حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حسینیہ افسر جہان بیگم بنجاری ٹولہ لکھنؤ میں ادارۂ المرتضٰی شعبۂ دارالقرآن کی جانب سے ایک عظیم الشان مسابقہ تلاوتِ قرآن مجید کا انعقاد کیا گیا؛ اس مقابلے میں تقریباً 38 قاریان قرآن نے نام لکھوایا تھا، ان میں 21 قاریان قرآن قرائت کے لیے حاضر ہوئے اور قرآنی فن کا مظاہرہ کیا۔

قاریان قرآن کے اسماء اس طرح ہیں:
سید ریحان حیدر رضوی، محبوب علی، علی حیدر، سید عین العباس رضوی، محمد حسن رضوی، محمد ریحان، شفاعت حسین، سید کوکب علی، نقی عباس، محمد اصغر، اعجاز حسین، ابان مہدی، ذوالفقار علی، سید واصف عباس، محمد مہدی عباس، مرزا محمد ناظم، رضا حسین، محمد عباس زیدی، مرزا محمد علی عباس، شہران ،سید حیدر عباس، ثقلین ظفر ،
پہلے مرحلے میں تمام قاریان قران نے اپنی قرآت سے سامعین کے قلوب کو منور فرمایا 12 قاریان قران کا انتخاب دوسرے مرحلے کے لیے ہواجنھوں نے کی دوبارہ قرائت قرآن فرمائی امتیازی نمبر حاصل کرنے والےچھ قاریان قرآن حسب ترتیب اول تاسوم انعام کے لئے انتخاب کیے گئے ایک قاری رتبہ اول قرار پائے دو قاریا ن قران رتبہ دوم اور تین قاریان قران کو رتبہ سوم کا انعام دیا گیا۔

اس جلسے کا اغاز تلاوت کلام مجیداور حدیث کساء سے جناب مولوی سید علی حیدر صاحب نے کیا۔
نظامت کے فرائض حجت الاسلام عالی جناب مولانا سید عترت حسین صاحب قبلہ استاد جامعہ ناظمیہ لکھنؤ کو دار القرآن کے بانی بھی ہیں، نے بہت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دئیے۔
اس مسابقہ تلاوتِ قرآن کے کنوینر حجت الاسلام عالی جناب مولانا سید شباب رضا واسطی صاحب قبلہ نے بہترین نظم و ضبط کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری سنبھالی۔
صدر محترم عالی جناب مولانا سید سبط حیدر رضوی صاحب نے بہت سرگرمی کے ساتھ ان تمام چیزوں کو مرتب و منظم فرمایا۔
حکم کے فرائض حجت الاسلام عالی جناب مولانا سید ابو افتخار زیدی صاحب قبلہ استاد سلطانیہ عربی کالج لکھنؤ اور عالی جناب مولانا حیدر مہدی کریمی صاحب قبلہ جلال پور نے انجام دیئے، جبکہ حجت الاسلام عالی جناب مولانا سید رضا امام ضرغام صاحب قبلہ نے قرآن مجید سے متعلق بہترین تقریر فرمائی اور تربیت حافظان قرآن سے متعلق موصوف کی خدمت میں طغری اور اعزاز نامہ پیش کیا گیا۔

اس مسابقہ قرائت میں کمسن، جوان اور بزرگ تقریباً ہر سن کے قاری شریک ہوئے خاص طور سے مدرسہ دارالقراء کے قاریان قرآن اور جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب کے قاریان قرآن نے بہت ہی دلچسپی اور دلجمعی کے ساتھ اس میں شرکت فرمائی۔
اس قرآنی محفل میں علماء، طلباء اور مؤمنین نے نیز کثیر تعداد نے شرکت کی۔

اس مسابقہ قرائت میں پہلا انعام جناب محمد مہدی عباس صاحب نے حاصل کیا دوسرے انعام کے مستحق تین قاری قرآن جناب مرزا ناظم علی جناب ابان مہدی اور جناب واصف حسین رہے اور تیسرا انعام جناب رضا حسین اور جناب اعجاز حسین کشمیری نے حاصل کیا۔
اس بزم میں شریک ہونے والے بعض علماء کے اسمائے گرامی اس طرح ہیں: فخر ملت عالی جناب یعسوب عباس صاحب قبلہ ،حجت الاسلام عالی جناب مولانا سجاد ناصر عبقاتی صاحب قبلہ، حجت الاسلام عالی جناب مولانا شفیق عابدی صاحب قبلہ،حجت الاسلام عالی جناب مولانا نذرعباس زیدی صاحب مدھیہ پردیش ،حجۃ الاسلام عالی جناب مولانا علی رضا اشتر صاحب قبلہ چندن پٹی بہار، عالی جناب مولانا مزمل حسین صاحب لکھنو، حجۃ الاسلام عالی جناب مولانا ظہیر احمد افتخاری صاحب قبلہ لکھنو، عالی جناب مولانا فیروز عباس صاحب قبلہ لکھنو، عالی جناب مولانا آصف علی غدیری صاحب قبلہ سیتھل ، جناب امیر حیدر صاحب قبلہ ، جناب مولانا نیر بہشتی صاحب جلال پور ، جناب مولانا محمد اصغر صاحب جلال پور ،حجت الاسلام عالی جناب مولانا تفسیر حسین صاحب قبلہ لکھنو، حجت الاسلام عالی جناب مولانا کاظم عباس خان صاحب قبلہ،حجۃ الاسلام عالی جناب مولانا ظہیر عباس صاحب قبلہ ،عالی جناب مولانا قنبر عباس صاحب قبلہ۔جناب مولانا محمد عباس خان صاحب وغیرہ جو اساتذہ قاری قران اس میں شریک تھے ان میں جناب مرزا محمد الزماں صاحب جناب مرزا بہتر الزماں صاحب استاد جناب فرقان عباس صاحب۔

قرآنی خدمات کے لئے مولانا حیدر مہدی کریمی کی خدمت میں سپاس نامی پیش کیا گیا
موجود علماء اور ممتاز قاریان قران کی شال پوشی کی گئی اور ممتازین قاریان قران کو انعامات سے نوازا گیا اور تمام شرکا جنہوں نے قرآن مجید کی تلاوت کی ان کو اسناد سے نوازا گیا۔
اس مسابقہ قرائت میں جناب اعجاز حیدر حسینی اور مولانا قنبر علی صاحب نے بہت ہی انہماک کے ساتھ تمام امور کو انجام دیا۔

جلسے میں ڈاکٹر دائم خاں سلطان پوری،مشہور ناظم جناب ذیشان اعظمی کے علاوہ شہر و بیرون شہر کے معززین نے بھی شرکت فرمائی۔
محفلِ قرآنی کا اختتام دعائے امام زمانہ علیہ الصلوۃ والسّلام سے کیا گیا۔












آپ کا تبصرہ