اتوار 4 اکتوبر 2026 - 22:24
مقاومت نے امریکہ کو عراق سے نکال دیا، خطے میں امریکہ کے رہتے ہوئے امن ممکن نہیں: استاد رشاد

حوزہ/ استاد علی اکبر رشاد نے عراق سے تقریباً 22 سال بعد امریکی فوجی انخلا کو مزاحمت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عراق سے مذاکرات، سمجھوتے یا پسپائی کے نتیجے میں نہیں بلکہ مزاحمت کے باعث نکلنے پر مجبور ہوا۔ خطے کے ممالک کو سمجھنا چاہیے کہ امریکہ کے سائے میں حقیقی امن حاصل نہیں ہوسکتا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد علی اکبر رشاد نے عراق سے تقریباً 22 سال بعد امریکی فوجی انخلا کو مزاحمت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عراق سے مذاکرات، سمجھوتے یا پسپائی کے نتیجے میں نہیں بلکہ مزاحمت کے باعث نکلنے پر مجبور ہوا۔ خطے کے ممالک کو سمجھنا چاہیے کہ امریکہ کے سائے میں حقیقی امن حاصل نہیں ہوسکتا۔

مجلسِ حوزہ علمیہ تہران کے سربراہ اور مجتمع حوزوی امام رضا(ع) کے متولی نے درسِ خارج فقہ القضاء کے آغاز میں عراق پر امریکی قبضے اور خطے کے گزشتہ چند عشروں کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ایران کے لیے ایک اہم تاریخی سبق ہے۔ صدام نے عالمی طاقتوں کی حمایت کے بل پر ایران پر حملہ کیا، لیکن ایرانی عوام کے ایمان، قومی عزم اور مزاحمت کے نتیجے میں نہ صرف یہ حملہ ناکام ہوا بلکہ ایران نے اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں کھویا۔

انہوں نے کہا کہ عراق پر امریکی حملے کے پیچھے بھی انسانی ہمدردی نہیں بلکہ خطے کے تیل اور توانائی کے وسائل پر تسلط کی خواہش کارفرما تھی۔ امریکہ نے عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بنایا، لیکن بعد میں یہ دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوا۔

استاد رشاد نے کہا کہ امریکہ کو عراق سے نہ حکومتِ عراق اور نہ ہی موجودہ عراقی فوج نے نکالا، بلکہ حشد الشعبی اور عراقی مزاحمتی گروہوں کی جدوجہد نے اسے اپنا قبضہ ختم کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ انخلا مذاکرات یا سمجھوتے کے ذریعے نہیں ہوا، بلکہ مزاحمت نے امریکہ کو پسپائی پر مجبور کیا۔

انہوں نے خطے کے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ امریکہ کے سائے میں امن حاصل نہیں ہوسکتا۔ امریکہ نے 22 سال عراق میں رہ کر تیل پر قبضہ کیا اور بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں؛ یہی اس ’’امن‘‘ کا نتیجہ ہے جو امریکہ خطے کو دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔

استاد رشاد نے مذاکرات پر ضرورت سے زیادہ انحصار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مذاکرات بذاتِ خود ممنوع نہیں، لیکن انہیں حکمتِ عملی کا واحد سہارا نہیں بنانا چاہیے۔ امریکہ ماضی میں متعدد معاہدوں اور وعدوں کی خلاف ورزی کرچکا ہے، اس لیے صرف کاغذی معاہدوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی کو بھی ملک کی سائنسی و تکنیکی ترقی کا اہم پیمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی صرف ہتھیار کا نام نہیں بلکہ زراعت، صنعت، طب، علاج اور دیگر سائنسی شعبوں میں اس کے وسیع استعمالات ہیں۔

آخر میں استاد رشاد نے عراق سے امریکی انخلا کو خطے سے اس کے مکمل انخلا کی ابتدا قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ عمل آگے بھی جاری رہے گا اور خطہ بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد ہوکر حقیقی آزادی اور خودمختاری حاصل کرے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha