت رکھنے والے ہیں؛ جو دو سو سے زائد دنوں تک رات کے وقت میدانوں میں آئے اور ولایت، اپنے نظام اور اپنے ملک سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا۔ عوام کی یہ متحد موجودگی بھی مقدس ہے؛ ایسا اتحاد جس میں دنیاوی مفاد کا کوئی شائبہ نہیں، بلکہ سب اللہ کے لیے اور نظام کے دفاع کے لیے آئے۔ یہ عظیم نعمتیں اور ان کے علاوہ درجنوں دیگر نعمتیں، سب ہمارے شہید رہبر کے خون کی برکت سے حاصل ہونے والے معجزات ہیں۔
حضرت آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے وجود کی برکتیں
حوزہ ہائے علمیہ ایران کی اعلیٰ کونسل کے رکن نے حضرت آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے وجود کی برکتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہید رہبر کی برکتوں میں سے ایک ان کے صالح جانشین کا وجود بھی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے انتہائی سخت حالات میں ہماری قوم اور ہمارے نظام کو عطا فرمایا ہے۔ وہی اقتدار، وہی استحکام اور وہی حکیمانہ رہنمائی کے ساتھ، باوجود اس کے کہ وہ عوامی سطح پر موجود نہیں ہیں، اپنے پیغامات کے ذریعے اس طرح معاشرے کی رہنمائی کر رہے ہیں اور اسی راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور ہم اس پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ظہورِ حضرت بقیۃ اللہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ تک ہمارے شہید رہبر کے اس صالح جانشین کا سایہ عزت و اقتدار کے ساتھ ہمارے سروں پر قائم رکھے۔
شہید امام خامنہ ای کی شہادت کے تمام حکم دینے والے اور عمل کرنے والے مہدور الدم ہیں
آیت الله رجبی نے آخر میں شہید رہبر کے خون کا بدلہ لینے کی ضرورت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ تمام افراد جنہوں نے اس بھیانک جرم اور اس عظیم مصیبت میں کردار ادا کیا، مہدور الدم ہیں اور شہید امام کے خون کا بدلہ لینا ہماری پوری قوم کا مطالبہ ہے، بلکہ یہ تمام مسلمانوں کا، اپنے شرعی فریضے کے مطابق اور دنیا بھر کے تمام آزادی پسندوں کا مطالبہ ہے۔ بعض لوگ کبھی کبھار جو باتیں کرتے ہیں اور اس مؤقف کی مخالفت کرتے ہیں، وہ یقیناً دینی، عقلی اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف، نیز نظام، ملک اور ہماری قوم کے مفادات کے بھی خلاف ہیں۔ ہم پر فرض ہے کہ اس عظیم مصیبت اور اپنے رہبر کی شہادت میں کردار ادا کرنے والے ہر اس فرد کے خلاف، جو ابھی زندہ ہے، آخری شخص تک اور دنیا میں جہاں بھی کوئی ان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے، انہیں ان کے اعمال کی سزا تک پہنچائیں۔










آپ کا تبصرہ