بدھ 21 جنوری 2026 - 10:40
ایران: بیرونی منصوبہ بندی اور اندرونی استقامت

حوزہ/ ایرانی عوام کو چاہیے کہ وہ موجودہ صور تحال میں امریکہ سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کرے ۔اگر ٹرمپ مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ ’عوام احتجاج جاری رکھیں ،مدد پہنچ رہی ہے ‘ تو عوام کو ٹرمپ سے شرپسندوں کی مدد کے بجائے اپنے حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔

تحریر: عادل فراز

حوزہ نیوز ایجنسی | ایران میں نظام کی تبدیلی کی سازشیں ناکام ہوگئیں۔احتجاج کے نام پر جو افراتفری اور بدامنی پھیلائی جارہی تھی اس پر بھی حکومت نے قابوپالیا۔حالات اب بہتر ہورہے ہیں۔البتہ استعماری طاقتیں اپنی سازشوں میں ناکامی سے تلملائی ہوئی ہیں ۔حملے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔لیکن ایرانی قیادت اب بھی پُرسکون اور شجاعت کے ساتھ عالمی طاقتوں کےسامنے سینہ سپر ہے ۔ایرانی عوام بھی سازشوں کو بھانپ چکے ہیں اور اب نظام کی حمایت میں سڑکوں پر ہیں ۔عوام اور نظام ولایت کی یہی استقامت ہمیشہ استعماری طاقتوں کے لئے پریشانی کا سبب رہی ہے ۔اسی استقامت نے آج تک نہ تو عوام کو امریکی آمریت کے سامنے جھکنے دیااور نہ نظام ولایت نے عالمی طاقتوں کوذرہ برابر اہمیت دی ۔ظاہر ہے کوئی بھی نظام بغیر عوامی حمایت کے باقی نہیںرہ سکتا۔نظام ولایت کی بقا کا ایک راز عوام کے بڑے طبقے کی حمایت ہے ،جس کا اظہار اب ایران کی سڑکوں پر بھی ہورہاہے ۔اسی استقامت سے تنگ آکر امریکہ ایرانی قیادت کو ’مکمل تباہی یا غیر مشروط سرینڈر‘ کی دھمیاں دیتارہاہے ،جس کو نظام ولایت نے کبھی اہمیت نہیں دی۔

۲۸دسمبر ۲۰۲۵ سے مہنگائی اور معاشی مسائل کے نام پر تاجروں نے جو احتجاجات حکومت کے خلاف شروع کئے تھے اس میں وہ حق بہ جانب تھے ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی عوامی مطالبات کی حمایت کی اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بھی مطالبات کو جائز ٹھہرایا۔اس کی بنیادی وجہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ہیں جن پر نہ تو عالمی میڈیا نے زیادہ بات کی اور نہ ایران کے مظاہرین نے اس طرف توجہ دی ۔اس پر نقصان یہ ہواکہ مظاہرین کے درمیان امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ گھس آئے اور انہوں نے مظاہروں کا رخ حکومت کے بجائے نظام ولایت کی طرف موڑدیا۔عوام کو بھی اس حقیقت کا احساس دیر سے ہوا۔اس وقت تک شرپسند اپنے مقاصد میں بڑی حد تک کامیاب ہوچکے تھے ۔انہوں نے ایران کی سڑکوں پر جم کر ہنگامے کئے ۔مساجد اور امام باڑوں کو جلایا۔عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔مظلوم لوگوں کا بے دریغ خون بہایا اور اس کا الزام حکومت کے سرمنڈھ دیا۔پولیس نے جن شرپسندوں کو گرفتار کیاہے وہ اب اپنی حقیقت کا خود اعلان کرررہے ہیں ۔انہیں موساد نے مظاہرین کے درمیان داخل کیاتھاتاکہ حالات کو اتنا بدترکردیاجائے کہ عوام نظام ولایت سے بدگمان ہوجائے ۔شرپسندوں کے پاس سے جدید خطرناک اسلحہ برآمد ہواجس کا استعمال عوام ،پولیس اور فوج کے خلاف کیاگیاتھا۔یہ اسلحہ موساد اور امریکی حمایت سے ایران پہنچایاگیاجس کے شواہدایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یوروپی ملکوں کے سفیروں کو طلب کرکے ان کے سامنے رکھے ہیں ۔مظاہروں میں مارے گئے لوگوں کے بارے میں بھی فورنسک رپورٹ منظر عام پر آگئی جس میں کہاگیاہے کہ مقتولین کو اتنے پاس سے گولیاں ماری گئی ہیں جس سے اندازہ ہوتاہے کہ اس میں شرپسند ملوث ہیں ۔کیونکہ پولیس یا فوج متشدد مظاہرین کے درمیان جاکر گولی تو نہیں مارسکتی ۔چند فٹ سے تو شرپسند ہی مظاہرین کو نشانہ بناسکتے تھے ۔

شواہد بتلاتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل براہ راست بدامنی میں ملوث تھے ۔ان کے آلۂ کار جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے ۔انہوں نے حالات خراب کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔امریکہ نے تو اپنی شرارتوں کو خود طشت از بام کردیا۔امریکی صدر مسلسل مظاہرین کو اکسارہے تھے ۔ان کےبیانات سے اندازہ ہورہاتھاکہ ان کے ایجنٹ ایران میں متحرک ہیں ۔ٹرمپ نے بارہا کہا کہ’ امریکہ ایرانی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ ’جبر اور بدعنوانی‘ کے خلاف ان کی مزاحمت کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی عوام ایک بہتر مستقبل کے حق دار ہیں‘۔نہیں معلوم کہ ٹرمپ ایرانیوں کو کون سا بہتر مستقبل دیناچاہتے ہیں ۔یہ بہتر مستقبل تو وہ اب تک امریکی عوام کو نہیں دے سکے ۔کیا امریکہ میں آئے دن داخلی مسائل پر احتجاج نہیں ہوتے ؟حتیٰ کہ غزہ پر اسرائیل کے جارحانہ حملوں کے خلاف بھی امریکہ میں احتجاجات ہوئے مگر امریکی حکومت نے احتجاج کررہے طلبہ پر کاروائی کی اور بعض کو معطل کردیا۔’بدعنوانی ‘ کے الزامات تو خود ٹرمپ پر بھی ہیں ۔ کیاوہ اپنے صدارتی عہدے سے ان الزامات کی بنیاد پر استعفیٰ دیں گے ؟ایران میں حکومتی سطح پر مسائل تو ہیں ،اور کس ملک میں نہیں ہیں ،لیکن کیاان مسائل کا تعلق وہاں کی حکومت ،عوام اور نظام سے ہوتاہے یاپھر خارجی طاقتیں ان مسائل کی بنیاد پر تختہ پلٹنے کے لئے ہاتھ پائوں مارنا شروع کردیتی ہیں ۔امریکہ کو اپنی حیثیت پر دوبارہ غورکرناہوگاکیونکہ اب یک قطبی نظام کا زمانہ نہیں ہے ۔دنیا کثیر قطبی نظام کی طرف دیکھ رہی ہے اور امریکی چودھراہٹ کا خاتمہ ہوچکاہے ۔امریکہ کو بھی اس کا احساس ہے اس لئے یوکرین ،اسرائیل اور وینزویلا کے بہانے اس چودھراہٹ کی بحالی کی کوششیں ہورہی ہیں ۔

