جمعہ 30 جنوری 2026 - 10:00
امریکہ کی جنگی سیاست اور ایرانی امن کا تصور؛ ایک تجزیاتی مطالعہ

حوزہ/ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی محض حالیہ سیاست کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کی بنیاد ایک صدی پرانی تاریخ میں پیوست ہے۔

تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی| ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی محض حالیہ سیاست کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کی بنیاد ایک صدی پرانی تاریخ میں پیوست ہے۔

سنہ 1908 میں ایران میں تیل کی دریافت کے بعد برطانیہ نے قاجار حکمرانوں کے ساتھ معاہدہ کر کے اینگلو پرشین آئل کمپنی کے ذریعے ایران کے قدرتی وسائل پر قبضہ جما لیا۔ تیل کی آمدنی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ بیرونی طاقتوں کے قبضے میں چلا گیا، جبکہ ایران کو اپنی دولت کا صرف معمولی حصہ ملا۔ یہ معاشی استحصال اور سیاسی مداخلت وہ بیج تھے جو بعد میں انقلاب اور استقامت کی تحریکوں کو جنم دینے والے تھے۔

سنہ 1925 میں قاجار بادشاہ احمد شاہ کو ہٹا کر رضا شاہ نے پہلوی سلطنت کی بنیاد رکھی، اور بعد میں ان کے بیٹے محمد رضا پہلوی کو شاہ بنایا گیا۔ 1940 کی دہائی کے اواخر میں برطانوی آئل کمپنی کے خلاف عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا، اور یہی بے اطمینانی امریکہ کی سی آئی اے اور برطانیہ کی ایم آئی سکس کی منصوبہ بندی کے لیے راہ ہموار کرنے کا سبب بنی۔

1979 کا ایرانی انقلاب شاہ محمد رضا پہلوی کی آمرانہ حکمرانی، مغربی اثر و رسوخ اور شدید سماجی و اقتصادی عدم مساوات کے خلاف ایک بھرپور عوامی ردعمل تھا۔

امام خمینی رحمۃ اللّٰہ علیہ کی قیادت میں عوام نے “نہ مشرق، نہ مغرب، اسلامی جمہوریہ” کا نعرہ بلند کیا اور ولایتِ فقیہ کے نظریے پر مبنی اسلامی نظام قائم کیا، جس میں ظلم کے خلاف مزاحمت اور عوامی خودمختاری کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

اگر جنگ اور امن کے نقطۂ نظر سے دونوں ممالک کی پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تو فرق واضح ہے۔ امریکہ عالمی سطح پر اپنی عسکری اور سیاسی بالادستی قائم رکھنا چاہتا ہے، جبکہ ایران اپنی خودمختاری، علاقائی تحفظ اور سفارتی حل پر زور دیتا ہے۔

اگر یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ ایران نے ہمیشہ حتیٰ دھمکی اور جارحیت کی انتہا کے ماحول میں بھی بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے اپنے دشمنوں کی دھمکیوں کے مقابل کھل کر یہ اعلان کیا ہے کہ ایران اُن طاقتوں کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا جو اسے تباہ کرنا چاہتی ہیں۔ ایرانی قیادت بارہا اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ جنگ کے حامی نہیں، بلکہ امن پسند اور مذاکراتی حل کی حمایت کرتی ہے، مگر امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں ایران کی دفاعی پالیسیوں، خاص طور پر جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں کردار کو خطرہ سمجھتی ہیں۔اور یہ خطرہ درواقع امریکہ اور اس کے حواریوں کے خود ساختہ خوابوں کی تعبیر ہیں ۔۔۔

امریکہ کی مداخلتیں، جیسے عراق،افغانستان ،پاکستان،یوکرین،فلسطین ،یمن و۔۔۔کی جنگیں، عالمی امن کے لیے نہ صرف خطرناک بلکہ انسانی المیہ بھی ثابت ہوئی ہیں۔

بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر فواز جرجیس کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت 1940 کی دہائی کے آخر سے جاری ہے، اور ایران پر دباؤ اسی طویل المدتی پالیسی کی ایک واضح مثال ہے۔نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایران سے امریکہ کی دشمنی محض آئیل معاہدے کو لیکر ہی نہیں بلکہ اس دشمنی کی سب سے بڑی وجہ اسلام اور وہاں کا انقلاب ہے جیساکہ یہ بات روز روشن کی طرح ہر ایک صاحب علم و ذکا پر عیاں ہے کہ ایرانی انقلاب کے بعد، ایران نے اسلامی نظام کو بنیاد بنایا اور اعلان کیا کہ وہ "نہ مشرق، نہ مغرب" کے اصول پر عمل کرے گا، یعنی خودمختاری اور اسلامی اقدار کو ترجیح دے گا۔ یہ نظریہ امریکہ جیسے سیکولر اور مغربی طرزِ حکومت والے ملک کے لیے چیلنج تھا، کیونکہ:مغربی اثر و رسوخ کو محدود کرنا: ایران نے اسلامی انقلاب کے بعد مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ، کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کی کوشش کی، جو امریکی مفادات کے خلاف تھا۔

مذہبی بنیاد پر الگ شناخت: ایران نے دنیا میں اسلامی اصولوں پر مبنی خودمختاری کی مثال قائم کی، جو امریکہ کے عالمی سیاسی اور اقتصادی نظام کے لیے ایک نظریاتی چیلنج تھا۔

علاقائی اثر و رسوخ: اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے خطے میں اسلامی تحریکوں کی حمایت کی، جسے امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے اثر و رسوخ کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔لہٰذا،دنیا میں رہنے والے ہر منصف مزاج فرد کو یہ بات ملحوظ خاطر رکھنے کی ہے کہ : (لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ۔۔۔) امریکہ کی ایران سے دشمنی صرف سیاسی یا اقتصادی مفادات تک محدود نہیں، بلکہ اسلام اور اسلامی نظام کے نظریاتی اختلافات بھی اس کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ امریکہ دنیا کے ہر گوشے میں کیوں مداخلت کرتا ہے، جبکہ خود اس کے عوام بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں؟

اس کی چند بڑی وجوہات یہ ہیں:

1. طاقت اور مفادات

امریکہ عالمی سطح پر اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش کرتا ہے۔ تیل، تجارتی راستے، اسلحہ کی فروخت اور اسٹریٹیجک کنٹرول اسے دیگر ممالک میں مداخلت پر آمادہ کرتے ہیں۔

2. سیاسی اور فوجی صنعت

امریکہ میں جنگ ایک بڑی انڈسٹری بھی ہے۔ اسلحہ ساز کمپنیاں، فوجی معاہدے، اور طاقتور لابیز جنگ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ عام عوام کو اس کا فائدہ بہت کم ملتا ہے۔

3. عوامی مسائل سے غفلت

لاکھوں امریکی بے گھر ہیں، صحت اور تعلیم ناقابل برداشت حد تک مہنگی ہیں، اور بہت سے لوگ خوراک کے لیے محتاج ہیں۔ قومی بجٹ کا بڑا حصہ فوج اور جنگ پر خرچ ہوتا ہے، عوامی فلاح کے بجائے۔

4. خوف کی سیاست

اکثر عوام کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اگر بیرونِ ملک مداخلت نہ کی گئی تو خطرات امریکہ تک پہنچ جائیں گے۔ اسی خوف کے ذریعے مداخلت کو جائز قرار دیا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عام امریکی عوام بھی جنگ نہیں چاہتے، اور مشرق وسطیٰ کے عام لوگ بھی نہیں چاہتے۔ فیصلے چند طاقتور حلقے کرتے ہیں، مگر نقصان ہمیشہ عام انسان اٹھاتا ہے۔

اگر امریکہ واقعی اپنے عوامی مسائل—تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی انصاف—پر توجہ دے تو دنیا زیادہ پُرامن ہو سکتی ہے۔ اس کے اثرات کچھ یوں ہوں گے:

• جنگوں میں کمی: بجٹ عوام پر خرچ ہونے سے جنگ کے لیے وسائل اور سیاسی جواز کم ہوں گے۔

• عالمی مثال قائم ہوگی: امریکہ اپنی داخلی اصلاحات کے ذریعے دیگر ممالک پر دباؤ کے بجائے مثال سے اثر ڈالے گا۔

• نفرت اور انتہا پسندی میں کمی: طاقتور ملک کی جارحیت کم ہونے سے ردعمل بھی کم ہوگا۔

• عام انسانوں کو فائدہ: نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ افریقہ، ایشیا اور خود امریکہ کے غریب لوگ سکون اور تحفظ محسوس کریں گے۔

اصل مسئلہ امریکی عوام نہیں، بلکہ وہ نظام ہے جو طاقت، اسلحہ اور مفادات کو انسان سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اگر دنیا میں انسان کو مرکز بنایا جائے، تو جنگ خود بخود کم اور امن مضبوط ہو جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha