تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| یہ معاملہ نہ کسی وقتی بحث کا نتیجہ ہے اور نہ ہی سطحی سیاسی جذبات کی پیداوار، بلکہ اس عالمی سیاسی نظام کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ فکری کاوش ہے جہاں طاقت، مفاد اور اخلاق کے دعوے باہم خلط ملط ہو چکے ہیں۔ جب کوئی بڑی عالمی قوت کسی خوددار قوم کے لیے خیرخواہی اور عظمت کے دعوے سامنے لاتی ہے تو اہلِ بصیرت کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ ان دعوؤں کو محض لفظی بیانات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں عملی پالیسیوں اور ٹھوس فیصلوں کی کسوٹی پر پرکھیں۔
امریکہ اور خاص کر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ اقتدار کے تازہ بیانات، پالیسی فیصلوں اور عملی اقدامات کو سامنے رکھا جائے تو بتدریج یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ایران کے بارے میں پیش کیا گیا خوش نما تصور کسی اخلاص کا آئینہ دار نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی مکاری اور چالبازی ہے جس کے پسِ منظر میں دباؤ، بالادستی اور مفاد کی سیاست پوری شدت سے کار فرما ہے۔
امریکی پالیسی کا اصل محور اگر کہیں صاف دکھائی دیتا ہے تو وہ توانائی کے وسائل، تیل و گیس، اور خطے میں اسٹریٹجک بالادستی ہے۔ جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی، سخت معاشی پابندیاں اور مسلسل دباؤ کی سیاست، ایران مییں دہشتگردانہ کاروائیاں، دہشت گردوں کی علنی کھل کے حمایت، اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد کسی قوم کی تعمیر یا اس کے وقار کا اعتراف نہیں تھا، بلکہ اسے معاشی طور پر کمزور کر کے اپنے مفادات کے تابع بنانا تھا۔ اگر واقعی ایران کی بھلائی مقصود ہوتی تو عوام کو محاصرے میں جکڑنے کے بجائے تعاون، مکالمے اور ترقی کے راستے اختیار کیے جاتے، مگر عملی اقدامات اس کے بالکل برعکس رہے ہیں۔
ایران کی تاریخ، تہذیبی شعور اور قومی خودداری اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی بیرونی طاقت کے عطا کردہ “اعزاز” کا محتاج بنے۔
ایسی قومیں اپنی قوت اخلاق، استقلال اور داخلی وحدت سے حاصل کرتی ہیں، نہ کہ دباؤ اور دھمکی سے۔ درحقیقت بیرونی سخت گیری نے ایرانی معاشرے میں اس احساس کو مزید مضبوط کیا کہ اصل سرمایہ بیرونی سرپرستی نہیں، بلکہ داخلی استقامت اور خود اعتمادی ہے۔
آخرکار فیصلہ الفاظ نہیں، اعمال سناتے ہیں۔ پابندیاں، سیاسی دباؤ اور طاقت کی زبان یہ صاف بتا دیتی ہے کہ یہ معاملہ اصولوں یا خیرخواہی کا نہیں ہے ، بلکہ مفادات اور غلبے کی سیاست کا ہے ، یہی وہ تلخ حقیقت ہے جسے سمجھے بغیر نہ عالمی سیاست کی سمت واضح ہوتی ہے، نہ ایران کے خلاف اختیار کی گئی پالیسیوں کی اصل نوعیت سامنے آتی ہے۔









آپ کا تبصرہ