ایران میں اس وقت انٹرنیٹ خدمات بند ہیں۔ایسے حالات میں مواصلاتی نظام کو معطل کرنا ایک موثر ذریعہ بن گیا ہے ۔ہندوستان میں بھی ہم نے اس کا مشاہدہ کیاکہ کس طرح انٹر نیٹ خدمات کو پیچیدہ صورتحال میں معطل کردیا جاتا ہے ۔لہذا انٹرنیٹ خدمات کا معطل ہونا کوئی بڑی بات نہیں ۔لیکن میڈیا میں اس مسئلے کو بھی بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر ایسے پیش کیاجارہاہے جیسے آج تک کسی ملک میں انٹر نیٹ خدمات کو معطل ہی نہیں کیاگیا۔اصل مسئلہ یہ ہےکہ امریکہ کو ایران پر حملے کا بہانہ چاہیے ۔چونکہ عوامی احتجاجات اب تھم چکے ہیں ۔معترض تاجروں نے بھی خود کو فسادیوں سے الگ کرلیااور باقاعدہ خط لکھ کر فسادیوں سے اظہار برائت کیاہے۔امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ مسلسل گرفتار ہورہے ہیں ۔غرض کہ اقتدار کی تبدیلی کی ساری کوششیں ناکام ہوگئیں ۔لہذا اب امریکی صدر ’کھسیانی بلّی کھمبانوچے ‘ کی مثال ایران پر حملے کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ ممکن ہےامریکہ ایران پر حملہ کردے ۔کیونکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران ہے ۔خاص طورپر امریکی نیابتی قوت ’اسرائیل ‘کی بقا اور ’گریٹر اسرائیل ‘ کےمنصوبے کو عملی جامہ پنہانے کے لئے ایران پر قابو پانا ضروری ہے ۔عرب ملک تو پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کے سامنے تسلیم ہوچکے تھے ۔’صدی معاہدے ‘ کے نفاذ میں انہیں مسلم ملکوں نے تعاون کیاتھا۔اس وقت بھی ڈونالڈ ٹرمپ ہی امریکہ کے صدر تھے اور آج بھی مسلم ملک ٹرمپ کے چشم وابروکے اشاروں کے غلام ہیں ۔اسرائیل کے لئے سب سے بڑاخطرہ علاقے میں موجود ایرانی نیابتی قوتیں تھیں جنہیں اس قدر کمزور کردیاگیاکہ شایدوہ اب اسرائیلی اہداف کوزیادہ نقصان نہ پہونچاسکیں ۔خاص طورپر حماس اور حزب اللہ کی کمر توڑ دی گئی ۔حماس غزہ میں اپنی بقاکی آخری جنگ لڑرہاہے تو حزب اللہ لبنان میں اپنی اعلیٰ قیادت اور اہم کمانڈروں کی شہادت کے بعد بے حد کمزور ہواہے ۔رہی سہی کسر شام میں اقتدار کی تبدیلی نے پوری کردی ۔موجودہ صورت حال میں تنہا یمن ایسا ملک ہے جو اب بھی اسرائیل کے لئے درد سر بناہواہے ۔انصاراللہ کی اعلیٰ قیادت بھی محفوظ ہے اور اس کے پاس اسلحے کاکافی ذخیرہ بھی ہے ۔بحر احمر میں اس کا بڑھتا ہوا اثر و نفوذ اسرائیل کے لئے پریشانی کا سبب ہے ۔اگر غزہ میں حماس ،لبنان میں حزب اللہ اور شام میں اسرائیل مخالف گروہ مضبوط نہیں ہوئے تو اگلا ہدف یمن ہوگا۔کیونکہ بحر احمر کو محفوظ بنانے کے لئے اسرائیل کسی بھی حد تک جاسکتاہے ۔’صومالی لینڈ ‘ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے پس پردہ یہی عزائم کارفرماہیں تاکہ ایک طرف ایران اور دوسری طرف یمن کوسمندر میں گھیرا جاسکے ۔

ایران میں معاشی اور اقتصادی مسائل موجود ہیں ،اس سے ہرگز انکار نہیں کیاجاسکتا۔لیکن ان مسائل کی اصل وجہ حکومت نہیں بلکہ امریکی پابندیاں ہیں ۔ایرانی عوام کو چاہیے کہ وہ موجودہ صور تحال میں امریکہ سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کرے ۔اگر ٹرمپ مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ ’عوام احتجاج جاری رکھیں ،مدد پہنچ رہی ہے ‘ تو عوام کو ٹرمپ سے شرپسندوں کی مدد کے بجائے اپنے حقوق کی بازیابی کا مطالبہ کرناچاہیے ۔ایرانی عوام یادرکھے کہ ان کے مسائل امریکہ اور اسرائیل کبھی حل نہیں کرسکتے ۔اگر وہ امریکی وعدوں کے جھانسے میں آئیں گے تو ان کا حشر افغانستان سے بھی بدترہوگا۔لہذا اپنی قیادت اور نظام ولایت کی پشت پناہی کے علاوہ ان کے پاس دوسرا راستہ نہیں ہے ۔امریکہ کو بھی یہ معلوم ہے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے ۔اس لئے حملے کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیداہوگا۔مہنگائی صرف ایران میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں بڑھے گی ۔اس لئے ایرانی عوام کو اپنی قیادت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا کیونکہ ان کی استقامت مشرق وسطیٰ کی تقدیر کا فیصلہ کرے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha