حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک تجزیاتی رپورٹ میں امریکی پالیسیوں، مغربی طاقتوں کی تاریخ اور ایران کے ساتھ کشیدگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مغربی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے انسانی حقوق اور جمہوریت کے اصولوں کو نظر انداز کرتی رہی ہیں۔
رپورٹ میں یونیورسٹی کے استاد اور سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر محمدرضا طاہری کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’مدر آف آل بمز‘‘ کی دھمکیاں مغربی تہذیب کی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہیں جس میں طاقتور ممالک خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق، مغربی طاقتوں نے طویل عرصے تک اپنے زیرِ قبضہ ممالک میں فوجی طاقت کے ذریعے عوام کی مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق، تاریخ میں فضائی بمباری کو زیرِ قبضہ علاقوں میں مزاحمت دبانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ 1911ء میں اٹلی اور عثمانی سلطنت کے درمیان جنگ کے دوران فضائی بمباری کی گئی، جبکہ 1920ء میں برطانوی طیاروں نے صومالیہ میں سید محمد عبداللہ حسن کی قیادت میں جاری مزاحمت کو نشانہ بنایا۔ ان واقعات کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بمباری کا مقصد صرف فوجی اہداف کو تباہ کرنا نہیں، بلکہ عوام میں خوف پیدا کرکے انہیں مزاحمت سے روکنا بھی تھا۔
ڈاکٹر طاہری نے کہا کہ جدید ہتھیاروں اور درست نشانہ لگانے والی ٹیکنالوجی کی ترقی سے جنگ کے اخلاقی مسائل ختم نہیں ہوجاتے۔ ان کے مطابق، فوجی کارروائیوں کے نام پر عام شہریوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانا انسانی جانوں کے تحفظ کے اصولوں کے خلاف ہے۔ رپورٹ میں میناب کے اسکول پر حملے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
تاریخ کے محقق اور سیاسیات کے استاد ڈاکٹر موسیٰ نجفی نے بھی امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو مغرب کے لیے تہذیبی خطرے کے طور پر پیش کرنا فوجی کارروائیوں اور تصادم کو جائز ثابت کرنے کی کوشش ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ امریکی قیادت کی جانب سے دھمکی آمیز زبان کا استعمال اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ کی عالمی مقبولیت اور نرم طاقت کمزور ہورہی ہے، جبکہ دنیا کے عوام عالمی طاقتوں کی پالیسیوں اور انسانی حقوق سے متعلق ان کے دعوؤں کے تضادات کو پہلے سے زیادہ سمجھنے لگے ہیں۔










آپ کا تبصرہ