تحریر: سید شجاعت علی
حوزہ نیوز ایجنسی| دنیا کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔ وہ امریکہ جو کئی دہائیوں تک عالمی نظام کا معمار اور نگہبان سمجھا جاتا رہا، اب اس نظام سے خود علیٰحدہ ہو رہا ہے۔ امریکہ کا 66 بین الاقوامی اداروں سے علیٰحدگی کا فیصلہ، محض انتظامی اقدام نہیں، بلکہ ایک سیاسی، نظریاتی اور عالمی طاقت کے مفادات پر مبنی اقدام ہے، یعنی امریکہ نے اپنی بین الاقوامی حکمت عملی اور اثر و رسوخ کے اہداف کو تحفظ دینے کے لیے یہ فیصلہ کیا۔ یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ نے عالمی اداروں کے رول اور اثر و رسوخ کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھا اور ان کے ساتھ تعلق ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ وہ امریکہ ہے جو اقوامِ عالم پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے عالمی اداروں کا سہارا لیتا رہا۔ کہیں “انسانی حقوق” کے نام پر دباؤ ڈالا، کہیں “جمہوریت” کے نام پر حکومتیں بدلی، اور کہیں “معیشت” و “سلامتی” کے بہانے فیصلے منوائے۔ لیکن اب وہ خود انہی اداروں سے دستبردار ہو چکا ہے کیونکہ عالمی برادری نے اس کے اثر و رسوخ کو محدود کر دیا ہے۔
امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی بنیادی رکنیت برقرار رکھی ہے، لیکن اس کے کئی ذیلی اداروں اور وابستہ تنظیموں سے علیحدگی اختیار کی ہے، جن میں عالمی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ادارے، خواتین کے حقوق اور بااختیار بنانے کے ادارے، عالمی آبادیاتی اور صحت کے ادارے، تعلیم اور ترقیاتی پروگرامز، اور عالمی تجارت و ترقی کے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔ ان اداروں کا عالمی مسائل میں کردار بہت اہم ہے، جیسے ماحولیاتی پالیسی سازی، انسانی حقوق، صحت، تعلیم، ترقی، اور خواتین کی مساوات پر اثر ڈالنا۔
اس علیحدگی کو امریکہ کی سیاسی و نظریاتی شکست کہا جائے تو کسی طور غلط نہ ہو گا۔ وہ ملک جو آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نعرے بلند کرتا رہا، آج انہی اقدار سے فاصلے اختیار کر چکا ہے۔ امریکہ اب اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا پر یقین کھو چکا ہے کیونکہ اقوامِ عالم اس کی ہدایات کو اندھا دھند نہیں مانتیں۔ طاقت تو باقی ہے، لیکن اعتماد ختم ہو گیا ہے۔
یہ فیصلہ عالمی توازن کی سمت کو بھی واضح کرتا ہے۔ اب کئی ممالک امریکی بالادستی سے آزاد ہو کر اپنی خودمختار پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، اور جب امریکہ خود عالمی اداروں سے الگ ہو رہا ہے، تو نئے عالمی قیادت کے مراکز ابھریں گے۔ دنیا اب یک قطبی نظام سے نکل کر کثیر القطبی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے، اور طاقت کا تقسیم شدہ منظرنامہ مزید مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔
خود اپنے ہی فیصلوں کے ذریعہ دنیا کے اجتماعی معاملات سے علیحدہ ہو کر تنہائی کا شکار ہونا، یہ 66 اداروں سے علیحدگی امریکی سامراج کے زوال اور اقوامِ عالم کی آزادی کی نوید ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، اور اب وہ کسی ایک طاقت کے حکم کی منتظر نہیں۔









آپ کا تبصرہ