بدھ 30 ستمبر 2026 - 00:05
سپاہ پاسداران کا امریکی عوام کے نام کھلا خط؛ ایران امریکہ تنازع، حالیہ جنگ اور خطے کی صورتحال پر مؤقف

حوزہ/ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے امریکی عوام، دانشوروں، طلبہ اور ذرائع ابلاغ کے نام 26 صفحات پر مشتمل ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی، حالیہ جنگ، ایران کی مزاحمتی صلاحیت، امریکی خارجہ پالیسی اور خطے میں اسرائیل کے کردار کے بارے میں تفصیلی مؤقف پیش کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے امریکی عوام، دانشوروں، طلبہ اور ذرائع ابلاغ کے نام 26 صفحات پر مشتمل ایک کھلا خط جاری کرتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی، حالیہ جنگ، ایران کی مزاحمتی صلاحیت، امریکی خارجہ پالیسی اور خطے میں اسرائیل کے کردار کے بارے میں تفصیلی مؤقف پیش کیا ہے۔

سپاہ نے موجودہ ایران امریکہ تنازع کو محض ایک فوجی تصادم قرار دینے کے بجائے اسے دونوں ممالک کے درمیان طویل سیاسی، نظریاتی اور تاریخی اختلافات کا تسلسل قرار دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایران نے کئی دہائیوں سے امریکی سیاسی، اقتصادی اور فوجی دباؤ کا سامنا کیا، تاہم ایرانی عوام نے اپنی خودمختاری اور سیاسی نظام کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھی۔

ایران کے خلاف جنگی اہداف ناکام

خط میں بیان کیا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے حالیہ فوجی کارروائی کے ذریعے ایرانی حکومت کو کمزور کرنے، ملک کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے، ایران کی فوجی صلاحیت کو نقصان پہنچانے، اس کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود کرنے اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی، تاہم یہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے۔

دستاویز میں ایرانی جوابی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خطے میں متعدد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو ایرانی حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور ایران نے جنگ کے دوران اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو برقرار رکھا۔

مذہبی عقیدہ، قومی اتحاد اور قیادت

خط میں ایران کی مزاحمت کی بنیاد صرف فوجی طاقت کو نہیں بلکہ مذہبی عقیدے، قومی اتحاد اور دینی قیادت کو قرار دیا گیا ہے۔ سپاہ کے مطابق قرآن مجید کی تعلیمات میں عدل، آزادی، مساوات، انسانی وقار اور ظلم کے خلاف مزاحمت جیسے اصول ایرانی معاشرے کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

دستاویز میں واقعۂ کربلا کو بھی ایران کی مزاحمتی فکر کا اہم سرچشمہ قرار دیتے ہوئے امام حسین علیہ السلام، حضرت عباس علیہ السلام اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی قربانیوں کو ثابت قدمی، وفاداری اور ظلم کے مقابلے میں مزاحمت کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

خط میں ایرانی قیادت کو بھی مزاحمتی نظام کا اہم ستون قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جنگ اور مشکل حالات کے دوران ایرانی عوام کے مختلف طبقات میں قومی اتحاد مزید مضبوط ہوا۔

امریکہ کی فوجی پالیسی پر تنقید

سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی ایران کے خط میں امریکہ کی گزشتہ کئی دہائیوں کی خارجہ اور فوجی پالیسی پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ سپاہ پاسداران نے ویتنام، افغانستان اور عراق کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اپنی وسیع فوجی طاقت کے باوجود ان جنگوں میں اپنے تمام مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل نہیں کرسکا۔

خط میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کو امریکی پالیسی کے نتائج کی ایک مثال قرار دیا گیا ہے، جبکہ عراق میں صدام حسین حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو بھی امریکی فوجی مداخلت کے طویل مدتی نتائج سے جوڑا گیا ہے۔

امریکہ مردہ باد نعرے کی وضاحت

خط میں ایران میں استعمال ہونے والے مرگ بر امریکہ ’’ڈیتھ ٹو امریکہ‘‘ کے نعرے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ نعرہ امریکی عوام کے خلاف نہیں بلکہ امریکی حکومت کی ان پالیسیوں کے خلاف ہے جنہیں ایران جنگ، پابندیوں اور سیاسی مداخلت سے تعبیر کرتا ہے۔

سپاہ پاسداران کا کہنا ہے کہ ایرانی اور امریکی عوام کے درمیان انسانی اور معاشرتی سطح پر متعدد مشترک پہلو موجود ہیں اور ایران امریکی عوام کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن اپنی سیاسی خودمختاری اور قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

1953 سے آج تک کشیدگی کا تاریخی پس منظر

دستاویز میں 1953 میں ایران کے وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کے خلاف ہونے والی سیاسی تبدیلی اور اس میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے کردار کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ خط کے مطابق اس واقعے کے بعد شاہ کی حکومت مضبوط ہوئی، جبکہ 1979 کے اسلامی انقلاب کو ایران کی سیاسی خودمختاری کی بحالی اور غیر ملکی اثر و رسوخ کے خاتمے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

خط میں انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی، تہران میں امریکی سفارتخانے کے بحران اور 1980 کی ایران عراق جنگ کو بھی موجودہ عدم اعتماد کے تاریخی اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔

دستاویز میں 1988 میں ایران ایئر کی پرواز 655 کو امریکی جنگی جہاز سے نشانہ بنائے جانے کا بھی ذکر ہے، جس میں طیارے میں سوار تمام 290 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

پابندیاں، جنرل قاسم سلیمانی اور خطے کی مزاحمت

خط میں امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سپاہ پاسداران کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد ایرانی معیشت کو کمزور کرکے عوام پر سیاسی دباؤ پیدا کرنا ہے۔ امریکی اور یورپی ذرائع ابلاغ پر بھی ایران کے خلاف نفسیاتی جنگ میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

دستاویز میں شہید جنرل قاسم سلیمانی کا بھی خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے عراق، شام اور خطے کے دیگر علاقوں میں داعش کے خلاف جنگ اور مزاحمتی گروہوں کی تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔ 2020 میں بغداد میں امریکی حملے کے نتیجے میں ان کی شہادت کو خط میں ایران کی قومی خودمختاری کے خلاف کارروائی قرار دیا گیا ہے۔

غزہ، اسرائیل اور ایران کا جوہری پروگرام

خط میں غزہ کی صورتحال اور اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران نے غزہ میں شہادتوں، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور فلسطینیوں کی بے دخلی کا ذکر کرتے ہوئے امریکی عوام سے اپنی حکومت کی پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے خط میں امریکی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران مسلسل اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیتا آیا ہے۔ سپاہ پاسداران کے مطابق ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو جوہری خطرے سے جوڑنا جنگ کے لیے سیاسی جواز فراہم کرنے کی کوشش ہے۔

امریکی عوام سے جنگی پالیسی پر نظرثانی کی اپیل

خط کے اختتامی حصے میں امریکی عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور ووٹ کے ذریعے حکومت کو بیرون ملک جنگوں، فوجی مداخلتوں اور دوسرے ممالک کی خودمختاری میں مداخلت کے حوالے سے جواب دہ بنائیں۔

سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران اور امریکہ کے عوام کے درمیان پرامن بقائے باہمی ممکن ہے، تاہم اس کے لیے امریکی حکومت کو دباؤ، فوجی مداخلت اور جنگ کی پالیسیوں سے دور ہونا ہوگا۔

مجموعی طور پر خط میں یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اور دباؤ کی پالیسی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی اور ایرانی معاشرہ مذہبی شناخت، قومی اتحاد، سیاسی خودمختاری اور دفاعی صلاحیت کے ذریعے مزاحمت جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ساتھ ہی امریکی عوام سے جنگ کے بجائے امن، باہمی احترام، دوسرے ممالک کی خودمختاری کے احترام اور امریکی وسائل کو ملکی ترقی پر صرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha