تحریر: عادل فراز
حوزہ نیوز ایجنسی| ہندوستان میں حکومتی سطح پر نفرت کا بیانیہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے ملک کا تشخص گنگا جمنی تہذیب، رواداری، مشترکہ ثقافت اور آپسی بھائی چارے میں تھا، لیکن اب یہ شناخت بتدریج دھندلا رہی ہے۔ اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت کا بیانیہ حکومتی سرپرستی میں ایک منظم شکل اختیار کرتا جارہا ہے؛ یہ نفرت صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہی، بلکہ قانون، انتظامیہ، سیاست اور آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے افراد کے ذریعے معاشرے کی رگوں میں اتاری جا رہی ہے۔
انتخابی جلسوں میں نفرت انگیز زبان، ایوان کے اندر خاموشی، سڑکوں پر ہجومی جارحیت،اقلیتوں کے حقوق کے خلاف قانون سازی ،عدالتوں پر شکنجہ ،نظام انصاف کاقتل اور آئینی حقوق سے محرومی ،یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں محسوس ہوتی ہیں۔کسی بھی جمہوریت میں حکومت کا بنیادی فرض ہوتا ہے کہ وہ تمام شہریوں کے جان و مال اور عزت کا تحفظ کرے۔ مگر جب اقلیتوں کے گھروں پر بلڈوزر چلیں، عبادت گاہوں پر حملے ہوں، یا مخصوص طبقے کو ’درانداز‘، ’غدار‘ اور ’دوسرا‘قرار دیا جائے، اور حکومت اس پر خاموش رہےتو یہ خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ تائید بن جاتی ہے۔قانون کا یکساں اطلاق جمہوری ریاست کی بنیاد ہوتا ہے، لیکن جب قانون کا استعمال اقلیتوں کے خلاف حرکت میں آئے اور اکثریت کے لیے مفلوج ہو جائے تو انصاف ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔’رام راجیہ ‘کبھی نفرت کی بنیادوں پر استوار نہیں ہوسکتااور نہ خود کفیل بھارت کسی ایک طبقے کے ذریعہ تشکیل پاسکتاہے ۔یہ حقیقت حکومت اور اکثریتی طبقے کو بھی باورکرنی چاہیے۔
موجودہ ’خود کفیل بھارت ‘ میں ہر سطح پر اقلیتوں کو دبایااور کچلاجارہاہے ۔اگر کسی یونیورسٹی میں ان کی لیاقت کی بنیاد پر زیادہ سیٹیں الاٹ کردی جاتی ہیں تو اس یونیورسٹی کو ہی بند کردیاجاتاہے ۔اگر کسی ایک میدان میں مسلمان مسلسل ترقی کی منزلیں طے کرنالگتاہے تو اس میدان کو ہی تنگ کردیاجاتاہے ۔ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے الزامات تک عائد کئے جاتے ہیں اور اکثریتی طبقے کی نگاہوں میں انہیں مشکوک ہی نہیں منفور بنانے کی مہم چھیڑی دی جاتی ہے ۔کبھی ان کےمذہبی تشخص پر حملے ہوتے ہیں تو کبھی تاریخ کو ان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیاجاتاہے۔ صدیوں پرانے واقعات کو آج کے شہریوں سے جوڑ کر اجتماعی سزا کا جواز پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ فکر نہ صرف علمی بددیانتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کے لیے زہرِ ہلاہل بھی۔تاریخ سے سبق لیا جاتا ہے، انتقام نہیں۔ جو قومیں ماضی کے زخموں کو مستقل نفرت میں بدل دیتی ہیں، وہ مستقبل تعمیر نہیں کر پاتیں۔حال ہی میں قومی سلامتی مشیر اجیت ڈووال نے مندروں کو توڑنے اور نوجوانوں کو انتقام پر اکسانے کے لئے جو بیان دیا وہ اسی بیانیے کا حصہ ہے ۔ایسے بیانات ملک کی تعمیر وترقی کی ضمانت نہیں، بلکہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جاتے ہیں۔
ہماری فوج کے سربراہوں سے زیادہ قومی سلامتی مشیر کی حیثیت سے شہرت پانے والے اجیت ڈووال نے بھارت منڈم میں منعقدہ ’ترقی یافتہ انڈیا ینگ لیڈرس ڈائیلاگ ‘کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر کرتے ہوئے کہاکہ’’ آزاد ہندوستان ہمیشہ اتنا آزاد نہیں تھا جتنا کہ آج دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پیچھے ہمارے اسلاف کی غیر معمولی قربانیاں کار فرما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آباو اجداد نے خوفناک ذلت برداشت کی، بے بسی کے ادوار کوجھیلا اور بہت سے لوگوں کو پھانسی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔‘‘انہوں نے مزید کہاکہ’’ ہمارے گاؤں جلا دیے گئے، ہماری تہذیب کو تباہ کر دیا گیا۔ ہمارے مندروں کو لوٹ لیا گیا، اور ہم خاموش تماشادیکھتے رہے۔ یہ تاریخ آج ہر نوجوان کے لیے ایک چیلنج پیش کرتی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہر نوجوان کے اندر آگ ہونی چاہیے۔ اگرچہ لفظ ’انتقام‘ مثالی نہیں لگتا، بدلہ خود ایک طاقتور جذبہ ہے،ہمیں ان کا بدلہ لینا چاہیے۔‘‘
اجیت ڈووال کایہ بیان قومی سلامتی مشیر کے عہدے کے منافی ہے ۔لیکن موجودہ سیاسی صور ت حال میں ایسے بیانات ترقی کی ضمانت بن گئے ہیں۔کیونکہ جب آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے منتخب افراد نفرت کا بیانیہ تشکیل دے رہے ہوں تو پھر اجیت ڈووال تو اپنے عہدے کی حفاظت کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔اگر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو زبان پر قابونہ ہوتو ہما و شما کا ذکر کیا۔انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورماجیسے بی جے پی کے لیڈر آئینی عہدوں پر رہتے ہوئے جب مسلمانوں کے اقتصادی بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں اور ’دیش کے غداروں کو گولی مارو....‘ جیسے نعرے بلند کرسکتے ہیں تو پھر کسی سے کیاشکوہ کیاجاسکتاہے ؟دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے الزام میں گزشتہ پانچ سال سے عمر خالد اور شرجیل امام جیسے افراد جیلوں میں بند ہیں اور عدالت ضمانت دینے پر تیار نہیں جب کہ گزشتہ پانچ سال میں نہ تو پولیس نے ان کے خلاف فرد جرم عائد کی اور نہ اب تک عدالت میں پختہ شواہد پیش کئے گئے ،لیکن میڈیا کی موجودگی میں اعلانیہ فساد کی دعوت دینے والے کپل مشرا پر کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوئی ۔البتہ اس کی پاداش میں انہیں دہلی کا وزیر قانون بناکر مسلمانوں کو یہ پیغام دیاگیاکہ اب ہندوستان میں آئین کی بالادستی نہیں بلکہ یرقانی نظریے کی حکمرانی ہے ۔اگر انتقام نسلوں سے لیاجاسکتاہے تو کیا دراوڑوں اور آسٹرکوں کو بھی یہ حق دیاجائے گا۔کیا آریائوں کے مظالم کا انتقام موجودہ آریائی نسل سے لیاجاناچاہیے ؟دلتوں اور پسماندہ طبقات پر جو ہندوئوں کے اعلی ٰطبقات نے ظلم ڈھائے ان کا احتساب کیسے کیاجائے گا؟ بدھشٹوں کے مٹھوں کو توڑ کر ماضی میں جو عبادت گاہیں بنائی گئیں ان کی شناخت کیسے ہوگی اور کیا بدھشٹوں کا یہ حق نہیں کہ انہیں ان کی عبادت گاہیں واپس کی جائیں ؟کیونکہ ڈووال نے اپنی تقریر میں کہاکہ ہم نے کبھی کسی کے مندر نہیں توڑے ۔انہیں یہ ضرور بتاناچاہیے کہ بدھشٹوں کے مٹھ کس نے توڑے اور درواڑوں اور آسٹرکوں کی نسل کشی کس نے کی ؟۔تاریخ عبرت کے لئے ہوتی ہے انتقام کے لئے نہیں۔ورنہ منوسمرتی کی بنیاد پر جنہیں اچھوت سمجھاگیا،جن سے گندگیاں صاف کروائی گئیں ،جن کے ناموس کے ساتھ زیادتی کی گئی ،ان کاجذبۂ انتقام کیسے پوراہوگا؟
اجیت ڈووال اگر انتقام کے تصور کے ذریعہ مضبوط ملک بنانے کی ترغیب دے رہے تھے یعنی اپنے ماضی کے درد ناک واقعات سے عبرت لے کر حال اور مستقبل کو بہتر بنانا،توپھر انتقام کے لئے شروع کیاگیا’آپریش سیندور ‘ اچانک کیوں روک دیاگیا۔امریکی صدر ٹرمپ باربار یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان کو تجارت کی دھمکی دے کر پاکستان کے خلاف جنگ سے بازرکھا،تو آپ نے اپنےعہدے کے تقاضوں کے پیش نظر ان کا جواب دینا مناسب نہیں جانا؟اگر نہیں تو کیوں؟ اگر آپ جواب دینے کے اہل نہیں تھے تو کیا وزیر اعظم کو جواب دینے پربھی آمادہ نہیں کرسکتے تھے۔جب کہ ٹرمپ مسلسل ’خود کفیل بھارت ‘ اوروزیر اعظم کا تمسخر کررہے ہیں ۔آخر ہماری خارجہ پالیسی اس قدر کمزور کیسے پڑگئی کہ اب ہم اسرائیل اور امریکہ کے اشاروں پر فیصلے لینے لگے ۔’خودکفیل بھارت ‘ خود انحصاری سے تشکیل پائے گا،عالمی استعمار کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے سے نہیں ۔کھوکھلے نعروں سے کبھی ملک کی بنیاد یں مضبوط نہیں ہوسکتیں ۔
موجودہ عالمی سیاسی تناظر میں بھارت کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کی بحالی کی طرف متوجہ ہوناچاہیے ۔قومی سلامتی مشیر کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرح کی بیان بازیوں کے بجائے ملک سے نفرت کے بیانیے کے خاتمے کے لئے جدوجہد کریں کیونکہ یہی ان کے عہدے کا تقاضا ہے ۔انہیں یادرکھناچاہیے کہ ریاستیں جب نفرت اور مذہبی تقسیم کو حکمرانی کا ہتھیار بنالیتی ہیں تو وہ صرف اقلیتوں ہی کونہیں اپنی اخلاقی بنیادوں کو بھی کھودیتی ہیں ،جن بنیادوں کی نہ تو بی جے پی کو فکر ہے اور نہ یرقانی تنظیموں کو۔نفرت وقتی سیاسی فائدہ ضرور پہنچاسکتی ہے مگر اس کی قیمت ملک اور قومیں نسلوں تک اداکرتی ہیں ۔آج جس تاریخ کی بنیادپر حکومت ،یرقانی تنظیمیں اور قومی سلامتی مشیر موجودہ نسل کو اقلیتوں کے خلاف بدلے کے لئے اکسارہے ہیں ،کل اس کے برعکس بھی ہوسکتاہے ۔نفرت صرف انتقام کو جنم دیتی ہے ،محبت اور ایثار کو نہیں۔









آپ کا تبصرہ